مولانا صاحب نے کمال کی کلاس لگا دی ھے
اس وقت پاکستان کے اندر ایک طبقہ جو اس ملک کو کرائے کی دکان سمجھتا ہے اور وہ انڈیا کی بولی بول رہے ہیں، ان کی اور دہشت گردوں کی نانی اور دادی ایک ہی ہے وہ شہادت کو مزدور کی تنخواہ پر قیاس کر رہے ہیں کتنے بے حیا لوگ ہیں وہ کہ افواجِ پاکستان کے شہداء جو اس کلمے والی سلطنت کی حفاظت میں جانیں دیتے ہیں، تو وہ اس مقدس شہادت کو تنخواہ کے اندر تول رہے ہیں تو میں واضح کہتا ہوں شہید تنخواہ کے لیے نہیں خدا کے لیے جان دیتا ہے
مسلم لیگ ن اپنے ورکرز پر دھیان نہیں دے رہی ہے۔آج بھی نواز شریف کے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب سرکاری نوکریوں پر لگائے لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں۔اسی طرح جب وہ وزیر اعظم تھے تب بھی اور اب شہباز شریف بھی وفاق میں کر رہے ہیں مگر پنجاب میں ورکر کو وہ مقام نہیں مل رہا جو ملنا چاہیے۔ اسی ورکر نے آپ کو انتخاب جیت کر دینا اور لوگوں کو گھروں سے نکالنا ہے۔وزیر اعلی ہاؤس کے دروازے ورکرز کیلیے کھولنے چاہیے۔ بیوروکریسی نے تو حکومت بدلتے ہی دوسری طرف چلے جانا ہے۔ اپنے میڈیا ہاوسز کھڑے کرنے ضروری ہیں۔ سینیئر صحافی اظہر جاوید
@azharjavaiduk
30 ہزار کمانے والے سیکیورٹی گارڈ کو واپڈ نے ڈیڑھ لاکھ بل ڈال دیا بجلی کا میٹر بھی اسکا نہیں محلے دار کا تھا اُس نے پولیس اور واپڈا کو رشوت دے کر سارا بل اس پر ڈلوا دیا ان وکیل صاحب نے لیسکو کے دفتر بیٹھ کر آفیسر کی چھترول کر دی
احتجاج اس وقت جنم لیتا ہے جب مکالمے کے دروازے بند ہونے لگیں۔ پنجاب میں اگر ملازمین کی بڑی تعداد مظاہرے پر ہے تو یہ محض ایک احتجاج نہیں، بلکہ پالیسی سازوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ معاشی دباؤ، احساسِ محرومی اور انتظامی فیصلوں کے سماجی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تیرا لٹیا شہر بھنبھور ، نی سسیے بے خبرے (مریم نواز)
آپ کے پی کے سرکاری دستاویزات چیک کریں۔ 2013 سے 2019 تک پی ٹی آئی نے 57 ہزار سے زیادہ سکول ٹیچرز بھرتی کیے۔ بعض رپورٹس کے مطابق برطانوی امدادی پروگرام DFID کے تحت بھی 45 ہزار سکول ٹیچر بھرتی ہوئے۔ ان میں اکثریت پی ٹی آئی کے ہارڈکور ورکرز تھی۔ انہی ٹیچرز نے انتخابی ڈیوٹیاں دیں اور پی ٹی آئی کے پی میں دو تہائی اکثریت سے جیت گئی۔
دوسری طرف نون لیگ نے مریم نواز کے دو سال میں پہلے سے بھرتی شدہ ٹیچرز بھی نکال دیے۔ پینشن اور تنخواہ پر کٹ لگا کر تین لاکھ سرکاری ٹیچرز کو ناراض کر دیا وزیر تعلیم پنجاب روز ان ٹیچرز کے خلاف مہم چلواتے اور یہی استاد الیکشن ڈیوٹی دیں گے ۔ مہنگے پیٹرول اور بجلی کے بلوں سے عوام ناراض ہے۔ ان حالات میں نون لیگ کو پنجاب سے الیکشن لڑنا ہے۔
کج شہر دے لوگ وی ظالم سنڑ ، کج مینوں مرن دا شوق وی سی
