کینیڈا امریکہ میں گھروں کی چھتوں پر پانی کی ٹینکیاں کیوں نہیں ہوتیں؟
#قومی_زبان
کینیڈا آنے کے چند دن بعد ایک پاکستانی نے اپنے دوست سے بڑی حیرت سے پوچھا:
"یار، ایک بات سمجھ نہیں آئی۔ یہاں کسی گھر کی چھت پر پانی کی ٹینکی نظر نہیں آتی، نہ موٹر چلتی دکھائی دیتی ہے۔ پھر پانی آتا کہاں سے ہے؟"
دوست مسکرایا اور بولا:
"یہی تو اصل فرق ہے۔ یہاں ہر گھر اپنا پانی نہیں سنبھالتا، بلکہ شہر یہ ذمہ داری اٹھاتا ہے۔"
پاکستان میں اکثر گھروں کی اپنی ٹینکی، موٹر اور پانی ذخیرہ کرنے کا الگ انتظام ہوتا ہے۔ لیکن کینیڈا میں یہ کام شہری حکومت کرتی ہے۔ پانی جھیلوں، دریاؤں یا زیرِ زمین ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے، جدید واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس میں اسے انتہائی سخت معیار کے مطابق صاف کیا جاتا ہے، پھر طاقتور پمپوں کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر طویل زیرِ زمین پائپ لائنوں کے جال سے ہر گھر، اسکول، اسپتال، دفتر اور پارک تک پہنچایا جاتا ہے۔
وہ حیران ہو کر بولا:
"یعنی مجھے موٹر چلانے کی بھی ضرورت نہیں؟"
دوست ہنس کر بولا:
"نہ موٹر، نہ ٹینکی، نہ پانی ختم ہونے کی فکر۔ بس نل کھولو... پانی حاضر!"
لیکن اس کے ذہن میں ایک اور سوال آیا۔
"اچھا، جب سردیوں میں درجہ حرارت منفی 30 یا 40 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے تو پانی جم کیوں نہیں جاتا؟"
دوست نے جواب دیا:
"کیونکہ پانی کی لائنیں زمین کے کافی نیچے بچھائی جاتی ہیں، فراسٹ لائن سے بھی نیچے، جہاں مٹی مکمل طور پر نہیں جمتی۔ گھروں کے اندر پائپ بھی گرم حصوں سے گزارے جاتے ہیں، اس لیے عام حالات میں پانی مسلسل بہتا رہتا ہے۔"
وہ ابھی بھی متاثر تھا۔
"اتنا بڑا نظام آخر سنبھالتا کون ہے؟"
دوست نے کہا:
"شہر کی میونسپل حکومت۔"
مثال کے طور پر صرف ٹورانٹو واٹر تقریباً 36 لاکھ افراد اور کاروباروں کو پانی فراہم کرتا ہے۔ ہر سال تقریباً 435 ارب لیٹر صاف پانی سپلائی کیا جاتا ہے، جبکہ تقریباً 400 ارب لیٹر استعمال شدہ پانی کو دوبارہ صاف کرکے ماحول میں واپس چھوڑا جاتا ہے۔
یہ کوئی معمولی منصوبہ نہیں۔ صرف ٹورانٹو نے اپنے پانی، سیوریج اور اسٹورم واٹر کے نظام کی بہتری کے لیے آئندہ برسوں میں 15 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ اس پورے انفراسٹرکچر کی مالیت 90 ارب ڈالر سے بھی زیادہ سمجھی جاتی ہے۔
پھر اس نے پوچھا:
"کیا پورے کینیڈا میں یہی نظام ہے؟"
دوست نے جواب دیا:
"اصول تقریباً ایک ہی ہے، صرف پانی کا ذریعہ بدل جاتا ہے۔"
ٹورانٹو اپنا زیادہ تر پانی لیک اونٹاریو سے لیتا ہے۔
وینکوور پہاڑوں کے قدرتی ذخائر سے پانی حاصل کرتا ہے۔
