@AmirMateen2 ضیاء الحق کی سفارش کی پیداوار ، یہ نام نہاد پروفیسر ہمیشہ ایسی ہی چولیں مارتا آیا ہے جبکہ پاکستان کی اس معاشی تباہی اور بدحالی میں یہ بھی برابر کا شریک ہے۔ آپ نے بہت اچھی منجی ٹھوکی ہے اس بزعم خود میا مٹھو کی۔
عمران خان کو سازش کے ذریعے رجیم چینج کر کے اقتدار سے ہٹایا گیا، اس کی جماعت کے احتجاج پر قدغنیں لگیں، اسے زندان میں ڈالا گیا۔ الیکشن چوری کرلیا۔ یہ سب کوئی نئی بات نہیں، سیاستدانوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے، اور وہ اپنی جماعت اور حامیوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں۔
لیکن گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ بدسلوکی، اور قید میں لے جانے کے بعد ان کی آواز، اس کا چہرہ، اس کی آئینی شخصی آزادی چھین لینا، یہ پوری قوم کا معاملہ بن گیا اور ایک شخص تک محدود نہ رہا، اس سے قوم کو ایک گہرا اور منفی پیغام گیا۔
خدا کی قسم، اکثریت کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان تو ہے، مگر اس کی روح نہیں رہی۔ ملک ایک زندہ لاش کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ نہ کوئی امید، نہ کوئی دلچسپی، نہ وہ قومی جذبہ۔ عجیب احساس ہے جو شاید موضوع الفاظ میں بیان بھی نہی کیا جاسکتا۔
قید یا اغوا کہیں تو بہتر ہے، اغوا کیا جانے والا عمران خان صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھا، وہ اس قوم کا پاکستان اور دنیا بھر میں فخر تھا، دہائیوں سے ایک ہیرو تھا۔ وہ تین نسلوں کی پسند تھا۔
وہ ورلڈ کپ نہ بھی جیتتا تو بھی لوگ اسے عظیم مانتے، وہ شوکت خانم اسپتال نہ بھی بناتا تو بھی اس کے لیے دلوں میں محبت ہوتی۔ وہ نمل یونیورسٹی کا قیام نہ بھی کرتا تو لوگ اسے عشق کرتے۔ اس کا تعلق صرف کارناموں سے نہیں تھا، ایک احساس سے تھا۔ کیونکہ اس نے ہمیشہ ملک کا نام روشن کیا تھا اور دنیا میں پاکستان کی پہچان تھا۔
جن لوگوں نے یہ فیصلے کیے، انہوں نے شاید ایک حکومت بدلی اور ایک سیاسی رہنما کو نظروں اور سماعتوں سے دور کردیا، مگر ہمارے اندر سے پاکستانیت کا ایک حصہ بھی کاٹ دیا۔
ایسا نہیں کہ ہم غدار ہو گئے یا وطن سے نفرت کرنے لگے۔ نہیں! کبھی نہی! مگر اپنے ہی ملک میں ایسے رہنے لگے ہیں جیسے کوئی پردیس میں رہتا ہے۔
جہاں اس بات سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ کس کی حکومت ہے۔ بس کمانا ہے، وسائل استعمال کرنے ہیں، بچوں کی تعلیم دیکھنی ہے، کھانا پینا ہے، کہیں گھوم پھر لینا ہے۔
پردیس میں رہنے والے عموماً اس زمین سے محبت یا نفرت کے رشتے میں بندھے نہیں ہوتے، وہ صرف اپنی سہولت اور آرام دیکھتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی احساس پاکستان میں رہتے ہوئے ہونے لگا ہے۔
آگے کیا ہوگا، کیا قومی جذبہ دوبارہ جاگے گا، کیا پہلے جیسی پاکستانیت لوٹ آئے گی، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جین زی تو ویسے ہی اس سب میں کوئی خاص دل چسپی نہیں رکھتی، ان کی ترجیحات مختلف ہیں۔
شاید ہم ہی آخری نسل تھے جو قومی نغمے سنتے تھے، جہاں بھی دنیا میں ہوں، دل میں پاکستانیت لیے پھرتے تھے۔ نئی نسل کو اس میں کشش نظر نہیں آتی۔
جو فیصلے کرنے والے تھے، انہوں نے ہمارے اندر سے پاکستانیت کو جیسے مٹا دیا، ہمیں بھی اسی بے حسی کا حصہ بنا دیا۔
آپ نے صرف عمران خان کو قید نہیں کیا، اس کے حقوق سلب نہیں کیے، آپ نے کروڑوں دلوں میں بسے ایک جذبے کو زخمی کیا ہے، اور ایک پوری قوم کو یہ احساس دیا ہے کہ اس کی آواز کی کوئی حرمت باقی نہیں رہی۔
شاید یہ موضوع حساس ہو، مگر اسے بیان کرنا ضروری ہے، تاکہ یہ احساس، یہ درد، اس دور کی ڈیجیٹل تاریخ میں محفوظ ہو جائے۔ کبھی نہ کبھی، کوئی اسے پڑھے اور سمجھے کہ اس زمانے میں ناانصافی اور لوگوں کے احساسات کا اندازہ کرسکیں۔ ۔
جب چی گویرا کو اُس کے ٹھکانے سے گرفتار کیا گیا،
اور بتایا گیا کہ یہ راز ایک چرواہے نے فاش کیا ہے
