اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ا��ن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
🚨🔴 بریکنگ نیوز | انتہائی اہم
⚖️ حماد اظہر کا آج لاہور کی عدالت میں جج کے سامنے انتہائی اہم بیان!
🔴 مکمل بیان پڑھیے اور اصل آڈیو سنیے۔
"میں نے پہلے وہ فیٹف (FATF) والا سارا کیس جو ہے، وہ آپ کے سامنے رکھ دیا کہ یہ کل ہمارے لیے جو ہو رہا ہے یہاں پہ، یہ ہمارے لیے اس فورم میں ایک پرابلم کریئیٹ کرے گا، اور جس طرح ہم اس فورم سے نکلے ہیں، میرے سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
اور جو اس کے ہمارے اوپر سنگین نتائج آنے والے تھے، اور جہاں جہاں پہ پریشانی تھی اس چیز کی، وہ بھی میرے سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔
خیر، بہرحال، وہ تو وہ جانیں اور فیٹف کا فورم جانے، لیکن یہ چیزیں جو ہیں، میں ہنڈرڈ پرسنٹ کہتا ہوں کہ یہ ہمارے حق میں نہیں جائیں گی۔
دوسری چیز یہ ہے کہ دیکھیں، میں بھی ایک وکیل ہوں۔ اس عدالت کا، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ کل میں یہاں پہ کھڑا ہوں، میری جگہ کوئی اور ملزم ہوگا۔ آپ جج ہیں، آپ کی جگہ کوئی اور جج ہوگا۔
لیکن اس عدالت کا جو وقار ہے، جو نیک نامی ہے اور جو احترام ہے، وہ قائم رہنا چاہیے۔
Institutions are more important than personalities.
اب ہم یہاں پہ کر کیا رہے ہیں؟ اس میں یہ دیکھیے۔
ساڑھے تین سال بعد پراسیکیوشن نے اپنا ورژن بدل لیا۔ پہلے خود مان رہے ہیں ایف آئی آر میں کہ حماد اظہر موقع پہ موجود نہیں۔ ایف آئی آر کے اندر جو لوگ موقع پہ موجود ہیں، ان میں میرا نام ہی نہیں ہے۔
ساڑھے تین سال سے کسی جگہ انہوں نے ذکر نہیں کیا۔ اُس دن میں گکھڑ منڈی میں موجود تھا، جو کافی سو کلومیٹروں کے فاصلے پر ہے لاہور سے۔
آج انہوں نے میرے سے ڈنڈا اور وہ بھی برآمد کر لیا، پٹرول بم۔
مطلب یہ کہ ہم تھوڑا سا تو احترام کریں اس عدالت کا ��ور اس کے قانون کا، جس کو ہم اس طرح blatantly misuse and abuse کر رہے ہیں۔
پچھلی دفعہ میں آیا تو یہاں پہ مجھے بڑی اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے کہا کہ جی ابھی کچھ ریکور نہیں ہوا۔
آج کہہ رہے ہیں کہ پچھلی دفعہ ہی ریکور کر لیا تھا ہم نے۔ یعنی اپنی پچھلی دفعہ کی اسٹیٹمنٹ بدل لی اور ایک contemptuous قسم کی حرکت کی انہوں نے۔
چلیں، آخری چیز آ جاتے ہیں۔
سترہ دن سے میں ریمانڈ میں ہوں۔ پولیس کے، نہیں، سترہ دن پچھلے، اس سے پہلے اکیس دن، ٹھیک ہے؟
پچھلے سترہ دن کا میرے سیل کے اوپر لگا ہوا ہے کیمرہ۔ نکال کے دیکھیں، کوئی بندہ میرے پاس آیا ہے تفتیش کرنے؟ میرے سیل کا دروازہ کھول کے مجھے کوئی باہر لے کے گیا ہے؟
ریکارڈ موجود ہے، منگوا لیں۔ ابھی بات سچ کا سچ اور جھوٹ ثابت ہو جائے گا۔
اور اگر میں سچا ثابت ہوتا ہوں تو کیا کل جھوٹی ایف آئی آر کے اوپر جو قوانین ہیں...
