🚨بھارت میں مودی مخالف احتجاج دیکھ کر ایک سوال ضرور ذہن میں آتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
نریندر مودی مئی 2014 سے مسلسل بھارت کے وزیرِاعظم ہیں۔ اس دوران بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 312 ارب ڈالر سے بڑھ کر 676 ارب ڈالر تک پہنچے، معیشت تقریباً دو ٹریلین ڈالر سے چار ٹریلین ڈالر کے قریب جا پہنچی، غربت میں کمی آئی، متوسط طبقہ پھیلا، کئی ریاستوں میں فلاحی اسکیمیں متعارف ہوئیں بجلی کے دو تین سو یونٹ مفت ہوئے اور معاشی استحکام کے کئی اشاریے بہتر ہوئے۔ حالیہ جنگ میں پیٹر ول سستا ہوا کسی بھی غیر جانبدار تجزیہ کار کے لیے ان معاشی تبدیلیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
لیکن پولیٹیکل سائنس ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ریاستیں صرف معاشی ترقی سے نہیں بلکہ سماجی معاہدے (Social Contract)، جمہوری آزادیوں اور ادارہ جاتی توازن سے بھی مستحکم رہتی ہیں۔ جب حکومت اکثریتی قوم پرستی کو ریاستی شناخت بنا دے، مذہبی شناخت سیاست کا محور بن جائے، اختلافِ رائے کو قومی وفاداری کے پیمانے پر پرکھا جانے لگے، اور ناقدین، صحافیوں یا اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھنے لگے، تو معاشی کامیابیاں بھی سماجی بے چینی کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتیں۔
مودی حکومت کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ گزشتہ بارہ برسوں میں بھارت میں ہندو قوم پرستی کو غیر معمولی سیاسی طاقت ملی، سیکولر ریاست کا توازن کمزور ہوا، اور اداروں کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھے۔ ان کے نزدیک آج کے احتجاج صرف کسی ایک پالیسی کے خلاف نہیں بلکہ اس سیاسی ماڈل کے خلاف ردِعمل ہیں جس میں معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی تقسیم بھی گہری ہوئی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب کسی معاشرے میں معاشی کامیابی اور سیاسی شمولیت ایک ساتھ نہ چلیں تو بالآخر عوام سڑکوں پر آ کر صرف مہنگائی نہیں بلکہ اپنے حقوق، شناخت اور ریاست کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔
تجربہ کار حکومت کے تجربے جاری ! اپنے کسانوں کا بھٹہ بٹھایا گندم خریداری نہیں کی کہ ڈی ریگولیٹ کر رہے ہیں ۔ کسان کا منافع تو دور اسکا فصل پر اپنی جیب سے کیا خرچ بھی پورا واپس نہیں آیا جس پر لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے ۔ ڈھول پیٹے گئے کہ گردشی قرضہ اور قومی خزانے پر بوجھ ختم کردیا ہے گندم سیزن ختم ہوئے ابھی چار مہینے نہیں ہوئے تو ماشااللہ اب اسی قومی خزانے سے خرچ کرکے کسی اور ملک کے کسان کی گندم خریدی جائے گی تاکہ انکے ہاں تو خوشحالی ہو ۔ ڈالرز میں بین الاقوامی منڈی سے کروڑوں ڈالرز میں گندم خریدی جائے گی کیونکہ زرمبادلہ زخائر جو وافر ہیں الحمداللہ تجربہ سر چڑھ کر بول رہا ہے !