کیلگری میں باؤ اور ایلبو ریور بنیادی ذریعہ ہیں۔
جبکہ مونٹریال زیادہ تر سینٹ لارنس ریور پر انحصار کرتا ہے۔
یعنی شہر بدل جاتا ہے، لیکن نظام وہی رہتا ہے: صاف پانی، جدید ٹریٹمنٹ پلانٹس، زیرِ زمین پائپ لائنیں اور چوبیس گھنٹے مسلسل سپلائی۔
لیکن اس کہانی کا سب سے دلچسپ حصہ ابھی باقی تھا۔
پاکستان میں ہم اکثر نلکے کا پانی پینے سے گھبراتے ہیں، فلٹر، کولر یا بوتل والا پانی استعمال کرتے ہیں۔ مگر کینیڈا میں صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔
یہاں گھروں، اسکولوں، کالجوں، دفاتر، اسپتالوں، پارکوں اور عوامی مقامات کے نلکوں سے آنے والا یہی پانی براہِ راست پینے کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ روزانہ یہی پانی پیتے ہیں، اپنی دوبارہ استعمال ہونے والی بوتل ساتھ رکھتے ہیں اور جہاں نل نظر آئے، وہیں بھر لیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹورانٹو میں پانی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ہر سال ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار لیبارٹری ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ پانی کو پلانٹ سے نکلنے کے بعد بھی مختلف مقامات پر مسلسل چیک کیا جاتا ہے تاکہ ہر نل تک محفوظ پانی پہنچے۔
اسی لیے بوتل والا پانی یہاں ضرورت نہیں بلکہ زیادہ تر سہولت، سفر یا ذاتی پسند کی چیز ہے۔ روزمرہ زندگی میں لوگوں کی اکثریت نلکے کا پانی ہی استعمال کرتی ہے۔
یہ سب دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ملک صرف اونچی عمارتوں، خوبصورت سڑکوں یا بڑی گاڑیوں سے نہیں بنتا۔
اصل ترقی وہ نظام ہوتے ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو سوچنا ہی نہ پڑے۔
جب پانی وقت پر آئے، صاف ہو، محفوظ ہو، ہر موسم میں دستیاب ہو، اور ہر شہری کو برابر ملے، تو لوگ اپنی توانائی زندگی، تعلیم، کاروبار اور ترقی پر صرف کرتے ہیں، پانی جمع کرنے پر نہیں۔
ہم صرف نل کھولتے ہیں... مگر اس ایک گلاس پانی کے پیچھے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، ہزاروں کلومیٹر پائپ لائنیں، جدید ٹیکنالوجی، مسلسل نگرانی اور ہزاروں انجینئرز، سائنس دانوں اور ماہرین کی محنت کام کر رہی ہوتی ہے۔
کبھی کبھی ترقی کا راز اونچی عمارتوں میں نہیں، بلکہ زمین کے نیچے چھپے ہوئے ان مضبوط نظاموں میں ہوتا ہے، جنہیں ہم دیکھ بھی نہیں پاتے
محمد علی کی جانب سے شیئر کیا گیا واقعہ
ایک میراثی زندگی میں پہلی بار مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے چلا گیا۔
باتھ روم سے طہارت کر کے نکلا تو مولوی صاحب باہر کھڑے تھے۔
مولوی صاحب نے کہا او میراثی! نماز کے آداب ہوتے ہیں۔
پہلے طہارت ہوتی ہے اور اس کے بھی آداب ہوتے ہیں۔
