Journalist| Autism Advocate| Fighting for Inclusion, Education & Rights of Autistic Kids | Masters in Urdu Literature| Masters in Fine Arts| M.Phil in Fine Arts
8 مئی 2024 کو لاہور میں فیملی جج شازیہ کوثر صاحبہ نے کسی اثر و رسوخ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے
میری autistic بیٹی ایلیا نور الامین مینگل کا عبوری خرچہ ڈیڑھ لاکھ ماہانہ مقرر کیا تھا ۔
پھر دو دن بعد ہی میری بیٹی کے والد نور الامین مینگل جو اس وقت سیکرٹری داخلہ پنجاب تھے ، نے اپنا وکیل بدلا ، ان کے نئے وکیل جھنگ سے آئے ۔
اور ایک ہفتے کے اندر جسٹس شازیہ کوثر صاحبہ کا تبادلہ کردیا گیا ۔
اور ان کی جگہ گجرانوالہ سے لاہور لگنے والے نئے جج جواد احمد صاھب اور نور الامین مینگل کے وکیل پہلے سے ایک ساتھ کام کر چکے تھے ۔
( یہ ساری باتیں ہمارے کیس میں عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہیں )
@AkramRaee میرا اندازہ: یہ ضروری نہیں کہ پوری تصویر شروع سے AI سے بنائی گئی ہو۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ ایک پرانی اصل group photograph کو AI سے restore/enhance کیا گیا ہے، پھر اس پر text/marking شامل کی گئی ہے۔
@AkramRaee اوپر کا heading اور نیچے کے names نسبتاً صاف ہیں، مگر تصویر کے اندر موجود لوگوں کی facial details ایسی لگتی ہیں جیسے اصل پرانی تصویر کو AI سے restore/upscale کیا گیا ہو۔
سرخ box، arrow اور “Ahsan Bhoon” غالباً بعد میں digitally add کیے گئے annotations ہیں۔
@AkramRaee کئی faces اور hair details بہت “perfectly reconstructed” محسوس ہوتے ہیں۔
تصویر کا background اور lighting بھی پرانی photograph کے مقابلے میں کافی جدید/processed لگتے ہیں۔
@AkramRaee تقریباً تمام چہروں میں غیر معمولی طور پر ایک جیسی sharpness اور smoothness ہے، جو پرانی 1983–84 کی ا��ل photograph کے لیے غیر معمولی لگتی ہیں
بالوں میں اکا دکا سفید بال آنا شروع ہو گئے ہیں ۔
لیکن ایک بات کا سکون ہے کہ میں نے آج تک بالوں پر کوئی کلر نہیں لگایا۔
جو ہیں، جیسے ہیں، قدرتی ہیں۔
شاید عمر کے ساتھ آنے والی یہ سفید لکی��یں بھی زندگی کی کچھ کہانیاں اپنے اندر سمیٹے ہوتی ہیں۔
ہم تیرے پیار میں سارا عالم کھو بیٹھے ۔۔ ۔
🌸🦋❤️ Weekendvibes#
( سیاست پہ مٹی ڈال دی میں نے کچھ دنوں کے لئے ۔ ایک ہی جماعت کے *** آپس میں ہی کتم کتا ہورہے ہیں ۔ بریک دے دیں بھئی ۔۔۔۔۔۔ )
محسن نقوی کی بار بار میڈیا ٹاک اور اتنی گھبراہٹ صاف بتا رہی ہے کہ سہیل آفریدی ، گنڈا پور کی طرح فکسڈ میچ نہیں کھیل رہا ۔
اور اسلام آباد شہر کی صورتحال بتا رہی ہے کہ گورنمنٹ panic کر گئی ہے ۔
حسن ایوب صاحب جھوٹ کی کوئی حد ہوتی ہے ،
عظمیٰ بخاری کو 14 بار عدالت نے طلب کیا ہے ، محترمہ صرف ایک بار پیش ہوئی ہیں،
وہ آج ایک بار پھر عدالت پیش نہیں ہوئیں،
اور آخری بات، کیس کا ٹرائل مکمل نہیں ہوا ،
عظمیٰ بخاری پر جرح ہونی ہے ، جس پر وہ عدالت سے بھاگ رہی ہیں کیونکہ فلک جاوید اور ان کے وکیل میاں علی اشفاق کا سامنا نہیں کر پا رہیں