عمران خان کی بہنوں کو جب گرفتار کیا گیا تو 100 سے زائد مرد پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے، وہاں بچیاں تھیں، انہوں نے دروازے توڑے۔
اس وقت ظلم فسطائیت، سفاکیت کی انتہا ہوچکی ہے، سلمان اکرم راجہ کی لاہور ہائیکورٹ میں علیمہ خان کیس کے بعد گفتگو.
#FreeAleemaKhan
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا @SohailAfridiISF کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب
• خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے قیام کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، خیبر پختونخوا کے 80 ہزار سے زائد افراد نے پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے،
• دو دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن رجیم چینج آپریشن کے بعد دوبارہ بدامنی کی نذر کر دیا گیا، دہشتگردوں کے پہاڑوں پر جانے سے لے کر ان کی دوبارہ آبادکاری تک ہم نے ریاست اور وفاق کو مسلسل خبردار کیا،
• ہم نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں جلسے، جلوس اور مظاہرے کرکے بدامنی کی واپسی کے خلاف آواز اٹھائی، ہماری بار بار کی تنبیہات کو وفاقی وزراء نے پروپیگنڈا اور جھوٹ قرار دیا،
• ہم نے بار بار کہا کہ ریاست کی موجودہ پالیسی غلط ہے اور اس سے دوبارہ پختونوں کا خون بہے گا، خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تجربات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، آج خیبر پختونخوا میں فوجی جوان، پولیس اہلکار، بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری دہشتگردی کا نشانہ بن کر شہید ہو رہے ہیں،
• خیبر پختونخوا کے عوام کے خون اور قربانیوں کی کسی کو فکر نہیں، وفاقی وزراء خیبر پختونخوا کے عوام کو دہشتگرد اور جنگلی کہتے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی, لاڈلوں کے لیے ایک پالیسی اور خیبر پختونخوا کے لیے دوسری پالیسی نہیں چل سکتی،
• پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کا یہ بیان کہ بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے انتہائی قابل تشویش ہے, بھارت کے حوالے سے ریاستی بیانیے کی نفی کرنے والوں سے بھی سوال ہونا چاہیے، خیبر پختونخوا کو دوبارہ دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے کی پالیسی ناقابل قبول ہے،
• امن کے لیے اپنے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کی کٹوتی کرکے پولیس کو دی، مالی سال 2026 میں پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے وسائل فراہم کیے، پولیس کے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا ہے، پولیس کی نفری اور استعداد کار کو مضبوط، اسپیشل برانچ کو مستحکم اور پولیس کو جدید اسلحہ و دیگر ضروری آلات فراہم کیے جا رہے ہیں،
• صرف پولیس کو وسائل دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، وفاق کو پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی، 15 اکتوبر 2025 سے مسلسل کہہ رہا ہوں کہ 22 سال سے جاری ناکام پالیسی تبدیل کی جائے، خیبر پختونخوا کے تمام اسٹیک ہولڈرز، حکومت، انتظامیہ اور پولیس کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی بنائی جائے،
• ہماری تجویز کردہ نئی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں خیبر پختونخوا میں امن لا سکتے ہیں، مگر کوئی سننے کو تیار نہیں، کچھ لوگ عقل کل بنے ہوئے ہیں اور خیبر پختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کی بات سننے کو تیار نہیں،
• ملک کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں، کیا ہمارے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے کہ اسے سیاست کی بھینٹ چڑھایا جائے، خیبر پختونخوا کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں،
• ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے نظریے سے ہٹا دے، گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا،
• وفاق اپنی پالیسی تبدیل کریں اور پالیسی شفٹ لائیں، اپنے فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو مزید خون خرابے سے بچائیں، پالیسی میں تبدیلی خیبر پختونخوا کے ساتھ پورے پاکستان کے مفاد میں ہے.
ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے نظریے سے ہٹا دے، گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا اجلاس سے خطاب
جعلی حکومت جتنی توانائی خیبر پختونخوا کے عوام کی منتخب کردہ حکومت کو ہٹانے کے لیے آئینی شقیں تلاش کرنے میں صرف کر رہی ہے، اگر اتنی ہی توجہ عمران خان، ان کی اہلیہ، پارٹی کی قید دیگر قیادت اور کارکنان کو ان کے آئینی حقوق دینے اور آئین کے مطابق صاف، شفاف اور منصفانہ عدالتی ٹرائل کا موقع دینے پر دیتی تو ملک کی صورتحال مختلف ہوتی۔اگر 8 فروری کے انتخابات میں عوام کے دیے گئے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جاتا، خیبر پختونخوا کے عوام سے سابق فاٹا کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدے پورے کیے جاتے، این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کا جائز حصہ دیا جاتا، خیبر پختونخوا کو اس کا آئینی نیٹ ہائیڈل پاور منافع اور دیگر واجبات بروقت ادا کیے جاتے تو آج ملک کو اس سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ عوامی مینڈیٹ دبانے، صوبائی حکومت کو غیر مستحکم کرنے، بنیادی انسانی حقوق اور آئینی حقوق معطل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ بحران مزید گہرا ہوتا ہے۔ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ عوام کے مینڈیٹ کے احترام، آئین کی بالادستی، صوبوں کے آئینی حقوق کی ادائیگی اور قانون کی یکساں حکمرانی سے ہی نکلتا ہے۔
اسد طور 🔥🔥🔥
نمرود لیگ کے اندر ایک بڑا دھڑا ہے جسکی قیادت شوباز شریف کرتا یے وہ لوگ نوازشریف کو سمجھا رہے ہیں کہ زیادہ انقلابی بننے کی ضرورت نہیں پہلے ہی اسکے انقلابی بیانیے کی کوئی اوقات اور اعتماد نہیں رہا اور چپ چاپ نئے صوبوں کے قیام پر حامی بھریں اور اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں۔ کیونکہ نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کا ہدف ایک ہی ہے جو کہ عمران خان ہے نون لیگ کی اتنی اوقات رہ نہیں گئی کہ وہ کسی قسم کی مزاحمت کرے یا اسٹیبلشمنٹ کو کسی قسم کا انکار کرنے کی جرات کرسکے
بریکنگ نیوز 🚨عمران ریاض کا اہم ترین تجزیہ 🔥🔥
انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کو عملی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ جو پوسٹر بینر پہلے نقاب پوش افراد اتارتے تھے، اب وہ کام دن کی روشنی میں ٹی ایم اے کا عملہ کر رہا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں، اسٹیبلشمنٹ براہ راست صوبے کے معاملے کو کنٹرول کر رہی ہے۔
”سہیل آفریدی کو پہلے دھمکیوں سے ڈرایا گیا، پھر فالس فلیگ کے ٹریپ میں پھنسانے کی کوشش ناکام ہوئی، گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی خبریں چلوا لیں لیکن جب کچھ نہ بن پایا تو اب جعلی خبریں چلا دیں۔ اگر سہیل آفریدی کے خلاف اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ایک پیج پر ہیں تو کروا دیں عمران خان سے تحریک انصاف کے کسی رہنماء کی ملاقات ! تا کہ قوم کے سامنے سچ آ جائے اور آپ جو اربوں روپے خرچ کرکے تحریک انصاف کا راستہ روک رہے ہیں، وہ بھی نہ کرنا پڑے۔“ ثمینہ پاشا
@pasha_samina
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی ہدایات پر صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ نے ارکان صوبائی اسمبلی، وزراء، مشیران، معاونینِ خصوصی برائے وزیر اعلیٰ اور پارلیمانی سیکرٹریز کی گرفتاری، حراست سمیت ان کی رہائش گاہوں پر چھاپوں، حملوں، تلاشی یا دیگر کارروائیوں سے متعلق ریکارڈ طلب کر لیا۔
صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا کو ارسال کردہ مراسلے میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پیش آنے والے ایسے تمام واقعات کی مکمل رپورٹ اور متعلقہ ایف آئی آرز فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ پولیس اسٹیشنز میں ایسے واقعات سے متعلق درج رپورٹس اور ایف آئی آرز کے علاوہ ان افراد کا ریکارڈ بھی فراہم کیا جائے جنہوں نے ان واقعات کی بابت پولیس کو رپورٹ درج کرائی ہے۔
اسمبلی سیکرٹریٹ نے واضح کیا کہ یہ معلومات آئین پاکستان کے آرٹیکلز 66 اور 67، آئین کے آرٹیکل 127، خیبرپختونخوا اسمبلی کے قواعدِ طریقہ کار و ضابطہ کار 2025 اور خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی (اختیارات، استحقاقات و مراعات) ایکٹ 2026 کے تناظر میں حاصل کی جا رہی ہیں۔
مراسلے میں آئی جی خیبرپختونخوا سے کہا گیا ہے کہ مطلوبہ مکمل ریکارڈ فوری طور پر اسمبلی سیکرٹریٹ کو فراہم کیا جائے تاکہ اسے اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
---------
جب DI خان میں دھماکہ ہوا ہمارے فیلڈ مارشل سعودی عرب میں ترکی اور سعودی وزیردفاع کیساتھ ان کا دفاع کرنے پر دستخط کر رہا ہے
ان سے اپنا ملک سنبھالا نہیں جا رہا ہر چوبیس گھنٹے بعد کوئی نہ کوئی دہشتگردی کا واقعہ ہو رہا ہے اور یہ دوسروں کے دفاع کا عزم کر رہے ہیں
معید پیرزادہ
اتوار کو لندن میں ہونے والے احتجاج میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کے فوجی آمر عاصم منیر کے ہاتھوں عمران خان پر کیے جانے والے تشدد کے خلاف تارکینِ وطن میں غم و غصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
#FreeImranKhan
اہم ترین 🚨
قاسم خان کا انٹرنیشنل میڈیا کو انٹرویو، ان لوگوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل انعام، کرپٹو کرنسی، پاکستان کی قدرتی معدنیات کی رشوت دی
اس انٹرویو کو ہر جگہ پھیلا دیں
🚨🚨 بریکینگ نیوز : عاصم منیر انڈین ایجنٹ ہے؟شہباز گل کے بڑے انکشافات ۔!!🔥🔥🛑🛑
حیران کن بات ہے, کہ انڈیا اور عاصم منیر ایک ساتھ ہیں ۔ اور ایک ہی پیج پر کھیل رہے ہیں ۔ پاکستان کے خلاف ہیں ۔ پاکستان کے جرنیلوں نے ہر سیاستدان کو انڈین ایجنٹ کہا ہے ۔ آج انڈیا فورم پر عاصم منیر کو سپورٹ کر رہا ہے۔؟ 🚨🚨🔥
🚨 دو ٹوک
اسٹیبلشمنٹ اگر گورنر راج جیسا کوئی ایڈونچر کرنا چاہے گی تو وہ مس ایڈونچر ثابت ہوگا، " نا گورنر رہے گا نا گورنر ہاوس، یہ خیبرپختونخوا ہے عوام سب سے پہلے گورنر ہاوس کا ہی محاصرہ کرے گی، شفیع جان
کے پی وزیر شکیل خان پولیس سٹیشن گئے پرچہ درج کروانے کے لیے، پولیس نے انکا پرچہ درج کرنے کی بجائے ایجنسیوں کے بندوں کو بلوا کر سادہ وردی میں، شکیل خان کو گرفتار کروا دیا۔
ریستی غنڈہ گردی اسکو بولتے ہیں
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا @SohailAfridiISF کا ویڈیو پیغام:
”ڈی آئی خان میں دہشتگردی کے بزدلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے نوجوان، پولیس اہلکار، فوجی جوان اور عام شہری مسلسل شہید ہو رہے ہیں۔ گزشتہ 22 سال میں 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد چھوٹے آپریشنز کے باوجود پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا، اس لیے موجودہ پالیسی پر نظرثانی ضروری ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس کے لیے اضافی 35 ارب روپے فراہم کیے جبکہ مالی سال 2026-27 میں پولیس کا بجٹ 191 ارب روپے کردیا گیا۔ پولیس کو مطلوبہ اسلحہ، آلات اور اے پی سیز کی فراہمی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
بند کمروں کی ایسی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں جن کا نقصان خیبرپختونخوا اور پورے پاکستان کو ہو رہا ہے۔ وفاقی وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات صوبوں کے درمیان نفرت اور انتشار بڑھا سکتے ہیں، جبکہ عوام کو دہشتگرد قرار دینا انتہائی تشویشناک ہے۔
صوبائی ایکشن پلان وفاق کو دیا گیا اور 100 دن میں امن کے لیے اقدامات کی صلاحیت ظاہر کی گئی، اب سوال ہے کہ اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا۔ دہشتگردی کی آگ کو روکنے کے لیے پاکستان کے مفاد میں سنجیدہ فیصلے اور پائیدار امن کی مؤثر کوشش ضروری ہے۔
تحریک انصاف کے کارکن باشعور ہیں اور ہمارا لانگ مارچ پرامن تھا، پرامن ہے اور پرامن رہے گا۔ 4 اکتوبر کو عوام اپنا آئینی اور قانونی حق پرامن طریقے سے استعمال کریں گے۔“
اپر سوات سے 73 سالہ رکن صوبائی اسمبلی سلطان روم کا نامعلوم افراد کی جانب سے اغوا انتہائی سنگین، افسوسناک اور ناقابلِ قبول عمل ہے۔ چادر و چار دیواری کے تقدس، انسانی وقار اور قانون کی دھجیاں اڑانے والے ایسے اقدامات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ بارہا واضح کر چکے ہیں کہ اُن عناصر کو موقع مت دیں جو آئین و قانون کو نہیں مانتے۔
اگر کل عوام نکل آئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟؟
بریکنگ نیوز 🚨نجم سیٹھی کا بڑا انکشاف 🔥🔥
اسٹبلیشمنٹ بری طرح سے پھنس چکی ہے، اور مجھے لگتا ہے یہ جلدی فیصلہ ہو جائے گا۔ محسن نقوی اسلام آباد کی ایسی صورتحال کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہ بالکل ڈونلڈ ٹرمپ والی بات ہے، جیسے ڈونلڈ ٹرمپ پھنسا ہوا ہے، وہاں معیشت کا نقصان ہو رہا ہے، ویسے یہاں ان کا نقصان ہو رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر فوجی پراڈکٹس کے بائیکاٹ کی بھرپور کمپین جاری ہے، ساتھ میں جھوٹے عسکری لفافہ صحافیوں کا بھی بائیکاٹ جاری رکھیں جو آرمی اسٹیبلشمنٹ کے واٹس ایپ پر آئے ہوئے پراپیگنڈے کو خبر بنا کر آگے پھیلاتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں، تمام چینلز کا بھی بائیکاٹ کریں یہ صرف اشتہارات کے لالچ میں آرمی اسٹیبلشمنٹ کی باتوں کو فروغ دیتے ہیں عوام میں فوج کی ایماء پر خوف پھیلاتے ہیں اور جمہور و عوام کی آواز نہیں دیکھاتے۔
#BoycottFaujiProducts
اراکینِ قومی اسمبلی مجاہد خان، ڈاکٹر امجد علی خان اور سہیل سلطان کے گھروں پر سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد کے چھاپوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ انتہائی تشویش ناک اور قابلِ مذمت اقدام ہے۔خیبر پختونخوا کا اپنا سیاسی و سماجی کلچر ہے، جہاں شدید سیاسی اختلافات کے باوجود بھائی چارے، رواداری اور باہمی احترام کو ہمیشہ مقدم رکھا جاتا ہے۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے سے گریز کیا جائے۔ سیاسی مخالفین کے گھروں پر اس نوعیت کے چھاپے اور کارروائیاں نہ صرف سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کریں گی بلکہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی پہلے سے موجود صورتحال کو بھی مزید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن سیاسی اختلاف کو ذاتی انتقام کا ذریعہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