اس ویڈیو کو صرف سنیں نہیں، بلکہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ دیکھیں کہ گفتگو کس ترتیب سے کی گئی ہے، دلائل کیسے پیش کیے گئے ہیں، آواز کی پچ کہاں بلند یا نرم ہوتی ہے، لہجہ کتنا پراعتماد ہے، الفاظ کی ادائیگی کتنی واضح ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دلیل کتنی مضبوط اور منطقی ہے۔ ایک اچھی گفتگو صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ انداز، لہجے اور مضبوط استدلال سے مؤثر بنتی ہے۔
پاکستان میں ہر سیاسی جماعت نے تعلیم کو تباہ کیا ہے اس وقت بھی سب صوبوں میں تعلیم تباہ ہے مگر پنجاب میں تو تعلیم کی تباہی نیکسٹ لیول کی ہے سکول سب بیچ رہے ہیں آٹھ سو ارب کا بجٹ ٹھیکیداروں پر لٹا رہے ہیں کل کو جب یہ چلے گے یہ منصوبے ختم ہوے تو جو سرکار کا پیسہ لگا وہ سب ضائع ہو گا اس تباہی کا نتیجہ آئی پی پیپز کی طرح جب تک آئے گا تباہی مکمل ہو چکی ہو گی
مانگا منڈی میں جوس کی قیمت کی ادائیگی پر شاپ کے مالک اور عملہ پر فائرنگ کے مناظر
نوجوان جس طرح آتشیں اسلحہ کے سامنے کھڑا رہا، اسے بیوقوفی کہیں یا بےخوفی
لیکن یہ جگرا ہر کسی کے بس کی بات نہیں
پنجاب اس وقت پولیس اسٹیٹ ہے
بھائی مچھلیاں چوری ہورہی ہیں کچھ کریں یہ الفاظ محکمہ فشریز کے اسسٹنٹ دائریکٹر کےتھے۔
محکمہ فِشریز کے 18ویں سکیل کے ڈپٹی ڈائریکٹر یاسر (جو ہیڈ سلیمانکی کی سائیڈ پر تعینات ہیں) نے مچھلیوں کی چوری کے حوالے سے تھانہ حویلی لکّھا میں ایک درخواست بھیجی تھی۔
درخواست پر ڈائری نمبر لگنے کے باوجود جب کارروائی نہ ہوئی تو ڈپٹی ڈائریکٹر خود تھانے گئے۔
فرنٹ ڈیسک سے انہیں محرر کے پاس بھیجا گیا، لیکن محرر نے یہ کہہ کر کارروائی سے انکار کر دیا کہ وہ صرف ایس ایچ او کے حکم کے پابند ہیں اور اس وقت موجود نہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر کو بتایا گیا کہ سعید بھٹی ہائی کورٹ گئے ہوئے ہیں اور شام کو آئیں گے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر وہیں رک گیا شام کو
ڈپٹی ڈائریکٹر دوبارہ تھانے پہنچے کے باہر آنے کا انتظار کرتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئے۔
جب ایس ایچ او باہر آیا اور اس بیٹھنے کے انداز پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
تو یاسر نے کہا کہ میں ٹھیک بیٹھا ہوں آپ درخواست پہ کاروائی کریں میں ایک اٹھارویں اسکیل کا آفیسر ہوں
بس یہ کہنا تھا کہ ایس ایچ او نے کہا کہ اس کو اٹھارہ جوتے مارے جائیں اور اس کو اٹھارہ جوتے مارے گئے ۔
یاسر کسی طرح اپنی جان چھڑا کر وہاں سے جوتے کھاکر نکلا جب واقعہ باہر آیا تو ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگئی ہے ۔
آپ کیا کہتے ہیں کہ ایس ایچ او کو ایسا کرنا چاہیئے تھا ؟
جب ایک آفسر کے ساتھ ایسا ہوسکتا ہے تو عام انسان کے ساتھ کیسا ہوگا
