#مکافات_عمل
اللہ کاانصاف اللہ کا نظام کہا گیا کہ الطاف حسین کاچیپٹر کلوز ہوگیا اللہ نے ان کا چیپٹر کلوز کر دیا میں نےہمیشہ آپ سب کو تاکید کی ہے کرتا تھا کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا آپ کے ہاتھ سے کوئی ظلم و جبر نہیں ہونا چاہیے آپ پر کوئی ظلم کرتا ہے تو اسے اللہ پر چھوڑ دو
@NdmEhsan
وفا پرست عوام وکارکنان ایم کیو ایم میڈیکل ایڈ کے کارکن سلمان شیخ کے والد ڈاکٹر صابر شیخ کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لئے اللہّ تعلیٰ کے حضور خصوصی دعا کریں ، جناب الطاف حسین کی اپیل
وادی تیرہ سے بیدخل کئے گئے تمام لوگوں کوفی الفورآباد کیاجائے اوران کی مدد کی جائے۔ الطاف حسین
#TirahValley
وزیراعظم شہبازشریف ایک طرف صدر ڈونلڈٹرمپ کی بلائی گئی کانفرنس میں گئے دوسری طرف ان کی حکومت نے صوبہ خیبرپختونخوا کی وادی تیرہ میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے لئے وہاں سے آبادی کا انخلا شروع کردیا جو آج کےدن تک جاری ہے۔وادی تیرہ کے سے بیدخل کئےگئے مکینوں میں معصوم بچے، خواتین اوربزرگ بھی شامل ہیں جنہیں ان کے گھروں سے نکال کرمنفی درجہ حرات میں کھلے آسمان تلے سڑکوں پر بارش اوربرفباری میں پھنسے رہنے پر مجبورکردیا گیا ہے۔ وہ اپنے گھروں سے بیدخل ہوکر برفباری میں پھنسے ہوئے ہیں اورٹھٹھررہے ہیں۔لیکن اب وفاقی وزرا کہہ رہے ہیں کہ ہم نےوادی تیرہ کے لوگوں کوگھروں سےبیدخل ہونے کانہیں کہا۔
آپریشن کے نام پر وادی تیرہ کے لوگوں کوان کے گھروں سے بیدخل کرنا سراسرزیادتی ہے۔میں مطالبہ کرتاہوں کہ وادی تیرہ سے بیدخل کئےگئے تمام لوگوں کوفی الفورآباد کیا جائے اوران کی مدد کی جائے ۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 384ویں فکری نشست سے خطاب
26جنوری 2026ء
قوم سانحہ گل پلازہ اوروادی تیرہ سے ہزاروں خاندانوں کی بیدخلی کےمعاملے میں الجھی ہوئی تھی کہ اس دوران حکمراں مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی نے ملکرقومی اسمبلی سے دوانوکھے بل منظورکئےہیں۔ جن میں ایک بل ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کوخفیہ رکھنے کا بل شامل ہے۔ پاکستان میں 78 برسوں سے منتخب ارکان اسمبلی ہرسال الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اپنےگوشوارے جمع کراتے چلے آرہے ہیں جنہیں عوام کے سامنے لایاجاتارہا ہےلیکن اس انوکھے بل کے مطابق اب سینیٹ،قومی اورصوبائی اسمبلی کے ارکان الیکشن کمیشن میں اپنے گوشوارے جمع کرائیں گے تو ان کے گوشواروں کی تفصیلات کو عوام کے سامنے نہیں لایاجائے گاتاکہ پاکستان کے قومی خزانے پرڈاکہ ڈالنے والے ظالم لٹیرے ڈاکہ زنی کرکے جتنی چاہیں ملک اور بیرون ملک جائیدادیں بنائیں ان کے اثاثے میڈیا اور عوام سے پوشیدہ رکھے جاسکیں گے۔
حکومت کا تاجروں اور صنعتکاروں پر Corporate Social Responsibility کے نام سےلگایا جانے والا اضافی ٹیکس سرکاری بھتہ ہے۔یہ ٹیکس واپس لیا جائے۔الطاف حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی سے Corporate Social Responsibility (CSR) نامی بل منظورکیا گیا جس کے تحت ملک کے تمام تاجروں اور صنعتکاروں سے ان کی آمدنی کا مزید دوفیصد ٹیکس وصول کیا جائےگا۔ تاجرطبقہ پہلے ہی معاشی صورتحال کی خرابی کے باوجود حکومت کے عائد کردہ طرح طرح کے ٹیکسز ادا کررہا ہے اور اس کے باوجود ان پرCSR کے نام سے مزید دوفیصد اضافی ٹیکس عائد کیا جارہاہے، یہ ایک غنڈہ ٹیکس ہے، ڈاکوٹیکس ہے، سرکاری بھتہ ہے۔
