Anthropic engineer:
"At Anthropic, we don't write prompts anymore
We build loops"
In just 42 minutes, she shows how the Claude team builds loops that can prompt themselves
If this were a $400 course, people would probably call it one of the best agent courses of the year
It's completely free
Watch it, then use the step-by-step guide below to build your first loop
خوائش کو خبر بنانے والے عمرانڈو یہ بھی سنیں / پہلے بات یہ کہتے ہیں ڈٹ کے کھڑا ہے ڈیل نہیں کر رہا اس کو کام کی ڈیل افر ہی نہیں ہوئی 25 لاکھ کی گاڑی کا ایک کروڑ مانگے گا تو کون دے گا ؟
منصور علی خان
آج تو ڈبل سکسر لگ گیا --- عظمیٰ بخاری نے بالکل درست کہ کہا PTI کے لوگ جاہل ہیں، ایک تو پڑھے لکھے نہیں، اور کوشش بھی نہیں کرتے 🤣🤣
1. مؤنس الہیٰ نے اپنے باپ کے دور کی لوٹ مار کی رپورٹ ٹوئٹ کرکے مریم نوازشریف کو ٹارگٹ کیا
2. اب بیرسٹر سیف نے PTI کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار دور میں مری میں 23 افراد کی اموات کو مریم نوازشریف کے دور کا کہہ کر شور مچادیا
@AzmaBokhariPMLN
ایران کو اس جنگ میں ناقابل تلافی نقصان ایران میں موجود غداروں نے پہنچایا اور اس ویڈیو میں واضح شواہد موجود ہیں کہ پاک بھارت جنگ دوران عمران خان کی جماعت نے پاکستان کے ساتھ غداری کرتے ہوئے مودی کی حمایت کی ہے
غداروں پر پابندی واحد حل ہے
#BanIsraeliProxyPTI
وڈیو اس یاد دہانی کیلئے شئیر کر رہا ہوں کہ گوادر کی خریداری سے ایٹمی قوت بنانے تک قریبا ہر اچھا کام سیاستدانوں کے ہاتھوں انجام پایا۔ درست کہ آج اس میں ملاوٹ ہو چکی ہے، لیکن اصل کی پہچان ابھی بھی ناممکن نہیں۔ خرابیاں ہوں گی لیکن یہ اصل سیاستدان ایسے برے سلوک کے حقدار نہ تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا ترجمان غصہ میں آگیا عمران خان کو آڑھے ہاتھوں لے لیا
📌سوال؛ تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ ٹرمپ الیکشن جیتے گا اور جیل کا پھاٹک کھلے گا اور عمران خان باہر آجائیگا۔
📌ساجد تارڑ؛ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کا الیکشن لڑرہے ہیں منڈی بہاوالدین کا نہیں۔ امریکہ میں کوئی کالا بکرا یا کالا جادو نہیں دیکھا یہاں پر ساڑھے تین برس ایک ایٹمی طاقت کو کالے بکروں سے چلایا گیا ہے۔
ارشد شریف تم نے قتل ھونا ھی تھا کیوں تم پی ٹی آئی کے لٹیروں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے عمران خان کے فارن فنڈنگ اور زلفی بخاری کے اربوں کے فراڈ کیوں پکڑے تم نے تمھیں نہیں پتہ کہ یہ خون آشام درندے اچھے لوگوں کو زندہ نہیں چھوڑتے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
قاضی فائز عیسیٰ ہیرو تھے، ہیں اور رہیں گے ۔ان کی حیثیت کا تعین سوشل میڈیا کی پیسے کے لالچ میں ہلکان مہم جوؤں نے نہیں کرنا ، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ قاضی عیسیٰ کے مقام کا تعین تاریخ نے کرنا ہے ۔
جنرل راحیل شریف کے دور میں شروع کردہ "ڈرامہ کے خدو خال " کو جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے چند ججوں کو ساتھ ملا کر حتمی شکل دی ۔ نواز شریف کو نکالنے کے بعد جو کچھ بھی ہوا اس کے نتایج اور اثرات سے پاکستان کو بچانے کی "قیمت " قاضی فائز عیسیٰ نے ادا کی
