♦️ حضرت مالک اشتر رضی اللہ عنہ♦️
امام علیؑ کے اصحاب میں سے ایک مشہور اور معروف صحابی مالک بن حارث النخعی (جو کہ مالک اشتر سے مشہور ہیں)۔ آپ کی فضیلت کے لیے صرف ایک روایت کافی ہے جس کو امام علیؑ نے آپ کی شہادت کی خبر سن کر فرمایا تھا۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَوَانَةُ قَالَ: لَمَّا جَاءَ هَلاَكُ اَلْأَشْتَرِ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَيْهِ صَعِدَ اَلْمِنْبَرَ فَخَطَبَ اَلنَّاسَ ثُمَّ قَالَ أَلاَ إِنَّ مَالِكَ بْنَ اَلْحَارِثِ قَدْ مَضَى نَحْبَهُ وَ أَوْفَى بِعَهْدِهِ وَ لَقِيَ ر��بَّهُ فَرَحِمَ اَللّٰهُ مَالِكاً لَوْ كَانَ جَبَلاً لَكَانَ فَذّاً وَ لَوْ كَانَ حَجَراً لَكَانَ صَلْداً لِلّٰهِ مَالِكٌ وَ مَا مَالِكٌ وَ هَلْ قَامَتِ اَلنِّسَاءُ عَنْ مِثْلِ مَالِكٍ وَ هَلْ مَوْجُودٌ كَمَالِكٍ قَالَ فَلَمَّا نَزَلَ وَ دَخَلَ اَلْقَصْرَ أَقْبَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالُوا لَشَدَّ مَا جَزِعْتَ عَلَيْهِ وَ لَقَدْ هَلَكَ قَالَ أَمَا وَ اَللّٰهِ هَلاَكُهُ فَقَدْ أَعَزَّ أَهْلَ اَلْمَغْرِبِ وَ أَذَلَّ أَهْلَ اَلْمَشْرِقِ قَالَ وَ بَكَى عَلَيْهِ أَيَّاماً وَ حَزِنَ عَلَيْهِ حُزْناً شَدِيداً وَ قَالَ لاَ أَرَى مِثْلَهُ ��َعْدَهُ أَبَداً۔
جب اشتر کی وفات کی خبر امام علیؑ تک پہنچی تو وہ منبر پر آئے اور انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور پھر فرمایا: جان لو مالک بن حارث رضی اللہ عنہ وفات پاچکے ہیں اور انہوں نے اپنا عہد پورا کیا ہے اور اپنے رب سے جاملے ہیں، تو اللہ رحم کرے مالک پر، اگر وہ پہاڑ ہوتے تو منفرد ہوتے اور اگر پتھر ہوتے تو اللہ کی خاطر سخت ہوتے۔ مالک اور کیا عورتوں نے مالک جیسا جنا ہے؟ اور کیا مالک جیسا کوئی موجود ہے؟
(سید علی اصدق نقوی، کتاب الممدوحین والمقبوحین، ج 3 ص 349 ، ناشر موسسۃ الذکر لاہور۔ پاکستان)
معاویہ کا شمار صحابہ اکرام میں نہیں بلکہ کم تر درجہ کے طلقاء میں ہوتا ہے
جمہور آئمہ اہلسنت مطابق طلقاء ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو لوگ فتح مکہ کے دن المؤلفة قلوبهم یعنی دباؤ کے تحت اسلام لانے مثلاً ابوسفیان، معاویہ، یزید اور ان کے دیگر ہمنوا کو طلقاء کہا جاتا ہے
ریفرنس۔۔۔۔۔۔۔👇
رسولؐ کی حدیث نے فیصلہ کردیا ہر بچہ مسلمان پیدا ہوتا ہے!پالنے والے، تربیت کرنے والے اپنے جیسا بنا دیتے ہیں
تو پھر سنو
دو بچے ابوطالبؑ نے پالے۔
ایک محمد ص بنا
ایک علی ع بنا
دو بچے ابوسفیان نے پالے
ایک معاویہ بنا
ایک یزید (لعنتی) بنا
ظہورِ والدِ گرامی علی(ع) ابن ابی طالب عالمین کو مُبارک
@ایک شاعرہ کی شادی اتفاق سے ایک آڑھتی سے ہو گئی۔
موصوف لکھنے پڑھنے جیسی باتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
شاعرہ نے ٹوٹتی ہوئی امید کی کرن کو ذرا سا بلند کرتے ہوئے حجلہ عروسی میں پوچھا:
کیا آپ کو شاعری سے دلچسپی ہے؟
آڑھتی نے دل پر پتھر رکھ کر سر کو ہاں میں ہلا دیا۔
شاعرہ نے شک کو یقین