😥😥😥
#HaveliLakha #paksitan #fish #sadmomets #Badjob #punjabpolice
پہلے تنخواہوں میں اضافے کرواتے ہیں، پھر مفت گھر، بجلی، گیس، ٹرانسوپورٹ، فون اور دو دو گھریلو ملازمین وصولتے ہیں، پھر سپیشل بونس ایلوکیٹ ہوتے ہیں، ریٹائیر ہو جائیں تو تاحیات پینشن، پھر بھی کسر باقی رہ جائے تو مصنوعی بحران تخلیق کر کے گندم اور چینی کے نام پہ تُن کے چونا لگاتے ہیں۔
سالہا سال سے یہی ایک فارمولہ ہے اور تقریباً ہر حکومت اس میں برابر کی مجرم بنتی آ رہی ہے۔
مریم نے تو پنجاب میں دو سو یونٹ مفت کا وعدہ کیا تھا وہ کب پورا کریں گی ؟
کہہ رہے مریم ُ نے وعدہ کیا اور اگلے دن دس الیکٹرک بسیں بھیج دیں سوال یہ مریم نے کس حیثیت میں وعدہ کیا ؟
پنجاب کے وسائل کس طرح وہ باہر بانٹ سکتی ہیں ؟
یہ کام مرکزی حکومت کا شہباز شریف کا ہے وہ کشمیر کو جو مرضی منصوبہ دے سکتے ہیں
پنجاب میں لوگ بلوں کی وجہ سے خودکشی کر رہے ہیں جبکہ کشمیر میں تو دو روپے یونٹ ہے وہ تو کھانے تک بجلی پر پکا رہے کہ تقریباً مفت ہے مریم صاحبہ کے پاس اگر زیادہ پیسہ تو پنجاب میں دو سو یونٹ مفت کریں وہ پنجاب کی وزیراعلی ہیں
رحمت زحمت بنتی ہے اس کو واپس رحمت بنایا جا سکتا ہے۔۔
ملک میں مون سون موسم کا آغاز ہو گیا۔۔۔اربن(شہری علاقوں میں)فلڈنگ ہو گی۔
حکومت اگر"ریورس پمنگ"کر کے یا ہر شہر کے مختلف مقامات پر کنویں کھود کر بارشی پانی واپس زمین کے اندر بھیجے تو ان شہروں میں زیر زمین پانی کا لیول اونچا ہو سکتا ہے۔
انڈیا میں بہت زیادہ یہ چیز رائج ہو چکی ہے۔
نہروں،دریاوں کے کناروں پر اگر درخت لگاتے تو کٹاو بھی کم ہوتا اور سیلابی صورتحال میں نقصان کی شدت کم ہوتی۔
(اسد آر چوہدری)
میں ایک عرصے سے اسلام آباد کی پراپرٹی/کنسٹرکشن مارکیٹ میں ان ہوں،
شوق ہے، تجسس ہے، چل ہے تو پوچھتا پاچھتا رہتا ہوں،
اب ایک دلچسپ لیکن "مجرمانہ" سچائی،
اسلام آباد جو پورے پاکستان کی پراپرٹی کا حب سمجھا جاتا ہے، کے یہاں کے سودوں میں کروڑ روپے کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے، یہاں ہزاروں پراپرٹیز ہیں جنکی مالیت ارب روپے سے بھی زیادہ ہے،
اسلام آباد میں 20-30 کروڑ روپے کا فقط گھر تو ایک عام سی بات ہے،
اسی طرح 20-30 کروڑ کی ایک دکان بھی عام آئٹم سمجھا جاتا ہے،
اور یہاں کا سب سے بڑا انویسٹر،
بلوچستان، خیبر پختونخوا کے وڈیرے/سردار/خان وغیرہ ہیں،
اس سے بڑا ننگا اور "ذلیل" سچ یہ ہے،۔
کے دوسرے نمبر پر جو گروپ بڑا انویسٹر ہے وہ ہے دیوبندی مدارس کے مہتمم، اہل تشیعوں کی امام بارگاہوں کے کرتا دھرتا، اور پاکستان بالخصوص پنجاب کے جنوبی اضلاع اور سندھ میں موجود درباروں کے پیر صاحبان۔
سمجھ سے بالاتر ہے کے انتہائی غریب اور پسماندہ علاقوں کے بڑوں کے پاس اتنا مال اور اتنا ہی مال آخر کہاں سے آتا ہے...!!
