Research Analyst at Pak Institute for Peace Studies (PIPS), Islamabad. Visiting Faculty at Quaid-e-Azam University. Mentor Education Youth Ambassador @ITACEC
📍🇮🇷🇺🇸 NEW:
Iran declares the Strait of Hormuz will stay closed until 2029, the end of Trump's term, unless Trump accepts all of Iran's demands, per a senior Iranian source and Majid Shakeri, advisor to Parliament Speaker Ghalibaf.
پاکستان کے پانچ وزرائے اعظم نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی لیکن کسی کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ بھٹوکو پھانسی پر لٹکا دیا گیا، بینظیر اور لیاقت علی خان قتل ہوگئے، ایک نے جنرل ایوب خان کے دباؤ میں سیاست چھوڑ دی اور عمران خان پچھلے تین سال سے جیل میں ہے۔ https://t.co/NQEc34LSld
کمانڈر فاروق کی شہادت ہمارے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
کمانڈر فاروق کوئی معمولی شخصیت نہیں تھے۔ وہ پیشہ ورانہ طور پر ایس ایس جی کمانڈو رہے اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے زندگی کے کسی مرحلے پر بھی اپنے اندر کے سپاہی کو خود سے جدا نہیں ہونے دیا۔ جس وقت انہیں شہید کیا گیا، تب بھی ان کے کندھوں پر وہی وردی موجود تھی جو انہوں نے دہائیوں قبل اپنائی تھی۔
پچاسی سالہ اس بزرگ جانباز کے لیے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز یہ تھا کہ 1974 میں لاہور میں منعقد ہونے والی تاریخی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر انہیں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے چیئرمین یاسر عرفات کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ یہ کانفرنس عرب اسرائیل جنگ کے کچھ ہی عرصے بعد پاکستان میں منعقد ہوئی تھی۔
حالیہ احتجاجی تحریک کے دوران اپنی تقاریر میں وہ اکثر ایس ایس جی میں اپنے عہدے اور اپنی یونٹ، 2 کمانڈو، کا فخر سے ذکر کیا کرتے تھے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک نے ایک تربیت یافتہ کمانڈو کو پُرامن اور عدم تشدد پر یقین رکھنے والا سیاسی کارکن بنا دیا تھا۔ جب انہیں گولی مار کر شہید کیا گیا تو ان کے ہاتھ میں کوئی بندوق نہیں تھی۔
میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن میں بیان کر سکوں کہ وہ ہمارے لیے کون تھے۔ ان کی موجودگی ہمارے لیے کیا معنی رکھتی تھی، اور یہ جان کر دل پر کیا گزر رہی ہے کہ دکھ اور آزمائش کے ہر لمحے میں ہمیں سہارا دینے والا وہ مضبوط اور قابلِ اعتماد کندھا اب ہمارے درمیان نہیں رہا۔
جن لوگوں نے کمانڈر فاروق کو چُن کر نشانہ بنایا، وہ بخوبی جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ کمانڈر فاروق مزاحمت کی مجسم شکل تھے، ان پر چلنے والی دو گولیاں ایک فرد پر نہیں بلکہ سبز علی خان اور ملی خان سے لیکر اس دھرتی پر پیدا ہونیوالے ہر اس شہید اور غازی کے سینے پر چلی ہیں جس کے دل میں آزادی کشمیر کی تڑپ موجود تھی۔یہ ہم سے ہماری شناخت اور تاریخ چھیننے کی ایک ناکام کوشش تھی۔
کمانڈر فاروق کی شہادت کے بعد اس جدوجہد کی نوعیت پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہماری طرف سے تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے گا، مگر اب یہاں سے پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ بھی باقی نہیں رہا۔ بات واضح ہو چلی ہے، ہم بیرونی قبضے اور جارحیت کیخلاف لڑائی لڑ رہے ہیں، چاہے دہائیاں بیت جائیں اور ہزاروں قربان ہو جائیں، یہ جدوجہد اب رکنے والی نہیں۔ ذہنی طور پر اس صدمے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے کہ کل کمانڈر فاروق کو ٹی وی سکرینوں پر دہشتگرد طالبان کا سرغنہ قرار دیکر ان کی شہادت کا مذاق اڑایا جا رہا ہو گا۔
کمانڈر فاروق منگ کی اس تاریخی سرزمین سے تعلق رکھتے تھے جہاں 1832 میں ڈوگرہ افواج نے ہمارے اٹھارہ سرداروں کی زندہ کھالیں اتروائی تھیں۔ ہمارے لیے وہ اس نسل اور اس کردار کی زندہ علامت تھے جس کے بارے میں ہم اب تک صرف تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے آئے تھے۔ وہ اسی مٹی کے فرزند تھے جس نے 1832 اور 1947 کے جانبازوں کو جنم دیا۔
پاکستان رینجرز کی گولی کا نشانہ بننے والے کمانڈر فاروق نے اپنی زندگی کے پچیس برس اسی فوج کی خدمت میں گزارے جس کے ہاتھوں ان کی شہادت ہوئی۔ بعد میں جب کشمیر میں آزادی کی تحریک نے منظم صورت اختیار کی تو وہ اس تحریک کے اہم معماروں میں شامل رہے۔
آج جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے قائد یاسین ملک دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں جبکہ ان کے استاد کو راولاکوٹ میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے قتل کر دیا ہے۔
یہی کشمیر کی کہانی
History will remember how at one of the country's most critical junctures in recent memory, from Naushki to AJK, and in the presence of rising terrorism and collapsing regional orders, PML-N and PPP were enacting a pitiable theatre of the absurd trying to distract attention from the core issues. They really think they can insult national intelligence and nobody will notice.