جب بندہ باتھ روم میں داخل ہونے لگتا ہے تو اسے کھانسنا چاہئے پھر الٹا پاؤں رکھنا چاہیے۔
اس کے بعد کافی دیر طہارت کے لئے بیٹھنا چاہئے
ایک تو ہے کہ گیا اور فوراًِ ہی باہر نکل آیا
میراثی کو بہت برا لگا مگر بولا کہ مولوی صاحب غلطی ہو گئی،آئندہ خیال رکھوں گا۔
میراثی اگلے دن مسجد میں وقت سے پہلے پہنچ گیا اور انتظار کرنے لگا کہ کب مولوی ٹوائلٹ میں جائے
جیسے ہی مولوی صاحب طہارت کے لئے جانے لگے تو میراثی بھی ساتھ والے ٹوائلٹ میں گھس گیا
مولوی صاحب نے سوچا کہ ابھی کل ہی تو میں نے میراثی کی بےعزتی کی ہے۔اب اگر میں میراثی سے پہلے نکلا تو اس نے مجھے ذلیل کر دینا ہے۔
مولوی کھانسا تو میراثی بھی کھانسا۔
مولوی بیٹھا رہا،میراثی بھی بیٹھا رہا۔
اذان مغرب ہو گئی،نمازی سمجھے کہ مولانا کہیں مصروف ہیں،اس لئے نماز بھی شروع کر دی۔
عشاء کی اذان ہو گئی،نماز بھی ہو گئی۔
تھوڑی دیر بعد میراثی کا بیٹا آیا،آواز لگائی۔
باپ نے جواب دیا تو بولا ابا گھر آ۔ روٹی کھانے بھی نہیں آیا،اب گاۓ کا دودھ نکالنے کے لیے تو آ جا۔
باپ نے کہا پتر تو گھر جا ماں کو کہنا کہ دودھ نکال لے۔
بہنوں کا خیال رکھنا،اپنی پڑھائی پر دھیان دینا اور جب بہنیں بڑی ہو جائیں تو اچھے رشتے دیکھ کر ان کی شادی کر دینا۔
یہ پیغام لے کر میراثی کا بیٹا واپس چلا گیا۔
کچھ دیر بعد مولوی کا بیٹا باپ کو ڈھونڈتے مسجد آ پہنچا
بیٹے نے آواز دی تو مولوی نے جواب دیا۔
بیٹے نے کہا ابا تو ساری رات گھر نہیں آیا،اماں راہ دیکھتی رہ گئی۔اب مجھے بھیجا کہ تمھیں ڈھونڈ کر لاؤں۔
ابا گھر کب آؤ گے ؟
مولوی نے روہانسی سی آواز میں کہا پتر ماں کو بولنا کہ اک حرامی کے ساتھ واسطہ پڑ گیا ہے،اس لۓ میری راہ تکنا چھوڑ دے اور اب دوسری شادی کر لے
اس انسپکٹر کو کس نے سڑک پر عدالت لگانے کی اجازت دی ہے؟ شہریوں کو ڈرانا، دھمکانا کون سا قانون ہے؟ گاڑی چلاتے کون سی نازیبا حرکت تھی جس سے اس شخص کا ایمان ڈول گیا؟ موٹروے پر ٹریفک بلاک کی ہوئی ہے
موٹروے پولیس @NHMPofficial اس انسپکٹر کیخلاف ایکشن لیں
محترمہ مریم نواز صاحبہ،
میرے گاؤں کولووالہ (تحصیل نوشہرہ ورکاں، ضلع گوجرانوالہ) کے لیے صاف پینے کے پانی کے فلٹر پلانٹ کی درخواست دیے ایک سال ہونے والا ہے، مگر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ آج بھی لوگ گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ خدارا فوری نوٹس لے کر واٹر فلٹر پلانٹ لگوایا
Under what mandate and law is this officer making a video and on top of it, publishing it? And in doing so, creating a traffic jam
Who assigned him this role of a moral policeman, if at all his allegations are true, is another question?
