جانے نہ جانے گل ہی جانے ،باغ تو سارا جانے ہے!
پاکستان میں روز لطیفے ہوتے ہیں اور آج کا لطیفہ یہ ہے کہ موبائل بلاک، جائیداد بلاک،بینک اکاونٹس بلاک ، حقہ پانی بلاک ،پاسپورٹ بلاک ، شناختی کارڈ بلاک بل یعنی
Punjab Control of Habitual Offenders
and Anti-Social Behaviour Bill
پنجاب اسمبلی میں پیش ہو کر اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھی چلا گیا اور وہاں سے منظور بھی ہو گیا لیکن اسمبلی کے Custodian کو کانوں کان خبرہی نہ ہوئی۔ اپوزیشن نے جب اسپیکر کو توجہ دلائی تو سپیکر صاحب ہکا بکا اپنے سٹاف کو بلا کر حیرانی میں ڈوبے ہوئےپوچھ رہے ہیں ،
اوے ایہہ کدوں ہویا؟ میں کتھے ساں ؟🫥
محترمہ وہی تو کہہ رہا کہ سیدنا امام حسین کی شہادت کےبعد انکاعلم کس نے بلند کیا ؟
وہ کون تھا؟ جو بنو امیہ کے خلاف لڑا اور حرم کعبہ میں شہید ہوا ؟
جس کی لاش کو سولی دی گئی؟ لاش کو جلایا گیا؟ ہفتوں لاش سولی پر لٹکی رہی
عبداللہ بن زبیر
رسول اللہ ص کی پھوپھی صفیہ کا پوتا
عشرہ مبشرہ زبیر بن العوام رض کا بیٹا
سیدنا ابوبکر رض کا نواسا
سیدہ اسما بنت ابوبکر کا بیٹا
سیدہ عائشہ کا بھانجا اور آپ اعتراض بھی ان پہ کر رہیں؟
اخے آپ کون خواہ مخواہ
معجزہ !!
خالق دینا ہال میں اعلان ہُوا کہ مجلسِ شامِ غریباں کا انعقاد کیا جائے گا جو نیشنل ٹی وی پی ٹی وی پہ نشر ہوگی ،
اعلان علّامہ رشید ترابی مرحوم نے کیا ،
ایک شورِ مخالفت اٹھا
مگر یہاں عزادار تھے جو کسی کے آگے نہ جھکے تھے نہ جھکے ہیں ،
اسلم اظہر ڈائیریکٹر نے ہتھیار ڈال دیے اور اجازت دے دی گئی ،
اسلام آباد سے شرط یہ آئی کہ خطابت و شاعری میں کوئی معجزہ نہیں پڑھا جائے گا۔۔۔۔۔
ترابی صاحب نے مجلس میں اس حکم کو قدموں تلے کچل کر رکھ دیا ،
انچولی کے ایک مکان میں یہ فیصلہ ہوا کہ شاعرِ اہلبیت علیہم السلام کلیمِ آل عباء شاہد نقوی کا لکھا ہُوا نوحہ جناب عزت لکھنوی صاحب پیش فرمائیں گے اور وہ مجلس کے ساتھ نشر کیا جائے گا
کسے معلوم تھا کہ وہ نوحہ کیا تھا،
اجازت دے دی گئی
مگر جب نوحہ نشر ہو چکا اور شامِ غریباں گزر گئی تو انتظامیہ کو معلوم ہُوا کہ یہ تو معجزہ پڑھ دیا گیا
کیوں کے یہ وہی نوحہ تھا جو آج تک شامِ غریباں کی مجالس کی آواز ہے
"زینب نے کہا باپ کے قدموں سے لپٹ کر۔۔۔۔۔اب آئے ہو بابا"
شامِ غریباں میں مولا علی علیہ السلام کی آمد معجزہ ہی تو تھی۔۔۔۔۔
خیر یہ عزاداری خود ایک معجزہ ہے۔۔۔۔۔حُسین علیہ السلام کا معجزہ
جب تک انتظامیہ ہوش میں آئے
شامِ غریباں گزر چکی تھی
حکم عدولی کے سبب گرفتاری کا حکم نامہ جاری کیا جانا تھا
مگر ہاشم رضا مرحوم ، رشید ترابی مرحوم ، عزت لکھنوی مرحوم
شاہد نقوی مرحوم کے مکان پہ بیٹھک لگائے تھے
اور ہاشم رضا کا کہنا یہ تھا کہ
جو ہونا تھا ہو گیا
مگر آپ لوگ بھی کمال کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