#نجم_نامہ
پٹرول سستا ہونے پر مہینے بعد بھی نہیں پہنچتا تھا
مہنگا ہونے پر روزانہ پہنچتا ہے۔
بھارتی چیف جسٹس اور حکومت صرف"یوتھ"کو کاکروچ سمجھتی تھی
جبکہ ہماری یہ حکومت ساری عوام کو"کاکروچ"بھی سمجھتی ہے اور چ بھی۔
تیل،بجلی،گیس،آٹا۔۔مہنگا
یا شارٹیج
زیادہ عوامی ردعمل آئے تو
احسان عظیم کر کے چند دن لیے کے لیے تھوڑا سا ریلیف دے دیتے ہیں
اور چند دنوں میں
پھر واپس۔۔پرانی ڈگر پر آ جاتے ہیں۔
4 سال میں بہتری کے بجائے بدترین معاشی بدتری کی طرف گئے ہیں۔
(اسد آر چوہدری)
وہاں مطالبہ بھی حقیقی تھا
ہمارے بھی یہاں نمونوں نے پنجاب کالج کے ایشو پر احتجاج کیا جو بعد میں پتہ چلا کہ کچھ اور تھا
اور ہماری ٹک ٹاکراں امیاں بن کر سامنے آ گئیں۔ بعد میں معافیاں مانگتی رہیں کہ ہم نے جھوٹ بولا ہے
یہ مسلمان نوجوان جنتر منتر میں آئے طلبہ کو پانی پلاتا ہے کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرتا ہے پولیس نے اس کے گھر سے اس کے والد کو اٹھالیا ۔ اس کے بہن کے سُسر کو اٹھا کر لے گئے اور اب پولیس کہہ رہی ہے کہ اس بندے کو پیش کرو تو ان کو چھوڑیں گے ۔ حالانکہ اس کا کوئی جُرم بھی نہیں ہے ۔
پاکستان اور انڈیا فرق ہے لیکن پولیس ایک جیسی ہے ۔
کیا قانون وزیر اعلی پنجاب کو یہ اختیار دیتا ہے کہ پنجاب کی بسیں آزاد کشمیر بھجوا دے.
کیا یہ وزیر اعلی کی صوابدید ہے وہ پیسے چاہے تو پنجاب میں لگائے چاہے کسی اور صوبے میں؟
کیا اس کام کے لیے بجٹ مختص تھا؟ کیا ایوان سے اس کی اجازت لی گئی؟ کیا کوئی سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی گئی؟ کیا مالیاتی اعتبار سے کوئی
ضابطہ قانون ہے یا نہیں؟
کیا الیکشن قوانین اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ایسا کام عین الیکشن کے دنوں میں اناونس کیا جائے؟
کیا سرکاری وسائل عین الیکشن کے دنوں میں استعمال کرنا الیکشن پر اثر انداز ہونا نہیں ہے؟
پچھلے ایک ماہ کے دوران میرا واسطہ ابوظہبی میں پاکستان اور افغانستان کے سفارت خانوں سے پڑا۔ میں بلا کسی مبالغہ آرائی کے اپنا تجربہ آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔
پاکستانی سفارت خانے میں اپنے بیٹے کے پاسپورٹ کی تجدید کروانی تھی۔ میں نے دفتر سے چھٹی لی تاکہ سکون سے کام ہو سکے۔ بدھ کا دن تھا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ سفارت خانہ دو دن کے لیے بند ہے، کیونکہ پاکستان میں 9 اور 10 محرم کی تعطیل تھی، اس لیے یہاں بھی بند رکھا گیا تھا، حالانکہ پورے متحدہ عرب امارات میں کہیں بھی سرکاری تعطیل نہیں تھی۔یوں میرا دن اور چھٹی ضائع گئی۔
دو دن بعد، جمعہ کی صبح، میں جلدی پہنچ گیا۔ پہلے سے ایک درجن سے زیادہ دستاویزات کی فوٹو کاپیاں ساتھ لے گیا تھا۔ کافی دیر انتظار کے بعد میری باری آئی تو کہا گیا کہ افغانستان کے سفارت خانے سے این او سی لے کر آئیں، کیونکہ بچے کی والدہ کا پاسپورٹ افغان ہے۔ حالانکہ میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ صرف تجدید ہے، پہلی مرتبہ تمام دستاویزات پہلے ہی جمع کروا چکا ہوں، مگر بات نہ بنی۔
میں افغانستان کے سفارت خانے گیا۔ وہاں زیادہ سے زیادہ دس منٹ میں این او سی جاری کر دیا گیا۔ نہ کسی فوٹو کاپی کا مطالبہ کیا گیا، نہ غیر ضروری سوالات کیے گئے۔ صرف پاسپورٹ دیکھا، اپنا ریکارڈ چیک کیا اور این او سی میرے حوالے کر دیا۔