مجھے سپریم کورٹ کے ایک جج نے بڑا عرصہ پہلے کہا تھا۔ وہ مجھے ملے، انہوں نے مجھے کہا کہ حماد بیٹا، جب بھی تم اگلی دفعہ آؤ اقتدار میں، تو سپریم کورٹ کے میرے اس جج کی اس بات کو یاد رکھنا کہ جعلی ایف آئی آر کے اوپر سخت سے سخت سزا ہے، اور جعلی گواہی دینے کے اوپر سخت سے سخت سزا ہے۔
اس کو تم نے ضرور لاگو کرنا ہے، کیونکہ جب تک اس کو تم لاگو نہیں کرو گے، یہ ہمارا سسٹم ٹھیک نہیں ہوگا۔
یہ ایسے ہی ایف آئی آرز میں نمبر دے دیتے ہیں، ایسے ہی ٹھپے لگا کے آگے، کیا نام ہے، کبھی ایک بیان دے دیا، کبھی دوسرا بیان دے دیا۔
اچھا، آپ بندہ خود لاجکلی سوچیں، چلیں میں ملزم نہیں ہوں۔
ساڑھے تین سال گزر گئے اس واقعے کو، نو مئی کے۔ پٹرول بم اور ڈنڈا، یہ چیزیں اب برآمد ہو سکتی ہیں؟
مطلب وہ ساڑھے تین سال پٹرول بم اور ڈنڈا سنبھال کے رکھے گا؟
مطلب ایک کامن سینسیکل سی بات ہے، لاجیکل بات ہے۔
مجھے ابھی یہاں، میں بیٹھا ہوا تھا کرسی پہ، تو میرے وکیل بتا رہے تھے کہ یہاں پہ جو دوسرے میرے کولیگز آئے ہوئے ہیں، پارٹی کے بھی، وہ مجھے بتا رہے تھے کہ آپ کا جو کیس ہے، اکیس دن کا فزیکل ریمانڈ اور سترہ دن کا فزیکل ریمانڈ، بعد میں اڑتیس دن بنتے ہیں۔
وہ سپریم کورٹ کے بار روم میں بھی ڈسکس ہو رہا تھا کہ ایسے کبھی پہلے ہوا ہی نہیں کہ ایک پرچہ، جو سیاسی پرچہ، جس کا سب کو پتا ہے کہ جعلی تھی، جس کے اندر موقع پہ ملزم بھی موجود نہیں ہے، اس کو ہم نے اکیس دن اور سترہ دن کا فزیکل ریمانڈ دے دیا۔
اور آج اوپر سے اس کے اوپر ایک اور سونے پہ سہاگہ یہ جو contemptuous چیز ہوئی ہے کہ جو برآمدگی اپنی طرف سے شو کر رہے ہیں، جو پچھلی دفعہ شو نہیں کی تھی، یعنی وہ رپورٹیں بھی بدل گئی ہیں۔
میرا فرانزک ٹیسٹ ہوا ہے کافی دن پہلے، ہفتہ دس دن ہو گئے ہیں، وہ جو سارا سوشل میڈیا...
کہاں ہے اس کی رپورٹ؟
نکالیں میرا جیو ٹیگنگ، گکھڑ منڈی کی نکلے گی۔
نکالیں میری اس کے اوپر فرانزک کی رپورٹ۔ کی�� میرا کوئی میچنگ ہو رہی ہے وہاں پہ جو لوگ وہاں موجود تھے، ان کے ساتھ؟
نہیں ہو رہی۔
تو پھر ہم کیوں اس عدالت کا بھی وقت ضائع کر رہے ہیں، اس عدالت کا وقار بھی تباہ کر رہے ہیں؟
دیکھیں، کل میں اکثر یہ افسروں کو بھی یہ بات کہتا ہوں کہ کل یہ ایکسکیوز نہیں مانی جائے گی کہ اوپر سے پریشر تھا۔
بھائی، بات یہ ہے کہ اگر آپ اتنے بدنصیب ہیں کہ اپنی چھوٹی سی نوکری بچانے کے لیے آپ جھوٹی گواہیاں دینے کے لیے تیار ہیں، آپ بے گناہوں پہ ناانصافی کرنے کے لیے تیار ہیں، تو آپ سے بدنصیب آدمی کوئی نہیں۔
کل روزِ حشر یہ قلم گواہی دے گا، یہ کاغذ گواہی دیں گے، آپ کا حلق گواہی دے گا۔
یہی ایسی عدالت لگے گی، صرف فرق یہ ہے کہ میرے علاوہ سب کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ میں بھی کٹہرے میں کھڑا ہوں گا، باقی سب بھی۔
اس دن میرا پورا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کہے گا اُس دن، اُس دن اللہ تعالیٰ کہے گا کہ اُس دن جو تم کہتے تھے کہ اپنی نوکری بچانے کے لیے اوپر سے مجھے پریشر تھا، اور میں نے...
