@Badass1ZQ1 بالغ لوگ اگر قانون اور معاشرتی اقدار کے اندر رہ کر کچھ کرتے ھیں تو کوئی جرم نہیں۔ شادی، طلاق اور پھر شادی میں تو کچھ غلط نہیں ھے۔ باقی رام جانے 🙏
جنرل باجوہ کے ساتھ صبح سے شام تک آپ بیٹھے رہیں اہم ترین لوگوں تک آپ کی رسائی ہو 20 سال سے زائد اہم ترین چینل کے پرائم ٹائم شو سے بھی ہٹائے نہیں جائیں اور اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے محسن نقوی کے ساتھ مل کر اہل خاندان سمیت میچ بھی انجوائے کریں۔۔لیکن ٹاوٹ دوسرے صحافی ہیں 😜
@arifhameed15 سزا مل رھی۔ عمران خان اور فیض حمید کوئی چھوٹے لوگ ھیں۔ ان سے زیادہ بااختیار کون تھا اپنے وقت میں؟
کچھ کنگ میکرز، رائے عامہ خراب کرنے والے اور ان پڑھ ففتھ جنریشن وارئیرز سمجھے جانے والے، عرف عام میں صحافی کہلانے والے بھی بظاھر یتیمی اور کی زندگی گزارنے ھوئے مفرور اور زیرزمین ھیں؟
شادی کی تاریخ طے ہونے کے بعد لڑکے کی ماں نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے کہا، ’’ہمیں تو کچھ نہیں چاہیے، بس بچوں کے کمرے کا سامان اچھا ہونا چاہیے۔ رشتے دار آتے ہیں، باتیں بناتے ہیں۔‘‘ لڑکی کا باپ مسکرایا، ’’جی، کوشش کروں گا۔‘‘
اُس رات بیٹی پانی دینے آئی تو باپ کے سامنے گھر کے کاغذات اور ایک پرانی کاپی کھلی پڑی تھی۔ کاپی میں فریج، فرنیچر اور دوسرے سامان کی قیمتیں لکھی تھیں۔ اُس نے پوچھا، ’’ابو، یہ گھر کے کاغذ کیوں نکالے ہیں؟
‘‘ باپ نے جلدی سے کاپی بند کردی، ’’کچھ نہیں بیٹا، تم شادی کی تیاری کرو۔‘‘
اگلی صبح وہ دفتر جانے لگا تو بیٹی دروازے پر آکر کھڑی ہوگئی، ’’ابو، پہلے میرے ساتھ ایک جگہ چلیں گے؟‘‘
باپ اُسے بازار لے جانے کے لیے تیار ہوگیا، مگر اُس نے لڑکے والوں کا پتا بتایا۔ وہاں پہنچ کر اُس نے اپنے منگیتر کے سامنے وہی کاپی رکھ دی،
’’اس میں میری شادی کا سامان لکھا ہے۔ ذرا بتائیے، اس میں سے کون سی چیز کم ہوئی تو آپ کے گھر میں میری عزت کم ہوجائے گی؟
‘‘ لڑکا بے آرام ہوکر بولا، ’’تم بات کو بڑھا رہی ہو، امّی نے بس عام سی بات کی تھی۔
‘‘ لڑکی نے باپ کے کانپتے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا، ’’آپ کے لیے عام سی بات تھی، میرے ابو کل سے اپنا گھر بیچنے کا حساب لگا رہے ہیں۔‘‘ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
اُس نے انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ دی، ’’میں ایسا گھر نہیں بسا سکتی جس کے لیے میرے ماں باپ کو بے گھر ہونا پڑے۔
‘‘ واپسی پر باپ کی آنکھیں نم تھیں، ’’لوگ پوچھیں گے تو کیا کہیں گے، بیٹا؟‘‘ اُس نے باپ کا بازو تھام لیا، ’’یہی کہیے گا، میری بیٹی کو سامان کے ساتھ نہیں، عزت کے ساتھ رخصت ہونا تھا۔
‘‘ کچھ مطالبے زبان پر ’’ہمیں کچھ نہیں چاہیے‘‘ بن کر آتے ہیں، مگر کسی باپ کی پوری عمر کی کمائی لے جاتے ہیں۔
