یہ فیلڈ مارشل کے بس کی بات نہیں کہ وہ اس ملک کو چلا سکے۔۔ یہ ملک چلے گا تو آئین ، جمہوریت اور عدالتوں کے تحت چلے گا، لوگوں کے اعتماد کو بحال کرنا ہمارا پہلا کام ہوگا، ایسے فیلڈ مارشل بہت دیکھے ہیں، وکیلوں کو کسی کا باپ نہیں مار سکتا، علی احمد کرد
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
یہ اتنی ہولناک صورتِ حال ہے کہ پچھلے تین سالوں میں فارم 47 کی یہ حکومت ملکی آمدن بڑھانے یا محصولات کے نئے ذرائع پیدا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ پاکستان نے 1947 سے لے کر ان کے اقتدار میں آنے تک جتنا قرض لیا تھا، اتنا قرض انہوں نے صرف پچھلے تین سالوں میں لے لیا ہے....سوچتے ہوے بھی دماغ پھٹتا ہے...پاکستان کو جان بوجھ کر collapse کیا جا رہا ہے!
پاکستان ڈیفالٹ کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کا اصل مجرم یہ شخص ہے جس نے پاکستان پر چوروں کو حکمران بنا کر بٹھایا ہوا ہے اور معیشت ہر پہلو سے تیزی سے تباہی کی طرف گامزن ہے-
#خان_کو_رہا_کرکے_مقابلہ_کرو
65 والی جنگ کا موقف خواجہ آصف کا درست کرار دیں یا اختیار ولی کا؟ وہ تو کہتا ہے ہم جنگ ہارے اور یہ کہتے ہیں جنگ جیتے۔
26فروری 2019 میں انڈیا نے حملہ کیا تو عمران خان کی قیادت کے اندر 29 فروری دو ہزار انیس میں ان کو جوابی وار کیا گیا۔ اور بھارتی طیارہ گرایا اور ابھینندن کو گرفتار کیا گیا۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کہتا تھا کہ کیا میں حملہ کر دوں؟ تو بھائی یہ شہباز شریف اس وقت وزیراعظم تھے یا مُحسن نقوی وزیراعظم تھے؟
عمران خان وزیراعظم تھا۔ پوری دنیا کے اندر کشمیریوں کا مقدمہ لڑا یونائیٹڈ نیشن میں، او آئی سی میں، بے باک ہو کے اپنا موقف ہر جگہ پر بیان کیا۔
مودی کو کہا کہ پاکستان ریٹیلیئٹ کرنے کا سوچے گا نہیں، ریٹیلیئٹ کرے گا۔ آپ ہم سے سات گنا بڑے ملک ہیں، لیکن ہم اللہ پہ یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔ ہم کسی کے سامنے نہیں جھکتے سواۓ اللہ کے ۔
پاکستانی مرکزی ذرائع ابلاغ اس حد تک طاقتور حلقوں کے گھر کی لونڈی بن جائیں گے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا
تین ماہ پرانے ایک غیر نشر شدہ پوڈکاسٹ کی صرف ایک مختصر سی جھلک کاٹ کر پیش کی گئی اور اسی سے متنازع بیانیہ گھڑ لیا گیا
نورین خان نے بتایا کہ یہ گفتگو انٹرویو شروع ہونے سے پہلے کی تھی اور یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اسے کبھی نشر نہیں کیا جائے گا مگر پورا پوڈکاسٹ چھپایا گیا اور صرف یہی حصہ توجہ سمیٹنے کے لیے پیش کر دیا گیا
ذرا سوچیے جس کا بھائی کئی ماہ سے تنہائی کی قید میں ہو اور بیٹا فوجی قید میں ہو اس کی ذہنی کیفیت کیا ہوگی
آج جو پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے وہ تحقیق کے بجائے محض گمراہ کن تاثر پر مبنی ہے
عمران خان مرد کا بچہ ہے۔ وہ بہت بڑا لیڈر ہے۔ وہ مرد کا بچہ ہے، جو 3 سال سے 22 اور 25 کور کمانڈر کی طاقت کے سامنے، ابھی بھی چٹان کی طرح کھڑا ہے۔ علی احمد کرد
#pakistan#AliAhmadKurd
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
🚨بس بہت ہو گیا
ہم اب اس لیے نکلے ہیں کیونکہ بس اب بہت ہو گیا ہے اتنے عظیم لیڈر کو وہ لیڈر جو قوم کی خاطر قربانی دے رہا ہے اسے ناحق جیل میں قید کر رکھا ہے عمران خان کہتے ہیں جب تک اپنی آزادی کے لیے نہیں نکلیں گے تب تک آپ کو آزادی نہیں ملے گی ۔
علیمہ خان کا کبل چوک میں کارکنان سے خطاب
ہم کوئی عہدہ نہیں لے رہے، عمران خان کے لیے تحریک میں حصہ لینے کو موروثیت کہہ رہے ہیں، ہم کوئی عہدہ کوئی صدارت تو نہیں لے رہے،جو گھروں میں بیٹھے ہیں وہ کہتے ہیں ہم بھی نہ نکلیں کوئی اور بھی نہ نکلے۔
آگے ہم کیا کرنے جارہے ہیں وہ وقت سے پہلے نہیں بتا سکتے، ظلم جب حد سے بڑھ جائے تو اس کا نتیجہ بھی بہت سخت ہوتا ہے۔ ظالموں کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ @Noreen_KhanPK
بلوچستان میں یہ پہلے 6 فوجی آپریشن پر چکے ہیں، بلوچستان والوں کی قسمت میں تو صرف آپریشن اور غداری کے فتوے ہی رہ گئے ہیں، ہمیں غداری کا پہلا تمغہ پاکستان بننے کے ایک سال بعد ہی دے دیا گیا تھا،
قاسم خان سوری
مولانا فضل الرحمان نے اس تقریر میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں شام کے بعد حکومت کی رٹ ختم ہو جاتی ہے پولیس تھانوں سے نہیں نکلتی بلوچستان کے اکثر علاقوں میں بھی کوئی حکومت نہیں اس دعوے پر قومی اسمبلی میں بحث کی ضرورت ہے تا کہ کوئی حل نکالا جا سکے اب ہمیں اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے بیرونی مسائل بیرونی طاقتوں پر چھوڑ دیں
لاش پر گدھ ناچتا ہے۔ بلوچستان سے 42 جنازے اٹھے ہیں لیکن کچھ گدھ وہاں ابرار کے گانوں پر مجرا کر رہے ہیں۔ بے شرمو بے حیاو ! کچھ جوان شہدا کا ہی خیال کر لو ۔ ان کا کفن میلا نہیں ہوا اور تم لوگ ناچنے لگے ہو۔ کس چیز کی خوشی میں؟ کیا گزر رہی ہو گی ان کے ورثا کی تمہیں تھرکتے دیکھ کر؟
سوچا تھا سہیل آفریدی گنڈاپور سے تھوڑا مختلف ہوگا پر لگتا یہی ہے سہیل آفریدی نے راتوں رات مریم نواز بننے کا فیصلہ کرلیا ہے
شاہزیب خانزادہ اور دوسرے 100 صحافیوں کو خیبرپختون خواں حکومت عوام کے ٹیکس پر اپنے صوبہ کی سیر جارہی ہے
ڈاکٹر شہباز گل