Please enlighten us
@NHMPofficial
میں نے اسکو موٹروے پر لڑکی کے ساتھ نازیبا حرکت کرتے پکڑا، اس نے میری جیب میں 15 ہزار ڈال دیے اور بھاگ کھڑا ہوا، اب ہم اس پر مقدمہ درج کریں گے، موٹروے پولیس اہلکار۔۔۔
بندہ پوچھے ابے ڈھکن کی چھوٹی چوڑیوں جیسے منہ والے مورال پولیسنگ کب سے موٹروے پولیس کی جیورسڈکشن میں آگئی؟؟ تم کیسے کسی شہری کو مورال پولیسنگ کے معاملے میں دھر سکتے ہو۔۔۔ مقدمہ تو تم پر درج ہونا چاہیے۔۔۔۔
اگلے نے تو جو بھی کیا رشوت دی یا نہیں دی، یہ پولیس والا ضرور سسپنڈ ہوگا۔ یہ اسکا کام نہیں ہے کہ سر عام وڈیو بنا کر عام لوگوں پر الزام تراشیاں کر کے ادھر ہی عدالت لگا کر فیصلہ سنائے۔ ان پولیس والوں کو لگام ڈالنے کے بجائے ہمارے حکمرانوں نے اپنے زاتی مفادات کے لیے انکو اتنی کھلی چھٹی دے دی ہے کہ یہ بغیر سوچے سمجھے ہر جگہ عام لوگوں پر اپنی بھڑاس اور تھانے داری نکالنا شروع کر دیتے ہیں۔
اگر اگلے نے اسکو رشوت دی یا گاڑی اس پر چلانے کی کوشش کر رہا تھا تو فائن کرتا، آگے ٹول پلازے پر متعلقہ اتھارٹیز کو انفارم کرتا اور اس پر قانونی کارروائی کرواتا۔ یہ کیا بیچ چوراہے ڈرامہ لگایا ہوا ہے اس پولسیے نے۔
افسوسناک مناظر! ریاست اب ظلم کے آخری درجے پر پہنچ چکی ہے۔ پولیس کا خواتین پر یہ تشدد بظاہر خوف پھیلانے کی کوشش ہے، لیکن یہ ان کا آخری اسٹیج ہے۔ عوام اب سب دیکھ رہی ہے۔
نجی ٹی وی چینلز سے پہلے میں اخبار میں رپورٹنگ کرتا تھا تو ایک 50/55 سالہ شخص دفتر آتا تھا فرہاد لے کر کہ وہ کنٹونمنٹ بورڈ میں ملازم تھا، کچھ دن چھٹی کے بعد ڈیوٹی پر گیا تو نکال دیا گیا کہ ہمارے کاغذات کے مطابق تم فوت ہو چکے اور تمہارا ڈیتھ سرٹفکیٹ ہمارے پاس جمع ہے۔ وہ بڑا چیخا چلایا کہ میں تمہارے سامنے زندہ ہوں اور تم کہتے ہو کہ میں مر چکا۔
یہی حال آئیسکو والوں کا تھا، جمعے کی شام 6 بجے بجلی مسئلہ کرنے لگی، کبھی بند، کبھی ڈم، 9 بجے کے قریب مکمل بند سوا دس بجے کے قریب 118 پر کمپلینٹ کی کیوں کہ سہام سب ڈویژن میں نائٹ شفٹ کا عملہ صرف پیپرز میں ہوتا ہے وہاں شکایت درج کرنے والا بھی موجود نہیں ہوتا۔
رات 1:29 پر میسج آیا کہ آپ کی بجلی بحال ہو چکی ہے۔
میں نے کال کی اور نمائندے سے بات کی تو اس نے کہا کہ اگر آپ کی بجلی نہیں آئی تو میں دوبارہ شکایت فارورڈ کر دیتا ہوں۔ تین گھنٹے بعد پھر کال کی، یاد رہے کہ 118 پر بات کرنا ہو تو 20/25 منٹ انتظار معمول ہے۔
ایک اور نمائندہ صاحب نے شکایت نمبر پوچھ کر بتایا کہ ہمارے پاس سسٹم میں متعلقہ سب ڈویژن کی رپورٹ شو ہو رہی ہے کہ شدید بارش اور طوفان کی وجہ سے بجلی خراب ہوئی، جو رات ڈیڑھ بجے ٹھیک کر دی گئی۔ آپ کا فیڈر آن شو ہو رہا ہے۔ نہ تو پورے پنڈی میں کہیں بارش ہوئی نہ طوفان نہ ہی بجلی بحال ہوئی۔
میں نے اپنے موبائل کا ایس ایم ایس کا 118 کا ریکارڈ چیک کیا تو یاد آیا کہ پہلے بھی متعدد بار یہی ڈرامہ ہو چکا جعلی میسیج بجلی بحالی والا۔
