🔴اسرائیل الیکشن اپڈیٹس ⬇️
⬅️نیتن یاہو اتحاد کے 50 سے 55 سیٹ جیتنے میں کامیاب
جب کہ پہلے اس اتحاد کے پ��س 68 سیٹیں تھیں
⬅️گادی ایزنکوٹ اتحاد 50 سے 53 سیٹنے میں کامیاب
⬅️عرب اتحاد 16 سے 18 سیٹ لے سکتا ہے
⬅️سب سے اہم بات کوئی اتحاد حکومت سازی کے لیے اکثریت 61 سیٹ نہ لے سکا
⬅️دونوں صہیونی بلاک عربوں سے اتحاد کرنے کے مخالف
⬅️صہیونی قابض ریاست ایک بار پھر اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار
⬅️نیتن یاہو گادی ایزنکوٹ دونوں میں کوئی فرق نہیں
⬅️دونوں فلسطینیوں کے قاتل اور فلسطینی ریاست کے مخالف
⬅️فرق بس اتنا کہ گادی ایزنکوٹ نیتن یاہو سے کم درجے کا جنگی مجرم ہے
⬅️فائدہ صرف اتنا کہ نیتن یاہو کی شکست سے مسلمانوں کے خلاف جاری حملے عارضی رک سکتے ہیں⬇️
@Adnanulhaq02 آج کل ایسی حرکتیں کرنے والے وہی ہیں جو مرد نہیں اگر مرد ہو تو کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا۔
سارے ہیجڑے ہیں ورنہ مرد ہو کر عور�� بننے کی کیا ضرورت
@DrNaeemMeoMD اصل میں انہی لوگوں کی وجہ سے معاشرہ برباد ہو گیا ہے یہ لوگ ایسے ہی غلامی کر کے ایم پی اے اور ��یم این اے بن جاتے ہیں۔
اور عوام میں آئے تو خود کو بڑا گردانتے ہیں۔
حقیقت میں عہدے شخصیت سے بڑھ جائے تو غلامی ان کے مقدر بن جاتی ہے۔
محسن نقوی کا کہنا ہے کہ یہ نظام ناکام ہو چکا ہے یہ وہ نظام ہے جس میں قانون کی بالادستی کے نام پر سی ڈی اے نے اسلام آباد میں ہزاروں غریبوں کے گھر ناجائز قرار دیکر گرا دئیے لیکن جب امیر لوگوں کی ایک بلڈنگ کا معاملہ آیا تو نقوی صاحب بے بس ہو گئے سب پارٹیاں انکے خلاف متحد ہو گئیں 🤔
نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئی تحصیلیں بنانا اور نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں۔ بھارت میں بھی نئے صوبے بنے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک کی انتظامی ساخت کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے۔
نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں، لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے یا نہیں۔ لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے، جبکہ وہ اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری آشیرباد پر ہوا ہے، یا میری اجازت سے ہوا ہے؟ یا وفاقی کابینہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے؟ یا اگر کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے۔
کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں،
میں ایک سال سے زیادہ عرصہ چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا۔ مگر ہمارے سر پر یہ تھوپ دیا گیا کہ تم تو انضمام کے مخالف ہو۔ ہم نے کہا، نہیں، ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ فاٹا کے عوام اور ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، لہٰذا اس میں کئی آپشنز ہو ��کتے ہیں۔ ذرا وہاں کے عوام سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ صوبے میں انضمام چاہتے ہیں، ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں، یا اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان سے نہیں پوچھا گیا۔
آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ وہاں کے عوام کی زندگی اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہ خود نہیں سمجھ رہے کہ ہم اب فاٹا ہیں یا صوبے کا حصہ ہیں۔ وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، باقی نظام تو دور کی بات ہے۔
یہ کوئی کیک تو نہیں کہ آپ آرام سے چھری لے کر جس طرح چاہیں اسے کاٹ دیں۔ صوبہ بنانے کی بات کے لیے کیا ملک تیار ہے؟ آپ مجھے بتائیں، اگر چار یا پانچ بھائیوں کا مشترکہ مکان ہو اور اس کے بعض حصوں میں آگ لگ جائے، تو اس وقت وہ آگ بجھائیں گے یا کہیں گے کہ آئیے بھائی، پہلے اس کی تقسیم کر لیتے ہیں؟
ہر چیز کے لیے ایک مناسب ماحول بنانا پڑتا ہے۔ سوائے اس کے کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات ہیں، جو بدامنی ہے، جس نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، ان سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے آپ ہم سب کو ایک نئی بحث میں لگا دیتے ہیں۔ روز نئے ایشو اٹھاتے ہیں، پھر اس پر بحث ہوتی ہے۔ یہ صوبوں والی بحث پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہے۔
ہم اصولی طور پر صوبوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر قومیتوں کی بنیاد پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اور اگر محض انتظامی بنیادوں پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اس پر ہر صوبے کے عوام کا ردِعمل آئے گا۔ وہ کہیں گے کہ یہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، مجھے اس صوبے میں شامل کرو یا نہ شامل کرو۔ یہ سارے معاملات ابھی باقی ہیں۔
ایک مشکل مسئلے میں اتنی آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال دیا گیا ہے کہ شاید یہ ان کے بس میں نہ ہو، بلکہ اس سے مشکلات اور پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو جائے۔ یہی میرے خدشات ہیں۔ ہر چیز مشاورت سے ہونی چاہیے تھی۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ یہاں مختلف قومیتیں رہتی ہیں، ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔ آپ اس شناخت کو نظرانداز کریں گے یا اسے سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے؟ یہ سارے معاملات غور و فکر کی ضرورت ہیں۔
میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے، یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اب کیا کرنا ہے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل آج بھی ہے اور کل بھی تھا، وہ ہے ملک کا آئین۔ آئین کے مطابق ملک کو چلاؤ، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، اور اللہ کے دین اور اس کے احکامات کے مطابق قانون سازی بھی شروع ہو جائے گی۔اور عوام میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی کہ اصل میں ہماری مرضی کی حکومتیں ہونی چاہئیں، ہم پر جبراً کوئی حکومتی مسلط نہ کی جائے۔
لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں، جیسے واقعی یہ عوام کی حکومتیں ہوں، جبکہ یہ بھی انہی کی حکومتیں ہوتی ہیں اور ان کی لگام بھی انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عوام پریشان ہیں، عوام کی کوئ�� حکومت نہیں ہے۔
میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ انہوں نے یہ باتیں کس حیثیت میں کی ہیں؟ وہ کابینہ کے رکن ہیں۔ اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ مستعفی ہو جائے، یا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آ جائیں۔ نہیں، نوکری بھی اسی تنخواہ پہ کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں، تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں۔
'چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے مجھ کو اکثر،
ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے۔'
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو
روس کا خارکیف میں باکشیئیوکا پر قبضے کا دعویٰ🚨
روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی افواج نے خارکیف ریجن کے گاؤں باکشیئیوکا (Baksheevka) پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