آج بلاؤ اُس اوپر والے کو اور بچاؤ اپنے آپ کو اس عذاب سے جو میں تمہیں دینے لگا ہوں۔ اُس کو بلاؤ۔
تو یہ ایک فیکٹ ہے، فیکٹ ہے۔
تو یہ جناب، یہ ساری چیزیں ہو رہی ہیں۔ بڑے بدنصیب ہیں وہ لوگ جو آج بے گناہوں پہ ظلم کر رہے ہیں، ناانصافی کر رہے ہیں، صرف اپنی پوسٹیں بچانے کے لیے۔
مجھے بڑا دکھ ہوا، مجھے آج بڑا دکھ ہوا کہ پچھلی دفعہ جب مجھے، میں سمجھا کہ جی ٹھیک ہے، کسی چیز کی ریکوری نہیں ہوئی کیونکہ میں موقع پہ موجود نہیں تھا۔
آج ریکوری انہوں نے کیسے کر لی؟
یہ تو کیس اب بہت آگے جائے گا۔ یہ تو شاید کیس اب ہائی کورٹ تک جائے، سپریم کورٹ تک جائے گا، اور میں اس کیس کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، کیونکہ میرے پاس ثبوت موجود ہیں کہ میں وہاں پہ موجود نہیں تھا۔
کیسے انہوں نے یہ ریکوری ڈال دی ہے؟
تو جج صاحب، آپ پہ بھی احترام سے یہ ایک چیز، ذمہ داری لاگو ہوتی ہے کہ جہاں پہ اس طرح کا mala fide behaviour شو ہوتا ہے، جہاں پہ اس طرح کا contemptuous behaviour شو ہوتا ہے، جہاں پہ عدالت کے سامنے ایسے جعلی دستاویز رکھے جاتے ہیں، جن کو چینج کیا جاتا ہے ایک کے بعد دوسری جگہ، جہاں پہ اس حد تک فورجری اور جھوٹ پیدا کیا جا رہا ہے کہ کامن سینسیکل بات ہی نہیں ہے کہ ساڑھے تین سال بعد پٹرول بم اور ڈنڈا جو ہے، وہ ریکور ہو سکتا ہے؟
اور کس نے تفتیش کی میرے سے؟
نکالیں ریکارڈنگ، نکالیں اس کی، می��ے سیل کی۔
سترہ دن سے مجھے وہاں پہ آپ نے نکالا ہی نہیں دو ہفتے سے، تو آپ نے تفتیش کس نے کی میرے سے آ کے وہاں پہ؟
تو یہ سر ساری چیزیں ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس عدالت کے وقار کو آج مجروح کیا گیا ہے۔ ہمارے کریمنل جسٹس سسٹم کو، جو کہتا ہے کہ بے گناہ کو ایک دن بھی فزیکل ریمانڈ نہیں دینا چاہیے، اس کو بھی مجروح کیا گیا۔
مجھے اڑتیس دن کے، اب الحمدللہ مجھے حوالات کے فرش پہ گھر سے بہتر نیند آتی ہے، وہ مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے۔
لیکن جو اس ملک کے ہمارے کریمنل جسٹس سسٹم کے ساتھ کیا گیا، کیونکہ میں اس انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے ساتھ وابستہ رہا ہوں، میں پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ سے نکالنے میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کر چکا ہوں، تو میں ان سارے قوانین کو جانتا ہوں۔
اور میں جانتا ہوں کہ اس کو کس طرح اب abuse کیا جا رہا ہے اور ہماری محنت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔
شکریہ۔"
PTI representatives and party workers have been subjected to kidnapping, enforced disappearances, custodial torture and have had terrorism cases placed on them, all of which is well documented, independently.
