مرشد عمران احمد خان نیازی کی بہن علیمہ آپا نے کے پی کے میں سٹریٹ موومنٹ کا آغاز کیا ہے۔
علی محمد خان لکھتے ہیں کہ
"تحریکِ انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی جگہ نہیں ہے۔"
علی محمد خان صاحب!
آپ تب کہاں تھے؟
جب خان صاحب کی بہنوں پر تیزاب ملا پانی پھینکا جا رہا تھا؟
آپ تب کہاں تھے؟
جب خان صاحب کی بہنوں کو سڑکوں پر گسیٹا جا رہا تھا؟
آپ تب کہاں تھے؟
جب ورکرز کو اڈیالہ جیل کے باہر گرفتار کیا جا رہا تھا؟ آپ تب کہاں تھے؟
آپ کہیں نظر آئے؟
تین سال میں آپ نے خان صاحب کی رہائی کے لیے کیا کیا؟
خان صاحب کی بہنیں اپنے بھائی کی رہائی کے لیے، ان کی صحت کے لیے فکر مند ہیں، اور یہ ایک فطری بات ہے کہ اگر ایک بھائی تکلیف میں ہو تو بہنیں سکون سے نہیں بیٹھ سکتیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے
ان کا مطالبہ یہ نہیں تھا کہ ہمیں کوئی عہدہ لینا ہے یا سیاست میں آنا ہے۔
ان کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ ہم اپنے بھائی کی ایک جھلک دیکھ لیں ان سے بات کر لیں اور عوام کے لیے ان کا کوئی پیغام لے آئیں۔
میرے سامنے نورین آپا کو گسیٹا گیا، میرے سامنے خان صاحب کی بہنوں پر پانی پھینکا گیا۔ یہ سب کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، لیکن یہ بدبخت قیادت نظر نہیں آئی۔
تقریباً اسی ہزار سے زائد عہدیداران پورے پاکستان میں ہیں، لیکن اڈیالہ جیل کے باہر دس ہزار افراد کا ہدف بھی حاصل نہ کر سکے۔
یہ پارٹی میرے خان کی ہے۔
ہم خان صاحب کی بہنوں کے ساتھ ہیں
انہوں نے سٹریٹ موومنٹ کا کہا، تو سہیل آفریدی کہاں ہے؟ ابھی تک سٹریٹ موومنٹ کیوں شروع نہیں کی؟
دوسری جانب جنید اکبر نے ابھی تک تنظیم سازی مکمل نہیں ہوئی، پنجاب کی تنظیم سازی بھی مکمل نہیں ہوئی۔
آپ لوگ سٹریٹ موومنٹ نہیں کر رہے، احتجاج نہیں کر رہے
تو مجبوراً خان صاحب کی بزرگ بہنوں کو سڑکوں پر آنا پڑا
خان ہے تو یہ پارٹی ہے
خان ہے تو یہ سب کچھ ہے۔
خان کے بغیر یہ پارٹی کچھ بھی نہیں، نہ آپ کا مستقبل ہے، نہ پاکستان کا مستقبل ہے، نہ کچھ اور۔
لہٰذا خان صاحب کی بہنوں کا ساتھ دیں۔
انہیں معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے
انہیں سب علم ہو چکا ہے۔
سب کچھ جاننے کے بعد وہ خود سڑکوں پر نکلی ہیں۔ اس لیے ان کا ساتھ دیں، خان صاحب کی بہنوں کو مضبوط کریں، اور خان صاحب کی رہائی کے لیے سٹریٹ موومنٹ چلائی جائے۔
شکریہ۔
مرشد عمران احمد خان نیازی کی بہن علیمہ آپا نے کے پی کے میں سٹریٹ موومنٹ کا آغاز کیا ہے۔
علی محمد خان لکھتے ہیں کہ
"تحریکِ انصاف میں موروثی سیاست کی کوئی جگہ نہیں ہے۔"
علی محمد خان صاحب!