تحریک عدم اعتماد کو سائفر کے بہانے مسترد کرنے اور پھر افواج کو ہدف بنانے والے سسٹم کو چیلنج کرنے کی قیمت قاضی فائز عیسیٰ نے ادا کی ہے
اسلام آباد ہائی کورٹ کے صرف خط لکھنے والے چھ چھکا جج نہیں ایک پورا انفراسٹرکچر موجود ہے، جو فوج کے حاضر اور ریٹائرڈ لوگوں میں ہے۔
سول بیوروکریسی میں ہے
معاشرے کا ایک بڑا حصہ اس پراپیگنڈہ کا اسیر ہے ۔ ملک کی اعلی ترین عدالت کے سابقہ پالتو موجودہ "باغی جج" اس خودکار انفراسٹرکچر کا حصہ ہیں۔قاضی فائز عیسیٰ نے صرف پاکستان کو نادہندہ کرانے کیلئے آئی ایم ایف کو خط لکھنے والے۔ نادہندگی کی آڑ میں ایٹمی اثاثوں و میزائل پروگرام کو خطرہ میں ڈالنے والے مائنڈ سیٹ کا راستہ نہیں روکا پارلیمنٹ کو طاقت فراہم کرنے کی قیمت بھی ادا کی ہے
دو دو پیسے کے جو کتے یوٹیوبرز قاضی فائز عیسیٰ پر بھونک رہے ہیں، وہ مظاہر ٹرکاں والے، اعجاز الاحسن ، بنڈیال اور آئین ری رائٹ کرنے والوں پر اس طرح نہیں بھونکتے تھے کہ کوئی مالی مفاد نہیں تھا ۔
میڈیا کا بڑا حصہ جو پالتو بنایا گیا تھا وہ بھی ججوں کی طرح باغی ہوا اور یہ قیمت بھی قاضی فائز عیسیٰ نے ادا کی ۔
سابق چیف جسٹس چلے گئے ہیں لیکن ان کے قدموں کے نشانات میں قطار میں بیٹھے مستقبل کے چار چیف جسٹس بھی گم ہو گئے ہیں
سابق چیف جسٹس جاتے ہوئے وہ زبان بھی کاٹ کر لئے گئے ہیں جو کہتی تھی "میں قانون ہوں" اب قانون وہی ہو گا جو پارلیمنٹ بنائے گی ۔
قاضی فائز عیسیٰ نے 2018 میں جو کچھ مالکوں کی طرف سے کیا گیا تھا، اسکی قیمت ادا کی ہے اور مالکوں کو قاضی فائز عیسیٰ کا “احسان “ہمیشہ یاد رکھنا ہو گا کیونکہ انہوں نے وہ قرض اتارا ہے جو ان پر واجب نہیں تھا ۔
منقول
بظاہر ایسا لگتا ہے پاکستان میں اس وقت ایک بہت بڑا Social Experiment انڈر پراسیس ہے جس میں سو فیصد فیک نیوز کو بذریعہ سوشل میڈیا حقیقت ثابت کرنے اور اس کے نتیجہ میں سماجی ابال اور اس سے کسی بڑی گڑبڑ جیسے کہ خانہ جنگی یا امن و امان کا مکمل بحران پیدا ہو سکنے یا کر دینے کے امکان کا جائزہ لینا مقصود ہے۔
پنجاب کالج جیسے بڑے گروپ کا انتخاب، بہت منظم سوشل میڈیا مہم اور پھر طلباء کا احتجاج اور اس میں بڑھتی تیزی۔۔۔ بہت اہم نکات ہیں۔
جو کچھ ہو رہا ہے وہ کوئی عمومی سلسلہ نہیں۔ اس پر گہری نظر رکھیے۔ یا اس میں تیزی آئے گی یا پھر کچھ عرصہ میں اس سے بھی سنگین قسط جاری ہو گی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے کسی بھی تجربے کے لیے ہماری زمین اس وقت بہت زرخیز ہے ۔۔۔ نوجوان اکثریتی آبادی جو غیر مطمئن ہے، بلکہ ۔۔۔ غصہ میں ہے، رائے سازی کے لیے اس کا سوشل میڈیا پر غیر معمولی انحصار ہے اور معاشرے میں ہر لمحہ بڑھتی خلیج اور کنفیوژن ردعمل کے لیے کسی ٹھوس وجہ کو غیر اہم کر چکی ہے۔
اس صورتحال میں خود کو جذبات میں بہہ جانے سے روکیں اور معاملہ چاہے مخالف کا ہو یا دوست کا، رد عمل دینے میں عجلت نہ کریں۔ ثبوت کا تقاضا کریں یا اس کا انتظار کریں۔
لمحوں کی غلطی، صدیوں کی سزا بن سکتی ہے۔
(نئیر شفیق)
سب کے پاس سنی سنائی باتیں ہیں، اس نے یہ کہا اس سے یہ سنا۔ جھوٹ فتنہ آگے پھیلا رہے اس وکیل کی طرح جس نے لڑکی کا جنازہ بھی کرا دیا۔