Moreover the courts have been subjugated and used a tool of political victimization making a mockery of the justice system internationally. While our party is enduring the brutality, the world is watching and it will have long term consequences for Pakistan.
“Having worked with anti-terrorism laws and played a role in removing Pakistan from the FATF grey list- I know these laws thoroughly. I know how they are being abused, and how our hard work for this nation is being destroyed.” - @Hammad_Azhar
In his court appearance former federal minister Hammad Azhar explained how this regime’s abuse of anti-terrorism laws and political victimization risks putting Pakistan back on the FATF grey list.
#PakistanUnderFascism
This is the state of affairs here.Former Fed Minister Hammad Azhar, in handcuffs like a hardened criminal, facing 50 days of physical remand. A foreign qualified professional treated as if already convicted. Forget politics for a moment. Where’s the dignity, due process & presumption of innocence? If this is how a former Fed Minister is treated, imagine the plight of an ordinary citizen. What a reflection on our justice system!
🚨 BREAKING ALERT | MUST LISTEN!
Former Fed Minister Hammad Azhar has exposed serious flaws in our criminal justice system before the court, raising questions over alleged fabricated evidence, contradictory prosecution claims, manipulated recovery reports & blatant misuse of ATA laws.
38 days of physical remand, yet no clear evidence of any meaningful investigation. Serious questions over due process, accountability & the credibility of our justice system!
A must-listen for anyone who believes in the rule of law!
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔ جج معاشرے میں انصاف ک�� ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے۔”
- عمران خان
#FascismUnderAsimLaw
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
وہ راست�� مجھے آتاہے، اس میں آپ کو صرف ہاتھ جوڑنے پڑتے ہیں، جوتے صاف کرنے پڑتے ہیں، اپنی عزت نفس قربان کرنے پڑتی ہے، وہ راستہ بہت آسان ہے مجھے ��ھی آتا ہے بہت اچھی طرح آتا ہے۔۔۔
مریم صفدر بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں، وہ راستہ انکا خاندانی راستہ ہے، پورا خاندان اسی راستے سے سیاست میں آیا اور اقتدار پر قابض ہوا۔
ایک ایک لفظ سننے سے تعلق رکھتا ہے
جیل میں بیٹھا خان بہت خطرناک آدمی ہے اس نے جیل میں بیٹھ کر ملک میں محبت کے معیار ہی بدل کے رکھ دیے ہیں جس عمر میں تفریح کے مواقع ڈھونڈتے ہیں اس عمر میں نوجوان عمران خان کے لیے ڈنڈے کھاتے ہیں جیل جاتے ہیں واپس آ کر ایک ایک بندہ عمران خان زندہ باد کا نعرہ لگاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمران ریاض خان
یہ سب دس سالہ آمریت کے منصوبے کو مضبوط کرنے کے لیے کیا گیا ہے ۔ جو بھی اس لاقانونیت کا ساتھ دیتا ہے اسکی اربوں کی چوری معاف کر دی جاتی ہے ۔
پاکستان کی تاریخ میں کسی لیڈر پر 280 کیسز نہیں بنائے گئے ۔ ایسا صرف جنرل یحیی نے مجیب الرحمن کے ساتھ کیا تھا جو میرے ساتھ کیا جا رہا ہے ۔” 2/2
