#PAKWatch🇵🇰: Over a year has gone by since IMRAN KHAN was slated to be granted bail in the Al-Qadir Trust case.
But, nothing happened.
DUE TO THE PAKISTANI KANGAROO COURTS, IMRAN KHAN REMAINS ILLEGALLY INCARCERATED.
FREE CAPTAIN PAKISTAN.
علیمہ خان کی آواز بنیں 🚨
ہمیں پکا یقین ہو گیا ہے یہ کچھ چھپا رہے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں عمران خان کا علاج کروائی جائے۔
سوشل میڈیا اس پر زیادہ سے زیادہ آواز اٹھائیں
عمران خان کو جیل میں اس لیے بھی رکھا گیا کہ اُس نے القادر یونیورسٹی بنائی، جہاں آج بھی نبی ﷺ کی سیرت اور تعلیمات پڑھائی جا رہی ہیں۔
وزیرِ مذہبی امور ڈاکٹر عدنان قادری
#ReleaseImranKhan
Standing Firm Through Every Trial.
Through years of legal and political challenges, Imran Khan and his sisters continue to advocate for "Haqeeqi Azadi" for Pakistan. Their story reflects resilience in the face of adversity.
#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر
نو مئی کے بارے میں یہ مقدمات نہیں ہیں بلکہ تماشا ہے۔
تھانہ شادمان حملہ کیس، شیر پاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کیس، جناح ہاؤس کے قریب گاڑیاں جلانے کا کیس، سرور روڈ پولیس اسٹیشن میں درج مقدمات، کلب چوک اور جی او آر ون گیٹ پر حملہ کیس، ریس کورس تھانہ کیس، اور کلمہ چوک کے قریب کنٹینر جلانے کا کیس۔
ایک آدمی اگر جن بھی ہو، تو وہ ان سب جرائم میں بیک وقت شریک نہیں ہو سکتا۔ آپ نے تو ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ بریو! بریو! سبحان تیری قدرت، سبحان تیری کھیل! پانچ آدمیوں کو آپ نے فی کس 286 سال جیل کی سزا دی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کہیں بھی دیکھ لیں، کسی بھی جمہوریت یا بنانا ڈیموکریسی میں آپ کو اس قسم کی عدالتی کارروائیاں نہیں ملیں گی۔
پاکستان کا آئین ہائی ٹریزن (سنگین غداری) اس بات کو کہتا ہے کہ جو آئین کو توڑے گا، جو آئین کو روندے گا، اور جو آئین کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھے گا، وہ ہائی ٹریزن کا مجرم ہے۔ اور ساتھ ہی وہ سارے لوگ جو اس عمل میں شریک ہوں گے، وہ بھی ہائی ٹریزن کے مجرم ہیں۔
بات یہ ہے کہ ہم تو مجبور ہیں، پاکستان ہمارا ملک ہے۔ کل کسی وزیر نے کہا تھا کہ ہم اسلام آباد میں جیل بنائیں گے۔ بابا! پاکستان میں اب مزید جیلوں کی ضرورت نہیں ہے۔
آپ نے اس پارلیمنٹ کو ایک ڈیبیٹنگ سوسائٹی کے معیار سے بھی نیچے گرا دیا ہے، ڈیبیٹنگ سوسائٹی سے بھی نیچے کر دیا ہے آپ نے۔ آپ رحم نہیں کرتے، بار بار ہم آپ سے کہتے ہیں۔
میں نے اس دن بات کی تھی تو میرے بھائی شہباز نے اس کا جواب دیا تھا، لیکن جس انداز میں وہ بولے، مجھے مزہ نہیں آیا۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
*شہباز شریف کا چیلنج کھلے دل سے قبول کرتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف*
وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ بیان، جس میں انہوں نے 2018 کے انتخابات کی تحقیقات کا چیلنج دیا ہے، پر پاکستان تحریک انصاف واضح کرنا چاہتی ہے کہ ہم یہ چیلنج کھلے دل سے قبول کرتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ سے شفاف انتخابات کی حامی رہی ہے۔ اگر 2018 کے انتخابات کی غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کروانی ہیں تو ہم اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ تحقیقات صرف 2018 تک محدود نہ ہوں بلکہ 2024 کے انتخابات کو بھی اسی پیمانے پر پرکھا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ 2014 میں عمران خان نے صرف چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، اور جب وہ چار حلقے کھولے گئے تو ہر ایک میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ اس کے باوجود اُس وقت کی حکومت نے وسیع پیمانے پر تحقیقات سے گریز کیا۔
اسی طرح 2018 کے انتخابات کے بعد بھی عمران خان نے بارہا کہا کہ اپوزیشن جس حلقے کی نشاندہی کرے گی، پی ٹی آئی حکومت اسے کھولنے کے لیے تیار ہے، مگر اپوزیشن کی جانب سے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
اس کے برعکس 2024 کے انتخابات میں جو کچھ ہوا وہ پوری قوم کے سامنے ہے۔ سیاسی انتقام، امیدواروں کو جیلوں میں ڈالنا، انتخابی نشان چھیننا، اور انتخابی عمل پر غیر معمولی دباؤ ڈال کر نتائج کو متاثر کرنا،یہ سب ایسے اقدامات ہیں جنہوں نے انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔
لہٰذا پاکستان تحریک انصاف ایک بار پھر واضح کرتی ہے کہ ہم ہر دور کے انتخابات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی سچ سامنے لانا چاہتی ہے تو ایک آزاد، بااختیار اور غیر جانبدار کمیشن تشکیل دیا جائے جو 2014، 2018 اور 2024 تمام انتخابات کا تفصیلی جائزہ لے۔
حقیقت سے فرار ممکن نہیں،فیصلہ اب قوم نے کرنا ہے۔
منجانب: مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
"ہمیں سیاست میں عزت، شناخت اور عوامی نمائندگی کا مقام چیئرمین عمران خان کی قیادت کی بدولت ملا ہے۔ آج ہم اسی وجہ سے اس ایوان میں بیٹھ کر عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ہم فخر سے اپنے قائد عمران خان کا نام لیتے ہیں، ہم فخر سے ،مراد سعید یاسمین راشد ، بشری بی بی ، شاہ محمود قریشی اور دیگر نظریاتی رہنماؤں کا نام لیتے ہیں۔
لیکن مسلم لیگ (ن) کے لوگ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ انہیں عزت اور مقام صرف نواز شریف کی وجہ سے ملا ہے، کیونکہ انہیں خود معلوم ہے کہ وہ کس طرح اقتدار اور ایوانوں تک پہنچے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ہماری سیاست عوامی حمایت اور نظریے پر کھڑی ہے، جبکہ ان کی سیاست اقتدار کے سہاروں کی محتاج رہی ہے۔"
ممبر قومی اسمبلی سہیل سلطان
شوباز، عمران خان نے تو وزیراعظم بنتے ہی کہا تھا جو حلقہ کھولنا ہے، کھول لو اور الیکشن 2018 کی تحقیقات کرا لو، تب بھی تم بھگوڑے ہوئے۔ 2018 سے پہلے 1985 سے تحقیقات شروع کرو جب مارشل لاء کے گملے میں تمہاری پنیری لگائی گئی یا 1990 سے، جب پیسے تقسیم کرکے چھانگا مانگا متعارف کرایا تھا
جس انداز میں آپ نے بحیثیت اسپیکر اس ہاؤس کو چلایا—باوجود اپنے کئی ادوار کے تجربے کے—آپ نے نہ آئین کا خیال رکھا، نہ آئین کے احترام کا پاس رکھا اور نہ ہی اس ہاؤس کے وقار کا۔
آپ نے بڑی چابکدستی اور مہارت سے اپنے 14 ساتھیوں کو اسمبلی سے فارغ کر دیا۔ مبارک ہو آپ کو!
لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید تمام قیدی 70 سے 80 سال سے زائد عمر کے ہیں۔ کچھ تو خدا کا خوف ہونا چاہیے! ان پر کیا الزام ہے؟
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
نعرہ لگایا گیا اڑان پاکستان کا کہ چار سال میں ایکسپورٹس 60 ارب ڈالر پر لے جائیں گے لیکن چار سال میں ایکسپورٹس پہلی والی سطح سے بھی گر گئیں ، مفتاح اسماعیل
کل خواجہ آصف صاحب نے میرے حوالے سے ایک بات کی تھی۔ میں صرف خواجہ آصف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کے ضمیر پر اتنا بوجھ تھا تو آپ صرف اتنا بتا دیں کہ 8 فروری کے الیکشن کے حوالے سے آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ کیا یہ الیکشن آپ جیت چکے ہیں؟ جس طرح 8 فروری کے الیکشن کو رِگ کیا گیا، جس طرح الیکشن لوٹا گیا، جس طرح ہمارے لوگوں کو بٹھایا گیا، یہاں اسمبلی میں ہمارے 100 تک اراکین تھے، انہیں نااہل کرکے دوسرے لوگوں کو لایا گیا، عدالتوں کو منیج کیا گیا، الیکشن کمیشن کو منیج کیا گیا۔ ہمارے لوگوں کو اسمبلی سے نکالا گیا اور جعلی لوگوں کو لایا گیا۔ کیا اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ آپ کے اپنے ضلع کی ریحانہ ڈار کو پولیس نے سڑکوں پر گھسیٹا، اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ گلگت بلتستان میں جو کچھ کیا گیا، کیا اس پر بھی آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ اگر ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا ہے تو استعفیٰ دیں اور الیکشن کروا دیں، پھر پتہ چل جائے گا کہ آپ کی کیا حیثیت ہے۔
یہ کمپنی چلے یا نہ چلے لیکن اس کمپنی نے ملک کا بھٹہ بٹھا دیا ہے ۔ ڈیفالٹ والی حلومت تھی تو ملک 6% کے حساب سے ترقی کر رہا تھاآج جب تجربہ کاروں کی حکومت ہے تو 3% ترقی کی شرح ہے ۔ جب ملک ڈیفالٹ ہونے والا تھا تو پیٹرول 150 کا مل رہا تھا آج تجربہ کار حکومت میں ہیں تو 350 سے اوپر مل رہا ہے
وقت آ گیا ہے کہ اب اس سوال کا جواب ہر با شعور شخص اپنے ضمیر سے مانگے۔ کیا 25 کروڑ انسانوں کی خاموشی کی سزا صرف ایک اکیلا شخص تنہا ہی سہتا رہے؟ اس کی آنکھ کی بینائی چلی گئی، قید تنہائی میں بند کر رکھا ہے۔ آخر کب تک یہ ظلم وہ سہتا رہے؟ کیا 25 کروڑ انسانوں کا کوئی فرض نہیں رہا؟
#خان_کو_قوم_کے_سامنے_لاؤ
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
Yasmin Rashid is in her late 70’s. A cancer survivor. And didn’t commit any crime. Yet she is in jail for more than 3 years. She should be released immediately.
عمران خان کے دور میں جب پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 17 روپے تھی تو شہباز شریف نے قوم کو کہا کہ اس نظام کے خلاف جنگ کرکے انقلاب لانا ہوگا ،اب فی لیٹر پر ٹیکس تقریباً 170 روپے ہے ، تو اب عوام کو کیا کرنا چاہیے ؟؟؟