جہیز کو رسم کہہ دینے سے اُس کا بوجھ ہلکا نہیں ہوجاتا؛ رشتہ قبول کیجیے، کسی کی استطاعت کا امتحان نہیں۔❣️
گرفتار کر لیا تھا بہت اچھا ہوا۔اب عدالت سے سزا دلوانی چاہئے تھی۔تھانے میں مدعی سے تھپڑ مروا کر قانون اور معاشرے کی خدمت نہیں کی گئی۔پنجاب میں قانون سے بالا بالا ہلاکتیں/تھپڑوں کا خطرناک روحجان ایک دن حکمرانوں کے خلاف ہی کام آئے گا۔
وزیراعظم نواز شریف صاحب نے 1998/97 میں مخالفت کے باوجود انٹی دہشت گردی کے نام پر متنازعہ عدالتیں بنائیں۔دو سال کے بعد جنرل مشرف نے نواز شریف کو ہی دہشت گردی کے الزام میں اسی عدالت سے ہی چودہ برس سزا دلوائی تھی۔
@MaryamNSharif@OfficialDPRPP@CS_Punjab@CMShehbaz
ابھی پارلیمنٹ سے نکلتے ہوئے نینشل بک فاونڈیشن کی کارنر پر بک شاپ/ڈسپلے سینٹر دیکھا تو اندر چلا گیا۔ تین کتابیں لیں۔بل پوچھا اور بنک ڈیبٹ کارڈ دیا تو وہاں بیٹھے نوجوان سیلز مین نے مشین کارڈ سے ادائیگی کر کے مجھے رسید تھمائی تو کل بل پر دو فیصد زیادہ رقم کاٹ ہوئی تھی۔
میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے بنک کارڈ سے ادائیگی پر دو فیصد زیادہ دینا پڑتا ہے جو بنک ہمیں چارج کرتے ہیں۔
مطلب میں اگر کیش دے دوں تو حکومت پاکستان یا بنک کو اعتراض نہیں ہے لیکن اگر میں ڈیبٹ کارڈ سے ادائیگی کروں تو دو فیصد ٹیکس دوں اور زیادہ پیسے دوں۔
مجھے حیرانی ہوئی کہ کچھ سال پہلے تک تو دکاندار بنک کا بتا کر دو فیصد زائد لیتے تھے لیکن عرصہ ہوا اب کسی نے کبھی بنک ٹیکس کا نہ بتایا لہذا سن کر کچھ حیرانی ہوئی۔
مطلب پاکستان میں آپ نے پیسہ بچانا ہے تو کیش ساتھ رکھیں ورنہ بنک اپنے ہی ایشو کردہ کارڈ کے استمعال پر جو آپ کی ہی رقم ہے پر دو فیصد ٹیکس لیتا ہے۔ ہر بنک اربوں روپے منافع کما رہا ہے جو ہم سب کا وہاں رکھا روپیہ ہے لیکن کارڈ کے زریعے ادائیگی پر بھی ٹیکس لے رہا ہے ؟ کارڈ بھی بنک نے دے رکھا ہے۔
جناب وزیرخزانہ، گورنر اسٹیٹ بنک/چیرمین ایف بی ار، چیرمین قائمہ کمیٹی سلیم مانڈوی والا ۔۔
یہ کیسا کام بنک کررہے ہیں ؟ یہ اکانومی کو ڈاکومنٹ کیا جارہا ہے یا کیش کو بنک ہی پروموٹ کررہے ہیں کہ بنک سے بھی ڈیبٹ کارڈ کے زریعے پیسے نکلوانے پر الگ چارجز لگتے ہیں۔
ان سب نے ہر لوگوں جکڑ کر رکھا ہوا ہے۔
@Financegovpk@BilalAKayani@Rashidlangrial@StateBank_Pak@MIshaqDar50@CMShehbaz@PalwashaKhan18@naveedqamarmna@sherryrehman
پچھلے ایک گھنٹے سے سینٹ اجلاس میں اس ملک اور لوگوں کو درپیش سب مسائل چھوڑ کر اس وقت سینٹرز اپنی ذاتی مراعات کے لیے لڑ رہے ہیں کہ انہیں خود، بیوی اور 28 سال تک بچوں کو تاحیات سرکاری پاسپورٹ/سفارتی جاری کیے جائیں جیسے گریڈ اکیس اور گریڈ بائیس کے سرکاری افسران کے بچوں کو تاحیات ملتا ہے چاہے ریٹائرمنٹ بھی ہو جائے۔
