We represent Ahle Sunnah and our aim is to educate people about Faith and promote harmony and peace. Our slogan is, Truth and only truth no matter how bitter is
فاروق اعظم ع کا ام کلثوم رض کا رشتہ مانگنا، علی ع کا اسپر مشاورت کرنا عباس ع سے، پھر یہ رشتہ ھوجانا، اس تعلق ازدواجی سے ایک بیٹا ہونا زید بن عمر اور ایک بیٹی ہونا، رقیہ بن عمر۔ پھر شھادت فاروقی کے بعد عدت باپ علی ع کے گھر کرنا اور ۔۔۔ ام کثوم اور انکے بیٹے زید بن عمر کی ایک ھی دن وفات اور انکا جنازہ سب ثابت ھے شیعہ معتبر کتب سے انکے اپنے منصوص معصوم اماموں کی جانب سے۔ پھر بھی انکھیں اور کان بند کر دیتے ہیں اس حقیقت کو دیکھ کر اور سن کر۔
ایسا اسلئے ہے کہ سیدنا فاروق اعظم ع کے خلاف جو انھوں منافقت پر مبنی کہانیاں گھڑی ہیں وہ ساری اس ایک ازدواجی رشتہ میں دفن ھوکر رہ جاتی ہیں۔ اسلئے شیعہ کو چاہے اپنے اماموں کو ٹھکرانا پڑے ٹھکرائیں گے۔
آج ان شاءاللہ الرشدون انٹرنیشنل فورم کے تحت پاکستانی وقت کے مطابق رات دس بجے مولانا نصیر احمد عثمانی صاحب نکاحِ امِ کلثوم بنت علی و فاطمہ سلام اللہ علیہا پر لائیو گفتگو فرمائیں گے ۔۔۔۔۔
یوٹیوب چینل لنک ۔۔۔۔
https://t.co/be5cyJyoJW
فیس بک پیج
https://t.co/IgrXR2Xq0p
عوام الناس کیلئے مجوسی ایرانی منافقت کا پردہ اب ھٹنا شرور ہوگیا ہے۔ ان ان مجوسی آلہ کاروں کا کیا کرنا ہے جو پاکستان میں بیٹھ کر ان منافقین کی حمایت کرتے ہیں ؟
ایران دعویٰ کرتا ہے کہ وہ امت مسیلمہ کا دفاع کررہا ہے جبکہ وہی ایران سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک پر حملوں کے ساتھ یمن میں حوثیوں عراق میں حشدِ شعبی لبنان میں حزب اللہ اور شام میں ہونے والے جرائم میں شریک ہے سعودی وزیر خارجہ
مجوسی اس کائنات کی بدترین قوم ہے
یہ صاحب اب جھنم رسید ھو چکے پیں جو پاکستان کو دھمکا رہے تھے اور سرزمین پاکستان پر خون بہانے میں ملوث تھے
مجوسی آلہ کار اس شیطان کو ھیرو بناتے رھتے ہیں۔
سعودی عرب میں اس وقت پچیس سے تیس لاکھ پاکستانی برسر روزگا ہیں جو کم از کم دو اڑھائی کروڑ لوگوں کو پال رہے ہیں
جبکہ ایران نے کلبھوشن بھیجے ہیں زینبیون، فاطمیون، سپ اہ محمد ، سکردو اور پاڑہ چنار کے دہشت گرد بھیجے ہیں
ایران امریکہ جنگ سے ۲ باتوں کی بہت کھلم کھلا وضاحت ہوگئی ہے ۔۔
نمبر ایک : ایران بطور ریاست پوری دنیا میں کسی ایک بھی مسلمان ملک کا وفادار نہیں ہے
نمبر ۲ : شیعے کو دنیا کے جس کونے میں سانپ کیطرح پال کر دودھ پلا لو اسکی ہمدردیاں اور وفاداریاں صرف ایران کے ساتھ ہیں
یہ ہے حقیقت مجوسی افراد کی جو اسرائیل کا نام لیتے ہیں مگر دشمنی اھل اسلام سے ہے صرف۔
انکے چیلے چماڑ سوشل مڈیا پر خوب انکو ھیرو بناتے ہیں جبکہ انکی منافقت سب پر عیاں ہو چکی ہے۔
ذیل میں قاسم سلیمانی کے اہم مشیر ابو مہدی سے پوچھا گیا کہ اگر وہ آئندہ پانچ برس میں "شہید" ہونے سے پہلے کسی ملک کو تباہ کرنے کا موقع پائیں تو کیا وہ اسرائیل کو نشانہ بنائیں گے؟
انہوں نے جواب دیا:
"اسرائیل نہیں، ریاض۔ سعودی عرب۔"
پھر پوچھا گیا:
"اور امریکہ؟"
انہوں نے دوبارہ جواب دیا:
"سعودی، سعودی۔"
یہ ہے وہ ذہنیت جو ایران کو خلیج فارس میں کھڑے امریکی بیڑے اور اسرائیل پر جوابی حملوں کے بجائے خلیجی ممالک پر حملوں پر اکساتی ہے!!