ہلکی بارش میں پکوڑیاں والی کڑی اور پھلکے طعام کے فورا بعد وڈے حاجی صاحب دانتوں میں تیلی مارتے ہوئے اپنا ہاتھ سگریٹ ڈبیہ جانب بڑھاتے ہوئے کہنے لگے سیتاوائٹ کا ایک بیٹا بھی ہے جو ٹیریان سے پہلے کھسبینڈ سے ہے آخر سیتاوائٹ کا وہ منڈا اور قاسم سلیمان آپس میں کیا لگے ، اور سیتاوائٹ کا وہ کھسم اور عمران خان آپس میں کیا لگے ، پھر تھوڑی دیر رُکے سگریٹ سلگایا اور کہنے لگے پنکی پیرنی کے پانچ بچے اور سیتاوائٹ کا پہلا منڈا آپس میں کیا لگے اور خاور مانیکا اور کیمرون پائن کا آپس میں رشتہ کیا بنا اور قاسم سلیمان کا سیتاوائٹ کے پہلے کھسم سے کیا رشتہ بنا اور جمائما گولڈ سمتھ اور پنکی پیرنی کے بچوں کا آپس میں کیا رشتہ بنا اور مریم ووٹو اور کیمرون پائن کا آپس میں کیا رشتہ بنا اور سیتاوائٹ کے پہلے منڈے کا علیمہ باجی سے کیا رشتہ بنا اور کیمرون پائن اور عائلہ ملک کا آپس میں کیا رشتہ بنا اور ٹیریان وائٹ اور خاور مانیکا کا آپس میں کیا رشتہ بنا اور کیمرون پائن اور مراد سعید کا آپس میں رشتہ کیا بنا اور کیمرون پائن کا نورین آپا سے کیا رشتہ بنا اور یہ گفتگو ابھی جاری تھی اور سگریٹ بھی سلگ رہا تھا کہ مورخ نے وڈے حاجی صاحب کو روکتے اور ٹوکتے ہوئے پوچھا کہ یہ بتائیں لیبری ڈور اور کیمرون کا آپس میں کیا رشتہ بنا جس پر حاجی صاحب نے سگریٹ بجھاتے ہوئے کہا “ کیسی کتیو کُتی رشتہ داری ہے اس پر کمپیوٹر بٹھانا پڑے گا”
اگر آپ رشتوں کی گتھی کو سلجھا سکیں تو پلیز آگاہ کیجئے گا
جواد احمد کی ولد الحرام بیٹی نہیں
جواد احمد کے بچے یہود و نصارا نہیں پال رہے
جواد احمد نے حجرہ میں ایمپائر کھڑا کرکے کھڑا نہیں کیا
جواد احمد نے یار کی بیوی عدت میں نہیں دوڑائی
جواد احمد میں ہاجرہ خان اور ریحام خان کتب والی کوئی حرکت نہیں
جواد احمد نے مردہ ماں نام پر زکوت سے تھائی لینڈ میں مساج پارلر نہیں بنائے
جواد احمد نے عائلہ ملک کے ساتھ مل کر چٹا باغ ڈیم تباہ نہیں کیا
جواد احمد نے توشہ خانہ چرلو نہیں پھیرا
جواد احمد کی بیوی ٹھیکیدار ریاض سے منڈیوں کے ہیرے کاروبار نہیں کرتی تھی
جواد احمد نے بزدار محمود خان گوگی پنکی ذریعے دیہاڑیاں نہیں لگائیں
جواد احمد نے 9 مئی کو ریاست کی اینٹ سے اینٹ نہیں وجائی
جواد احمد نے جنگ دوران ہندوستان افغانستان کا بیانیہ نہیں پھیلایا
جواد احمد اخلاقی معاشی کرپٹ چور ڈاکو نہیں ہے
ہم پراوین ساہنی کو غدار کہتے، برا بھلا کہتے رہے، وہ پاکستان کے بارے جو جو کہتے تھے وہ سچ ثابت ہو رہا ہے۔ پاکستان آج دنیا کا اہم ترین ملک بن گیا ہے، جسے ہر کوئی پسند کرتا ہے۔ ہم ڈونلڈ ٹرمپ کے تلوے چاٹنے کو بھی تیار ہیں لیکن موقع نہیں مل رہا۔
انڈین تجزیہ نگار
میں دوسال تک (پیمرا) کا چیرمین رہا نواز شریف جیسا باس نہیں دیکھا دو سالوں میں انہوں نے کبھی نہیں کہا ابصار یہ کام کردو یہ نا کرو انہوں نے مجھے آئین و قانون کے مطابق مکمل آزادی دی ابصار عالم
نواز شریف 🌹
ویسے اس محمد مردانی کے پیچھے کل سے پڑے اس نے تو اس انڈین اینکر کی بے عزتی بھی کی اور کہا عاصم منیر کا کردار مثبت ہے اس کی میں عزت کرتا ہوں ہمیں پاکستان پر اعتبار ہے ٹرمپ پر نہی ہے
یوتھیوں نے تو جان بوجھ کر مشکوک حصہ نکال لیا اس پر ان کی جل گئی ہے
کتنی حیرانی کی بات ہے امریکہ کا نائب صدر گھنٹوں ایران کے سگنل کا انتظار کرتا ہے کہ وہ مذاکرات میں شرکت کا اعلان کرے تو میں واشنگٹن سے سفر شروع کروں
جبکہ ایرانیوں نے اس پہ میمز بنائیں یہ بہت بڑی تبدیلی کی علامت ہے طعلت حسین
ساتھ امریکی صدر کے ٹویٹ کا کمال پوسٹمارٹم کیا
1+2
شاہذیب خانزادہ کا بہترین تجزیہ سنیں!