ان کے منہ کو خون لگ چکا ہے اپنے شہریوں پر گولیاں چلانے کی لت پڑ چکی ہے۔ ایک طرف تھوڑ پھوڑ اغوا کا سلسلہ جاری ہے دوسری طرف نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں اسی مقصد کے لیے ایمرجنسی لگائی نا کہ انہیں بادشاہ سلامت کی غلامی قبول نہیں تو کچل ڈالو، کرش کر دو۔ دہشت گردوں کو بسانے والے پر امن شہریوں پر ہی گولیاں برسا سکتے ہیں۔ اسی خیبر میں جب صوبائی اسمبلی کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ منعقد ہوا اور امن کے لیے پورا صوبہ سیاسی مذہبی برداری کی تقسیم سے بالاتر ہوکر متحد ہوا تو اگلے دن تم نے ہیلی کاپٹرز بھر کر اینکرز روانہ کیے، خیبر کو دہشت گردی کا مرکز اور پاکستان کے مسائل کا جڑ بنا کر پیش کیا، بیانیہ بنا کر عوام کو نکالنے کا حکم جاری کیا۔ صرف اس لیے کہ اس حلقے سے منتخب پہلا قبائلی وزیراعلی بدنام ہو۔ پورے خیبر نے چیخ چیخ کر کہا کہ برف باری میں کون سا آپریشن، کیوں بے گھر کر رہے ہو، کہاں جائیں گے ہم؟ پھر جب وہ اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوکر کہنے لگا کہ اب جب تم نے بندوق کی زور پر میری قوم کو نکالا ہے تو میں انہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ جواباً تم نے پریس کانفرنس کرکے سینہ ٹوک کے کہا، یہ کہتے رہیں کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے، آپریشن تو ہو رہے ہیں۔
پھر کیا ہوا؟ وہی۔ سردیوں میں آپریشن ہونا نہیں تھا، نہیں ہوا۔ عوام بے گھر ہوگئے پھر جب صوبائ حکومت نے زبردستی بے گھر افراد کو ریلیف دیا تو اسی کی لسٹ جاری کرکے کہا کہ صوبائ حکومت نے آپریشن کی حمایت کرلی۔ ان کو بے گھر، برف باری میں بغیر ٹینٹ، بغیر کھانے کے چھوڑ دیتے؟ تم سے ظالم ہیں کیا؟
آج دیکھ لو وہی خیبر عمران خان کے لیے کھڑا ہے تمہارے خلاف اور تم وطن فروش، ضمیر فروش۔ دہشت گردوں کے بجائے اس قوم پر گولیاں برسا رہے ہو۔ کتنے مکار ہو، عیار ہو، غدار ہو تم!
میں ایک سینئر وزیر کے پاس گیا تو اس نے مجھے کہا فواد تم بڑی باتیں کرتے ہو یہ کر دو وہ کر دو اس سسٹم میں ہماری حیثیت اتنی ہی ہے جتنی تمہاری پی ٹی آئی میں ہے.... 😂
Now, as Pakistanis have taken to the streets to protest my father’s release, Asim Munir’s regime imposes emergency rule in Khyber Pakhtunkhwa (my father’s political stronghold).
Having failed to secure Balochistan or Azad Kashmir, Munir once again invokes terrorism to justify another military operation in Pashtun lands. Yet again sacrificing lives in an attempt to cling on to power.
Khyber Pakhtunkhwa’s democratic mandate must be restored. My father, our detained family members, PTI representatives and all political prisoners must be released immediately. The people’s right to peaceful protest must be respected.
Pakistan belongs to its people, not its military.
عمران خان گرفتار
بشری بی بی گرفتار
علیمہ خان گرفتار
نورین نیازی گرفتار
ڈاکٹر عظمی خان گرفتار
حسان نیازی گرفتار
قاسم زمان گرفتار
شرجیل نیازی گرفتار
شاہ محمود قریشی گرفتار
ڈاکٹر یاسمین راشد گرفتار
عالیہ حمزہ گرفتار
حماد اظہر گرفتار
میاں محمود الرشید گرفتار
اعجاز چوہدری گرفتار
عمر سرفراز چیمہ گرفتار
وزیر اعلی سہیل آفریدی گرفتار
شاہد خٹک گرفتار
جنید اکبر گرفتار
خالد خورشید گرفتار
عبداللطیف چترالی گرفتار
صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی اغوا
صوبائی وزیر فضل شکور اغوا
صاحبزادہ حامد رضا گرفتار
فردوس رائے گرفتار
صنم جاوید گرفتار
فلک جاوید گرفتار
عبدالسلام آفریدی گرفتار
محمد ریاضُ گرفتار