آپ تب کہاں تھے؟
جب خان صاحب کی بہنوں پر تیزاب ملا پانی پھینکا جا رہا تھا؟
آپ تب کہاں تھے؟
جب خان صاحب کی بہنوں کو سڑکوں پر گسیٹا جا رہا تھا؟
آپ تب کہاں تھے؟
جب ورکرز کو اڈیالہ جیل کے باہر گرفتار کیا جا رہا تھا؟ آپ تب کہاں تھے؟
آپ کہیں نظر آئے؟
تین سال میں آپ نے خان صاحب کی رہائی کے لیے کیا کیا؟
خان صاحب کی بہنیں اپنے بھائی کی رہائی کے لیے، ان کی صحت کے لیے فکر مند ہیں، اور یہ ایک فطری بات ہے کہ اگر ایک بھائی تکلیف میں ہو تو بہنیں سکون سے نہیں بیٹھ سکتیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے
ان کا مطالبہ یہ نہیں تھا کہ ہمیں کوئی عہدہ لینا ہے یا سیاست میں آنا ہے۔
ان کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ ہم اپنے بھائی کی ایک جھلک دیکھ لیں ان سے بات کر لیں اور عوام کے لیے ان کا کوئی پیغام لے آئیں۔
میرے سامنے نورین آپا کو گسیٹا گیا، میرے سامنے خان صاحب کی بہنوں پر پانی پھینکا گیا۔ یہ سب کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، لیکن یہ بدبخت قیادت نظر نہیں آئی۔
تقریباً اسی ہزار سے زائد عہدیداران پورے پاکستان میں ہیں، لیکن اڈیالہ جیل کے باہر دس ہزار افراد کا ہدف بھی حاصل نہ کر سکے۔
یہ پارٹی میرے خان کی ہے۔
ہم خان صاحب کی بہنوں کے ساتھ ہیں
انہوں نے سٹریٹ موومنٹ کا کہا، تو سہیل آفریدی کہاں ہے؟ ابھی تک سٹریٹ موومنٹ کیوں شروع نہیں کی؟
دوسری جانب جنید اکبر نے ابھی تک تنظیم سازی مکمل نہیں ہوئی، پنجاب کی تنظیم سازی بھی مکمل نہیں ہوئی۔
آپ لوگ سٹریٹ موومنٹ نہیں کر رہے، احتجاج نہیں کر رہے
تو مجبوراً خان صاحب کی بزرگ بہنوں کو سڑکوں پر آنا پڑا
خان ہے تو یہ پارٹی ہے
خان ہے تو یہ سب کچھ ہے۔
خان کے بغیر یہ پارٹی کچھ بھی نہیں، نہ آپ کا مستقبل ہے، نہ پاکستان کا مستقبل ہے، نہ کچھ اور۔
لہٰذا خان صاحب کی بہنوں کا ساتھ دیں۔
انہیں معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے
انہیں سب علم ہو چکا ہے۔
سب کچھ جاننے کے بعد وہ خود سڑکوں پر نکلی ہیں۔ اس لیے ان کا ساتھ دیں، خان صاحب کی بہنوں کو مضبوط کریں، اور خان صاحب کی رہائی کے لیے سٹریٹ موومنٹ چلائی جائے۔
شکریہ۔
🚨🔥 بریکینگ نیوز !!🚨🔥
ضروری اعلان: پختون خواہ کے ناراض اراکین جو عمران خان کی رہائی چاہ رہے تھے ۔ خوشحال گڑھ اور صوابی دھرنے والے فوراً علیمہ آپا کی ریلی میں شمولیت اختیار کریں ۔🔥🔥✊
یہ ہوتی ہے اصل سٹریٹ موومنٹ، جو آج علیمہ آپا نے شروع کی ہے۔
نہ کوئی پروفیشنل کیمرہ مین، نہ ٹک ٹاک، اور نہ ہی کوئی دکھاوا۔
بغیر کسی اعلان یا اطلاع کے، خان صاحب کا پیغام اور ان کی رہائی کا مطالبہ لے کر عوام کے درمیان جا رہی ہیں۔