“ Storytellers Are A Threat. They Threaten All Champions Of Control, They Frighten Usurpers Of The Right-To-Freedom Of The Human Spirit - In State, In Church Or Mosque, In Party Congress, In The University Or Wherever. ”
Chinua Achebe.
African Literati.
Poet.
[1930-2013]
Imam Al-Shafiʿi رحمه الله said:
"Do not live in a land in which there is neither a scholar to inform you about your religion, nor a doctor to tell you about your body."
[Manaqib Al-Shafiʿi 2/115]
فَاذۡکُرُوۡنِیۡۤ اَذۡکُرۡکُمۡ
ترجمہ: تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا
[سورۃ البقرۃ، 2:152]
نَسُوا اللّٰہَ فَنَسِیَہُمۡ
ترجمہ: وہ بھول گئے الله کو، تو اُس نے بھی اُنہیں بھلا دیا.
[سورۃ التوبہ، 9:67]
Al-Hasan al-Basri رحمه الله said:
“If a servant’s sins become numerous and he has no deeds that will expiate them, Allah afflicts him with worries and grief, making them an expiation for his sins.”
[Ahsan al-salihin (2957)]
Ibn al-Qayyim رحمه الله:
"Whoever has wronged you and then comes to you apologising, humility requires that you accept his apology, whether it is truthful or not, and leave what is in his heart to Allāh.
A sign of generosity and humility is that if you notice a flaw in his apology, you neither expose it nor hold it against him."
[Madarij As-Salikin, 2/338]
تمیم داری ؓ سے روایت ہے:
نبی ﷺ نے فرمایا: "دین سراپا خیر خواہی ہے."
ہم نے پوچھا، کس کی خیر خواہی؟
فرمایا:
(1) الله کی،
(2) اُس کی کتاب کی،
(3) اُس کے رسول کی،
(4) مسلمانوں کے امیروں کی،
(5) اور عام مسلمانوں کی.
مسلم 196
(ابوداؤد 4944؛ نسائی 4202، 4203؛ دارمی 4574؛ مشکوٰۃ 4966)
عوف بن مالک اشجعی ؓ فرماتے ہیں:
ہم زمانۂ جاہلیت میں رقیہ (دم) کیا کرتے تھے، پھر ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اپنے رقیے (دم) میرے سامنے پیش کرو (سناؤ)، ایسے رقیہ (دم) میں کوئی حرج نہیں ہے، جس میں شرکیہ الفاظ نہ ہوں."
مسلم 5732
حضرت جریر بن عبدالله ؓ بیان کرتے ہیں:
میں نے رسول الله ﷺ کے دست مبارک پر نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے، اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی.
بخاری 524، 57، 2715، 1401
(مسلم 199؛ ترمذی 1925؛ نسائی 4180؛ مسند احمد 19405، 19441، 19461؛ دارمی 2582؛ مشکوٰۃ 4967)
Sheikh Muqbil رحمه الله said,
"We are in a time of Fitan and whenever one Fitna passes another Fitna comes that is greater than it."
[Tuhfat al Mujeeb Pg. 256]
اعرابیوں (بدوؤں) نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ:
الله کے رسول! بندے کو جو چیزیں الله تعالیٰ نے عطا کی ہیں ان میں سب بہتر چیز کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: "اچھے اخلاق"
ماجہ 3436
(ابی شیبہ 25823؛ بیہقی 19559؛ مشکوٰۃ 5078)
قالَ النبی ﷺ:
جس شخص نے اپنے (مسلمان) بھائی کے لئے اُس کی پیٹھ پیچھے (غائبانہ میں) دعا کی، تو جو فرشتہ اِس کے ساتھ مقرر ہے وہ کہتا ہے: "آمین، اور تمہیں بھی اِسی کے مانند عطا ہو".
مسلم 6928، 6927، 6929
(ابوداؤد 1534؛ ماجہ 2895؛ حبان 989؛ ابی شیبہ 29770، 29771؛ مشکوٰۃ 2228)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین (رضی الله عنہم و عليهم السلام) اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں.
ترمذی 3781
(مشکوٰۃ 6171؛ مسند احمد 23719؛ حبان 6960)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
حسن اور حسین (رضی الله عنہما و عليهما السلام) جنتی جوانوں کے سردار ہیں، اور ان کے والد ان دونوں سے افضل ہیں.
ماجہ 118
(المستدرک للحاكم 4779، 4780)
قالَ ﷺ:
1) میں اُس شخص کے لئے جنت کے کنارے ایک گھر کا ضامن ہوں جو جھگڑا چھوڑ دے اگرچہ وہ حق پر ہو،
2) اور جنت کے بیچ میں ایک گھر کا اُس کے لئے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ مذاق ہی میں ہو،
3) اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا، اُس کے لئے جو اپنا اخلاق اچھا بنائے.
ابوداؤد 4800
حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں:
(1) ایک قوم مجھ سے محبت کرے گی، حتیٰ کہ وہ مجھ سے محبت (میں غلو) کی وجہ سے جہنم کی آگ میں داخل ہوگی.
(2) اور ایک قوم مجھ سے بغض رکھے گی، حتیٰ کہ وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے جہنم کی آگ میں داخل ہوگی.
فضائلِ صحابه للامام احمد بن حنبل 952
(نهج البلاغة 125)