I’m in love with this sentence:
“The degree to which a person can grow is directly proportional to the amount of truth they can accept about themselves without running away.”
In its latest report, the National Commission for Human Rights (NCHR) has documented a “sustained pattern of discrimination” against the Ahmadi community between September 2023 and December 2025, including harassment, lethal violence and legal persecution.
🧵
Stop frying your brain with endless short form content. Read long, complicated, books. Especially novels. Cultivate the ability to think deeply. To focus for long periods. Stare into space and enjoy boredom. Do tasks without any media playing in the background. Resist the urge to reach for your phone every time you feel uncomfortable. Get used to being with uncomfortable emotions instead. Wonder and think about the questions you have instead of asking AI. Become deeply present with everyone around you. Your ability to focus, pay attention, to think deeply, is one of your most valuable assets. Reclaim the immense beauty of experiencing your life directly instead of living it through a screen.
60% of our #KidneyWk nephrology #POCUS precourse is dedicated to cardiac scanning. Apparently, one of the most useful bedside tools for understanding what’s happening with the kidneys is to look at the heart! 😂🫀
@AsadAToor That's exactly what happens when you select and induct people into a party who have no shared principles, objectives and goals. Imran Khan has really disappointed the people of Pakistan.
گورنر راج اور نراج
کوئ حد ہے اُنکے غرور کی
بات بس اتنی سی تھی کہ عمران خان سے ملادو، اسکا علاج کرادو اور ملٹری آپریشن پر صوبائ اسمبلی کی متفقہ قرارداد بھی پیش نظر رکھ لو۔ مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کی تو مبینہ طور پر دونوں فریق مان گئے کہ عمران سے ملاقات ہوگی اور لانگ مارچ بھی ختم ہوگا۔پر بات تھی کہ نہ بنی؟ اب مولانا نے ثالثی کی ناکامی کی زمہ داری حکومت کے ناتواں کندھوں پر ڈال دی ہے۔
اگر بڑا مقصد خیبر پختون خوا میں بڑھتی دھشت گردی تھا اور تحریک انصاف اور سہیل آفریدی کی حکومت کچھ شر انگیز عناصر کے دباوُ میں آکر نہ دھشت گردی کے خلاف کھڑی ہورہی تھی نہ بات چیت کو آگے بڑھنے دے رہی تھی۔ تو اور بھی ضروری تھا کہ کچھ رعایات دے کر اس عوامی حمایت کی بڑی سیاسی قوت کو دھشت گردی کے خلاف بڑے سیاسی و عسکری محاز کا حصہ بنایا جاتا۔ گورنر راج لگاکر پی ٹی آئ کو طالبان کی جانب دھکیل دیا گیا ہے۔ پختون خوا میں اب ایمرجنسی بیک وقت پی ٹی آئ کے خلاف لا اینڈ آرڈر کو قائم کرنے اور دھشت گردی کے خلاف استعمال ہوگی۔ پہلے ایک محاز تھا اب دو محاز ہیں۔ چلے تو تھے دھشت گردی ختم کرنے اور سینگ اڑا بیٹھے بپھری ہوئ پی ٹی آئ کے ساتھ جہاں ہزاروں سہیل آفریدی ہر گلی کوچے میں پتھراوُ کے لیئے تیار بیٹھے ہیں۔ بھلا کوئ پوچھے کہ عوام کی حمایت کے بغیر یا عوام کے ایک بڑے حصے کو نالاں کرکے آپ نے طالبان کو تو مضبوط کیا ہے انکے خلاف جہاد کو نہیں۔
گورنر راج کتنا ہی آئینی ہو آمریت ہی کا تسلسل ہے اور جمہورئیت و حقوق پر ایک اور حملہ۔ اب دو صوبے ہنگامی حالت میں ہیں اور سارے بارڑرز مخدوش ہیں۔ اوپر سے اب سعودی بادشاہت کو بچانے کے لیئے یمن میں ہوتیوں سے لڑنا ہے جبکہ معیشت کا پہیا جامد ہی ہے۔اب کوئ بلڈی سویلیئن کیا کرے، جب زوق خدائ والے آپے سے باہر ہوجائیں جنکا یہ زعم اور شوق بہت پرانا ہے۔ اب یہ انکی براہ راست زمہ داری ہے جس کا دو چار ماہ میں پتا پڑ جائے گا کہ ریاست کتنے پانی میں ہے؟ اب دعائے خیر کے سوا کیا کیا جاسکتا؟