آج سے دو ماہ پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ بار بار پاکستان کی قیادت کی اتنی تعریفیں کر رہے ہوں گے، ایران کی قیادت بھی پاکستان کی قیادت کی تعریفیں کر رہی ہوگی، قطر جو ہر مذاکرات کی سیٹ اپنے پاس رکھتا تھا وہ واضح طور پر کہہ رہا ہوگا کہ ہم مذاکرات کیلئے پاکستان کی مکمل حمایت کرتے ہیں، سعودی عرب مصر اور ترکیہ کا وزیر خارجہ پاکستان آ رہے ہیں یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، اور تو اور جب جنگ بندی ختم ہو رہی ہو دنیا جنگ کی طرف جا رہی ہو تو امریکی صدر یہ کہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کے کہنے پر جنگ بندی میں توسیع کر رہا ہوں اس سب کے پیچھے پاکستان کی بہت محنت ہے۔
پاکستان کی قیادت نے اس جنگ بندی کے معاملے میں ذاتی خطرہ مول لیا جس کی قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ ہمیں متحدہ عرب امارات کے پیسے واپس کرنے پڑے کیونکہ وہ پاکستان کی ان کوششوں سے مطمئن یا خوش نہیں تھے،
پاکستان نے اس مقصد کے لیے بہت بڑا خطرہ مول لیا اور بہت کچھ داؤ پر لگایا جس کی قیمت بھی چکانی پڑی، لیکن اس کے نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا پر پاکستان کا تذکرہ امن کے حوالے سے ہو رہا ہے۔ اس وقت کسی بھی عالمی چینل کو دیکھیں تو وہاں ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ زیرِ بحث ہے جس میں پاکستانی قیادت کی تعریف کی گئی ہے اور یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ دنیا کو جنگ سے بچانے اور سیز فائر میں توسیع کروانے میں پاکستان کی کوششوں کا کتنا اہم کردار ہے۔ شاہزیب خانزادہ
انڈیا کو مسلہ کہ اگر مزاکرات کامیاب ہوتے تو پاکستان عالمی سطح پر ایک بڑا لیڈر بن کر ابھرے گا جو عالمی امن کا ضامن ہے اسرائیل کو ڈر کہ اگر امن مزاکرات سے امریکہ ایران تعلقات بحال ہو گے پابندیاں ہٹ گئیں تو مضبوط ایران مستقبل میں دوبارہ اس کے سامنے کھڑا ہو گا جبکہ یوتھیوں کا مسلہ یہ کہ اگر پاکستان کا عالمی امیج بلند ہوتا معاہدہ ہوتا تو ان کی سرمایہ کاری اور مرشد ڈوب جائیں گے عمران بغیر حکومت عالمی سطح پر ہیرو بن جائے گی بس ان تینوں کا مشترکہ مفادپاکستان کی ناکامی ہے اسی لیے آپ ان کا میڈیا سوشل میڈیا دیکھ لیں پاکستان بارے ایک زبان استعمال کر رہا ایک دوسرے کی مدد کر رہا ہے
Kasem say mafi kay sath galiyan deney ka dil karta ha itney barey player ka beragharak kardiya SR ka drama laga kar kitney young talent psl main top scorer's nazar arahe hain sirf ek he player nazar ata ha jis ka name ha KING
ہم سیز فائر کروانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں یورپی یونین
ہم جنگ بندی پر پاکستان کو سلام پیش کرتے ہیں عالمی لیڈران
میں پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ترک صدر
میں پاکستان اور گریٹ لیڈرز کا شکریہ ادا کرتا ہوں امریکی صدر
ہم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ایرانی صدر
یہ کونسا پاکستان ڈاؤنلوڈ ہوگیا ہے
بریکنگ نیوز
پوپ اسکوبر کا بڑا بیان
اس دنیا میں واحد ایک شخص ہے جو جب چاہے ٹرمپ کو فون ملا سکتا ہے اور کھل کر اس سے بات کر سکتا ہے اور ٹرمپ اس کی بات سنتا بھی ہے.
اور یہی وہ واحد شخص ہے جو بغیر ڈر خوف کے ایران میں اترتا ہے اور سیاسی، عسکری قیادت سے ملتا ہے.
جی بالکل یہ شخص فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر ہے.