واپس پاکستانی سفارت خانے آیا اور دوبارہ لمبی قطار میں لگ گیا، مگر اتنے میں بارہ بج گئے، جمعہ کا دن تھا اور سفارت خانہ بند ہو گیا۔ یوں ایک بار پھر ناکامی ہوئی۔ وہی بدتمیزی، ہٹو، نکلو، وقت ختم ہو گیا،وہی دھکم پیل۔
اس کے بعد دو دن مزید سفارت خانہ بند رہا، کیونکہ ہفتہ اور اتوار کی تعطیل تھی۔ پیر کے روز میں سب سے پہلے پہنچا تاکہ فیملی لائن میں جلدی لگ جاؤں اور دفتر جانے سے پہلے کام مکمل ہو جائے۔ پاسپورٹ تو جمع ہو گیا، لیکن پھر تصدیق کے نام پر میرے والدین، یعنی بچے کے دادا اور دادی، کے ڈومیسائل اور شناختی کارڈ طلب کیے گئے۔ شناختی کارڈ تو دونوں کے موجود تھے، مگر ڈومیسائل نہیں بنے ہوئے تھے۔
یوں پاکستان میں میرے بڑے بھائی نے کافی تگ و دو کے بعد والدہ کا ڈومیسائل بنوایا۔ والد چونکہ وفات پا چکے تھے، اس لیے پہلے ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوانا پڑا۔ اس تمام عمل میں تقریباً پچیس دن لگ گئے۔
پاسپورٹ کی تجدید کے بعد بچوں کے افغانستان کے ویزوں کے لیے اُن کے سفارت خانے گیا کیونکہ بچوں نے چھٹیاں گزارنے جانا تھا۔ خدا کی قسم، جیسے ہی انہوں نے میرے ساتھ فیملی دیکھی، سب اپنی جگہ سے اٹھے، ہمیں اندر ایک بہترین انتظار گاہ میں لے جایا گیا، جہاں بچوں کے لیے چاکلیٹس اور بڑوں کے لیے چائے رکھی ہوئی تھی۔ وہیں ایک اہلکار آیا، پاسپورٹ لے گیا، اور تقریباً تیس منٹ کے اندر ویزے لگا کر واپس کر دیے۔ ایک ویزے کی فیس صرف 39 درہم تھی۔
میں احتیاطاً تمام دستاویزات کی فوٹو کاپیاں بھی ساتھ لے گیا تھا، مگر انہوں نے ایک بھی کاپی نہیں لی۔ صرف اتنا کہا کہ اب تو سب آن لائن ہوجاتا ہے، اس لیے ان سب کی ضرورت نہیں۔
میں سوچ میں پڑ گیا کہ ہماری اپنی ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے، جن کا پاسپورٹ ہم اٹھائے پھرتے ہیں، اور باقی دنیا کیا کر رہی ہے۔ یہ موازنہ میں بلا کسی مبالغہ آرائی کے ایک ایسے ملک سے کر رہا ہوں جو گزشتہ پچاس برس سے جنگ کی لپیٹ میں ہے۔
پاکستان ابھی تک نوآبادیاتی ورثے (Colonial Legacy) سے باہر نہیں نکل سکا۔ تنقید تو صرف ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر ہوتی ہے، اور بجا بھی ہے، لیکن یہ سی ایس ایس کے گدھے، جنہوں نے اس نظام کو بہتر بنانا تھا، بہت سے معاملات میں خود بھی اسی فرسودہ طرزِ فکر کا حصہ بن چکے ہیں او اُن سے بڑھے فرعوں ہیں۔ پولیس، عدالت، جج، وکیل، پٹواری، الغرض ہر طرف وہی انگریزوں سے ورثے میں ملی ہوئی اکڑ، غیر ضروری پیچیدگیاں اور عوام سے فاصلہ نظر آتا ہے۔
۔
۔
نعمت وزیر!
یہ انڈیا کا بھولا ریکارڈ وزیر تعلیم جس نے استعفی دیا ہے یہ مودی کا خاص آدمی تھا اور بہت تکبر اور غرور سے بھرا تھا پانچ سال سے زیادہ عرصے سے وزیر تعلیم تھا اور انتہا پسند ہندوں کو نواز رہا تھا معاملہ ویسا سا تھا جیسا بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کا تھا کہ نوکریاں عام بنگالی نوجوان کو نہی ملتی تھیں
یہ افغانستان ہے جہاں ایک انڈین امریکی ویپن ہاتھ میں لیے چلا کر ٹیسٹ کر رہا ہے۔ یہ وہی بندوقیں ہیں جو آج کل بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے ہاتھ میں ہیں۔ سوچیے، یہ انڈین بندوق خرید کر کیا انڈیا لے جائے گا؟ جواب نہیں، بلکہ یہی اسلحہ دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔..