ایام کالجیت دوران سیالکوٹ ڈرماں والے چونک تک جانا ہوا جس پر میزبان نے کہا “ منڈا کلایا دا وے بوتل پی کے جانا “ اور پھر ہر دس منٹ بعد یہی بات سننے کو ملی اور کئی دہائیوں بعد سمجھ آیا کہ وہ منڈا جو کلایا دا تھا وہ واپس کیوں نہیں آیا
خواجہ صاحب آپکو ایویں مرشد نہیں کہا
وہ جو ہے
وزیر داخلہ ھو یا وزیر خزانہ،دونوں کی پرفارمنس بدترین ھے اور دونوں اسٹیبلشمنٹ کے لگائے ھوئے ھیں،اتنا نظام بدلنے کا شوق ھے حضور تو پہلے ان دو ٹاؤٹس کو تو کوڑے دان کی نظر کیجئے۔
پنجاب کی پہلی تقسیم سکھوں نے کی جب پنجاب کا جموں علاقہ کشمیر کے ساتھ ملا کر ریاست جموں و کشمیر رکھا تا کہ وادی کے مسلمانوں کو اقلیت دکھایا جا سکے۔ دوسری تقسیم انگریز نے کی جب اس نے پنجاب کے تین شمالی اضلاع الگ کرکے شمال مغربی سرحدی صوبہ بنا کر اسے پنجاب سے الگ کردیا گیا۔ تیسری تقسیم قیام پاکستان کے وقت ہوئی جب سکھوں کو تموڑی لڑ گئی۔ اب چوتھی تقسیم کی باری ہے۔
اللہ رحم کرے گا
سسٹم کیسے کھڑا ہو سکتا ہے اس گفتگو سے آپ بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں یہاں مورخ نہایت مودبانہ گزارش کرے گا کہ کوئی ہمدرد محسن نقوی تک یہ گفتگو پہنچا دیں تاکہ انہیں سسٹم کی تباہی بارے حقائق پتہ لگ جائیں
ڈسکلیمر گفتگو سننے کیلئے بتی بجھا کر ٹوٹیاں لگا لیجئے گا
اس دفعہ پاکستان کی درآمدات اڑتیس ارب ڈالر، برآمدات سے زائد تھیں جب کہ تارکین وطن نے ساڑھے بیالیس ارب ڈالر بھجوا کے ساڑھے چار ارب ڈالر کا سرپلس پیدا کر دیا۔ اس سرپلس کا مطلب تھا معیشت سنبھل گئی اور آئی ایم ایف کے پروگرام کے نتائج نکل آئے، اس پر پیپلزپارٹی سمیت سب یار لوگوں کو کھُرک ہو رہی ہے۔
چیک کر لیں
وہ جو کہتے تھے، یہ پنجاب کی جنگ ہے، وہ خود لڑے، تو انہیں بتانا کہ پنجابی لڑا بھی اور مرا بھی، لیکن بھاگ کے کسی ہمسایہ ملک میں مہاجر بن کے نہیں چھپا۔ پنجابیوں نے بندوقوں سے ڈرون گرائے اور اڑتے ڈرونوں کا پیچھا بھی کیا۔
پنجاب کو شکست نہ دے سکنے والے
اب پنجاب توڑنے کی بات نہ کریں۔
پنجاب اب بھی کھڑا ہے؟
🦾🦾🦾
جدید سائنسی تحقیق مطابق یہ بات بھی زیر مشاہدہ آئی ہے کہ بعض اوقات ایک صوبہ دوسرے صوبہ سے چھوٹا ہوتا ہے اور ان حالات میں انتظامی بنیادوں پر بڑے صوبہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا جانلیوا ہو سکتا ہے اور دوسری جانب سسٹم بارے بھی تحقیق یہی بتاتی ہے کہ افریقی سسٹم یورپی اور ایشیائی سسٹموں سے چھوٹے رہ جاتے ہیں اور ان حالات میں انتظامی بنیادوں پر بڑے سسٹم کی کاٹ چھانٹ بھی جان کا خطرہ ہوتی ہے حالانکہ یورپی صوبوں کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں افریقی سسٹم تحت چلایا جائے اور ایک تیسری تحقیق میں یہ نئی بات زیر مشاہدہ آئی ہے کہ چینی سسٹم نسبتا چھوٹے اور کم گہرے ہوتے ہیں جبکہ روسی ساختہ سسٹم بڑے اور گہرے ہوتے ہیں
وزیرداخلہ محسن نقوی کے بیان کے بعد تحقیق مزید تیز کردی گئی ہے
کاروباری وارداتئوں کا ایک گروہ ایسا ہے، جسے ہر دور میں ایوانوں میں رسائی رہتی ہے اور گیٹ نمبر چار ان پر ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ معیشت کو لوٹنے والے ان ڈاکووں کو ہر آرمی چیف ہمیشہ آگے کی کرسیوں پر بٹھاتا ہے، پی آئی اے بھی انہی کو بخشی گئی ہے، ٹیکسٹائل کے نام پر مفت میں سرکاری قرض لے کر ہاوسنگ سوسائٹیوں میں سٹہ بازی کرتے ہیں۔ چینی ایکسپورٹ اور گندم امپورٹ کرنے کی ہر واردات میں ننگے نہاتے پائے جاتے ہیں اور ہر آرمی چیف اور وزیراعظم کو الٹے سیدھے مشورے دے کر اپنے الو سیدھے کررہے ہوتے ہیں۔
مختصر تعارف
کرکٹ کا ستیاناس “ بلوچستان کا ستیاناس “ کشمیر کا ستیاناس “ اسلام آباد کا ستیاناس “ خیبرپختونخوا کا ستیاناس وزیر داخلہ نے کر دیا ہے
بلوچستان میں لاشیں گر رہی تھی موصوف نیویارک میں وزیر خارجہ بن کر گھوم رہے تھے منہ نہ کھلوائیں تو بہتر ہے استعفی دو گھر جاو
ایک مجوسی ایرانی پروفیسر کا بیان سنا جو یہ کہ رہا ہے کہ ہم پاکستان نہیں ہیں اور اس بیان کو قوم یوتھ ثواب سمجھ کر پھیلا رہی ہے تو جناب من آپکو شاید یاد نہیں رہا کہ جب آپ نے پاکستان کو انگلی کرواتے ہوئے میزائل حملہ کیا تھا تو پاکستان نے پوری باں چڑھاتے ہوئے آپکی دال والی آندر پاڑتے ہوئے ڈیلے باہر نکال دئیے تھے اور پھر آپ ناک رغڑتے پاؤں پڑتے دوڑتے اسلاماباد تشریف لائے تھے
مجوسی ہو اور حرامی نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا
چونکہ مورخ گزشتہ اڑھائی دہائیوں سے یورپی “ ششٹم “ کو نہایت قریب اور باریک بینی سے دیکھ رہا ہے اور ایام کالجیت سے ہوتے ہوئے اور گاہے بگاہے وطن یاترا دوران مادر وطن کے سسٹم کا مشاہدہ بھی رکھتا ہے تو آج قابلی پلاؤ کی ہنڈیا چولہے پر چڑھا کر ایک تقابلی جائزہ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے چونکہ ہمارے ہاں چٹ الیکشن پٹ حکومت اور ہر کام عجلت میں ہوتا ہے لہزا سسٹم کا پٹھا عجلتی وجوہات بنیاد پر جلدی بیٹھ جاتا ہے جبکہ یورپی سسٹم کچھ اس طرح ہے کہ پولنگ کا عمل انتہائی سکون سے بھگتایا جاتا ہے جس میں امیدوار تھوڑی دیر صندوقچی کے آگے رقص کرتا ہے اور ساتھ ہی گنڈہ پوری شہد سے محظوظ ہوتا ہے پھر انتخابی نشان کو اچھی طرح چومتا اور چاٹتا ہے جس سے سسٹم کا انگ انگ کھڑا ہوجاتا ہے پھر بیلٹ پیپر کو آہستہ آہستہ کھولتا ہے اور اپنی مہر پیڈ پر ہلکے ہلکے رگڑتا ہے پھر جب سسٹم پوری طرح اتفاق فاونڈری کے گارڈر طرح سخت ہوجاتا ہے تب جاکے اپنا ووٹ صندوقچی تک پہنچاتا ہے اور اس عمل میں تیس چالیس منٹ لگاکر سسٹم کو مطمئن کرتا ہے جبکہ دوسرے پاسے ہمارے ہاں جگہ کے مسائل کسی کے آنے کا ڈر اور عجلت سے ہوئے کام سے نہ سسٹم مطمئن ہوتا ہے اور نہ ہی امیدوار اور ہمارے سسٹم کی خرابی کی جڑ لوہا پاڑ جیسے نیم حکیم ہیں جنہیں کنڈی صاحب نے ایوارڈ سے نوازا تھا اور عمیری جس نے سسٹم کی چولیں ہلا کر رکھ دیں تھیں اسے قید بول دی گئی اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا سسٹم ناکامی جانب بڑھ رہا ہے
بس یہی بنیادی وجہ ہے کہ آج یورپ کا سسٹم آگے ہے اور ہم دن بدن پشاں جارہے ہیں