اندازہ کریں عملہ رات کو غائب ہوتا ہے اور محکمے کا جھوٹا ریکارڈ بناتا ہے کہ سب او کے ہے۔
فرق پھر بھی نہیں پڑتا کسی کو۔ آج بجلی پھر بند ہے۔
@akleghari@CeoIesco@Iescoofficialpk@CMShehbaz@PakPMO
راولپنڈی میں باپردہ خاتون کی دن دیہاڑے ڈکیتی کی فوٹیج اس ملک میں شدید سماجی اور معاشی بدحالی کو نمایاں کرتی ہے۔۔
یہ خاتون نہیں بلکہ ملک کا قانون لُٹ رہا ہے یہ جوباپردہ مظلوم عورت کو لات ماری گئی ہے یہ قانون کی عزت پر ماری گئی ہے اب جب قانون بے بس ہے تو عوام قانون پر فاتحہ پڑھ لے
دیکھیں نا کمشنر بہاولپور کوئی عام آدمی تو ہیں نہیں جو انکی گاڑی بھی عوام الناس کی پارکنگ میں لگے ۔ نورمحل بہاولپور کے لائٹ شو کے لیے عوام پارکنگ میں گاڑی لگا کر آگے پیدل چل کر آئیں گے لیکن اشرافیہ کے لیے تو قانون نہیں ہوسکتا نا ۔ پھر کمشنر کاٹھیا صاحب نیچے لگی لرسیوں پر بھی بیٹھیں تو یہ مناسب تو نہیں نا اس لیے وہ سامنے موجود ریسٹورنٹ کی چھت پر بیٹھیں گے انکا اور عام آدمی کا فرق برقرار رہے
اللہ کے فضل سے ہمارے بابو خود کو انگریز کی مونچھ سے کم تو نہیں سمجھتے !
ایک دوست سے میں نے پوچھا کہ یار پاکستان میں لوگ معاشی حالات کا رونا تو شروع سے ہی روتے ہیں آجکل کچھ زیادہ ہی شور مچا ھے، آپ میری کافی پڑھی لکھی اور ماہر معاشیات دوست ھو اصل معاشی حالات کیا ہیں آپ سے بہتر کون بتا سکتا ھے۔ تو بتائیں کیا حالت ھے ملکی معیشت کی؟
انہوں نے خود جواب تو کوئی نہ دیا یہ وڈیو بھیج دی۔
عاصم مزمل چوہدری کی وال سے اقتباس 🤣🤣🤣
ویسے میں تو ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو گیا نصیبو لال تو ایسے ہی بدنام تھی یہ تو ملکہ ترنم نور جہاں بھی کافی ایڈوانس گلوکارہ تھی جو تقریباً ایک صدی پہلے ہی اب کے حالات گا کر بتا گئی 🤣😂
🚨🚨
بنا ہے شاہ کا مصائب پھرے ہے اتراتا۔۔ جب اسٹیبلشمنٹ سرپرست ہو تو پھر ایسے ہی رعونت ہوتی ہے۔۔ موصوف وفاقی وزیر کے سامنے وزیرِاعظم شہباز شریف کی بھی “چوں” نہیں نکلتی!
How can someone use private guards to start policing traffic on main highways. The Lahore police should register criminal cases against these private guards, the minister responsible for this and arrest all of them for causing public disorder and commotion. This can easily be done through use of Lahore’s safe city cameras. We also have to see if these private guards were armed. What if some poor patient in some ambulance had died on way to hospital emergency or some rich high value VVIP was stuck on the roads through such privately managed road blocks? The worst part is where Lahore police cars are seen facilitating these private militia and private army of the minister to block traffic.