سلطان روم گرفتار
یامین خان گرفتار
محمد اعظم خان گرفتار
فتح الملک ناصر گرفتار
داوڑ کنڈی گرفتار
بابر سلیم سواتی گرفتار
1500 کارکنان ایک دن
اور 1000 کارکنان ایک دن میں گرفتار
14* کارکنان 26 نومبر کو شہید
25 کارکنان 9 مئی کو شہید
8 کارکنان جیل میں علاج نا ہونے کے سبب شہید
1200 کارکن زندگی موت کی کشمکش میں ہیں تاحال مختلف انجریوں کا شکار ہیں
قاسم سوری جلا وطن
ڈاکٹر شہباز جلاوطن
ہمارے جیسے کئی لوگ جلاوطن
کئی کے رشتے ٹوٹ گئے
کئی تاحال لاپتہ
سلمان اور جہانگیر دوبئی میں گرفتار
سینکڑوں پاسپورٹ بلاک
سینکڑوں شناختی کارڈ بلاک
سینکڑوں کاروبار تباہ
بس کر دو یار ہزاروں گھر اجڑ گئے ہیں لوگوں کی زندگیاں آسان کرو ایک جماعت سے ایسا سلوک کیوں کر رہے ہو پاکستان پر رحم کرو
شرمناک
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ہے۔ جس صوبے کے دو تہائی مینڈیٹ کو چرایا نہ جا سکا، اسے اسلام آباد کی غیر نمائندہ اور جعلی حکومت نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس حکومت کو ہٹانے کا حق صرف خیبر پختونخوا کے عوام کو تھا، اسلام آباد کے غیر منتخب اور بندوق کے بل پر مسلط غاصبوں کو نہیں۔
تمام اطلاعات کے مطابق واحد رکاوٹ عوام کے محبوب ترین رہنما عمران خان سے ملاقات تھی۔ جو لوگ ان کا عکس تک اس زندان سے باہر آتا برداشت نہیں کر سکتے، وہ اپنی گھٹیا اور کینہ پرور نفرت میں ملک کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ذاتی عناد کا عفریت پاکستان کو کھا رہا ہے۔ غربت اور اشرافیہ کا قبضہ بڑھ رہا ہے۔ ساز باز کرنے والے چور امیر سے امیر تر ہو رہے ہیں، اور لٹیرا راج اور فسطائیت عروج پر ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بچوں کو اٹھا کر اس لیے مارا پیٹا جائے کہ ان کے والدین سر جھکا دیں۔ املاک کی توڑ پھوڑ پولیس کا نیا معمول بن چکا ہے۔ منتخب پی ٹی آئی نمائندوں کو نقاب پوش “رجیم چینجرز” اغوا کر کے ان پر تشدد کر رہے ہیں، جبکہ عدلیہ بدکاروں کے آستانوں پر سجدہ ریز ہے۔
بلوچستان میں دہشت گردی کو شہ دینے والا پیغام یہ تھا کہ لاپتہ افراد کے لیے آئینی اور پرامن احتجاج کو بے رحمی سے کچل دیا گیا اور ان کی خواتین رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ یہی پیغام آزاد جموں و کشمیر کو دیا گیا، جو ہماری جان اور دل ہے، جہاں کے عظیم الشان پرامن احتجاج کو وحشیانہ طریقے سے دبایا گیا اور درجنوں لوگوں کو ظالموں نے شہید کیا۔ کیا اب پاکستان کو تباہ کرنے والی پیپلز پارٹی، ن لیگ اور ان کے خداؤں کی طرف سے یہی پیغام خیبر پختونخوا کو دیا جا رہا ہے؟
میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ کامیاب نہیں ہوں گے، کیونکہ عمران خان تشدد سے نفرت کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی اور پاکستان کے عوام ہر حال میں اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ یہ ہمارا گھر ہے، ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ بندوق سے نہیں، بلکہ پاکستان کے تمام صوبوں اور اکائیوں کے مفلوک الحال، غریب، بھوکے اور پسے ہوئے لوگوں کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ایک محبت بھرے آغوش میں لے کر۔
میرے پاس نوبل انعام کے لیے ایک نامزدگی ہے۔ امن کے لیے نہیں، بلکہ ایک ملک اور اس کے عوام کو تباہ کرنے کی تیز ترین کوشش کرنے والوں کے لیے۔
تم ہمیں برباد کرنے کے لیے سب کچھ کر ڈالو، مگر جو راکھ اور غلاظت تم بھاگتے ہوئے پیچھے چھوڑ جاؤ گے، اسی سے عمران خان تعمیرِ نو کر لے گا۔
یہ ہمارا وعدہ ہے۔