ہفت روزہ گروپ کال میں لنگوٹ کے وقت سے شریک جرم تمام افراد موجود تھے مورخ نے سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے حکیم صاحب سے سسٹم کے کڑمس بارے دریافت کیا جس پر حکیم جی نے تمام شرکاء کو مائک میوٹ کرنے کا حکم دیا اور کہا “ سسٹم کو کھڑا کرنا کھبے ہاتھ کی چیچی انگلی کا کام ہے لیکن اصل مسئلہ سسٹم کو دیرپاء اور دیری تک اور پھر نیچے تک املی آلو بخارے شربت والی ٹھنڈ پہنچانا ہے “جس پر مورخ نے لُچ تلتے ہوئے کہا مثال دے کر سمجھائیں “ اور اس پر حکیم جی ناگواری کے ساتھ کہنے لگے “ ہم نے پاکپتن میں 36 سال پہلے ایک سسٹم کھڑا کیا تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ پرفارم بھی کرتا رہا اور سسٹم کی بدولت پانچ چھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹ یعنی نئے صوبے بھی معرض وجود ائے لیکن اس سسٹم کی دو بیٹریاں جو عین سسٹم کے تھلے نصب ہوتی ہیں اور اصل میں یہی بیٹریاں ہی سسٹم کا بوجھ اٹھاتی ہیں ان میں پانی کم ہونے کے مسائل انے لگے لیکن سسٹم اوکھا سوکھا کارکردگی دکھاتا رہا اور پھر 28 سال بعد ایک دن لاھور سے ایک اور سسٹم اسی مقام پر پہنچا چونکہ لاھوری سسٹم کو سموسہ کے ساتھ چٹنی کا غضب طریقہ اتا تھا اور چونکہ پاکپتنی پرانا سسٹم اس کام کو حرام سمجھتا تھا لیکن لاھوری سسٹم چونکہ گوروں کے ہاتھ سیدھا ہوا تھا اور زبان سے سسٹم کی رف اینڈ ٹف سرفس پر ابھار لانے کا ماہر تھا لہذا اس رامی جاتک نے پورے سسٹم کا پٹھا بٹھا دیا لیکن آجکل وہ سسٹم اور کپڑے دھونے والی مشین تھی وہ مقید ہوچکے ہیں اور اب ٹھیک اسی طرح ہمارے سسٹم کو بھی ایک نئے سسٹم کی ضرورت ہے کیونکہ پرانے سسٹم کی معیار چار سال ہوتی ہے اور ہم نے 28 سالہ پرانا سسٹم اجڑتے دیکھے ہیں لہذا اب نئے سسٹم کو لگانے کا وقت آگیا ہے
ناظرین اس گفتگو کا بقیہ حصہ اسی کے نیچے جلد پوسٹ ہوگا اور اب شاید آپکو بھی آہستہ آہستہ سسٹم کے اتار چڑھاؤ کی سمجھ آگئی ہونی
اور ناظرین حالات حاضرہ کچھ یوں ہے کہ گیند سلیم اللہ سے کلیم اللہ جانب پاس ہوئی پھر گیند مولانا نے چھین کر آگے پاس کر دی اور پھر وہی گیند علیم خان کے پاس پہنچی اور پھر آگے سے خواجہ صاحب نے گیند چھین کر گول کی جانب بڑھے تو محسن نقوی نے وہی گیند چھین لی اور پھر نقوی سے گیند مراد علی شاہ کے پاس پہنچی تو وہیں کھڑے رانا ثناء اللہ نے اپنی ہاکی لمبی کرتے ہوئے گیند چھین لی اور گول کی جانب بڑھ گئے ( جاری ہے )
اس ساری چھینا چھنائی میں وہ جو مقبول ترین لیڈر تھا اور “ ششٹم “ کا باپ بھی تھا اور نڑنوے فیصد عوام کا پسندیدہ تھا وہ کہیں دکھائی نہیں دے رہا بلکہ خبروں سے غائب ہو گیا جبکہ یوتھیے ٹینس کورٹ کے وشکار بیٹھے دائیں اور بائیں دیکھ رہے ہیں
سناؤ فیر
وزیراعظم کا ایوان میں مظفر وارثی کا شعر پڑھنے پر مورخ کو ایک مشہور و معروف مقدمہ دوران بھری عدالت میں گواہ کو اسی شعر کو پڑھنا یاد آگیا جس میں کٹہرے میں کھڑے گواہ نے جج قدرت اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک شعر پڑھا جس پر جج نے گواہ سے پوچھا کہ اس شعر کا اس مقدمہ سے کیا تعلق ہے جس پر گواہ نے بغیر شرمائے بتلایا کہ ایک دن موٹرسائیکل کی چابی اور ہیلمٹ صاحب جی کے کمرہ میں رہ گئی تھی جو لینے کیلئے گیا تو دروازہ بند تھا جس پر جج نے ٹوکتے ہوئے کہا دروازہ تو بغیر کُنڈی کے تھا جس پر گواہ نے جج کو ٹوکتے ہوئے کہا جج صاحب چلتی گواہی میں سر نہ پھنسائیں اور پھر گواہ نے بتلایا کہ بغیر کنڈی دروازہ کھولا تو کمرے میں اندھیرا تھا اور جب چابی اور ہیلمٹ کے قریب پہنچا تو ملزم بغیر ہیلمٹ چابی گھما رہا تھا اور ساتھ ذور سے موٹرسائیکل کی پشلی سیٹ پر تھپتھپاتے ہوئے کہ رہا تھا جب اپنا قافلہ پورے عزم اور ہوشیاری سے اٹھے گا جہاں سے چاہیں گے پھلترو وہیں سے نکلے گا
شعر سننے کے بعد جج نے خاموش گواہ سے پوچھا کہ آگے کیا ہوا جس پر لطیف نے بتلایا کہ اس شعر کے بعد ون ویلنگ شروع ہوئی جس کے بعد چالان ہوگیا
جاری ہے
State Bank of Pakistan has received funds of US$ 1 billion from Ministry of Finance, Kingdom of Saudi Arabia in the value date of 20April2026. This is the second tranche of the $3 billion deposit recently agreed by Kingdom of Saudi Arabia. First tranche of $2 billion has already been received in the value date of 15April2026.
ایک بڑے عالمی بحران سے بچانے اور ایران و امریکہ جنگ بندی کروانے پر میں وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بے مثال سفارتی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ ایران اور امریکہ کا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے امن کا راستہ اپنانا خوش آئند ہے۔ دعا ہے کہ یہ کاوشیں مستقل عالمی استحکام کی جانب ایک نتیجہ خیز قدم ثابت ہوں۔
وہ ڈار صاحب کو کہہ رہے تھے کہ آپ نے رات کو واپس نہیں جانا بلکہ رات بیجنگ میں آرام کرنا ہے اور صبح پاکستان فلائے کرنا ہے۔ اس بات پر انہوں نے ڈار صاحب کو قائل کر لیا اور پھر کھانے کے بعد سٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں اپنے خاص ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی بھیجی تاکہ وہ ڈار صاحب کا طبی معائنہ کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ پاک چین دوستی کو اسی طرح شاد اور آباد رکھے۔ آمین 🇵🇰 🫶🏻 🇨🇳
اسحاق ڈار صاحب نے آج مصر کے وزیرِ خارجہ کے استقبال کے دوران چوٹ لگنے کے باوجود پورا دن پین کلرز لے کر انتہائی اہمیت کی حامل تمام میٹنگز الحمدللہ احسن طریقے سے مکمل کیں۔ تقریباً 9 بجے آفیشل سٹیٹمنٹ کی ریکارڈنگ اور پاکستان کے لئے ایک بڑے دن کے بہترین اختتام کے بعد فیملی کے اصرار پر ان کا طبی معائنہ کروایا گیا۔ ان کے x-rays الحمدللہ مجموعی طور پر ٹھیک ہیں۔ کندھے میں ایک ہئیر لائین فریکچر ہے۔ اگلے چند روز ان کی درد کو دوائیوں اور دیگر احتیاطی اقدامات کے ذریعے مینج کیا جائے گا انشاءاللہ۔ آپ سب کے پیغامات، دعاؤں اور نیک تمناؤں کا شکریہ۔ 🇵🇰♥️
خبر غم،
گذشتہ روز ہمارے رہائشی رضوان رضی صاحب والدہ محترمہ بقضائے اِلٰہی سے وفات پا گئی ہیں۔
اِنّا لِلّهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن.
اللّٰہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
ان کی تدفین ان کے آبائی گاؤں میں کر دی گئی ہے۔
*ان کے ایصال ثواب کے لیے جمعہ کو 4 بجے جامع مسجد امیر حمزہ B بلاک میں قران خوانی کی جائے گی عصر کی نماز کے ساتھ دعا کر دی جائے گی تمام حضرات سے شرکت کی درخواست ہے*
اور ناظرین مورخ لمی “ شُٹی “ کے بعد ہٹی کا شٹر چُک کر سازو سامان اپنی تھاں پر رکھ چکا ہے اور گودام میں موجود فرہنگ امام دین کے دستیاب سٹاک میں سے لفاظی کرنے پہنچ آیا ہے اور اس چھٹی دوران یاد کرکے میسج کرنے والوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہے
جیوندے ہسدے وسدے رہو