سینٹرز کہتے ہیں انہیں اور ان کے بیوی بچوں کو سبز پاکستانی پاسپورٹس کی بجائے نیلا اور سرخ پاسپورٹ دیا جائے۔
ان سرکاری/سفارتی پاسپورٹس کا مطلب ہے دنیا بھر کے ان ملکوں کے لیے ویزہ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی جن سے معاہدہ ہے۔
اس وقت 45000 سرکاری/سفارتی پاسپورٹ سابق اور سرونگ پارلیمنٹنرز، ان کے بیوی بچوں، سرکاری افسران اور ان کے بچوں کے پاس تاحیات ہیں۔
@arifhameed15 نہیں یہ جھوٹ ھے۔ میں اور میرے جاننے والے سینکڑوں لوگ بہتر روزگار کی وجہ سے ملک چھوڑ کر برطانیہ آئے ھیں۔
اب میرے جاننے والے دوست احباب میں کئی برطانوی شہری بہتر روزگار کیلئے دبئی، قطر اور سعودی عرب پہنچ چکے ھیں۔
@kaddiwall3@arifhameed15 آئی ایم ایف نہیں جاؤں گا۔ گیا
گیا تو خود کشی کر لوں گا۔ نہیں کی
ڈونیشن کے پیسے (امانت) خرچ ھو گئے اور جوا کھیل کر پورے کئے۔ خیانت
مولانا فضل الرحمٰن کو اوئے فضلو اور ڈیزل کہنا۔ نام بگاڑنا یا گالی دینا۔
جھوٹ کو تو یو ٹرن کا نام دے دیا 🤣
ایک دفعہ میرے ایک پرانے دوست نے مجھے اپنے فارم ہاؤس پر بلایا‘ جو اس نے نیا نیا خریدا تھا۔ اس کے فارم کے باہر اتنی زیادہ قیمتی گاڑیاں کھڑی تھیں کہ مجھے پارکنگ کیلئے جگہ نہیں مل رہی تھی۔
میں بہت دور گاڑی پارک کر کے دس منٹ پیدل چلتا ہوا فارم تک گیا تو راستے میں پارک شدہ گاڑیوں کے ماڈلز دیکھ کر حیران ہوتا گیا کہ اتنی مہنگی اور نئے ماڈلز کی گاڑیاں بھی اس ملک میں لوگوں کے پاس ہیں۔ لوگوں کے پاس کتنی دولت ہے!
خیر‘ جب اندر گیا تو وہاں ایک اور دنیا آباد تھی۔ وہاں چند لوگ‘ جو مجھے جانتے تھے‘ میرے پاس آ کر بیٹھ گئے اور ملکی معیشت اور حالات پر بات کرنے لگے۔
میں اکثر اس طرح کے ہجوم میں خاموشی سے باتیں سنتا رہتا ہوں اور اپنی دانشوری کو قابو میں رکھتا ہوں۔ کبھی کوئی مجھے کہتا تھا کہ سنائیں جی! ملک کے کیا حالات ہیں‘ ملک کدھر جا رہا ہے‘ ہمارا کیا بنے گا‘ تو میں پوری ایمانداری اور سنجیدگی سے اپنی دانشوری شروع کر دیتا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد وہ مجھے ٹوک کر کہتے کہ آپ رکیں‘ ہم بتاتے ہیں۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ وہ میری بات نہیں سننا چاہتے تھے بلکہ مجھے متوجہ کرنے کیلئے ویسے ہی سرسری طور پر پوچھ لیتے کہ بتائیں کیا چل رہا ہے۔ مجھے دیر سے سمجھ آئی کہ دراصل وہ اپنی سنانا چاہتے ہیں۔ اب میں خاموش ہو کر ان کی سنتا ہوں۔
اُس محفل میں بھی یہی ہوا۔ جب انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا چل رہا ہے تو میں نے اُلٹا ان سے کہا کہ آپ بتائیں‘ آپ سب کاروباری لوگ ہیں۔
پھر انہوں نے ملک اور معیشت کی وہ تصویر پیش کی کہ بندے کا دل کرے کہ بس دنیا ابھی ختم ہو جائے۔ کتنی بری زندگی یہ سب گزار رہے ہیں!