کسی نے چرواہے سے حیرت سے پوچھا
تم نے اُس شخص کو کیسے بیچا جو ساری زندگی تمہارے اور تمہارے حقوق کے لیے لڑتا رہا؟"
چرواہا بس اتنا بولا:
اس کی دشمنوں سے جنگ نے میری بکریوں کو ڈرا دیا تھا
برسوں پہلے، مصر میں عظیم قائد محمد کریم نے نپولین کی قیادت میں آنے والے فرانسیسی لشکر کی مزاحمت کی۔
گرفتار ہونے پر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔
نپولین نے انہیں بلا کر کہا
مجھے افسوس ہے کہ ایک ایسے شخص کو قتل کرنا پڑ رہا ہے
جس نے اپنے وطن کا اتنی بہادری سے دفاع کیا۔
میں نہیں چاہتا کہ تاریخ مجھے ایسے شخص کے طور پر یاد رکھے
جس نے اپنی سرزمین کے لیے لڑنے والے ہیروز کو مار ڈالا۔
اس لیے میں تمہیں معاف کرتا ہوں — اگر تم دس ہزار سونے کے سکے ادا کرو
جو ہمارے مارے گئے سپاہیوں کا معاوضہ ہوں۔
محمد کریم مسکرا کر بولے
میرے پاس اتنے نہیں ہیں، مگر تاجروں پر میرے سو ہزار سے زیادہ سونے کے سکے واجب الادا ہیں۔
نپولین نے مہلت دی۔ وہ ہتھکڑیاں پہنے، قبضے کے سپاہیوں سے گھرا ہوا بازار پہنچا
ان کے پاس یہ امید تھی کہ جن کے لیے اپنی جان داؤ پر لگائی
وہ اب وفا کا ثبوت دیں گے۔
مگر ایک بھی تاجر نے جواب نہ دیا۔
الٹا اُن پر الزام لگایا کہ تم نے اسکندریہ کو برباد کیا
اور ان کے کاروبار کو تباہ کیا۔
محمد کریم ٹوٹے دل کے ساتھ نپولین کے سامنے واپس آئے
تو نپولین نے کہا
میں تمہیں اس لیے قتل نہیں کر رہا کہ تم نے ہم سے جنگ کی
بلکہ اس لیے کہ تم نے اپنی جان ایسے بزدل لوگوں کے لیے قربان کی
جن کے لیے تجارت، وطن کی آزادی سے زیادہ قیمتی تھی۔
اور محمد رشید رضا نے کہا تھا:
ایک سوئے ہوئے قوم کے لیے انقلاب لانے والا
ایسا ہے جیسے کوئی شخص اندھے کے راستے کو روشن کرنے کے لیے
اپنے جسم کو آگ لگا دے۔.
@SabirMehmood26 اس جنگلی کو خود قرآن و حدیث کا فرق نہیں معلوم۔ یہ جو قرآن کا کہہ کر نشانیاں بیان کر رہا ہے وہ حدیث ہے۔ یہ میڈیا والے بھی مائیک پکڑ کر ہر کتے بلےکے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
@iAmjadKhann الیکشن لڑنے والے کا تعلیمی معیار کیا ہونا چاہئے یہ بھی بتا دیتے۔ ویسے اگر یہ گریجویشن والی شرط لگا دی جائے تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو جو چند نشستیں ملتی ہیں وہ بھی نہیں ملیں گی۔ نصر اللہ ملک تو ان کی جڑیں ہی کاٹنا چاہتا ہے۔
@SadiasOfficial دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
یعنی ترکی نیٹو میں بھی ہوگا اور ساتھ ہی ان کے خلاف اتحاد بھی بنائے گا۔ مسلمان دنیا کو خطرہ ہے ہی امریکہ اور برطانیہ سے اور وہ دونوں نیٹو میں ساتھ ہیں ترکی کے۔
@Aftab_Nazir سعودیہ اور ایران نے ایک عرصہ تک پاکستان کو میدان کار زار بنائے رکھا اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے اپنی پراکسیز کے ذریعہ لاکھوں بے گناہ پاکستانیوں کو خاک و خون میں نہلایا۔ آج بھی کچھ لوگ پاپی پیٹ کی خاطر اسی چنگاری کو ہوا دے رہے ہیں۔ لعنت ہو ان سعودی اور ایرانی وظیفہ خوروں پر
@Abid_Ali__110@ZehrilaBittu چلیں ٹھیک، ہو سکتا ہے فقہ جعفریہ میں ایسا ہو لیکن فقہ حنفیہ میں نہیں ہے۔ میں اپنے فقہ کے مطابق بات کر رہا تھا۔ خوش رہیں آباد رہیں۔
@KhawajaMAsif اپنے ملک میں فلسطین کا جھنڈا تک اٹھانے نہیں دیتے اور دوسروں کے احتجاج پر فخر کرتے ہو منافق غلامو۔ یہاں تو فلسطین کے نام لینے والوں پر عرصہ حیات تنگ کرتے ہو، ان پر گاڑیاں چڑھاتے ہو، انکو ذلیل کرتے ہو گرفتار کرتے ہو اور مثالیں غیروں کی دیتے ہو۔ ضمیر تم لوگوں کے مردہ ہیں قوم کے نہیں
@AmirHQureshi کیا اس کرپٹ اور غدار خفیہ چیف کے خلاف کوئی ادارہ جاتی انظباتی کاروئی عمل میں لائی گئی یا اس وقت کے آرمی چیف سے اس بابت کوئی پوچھ گچھ ہوئی۔ پاشا امریکہ میں اور کیانی آسٹریلیا میں جزیرے خرید کر عیاشی کر رہے ہیں۔ سول حکومتیں تو انکی لونڈیاں باندیاں ہوئیں لیکن وہ خود احتسابی کے دعوے؟