عمران خان کو فوج مار بھی دے تو فوج کا مسئلہ مزید خراب ہوگا ٹھیک نہیں ہوگا۔ عاصم منیر کو عوام یا فوج نکال دیں تو اس مل�� کے آدھے مسائل دس منٹ میں ختم ہوجائیں گے۔
دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ وفاق کی ناکام پالیسیز سے ہمیشہ خیبرپختونخواہ گولہ بارود اور آگ کے لپیٹ میں رہی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جس کو کولیٹرل ڈیمج کا نام دے دیا جاتا ہے اور ایک سوری سے بات ختم کردی جاتی ہے۔ پالیسی یہاں صرف عمران خان کی چلے گی۔ اُسی پالیسی میں ملک ا��ر قوم کی بھلائی ہے۔
میں پاکستان کا شہری پاکستان کا مالک ہوں
میں عہد کرتا ہوں کہ میں ہر اس شخص یا ادارہ خواہ اندرونی یا بیرونی جو اس ملک کے خلاف کام کرے گا یا اس کے قانون کو توڑے گا،اس کے خلاف۔۔۔اپنی پوری قوت استعمال کرونگا- ---کیونکہ میں پاکستان کا شہری اس کا مالک اس کی بقا کا حتمی ضامن ہوں
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہو�� گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
@ImranRiazKhan ملٹری آپریشن کا ذکر نظر کا دھوکہ ہے۔ فوج کے پاس آپریشن کے پیسے ہوں تو بلوچستان میں کرلیں۔ یہ تحریک انصاف کو دہشتگردوں کا ساتھی ثابت کرنے کی سازش ہے۔ کوئی آپریشن نہیں ہوگا۔ یہ بس عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کا منصوبہ ہے۔ ملاقات ہونے پر وہ اس ��ظام کی بیساکھیاں نکال دے گا۔
صنم اور فلک نے معافی نہیں مانگی۔ یاسمین راشد چٹان بن گئیں۔ شاہ محمود، اعجاز چوہدری، محمود الرشید کمزور نہیں پڑے۔ بشری عمران نے ساتھ نہ چھوڑا۔ چھتیس سالہ نوجوان سہیل آفریدی ہر دھمکی اور پریشر کو چٹکی میں اڑا گیا۔
جب یہ سب نہیں ٹلے تو وہ تو پھر “عمران خان “ ہے ۔ بہتر ہے صلح کر لیں
نو مئی کے بعد ایک دن عاصم منیر نے تحریک انصاف کے ایک رہنما کو دھمکاتے ہوئے فرمایا تھا اسکے کپڑے اس کو چھوڑ دیں گے۔
جرنیلا تمہارے اعصاب ساتھ چھوڑ دیں گے ، تمہارے ہاتھ پیر کام کرنا چ��وڑ دیں گے ، تمہاری زندگی ساتھ چھوڑ دے گی یہ قوم اسے نہیں چھوڑے گی۔
ہک ہا ۔
عمران خان سے ملاقات کا اتنا خوف کیوں ہے؟ وہ کیا ہے جو عمران خان سے ملاقات کے بعد سامنے آئے گا جس سے فوج خوفز��ہ ہے؟ وہ کیا ہدایات ہوں گی جن سے فوج کو خوف ہے؟