میں نے کچھ دیر تک ان کا یہ منظرنامہ برداشت کیا اور پھر کہا کہ اگر پاکستان اتنا ہی برا ہے یا اکانومی تباہ ہو گئی ہے تو یہ سب پیسہ آپ نے کہاں سے کمایا ہے؟
میرے اس دوست نے‘ جس کے فارم ہاؤس پر ہم بیٹھے ہیں اور جس کی قیمت کم از کم ایک ارب روپے ہو گی‘ یہ پیسہ کہاں سے کمایا ہے؟ آپ لوگوں کی سینکڑوں لگژری گاڑیاں جو باہر پارک ہیں‘ آپ نے کہاں سے خریدی ہیں؟ پاکستانیوں نے دبئی میں دس ارب ڈالرز کی جائیدادیں خریدیں‘ یہ سب پیسہ کہاں سے آیا؟
خواجہ آصف کے بقول‘ آج کل پاکستانی افسر پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر اچکزئی نے تو اسمبلی میں کہا ہے کہ تیس ہزار افسروں نے بیرونِ ملک شہریت لے رکھی ہے۔ کینیڈا پاکستانی افسران اور ان کے بچوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ سب پیسہ کہاں سے آیا جو انہوں نے باہر منتقل کیا؟
میں آپ سب کو جانتا ہوں۔ آپ ارب پتی نہیں تو کروڑ پتی ضرور ہیں۔ دس کروڑ سے کم قیمت کی گاڑی باہر نہیں کھڑی۔ آپ سب کی گاڑیوں میں سب سے پرانی گاڑی میری ہے‘ وہ بھی دفتر کی دی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود آپ سب لوگ اس ملک اور اس کی معیشت سے مایوس ہیں؟ حیرت ہے! اور ناشکری کسے کہتے ہیں‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہا ہے کہ انسان ناشکرا ہے۔ جو گفتگو آپ کر رہے ہیں یہ ناشکری ہے۔
تھوڑی دیر کیلئے وہاں خاموشی سی چھا گئی اور وہ سب مجھے اکیلا چھوڑ گئے۔ پھر کسی نے نہ پوچھا کہ اس ملک کا کیا بنے گا۔
یہ تین سال پہلے کی بات ہے۔ تین سالوں میں وہ سب دوست مزید اربوں کما کر بھی یہی گفتگو کرتے ہوں گے کہ ملک تباہ ہو گیا‘ رہنے کے قابل نہیں رہا۔
مکمل کالم لنک
https://t.co/4FNVnYK39h
@DunyaNews@roznamadunya
@FarooquiJameel شاعر یہاں اسٹیبلشمنٹ سے شکوہ کر رھا ھے کہ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دینے کے باوجود اسے چپیڑیں بھی ماری گئیں اور ذلیل بھی کیا گیا، آخر کیوں؟
نیکی کا معیار اپنا اپنا ھو گیا ھے 🤣
@BBCUrdu پراپیگنڈا کی انتہا ھے ویسے۔
پریشانی اور بے چینی پیدا کرنے کیلئے کلپ کا کیپشن گمراہ کن اور بغیر ماضی کے حوالے پر مبنی ھے۔
.
.Down with BBC international
You dare do such a thing in your homeland