کہاں معجزے کا منع تھا اور کہاں مولا کا ایسا معجزہ ہُوا کہ وہ نوحہ آج تک ایک معجزہ ہے
اور دنیا کا شاید ہی کوئی مقام ہو کہ جہاں شامِ غریباں کی مجلس ہو اور یہ نوحہ نہ پڑھا جائے
( از علامہ سہیل نقوی )
وہ کربلا و شام غریباں وہ تیرگی
وہ زینبِؑ حزیں وہ حفاظت خیام کی
آیا وہ اک سوار قریبِ خیامِ شاہ
بیٹی علیؑ کی غیظ میں سوئے فرس بڑھی
الٹی نقاب چہرے سے اپنے سوار نے
پیشِ نگاہِ زینبِؑ مظلوم تھے علیؑ
ہر چند صابرہ تھی بہت بنتِ فاطمہؑ
بے ساختہ لبوں پہ یہ فریاد آ گئی
زینبؑ نے کہا باپ کے قدموں سے لپٹ کر
اب آئے ہو بابا
جب لٹ گیا پردیس میں امّاں کا بھرا گھر
اب آئے ہو بابا
بابا اگر آنا ہی تھا خالق کی رضا سے
اُس وقت نہ آئے
جب خاک پہ دم توڑ رہا تھا مرا اکبرؑ
کٹ کٹ کے گرے نہر پہ جب بازوئے عباسؑ
اور کوئی نہ تھا پاس
اس وقت صدا آپ کو دیتا تھا دلاور
جب فرشِ زمیں بامِ فلک لرزہ بجا تھے
اس وقت کہاں تھے
جب باپ کے چلّو میں تھا خون علی اصغرؑ
جب بھائی کا سر کٹتا تھا میں دیکھ رہی تھی
حضرت کو صدا دی
سر کھولے ہوئی روتی تھی میں خیمے کے در پر
جب لوگ بچا لے گئے لاشے شہداء کے
حق اپنا جتا کے
بس اک تنِ شبیرؑ تھا پامالی کی زد پر
جب بالی سکینہؑ کے گُہر چھینے گئے تھے
لگتے تھے طمانچے
حسرت سے مجھے دیکھتی تھی بانوئے مضطر
اک رات کے مہمان ہیں پھر قید سلاسل
اب سخت ہے منزل
بازار میں ہم صبح کو جائیں گے کھلے سر
کیا آپ نے فردوس سے یہ دیکھا نہ ہو گا
اک حشر بپا تھا
جب پشت سے بیمار کی کھینچا گیا بستر
شاہؔد رخ حیدر پہ بکھر جاتے تھے آنسو
جب کھول کے گیسو
چلّاتی تھی زینبؑ میرے بابا میری چادر
نماز پڑھتے ہوئے دو سجدوں کے درمیانی وقفہ میں یہ انتہاہی مختصر دعا پڑھنا معمول بنا لیں اور دیکھیں کہ اللہ سبحان و تعالیٰ کیسے آپ کے رزق کو فراخ کرتے ہیں اللہ اکبر 💚
محترمہ حنا پرویز بٹ صاحبہ۔۔۔ جھوٹ پر جھوٹ بول کر پنجاب حکومت کیلئے داد سمیٹنے کی بجائے منتہا مرڈر کیس میں ملوث تمام پانچوں کے پانچوں ملزمان کو کٹہرے میں لائیں۔ جب موقع کا عینی شاہد مقتولہ کا چچا گواہی دے رہا ہے 5 ملزمان کو نامزد کر رہا ہے، جب قانون کہتا ہے کہ اگر female جس جائیداد میں قتل ہوگی وہ مالک قتل سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا، جب قانون کہتا ہے کہ female کیخلاف جرم ہوتا دیکھ کر خاموش رہنے والا بھی بری الذمہ نہیں ہو سکتا تو پھر پولیس اور پنجاب حکومت کون ہوتی ہے ایک ملازم کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کرکے یہ کہنے والی کہ بس انصاف ہوگیا، بات ختم؟
ملک بھر کے عوام تمام ملزمان کو کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
عوام یہ ویڈیو خود سن لیں
@AsmaviaChaudhry@qasm588 بی بی بہت افسوس ہوا اپ کے اس لفظ پر میں وہاڑی سے ہوں اور پہلے لفظ بورے والا ہے اور دوسرا اپ نے بھی تو ویوز لینے کےلیےیہ پوسٹ کردی بغیر تصدیق کے اور ان کو گالی بھی دےدی