تھوڑے کو بہت جانئے
"🚨عمران خان کو فوری طور پر علاج کی سہولت ہسپتال میں فراہم کی جائے،
🚨 عمران خان کی قید تنہائی ختم کی جائے،
🚨عمران خان پر ہر قسم کے جھوٹے مقدمات فوری ختم کیے جائیں۔"
شیعہ 12 امامیہ اپنے مزھبی اصولوں پر رہ کر حوثی باغیوں کو مسلمان ثابت کرے تو انعام کا حقدار ھوگا۔
شیعہ کے خود ساختہ ائمہ کے بیانات کے مطابق زیدی شیعہ سارے کافر ہیں۔ پہلے انکو مسلمان بنائو پھر اگلی بات کرو
کیا حوثی باغی ہیں؟
دو سالوں سے ہارون الرشید صاحب سے جب بھی بات ہوتی میں انہيں بتاتا کہ کیسے بے سرو سامانی کے عالم میں یمن کے انصار اللہ مجاہدین فلسطینیوں کے لئے اسرائیل، امریکہ، برطانیہ اور فرانس سے لڑ رہے ہیں۔ اور کیسے وہ اپنے بیانات میں قرآن مجید فرقان حمید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث نقل کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو جہاد کا حکم ہے۔ ہم اپنی فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کو تنہا نہيں چھوڑ سکتے۔ ہم امت مسلمہ ایک بدن کی طرح ہیں۔ فلسطین اس بدن کا اہم ترین حصہ ہے۔
ہارون صاحب مجھے جواب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یمنی قوم کے بارے میں احدیث سناتے۔ آج میں نے وہ سب ڈھونڈ کر پوسٹ کی ہیں۔
حیرت ہے کچھ لوگوں کو اس پر بھی اعتراض ہے۔ اور وہ انصار اللہ مجاہدین (حوثی) کو باغی کہہ رہے ہیں۔
باغی انصار اللہ مجاہدین نہیں ہیں۔ ان کی صنعا میں حکومت ہے۔ 50 ہفتوں تک یہاں ایک ملین کا جلوس ہر ہفتے ان کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف نکلتا رہا ہے۔ فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا جاتا۔
فوج انصار اللہ کے پاس ہے۔ اس لئے تو باب المندب بند ہے۔
پھر سب سے بڑی بات۔ انصار اللہ یمن کے آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ باغی/غیر قانونی وہ عبوری صدر عبد ربو منصور ہادی اور ان کی حکومت تھی جنہوں نے وعدے کے مطابق دو سالہ مدت کے اندر الیکشن نہ کروائے، مدت بڑھا کر برسوں اقتدار پر قابض رہے۔ پھر انصار اللہ نے بندوق اٹھائی اور کہا کہ منصفانہ انتخابات کروا جو یمن کے آئین اور عبوری معاہدے کا تقاضا ہے۔ جب انتخابات نہ ہوئے تو انصار اللہ نے صنعاء اور اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
اب یمن پر انصار اللہ مجاہدین جن کو مغربی میڈیا حوثی کہتا ہے ان کی حکومت ہے۔ یہیں قانونی حکومت ہے امریکہ یا سعودی عرب مانیں یا نہ مانیں جیسے افغانستان پر طالبان کی حکومت ہے۔ دنیا مانے یا نہ مانے۔