@MaidahMuhammad انکو آسٹریلیا سے واپس آنا ہی نہیں چاہئے تھا۔کیونکہ یہ ملک نہیں۔یہ بھائی جنگل ہے اور جنگل میں یہ کام ہوتے ہیں۔جس نے جسکو مارا بس پتہ چلتا
گزشتہ 8 مہینے سے جیل میں عمران خان کو ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ اُنکے پاس کتابیں ہیں نہ ٹی وی اور نہ کسی کو ان سے بات کرنے کی اجازت ہے۔ انکی آنکھ میں کلاٹ آیا ہے، ہمیں کم از کم تسّلی ہی کروا دیں کہ آپ انکے کھانے میں کچھ ملا نہیں رہے۔ دسمبر میں عمران خان میری بہن سے کہہ چُکے ہیں کہ یہ مجھے مار دینگے۔ ہم اپنے بھائی کی فکر کیوں نہ کریں؟ ہم پی ٹی آئی سے ہی امید کرسکتے ہیں کہ عمران خان کیلئے کچھ کریں۔ دباؤ ڈالیں تاکہ انہیں اس ظلم سے تو نجات ملے۔ ورنہ ان اسمبلیوں اور ووٹوں کا عمران خان کو کیا فائدہ ہے؟“
علیمہ خان کی انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گُفتگو
سلمان صفدر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ایک ہی سائیڈ کی آنکھ خراب ہونے کا معاملہ اٹھا دیا ..!!
190 ملین پائونڈ کیس میں اپیلوں پر دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سلمان صفدر نے کہا ہر بندہ ایک سوال کر رہا ہے کہ دونوں میاں بیوی کی آنکھیں کیسے خراب ہوئیں؟ دونوں میاں بیوی کی ایک ہی کیوں آنکھ خراب ہو رہی ہے؟ اڈیالہ جیل میں ایسا کونسا وائرس ہے کہ دونوں کی ایک ہی سائیڈ کی آنکھ خراب ہو رہی ہے
حلف سے وفا کے جرم میں آج آزاد ججز کو مختلف صوبوں میں ٹرانسفر کرکے ایک اور سیاہ باب رقم کیا جا رہا ہے اور خود کو تحفظ آئین پاکستان کی تحریک کہنے والوں نے صرف ایک اچھی لفاظی پر مشتمل پریس ریلیز جاری کرکے اپنی ذمہ داری مکمل کردی، ماشااللہ کیا کہنے ، کیا مزاحمت ہے
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس انداز میں ججز کو ٹرانسفر کیا جائے گا مگر تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کو پریس کانفرنس تک کی اجازت نہیں ملی ، اجازت اس لیے لکھا ہے کہ وقت کا تو کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ویسے کونسا یہ کوئی ایسا تیر ما رہے ہیں کہ پریس کانفرنس کا وقت نہیں تھا ، تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ہر بڑے سے بڑے جرم کو ری ایکشن نہ دے کر یا مزاحمت نہ کرکے نارملائز کر دیا ہے ، سوال یہ ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت یہ سب کس قیمت پر کر رہی ہے ؟؟
سڑکوں پر آنا ، بارز میں جانا ، شور مچانا ، حقیقی مزاحمت کرنا تو بہت دور کی بات ہے ، ان بیچاروں کو پریس کانفرنس تک کرنے کی اجازت نہیں ملی ، یہ کریں گے مزاحمت ، یہ بچائیں گے آئین، یہ کروائیں گے عمران خان کو رہا، اللہ ملک پر رحم فرمائے 🤲
ویسے تو فارم 47 کی شہباز حکومت 26 ویں اور ستائیسویں آئینی ترمیم لا کر آئین کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر چکی اور آزاد عدلیہ کا خاتمہ کر چکی لیکن آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں جسٹس بابر ستار،جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ثمن رفعت کو انکی مرضی کے بغیر خیبرپختونخوا،سندھ اور پنجاب بھجوا کر یہ بھی بتا دیا گیا کہ جو جج حکومتی من پسند جج نہیں ہوگا اسے صوبہ بدر کر دیا جائے گا۔۔
آج پاکستان،پاکستانی آئین اور رہی سہی عدلیہ کیلئے ایک سیاہ دن۔۔
Today marks one year to horrific state-sanctioned murder of our innocent supporter Zille Shah (Ali Bilal), who was brutally killed for exercising his right to peaceful protest.
Despite his autopsy showing brutal torture on 26 different parts of his body including his skull, lungs and his private parts, the case hasn’t been investigated, and the culprits remain at large— showing the plight of our justice system.
We, once again, demand a transparent probe into this horrific killing.
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10 اے کے تحت ہر شہری کو فئیر ٹرائل کا بنیادی حق حاصل ہے۔ تاہم بدقسمتی سے یہ حق بانی چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان سے، حکومت کے زیرِ اثر ایک جیل سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے، چھینا جا رہا ہے۔ عمران خان کے وکلا تین مرتبہ اڈیالہ جیل گئے تاکہ ضروری قانونی دستاویزات پر ان کے دستخط حاصل کیے جا سکیں، مگر تینوں مواقع پر جیل انتظامیہ نے دستخط کروانے سے گریز کیا۔ بعد ازاں جب یہی قانونی دستاویزات ٹی سی ایس کے ذریعے جیل بھجوائی گئیں تو جیل انتظامیہ کی جانب سے انہیں وصول کرنے یا آگے بڑھانے کے بجائے غائب کر دیا گیا، جس سے قانونی عمل مزید متاثر ہوا۔ چونکہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنا ایک مقررہ مدت کے اندر لازم ہوتا ہے، اس لیے جان بوجھ کر اختیار کیے گئے تاخیری حربوں کے ذریعے عمران خان کو ان کے حقِ اپیل سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف آئینی تقاضوں کے منافی ہے بلکہ انصاف کے تقاضوں پر بھی سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔
@MeenakhanAfridi Dear minister meenakhan https://t.co/2W4Y7dS1Gd 2011 se Imran Khan aur PTI follower hon.aur Bannu me as a government employee medical technician kam kerta hon.Dho sher Khan afridi ne muje Apne gawon ke BHU se bagher Kisi waja ke door CD ko transfer kia he.Minister Sahab ap notice