🚨 🚨 At least 19 protesters may have been killed in Rawalakot,Azad Kashmir, although there has been no official confirmation so far.The protesters were reportedly attempting to enter Rawalakot City on Tuesday evening when police and security forces allegedly opened fire. The confrontation continued late into the https://t.co/mPl3fLnWDl internet shutdown has made independent verification extremely difficult. However, it has been confirmed that the situation in Rawalakot remains tense.
آج دل انتہائی رنجیدہ ہے۔ نہتے اور معصوم شہریوں پر طاقت کا استعمال ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ افسوس کہ بنیادی حقوق کی آواز کو گولیوں سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایک طرف ہمارے نوجوانوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں، دوسری طرف عوام کی جانب سے مسترد کیے گئے انتخابی عمل پر جشن منایا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ جبر، تشدد اور طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ عوام کی آواز سنی جائے، بنیادی مطالبات کو سنجیدگی سے حل کیا جائے، اور ریاست ماں کا کردار ادا کرے، فسطائیت نہیں۔
#آزاد_کشمیر #عوامی_حقوق #StopViolence
یہ”ہارڈ سٹیٹ “ کی تھیوری پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔ جِس خِطہ میں مختلف قومیں اور زبانیں بولنے والے لوگ ہوں وہاں ہارڈ سٹیٹ نہیں بنا کرتے۔ ہم مصر و چین نہیں اور نہ ہی شمالی کوریا۔ یہاں صرف ایک دوسرے سے تعاون کی بنیاد پر ہی ریاست چل سکتی ہے اور افراد اور قوموں کے درمیان تعاون کا ہی دوسرا نام آئین ہے۔
آزاد کشمیر ، بلوچستان ، خیبر پختونخواہ لہو لہان ہیں۔ آزادیاں چھین لی گئی ہیں۔ الیکشن بے معنی ہو گئے ہیں اور معیشت تباہ حال ہے۔ یہ”فیلڈ سٹیٹ “ کی نشانیاں نہیں تو اور کیا ہے؟ ہمیں ہارڈ سٹیٹ کی نہیں ، ایک آئینی سٹیٹ کی ضرورت ہے۔ لوگوں اور قوموں کے حقوق کی ضامن۔
ہر بات کا جواب جیل یا گولی نہیں ہوتا۔ عقل کو ہاتھ دیں، پاکستان کسی بڑے سانحہ”Implosion “ سے اَب کُچھ زیادہ دور نہیں۔
لاہور کا رہنے والا نواز شریف ۔۔۔کشمیر کا بیٹا
لاہور کی رہنے والی مریم نواز۔۔۔ کشمیر کی بیٹی
سندھ کا بلاول ۔۔۔کشمیر کا بیٹا
لیکن
جو کشمیری اپنے حقوق کے لئے راولاکوٹ میں بیٹھے ہیں وہ "را " کے ایجنٹ ۔۔۔
یہ چل کیا رہا ہے اس ملک میں۔۔
Local context -- The BJP has served the Indian people poorly for years, and people are fighting back.
Regional context -- South Asia has seen numerous Gen Z revolutions in recent years.
Global context -- Right-wing extremism often breeds discontent.
https://t.co/6hGxAkhNyG