قومی ہیرو:
سوشل میڈیا میں باربار ایسے ٹیکسٹ پڑھنے کو ملتے ہیں ہر کوئی کہتا ہے کہ فلان قومی ہیرو ہے ��وئی اور کہتا ہے کہ فلان قو می ہیرو ہے اور اُن کی صفت و ثنا کرنے سے نہیں تھکتے ۔ مجھ جیسے کم فہم کیلۓ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ اتنے سارے قومی ہیرو میں سے کس کا انتخاب کروں کہ کون میرا حقیقی قومی ہیرو ہے۔ یہ سن سن کر حیرانی ہوتا کہ بلوچ قوم کے کتنے قومی ہیرو ہیں ۔ شاہد میں نہیں جانتا یاکہ یہ لوگ قومی ہیرو کی خصوصیات کے بارے علم نہیں رکھتے۔ برحال میں اپنے مطالعہ کے مطابق قومی ہیرو کے بارے کچھ کہنے کی جسارت کرتا ہوں۔
میرے علم کے مطابق قومی ہیرو کا پہلا خاصیت یہ ہے کہ وہ قومی نظریہ پر پختگی سے قائم ہو۔ دوسرا یہ کہ اپنے قومی مسائل اور قوم پر کۓ جانے والے سیاسی و معاشی اور معاشرتی ظلم و زیادتیوں کا ادراک رکھتا ہو۔ تیسرا یہ کہ نظریہ پر خلوص اور ایمانداری سے جدجہد کرتا ہے۔ چھوتا یہ کہ وہ قوم کے ساتھ ایسا غل ملتا ہو کہ پہچاننا مشکل ہو کہ اِن میں سے لیڈر کون ہے۔ پانچواں یہ کہ دوراندیش و بصیرت رکھتا ہو۔ چھٹا ��ہ کہ قوم کو جمع کرنے کی صلا حیت رکھتا ہو ۔ ساتواں یہ کہ تنظمی ادارے میں میرٹ کی اہمیت کو سمجھتا ہو۔ آٹھواں یہ کہ ہر کسی کی درد کو اپنا درد سمجھتا ہو۔
اِس کے علاوہ چند ایسے چھوٹے خاصیت ج�� قومی تحریک کیلۓ نقصاندہ نہیں ہوسکتے وہ قابل ذکر نہیں ہیں ۔ اسلۓ قوم کے ہر فرد کی ذمہداری ہوتا ہے کہ ہو اپنے قومی لیڈر کی پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ میں اپنے علم و سیاست اور سمجھ کے مطابق بلوچ میں سب سے پہلا شخص نوری نصیر خان تھے جس نے بلوچ قوم کو قوم کی حثیت سے متحد رکھا تھا ۔ نوری نصیر خان کے دور کے بعد بلوچ قوم میں اُس جیسا قومی یکجہتی نہیں ہوا ہے یہ پہلی بار ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ نے بلوچ قوم کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پلیٹ پر متحد کیا ہے اور میں نے کافی باریک بینی کی ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ وہ شخص ہے کہ اِس چھوٹی سی عمر میں قومی لیڈر شپ کی خداداد صلاحیتں رکھتا ہیں جنہیں ا��کار نہیں کیا جا سکتا۔
میں خصوصاً بلوچ قوم سے گزارش کرتا ہوں کہ بلوچ قوم ایک مشکل اور نازک دور سے گذر رہا ہے اسلۓ اِس مشکل دور کا مد نظر کرتے ہوۓ اِس مشکل گھڑی میں بلوچ قوم کو انتشار ہونے سے بچانے اور وسیع تر قومی مفادات کی خاطر ڈاکٹر ماہ رنگ کا ساتھ دیا جاۓ اور اِسے اپنا قومی فریضہ سمجھ کر ��اکٹر ماہرنگ کو ساتھی سمیت قید سے رہا کروانے کیلۓ انتک کوشش کرنا چائیے ۔
ایران اور پاکستان کے حملوں میں بلوچ بچوں کے قتل پر خوشیاں منانے اور جھوٹ پھیلانے والوں کے نام پیغام!
آپ ایران اور پاکستان کے میزائل حملوں میں خوشی منا رہے ہو اور جھوٹ پہ جھوٹ پہ بول رہے ہو۔ کوئی کہتا ہے ایران نے اتنے دہشتگرد مار کر بڑا بہادری کا کام کیا تو کوئی کہتا ہے کہ پاکستان نے اتنے دہشتگرد مار کر بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ آپ میں سے کوئی بھی تھوڑی بہت تکلیف کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتا کہ دونوں جانب مرنے والے صرف معصوم بچے اور خواتین تھے اور دونوں ایٹمی طاقت کے حامل ممالک کے بہادر افواج کے بہادر میزائلوں نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کرکے بلوچوں کے معصوم بچوں اور خواتین کا قتل کیا ہے۔
آپ لوگ جنگ اور ظلم و جبر کے سائے سے بہت دور زندگی گزار رہے ہو اس لیے آپ ہمارے معصوم بچوں اور خواتین کو مارنے پر بھی خوشیاں مناتے ہوں، آپ کے اپنے بچے محفوظ ہے اس لیے آپ بلوچوں کے بچوں کو قتل پر بھی جھوٹ پھیلا رہے ہو۔ لیکن یاد رکھنا آپ جس طرح ان مصوم بچوں کی قتل پر خوشیاں منارہے ہو اور جھوٹ پھیلارہے ہو یہ جنگ آپ کی دہلیز تک بھی پہنچ سکتی ہے اور آپ کے بچے بھی اس جنگ کے زد میں آسکتے ہیں۔
اس وقت ہمارا خون جل رہا ہے کہ باڈر کے دونوں جانب ہمارے معصوم بچے مررہے ہیں اور ہمارے گھر تباہ ہورہے ہیں لیکن اس سے زیادہ ہمیں تکلیف اس بات کی ہورہی ہے کہ آپ ہمارے بچوں کی لاشوں پر خوشیاں منا رہے ہو۔
کوئی اپنے ایرانی فوج کو بہادر قرار دے رہا ہے تو کوئی اپنے پاکستانی فوج کو شاباشیاں دے رہا ہے لیکن آپ کے دونوں فوجوں نے بلوچوں کے معصوم بچوں کا قتل کیا ہے اور آپ لوگ ہمارے لاشوں پر جشن منا رہے ہو۔ ہم اس تکلیف اور درد کو نہ کبھی بھولے گے اور کبھی بھولنے نہیں دینگے اس کو ہم اپنا یاداشت کا حصہ بنارہے ہیں۔
آج آپ کی صحافیوں سے لیکر سیاستدان تک ہمارے معصوم بچوں کی لاشوں پر خوشیاں منا رہے ہیں۔
#MarchAgainstBalochGenocide
#StopBalochGenocide
بولان کریم والد محمد کریم جو پسنی کا رہاہشی ہے جیسے 4-1-2013 کو پسنی ائیر پورٹ روڑ سے لاپتہ کیا گیا تھا جو تاحال لاپتہ ہے لواحقین نے اپیل کی ہے بولان کو بازیاب کیا جائے۔
#ReleaseBolanBaloch
اس طرح اگر سب عمران بھائی کی طرح اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کریں اور ماہ رنگ کی طرح در گزر کریں تو بلوچستان کے تقریباً کچھ مسائل ختم ہو جائیں گے۔۔ شکریہ @ImranRiazKhan@MahrangBaloch_
Thousands of people in Karachi protested against #BalochGenocide. Lyari, a Baloch-populated area, has long endured state brutality, with thousands of youth losing their lives in the systematic genocide. #MarchAgainstBalochGenocide