@Umar_AliX بھائی وہ ٹھیک کر رہا ہے خان صاحب کی رہائی لانگ مارچ کا مقصد کیسے ہو سکتا ہے جبکہ وہ عدالتی فیصلوں کی وجہ سے قید ہیں چاہے وہ فیصلے پریشر کی وجہ سے ہی ہیں لانگ مارچ کسی کو چھڑانے کے لیے نہیں ہو سکتا ہاں یہ ہے کہ ان کا فیئر ٹرائل کیا جائے ان تک رسائی دی جائے
شیر مروت نے ٹاک شو میں کہا تھا کہ تحریک انصاف کبھی اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان نہیں کرے گی اور اگر کردیا تو " سب مجھے پاگل کہنا "
اب مروت کو بادامی ڈرتے ڈرتے پاگل کہہ کر پکار رہا ہے 😂
Iranian President Masoud Pezeshkian:
No matter how much I think about it, I cannot find any logical reason why they killed our Leader, our commanders, and our scientists.
Today marks 3 years since Imran Khan was unjustly incarcerated.
He is still being denied basic human rights and remains in solitary confinement.
His abominable treatment is an affront to democracy. I will continue to demand the release of all political prisoners, everywhere.
اس حکومت نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے میرا ایک ارب روپے مالیت کا پلازہ گرا دیا،
میرا تمام کاروبار آج کے دن تک سیل کیا ہوا ہے،
لیکن میں نے قرآن پر حلف لیا ہوا ہے کہ عمران خان کا ساتھ آخری سانس تک دوں گا، عادل خان بازئی
طاقور شخص بکواس کر رہا ہے اور یہ کہانی سنانے والا اس سے بڑی بکواس کر رہا ہے شریف اور زرداری خاندان کو عوام نے 2024 میں گٹر بعد کردیا تھا طاقتور شخص نے انکو فارم 47 کا وینٹی لیٹر لگایاہوا ہے!
محسن نقوی تقریر کرنے سے پہلے اپنے سابقہ والد آصف زرداری سے ملاقات کرتے ہیں اور ان کو اپنے حالیہ والد کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ان کی کیا سوچ ہے اور وہ کیا چاہتے ہیں
اس وقت فیلڈ مارشل صاحب کو شدت کے ساتھ اگلی ترامیم آئی ہوئی ہیں نظام یہ سمجھتا ہے کہ دو ترامیم کرنا بہت ضروری ہے اس کے بغیر ہم آگے نہیں چل سکتے
شہزاد اکبر
🚨صحافی امیر عباس صاحب نے اخیر کر دی ہے
محسن نقوی کے چاروں شانے چت کر دیے ایسا آئینہ دیکھایا محسن نقوی نے کبھی اپنی شکل خود نہیں دیکھی ہوگی
صحافی امیر عباس 👍✌️💯
تحریک تحفظ آئین پاکستان آزاد جموں و کشمیر میں اپنے بنیادی حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرنے والے نہتے شہریوں پر فائرنگ، تشدد اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
پرامن اور نہتے مظاہرین پر گولیاں چلانا کسی بھی مہذب، جمہوری اور آئینی نظام میں ناقابل قبول عمل ہے۔ اپنے جائز اور بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر ایک حساس اور متنازع خطہ ہے۔ ایسے علاقے میں نہتے عوام کے خلاف طاقت کا استعمال انتہائی خطرناک نتائج کا باعث ہے اور اس سے عوام میں بے چینی، نفرت اور بداعتمادی کو فروغ ملتا ہے، جس کا فائدہ صرف پاکستان مخالف عناصر کو پہنچ رہا ہے۔ ایسے اقدامات قومی مفاد اور ریاستی ذمہ داریوں سے متصادم ہیں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ:
* نہتے مظاہرین کے خلاف فائرنگ اور ہر قسم کا تشدد فوری طور پر بند کیا جائے۔
* واقعے کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
* شہداء کے اہل خانہ اور زخمیوں کو مکمل انصاف اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔
* عوام کے جائز اور بنیادی مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا پائیدار حل نکالا جائے۔
* قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی جائے کہ وہ شہریوں کے آئینی حقِ احتجاج کا احترام کریں اور طاقت کے بجائے آئین و قانون کے مطابق معاملات کو حل کریں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان واضح کرتی ہے کہ عوام کے آئینی، جمہوری اور بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اور اختلافِ رائے کو گولی سے نہیں بلکہ مکالمے، انصاف اور آئین کی بالادستی سے حل کیا جانا چاہیے۔
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان
اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
بے دلی سی ہے ، کمزوری اور تضحیک کا احساس ہے۔ عمران خان کیساتھ بدسلوکی اب انتہاء کو پہنچ رہی۔ بے پناہ عوامی مقبولیت ووٹوں میں تو تبدیل ہوگئی لیکن سوٹوں میں نہیں ہوئی۔ ہوتا ہے۔ شروع شروع میں ایسے ہی ہوتا ہے۔ مٹی ڈھونے والوں کے لڑکے کو پیار ہوا اس سے کسی نے پوچھا پیار کیسا ہوتا ہے۔ کہتا ہے جیسے پیارا سا کھوتی کا کوئی بچہ ہوتا ہے۔ شروع شروع میں سب ایسے ہی لگتا ہے۔ پھر ایک دن مستونگ ، زیارت اور ڈھاکہ ہوجاتا ہے۔ بی ایل اے اور مکتی باہنی ہوجاتا ہے۔
ابھی تو خدا مزید برا کرے فیلڈ مارشل اور اسکے جرنیلی ٹولے کا ، چار سال ہوگئے کچھ بھی سنبھال نہیں پائے۔ آج بھی تسلے جیسے منہ اٹھا کر سعودی عرب اور امریکہ سے ادھار تیل مانگ رہے ہیں۔ ایکسپورٹس گررہی ہیں ، امپورٹس بڑھ رہی ہیں۔ انڈسٹری ساری کھا پی گئے ہیں۔ امن و امان ان سے برقرار نہیں رکھا جارہا ہے ۔ ہمیں تو ایک غم ہے کہ ہم کمزور ہیں ادھر اوپر نیچے ناکامیاں ہیں۔ ہر گزرتا دن مصیبت ہے۔ اگر ہمارے سینوں میں بے مائیگی کا احساس کے تو انکے دلوں پر خوف اور انجام کا بوجھ ہے۔ ہم نے تو پہلے دن سے دیکھ لیا تھا ، کہ لمبی لڑائی ہے۔ لڑیں گے۔ انکے تو دن ہیں انہوں نے وہی گزارنے ہیں۔ گزار لیں جتنے گزار سکتے ہیں۔
عمران خان کو میں بذات خود کیو سپورٹ کرتا ہوں سنیں کسان سے ، رئیل سٹیٹ والے سے کاروباری افراد سے
آج بھی حالات دیکھ لیں چار سال سے
ہر کوئی یہ ویڈیو دیکھے سنے اور شئیر کرے