یہ بھی قابل غور ہے کہ یہ اضافی ٹیکس ہے جو صرف تاجروں اورصنعتکاروں پر لگایاگیا ہے،حکومت نے جاگیرداروں اوروڈیروں کی زرعی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا کیونکہ پاکستان میں جاگیرداروں اور وڈیروں کی حکومت ہے۔ میں مطالبہ کرتاہوں کہ یہ اضافی غنڈہ ٹیکس واپس لیاجائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست 384سے خطاب
@APTMAofficial
@AltafHussain_90 تاجروں اور صنعتکاروں سے اضافی ٹیکس لینے کے لئے حکمراں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا منظور کردہ CSR بل واپس لیا جائے۔
الطاف بھائی کا مطالبہ جائز ہے۔
کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی بل نامنظور
@Saim_Riz@APTMAofficial
سانحہ گل پلازہ : محض ایک سوال :
دو سال قبل راشد منہاس روڈ پر RJ مال آتشزدگی کے بعد میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نےکمرشل پلازوں کا جو فائر سیفٹی آڈٹ کرایا تھا اس کی رپورٹ پر حکومت سندھ نے عمل در آمد کیوں نہیں کرایا؟
کیا یہ ذمہ داری 1987 کے میئر کی تھی؟
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اس سوال کا جواب کیوں نہیں دیتے؟
سانحہ گل پلازہ کی ایف آئی آر میں اس مجرمانہ غفلت کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے
کراچی دشمن پیپلزپارٹی کےجاگیردار،وڈیرے اورسرمایہ دار
شہریوں کواپنا ہاری، کسان اورغلام سمجھتے ہیں
سانحہ گل پلازہ کے اصل ذمہ داران کے تعین کا مطالبہ کریں تو لسانیت کو ہوا دینے لگتے ہیں
ارےسفاک حکمرانو!!
کرسی ہے تمہارا جنازہ تونہیں ہے
کچھ کرنہیں سکتے تواتر کیوں نہیں جاتے
سنو👇
سانحہ گل پلازہ ایک بہت بڑاسانحہ ہے جس میں درجنوں شہری جل کر شہید ہوگئے، اب بھی 80 سے زائد دکاندار اورعام شہری لاپتہ ہیں، پورا شاپنگ پلازہ جل کر خاک ہوگیااور ہزار سے زیادہ تاجر وں کی عمر بھر کی جمع پونجی جل کر تباہ ہوگئی۔ پیپلزپارٹی کی حکومت اب تک اس سوال کاجواب نہیں دے سکی ہےکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ گراؤنڈ فلورکی ایک دکان میں لگنے والی آگ چند منٹوں میں پورے پلازہ کے تمام فلورز کی تمام دکانوں میں بیک وقت پھیل جائے؟ کیسے منٹوں میں پوراپلازہ آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آیا؟
گل پلازہ کے دکاندار بھی اب کھل کرکہہ رہے ہیں اورایم کیوایم کی انویسٹی گیشن کمیٹی کی انکوائری سے بھی یہی بات سامنے آئی ہے کہ گل پلازہ میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی ہے اوریہ آگ جس گینگ نےلگائی ہےاس کا نام RGP یعنی Ransom Gang of Peoples Party ہے۔
انکوائری کے مطابق اس گینگ کی جانب سے کراچی کے تمام دکانداروں، تاجروں، صنعتکاروں اوربلڈرز کے پاس بھتہ کی وصولی کےلئےفون آتے ہیں، ان سے کروڑوں روپےکابھتہ طلب کیاجاتاہے اور انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ اتنی رقم فلاں فلاں جگہ پہنچادو۔بھتے کے یہ فون ملائیشیا، سنگاپوراور دیگر ممالک کے نمبروں سے آتے ہیں۔دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ اگرپولیس، رینجرزیاکسی ایجنسی کواس کی اطلاع دی تھی توآپ کے کاروبار پر حملےکئے جائیں گے اورخود بھی جان سے جاؤ گے۔
اس گینگ کی سرپرستی کرنے والے پیپلزپارٹی کے وزراء اورارکان اسمبلی ہیں۔ اطلاع یہی ہیں کہ گل پلازہ کے تاجروں کوبھی بھتے کے فون موصول ہورہے تھے۔ اب اس کی تحقیقات کون کرے گا؟ پولیس انتظامیہ ان کے آگے بے بس ہیں اسی لئے تاجروں، صنعتکاروں، بلڈرز اورشہریوں کی شکایات پر کوئی عمل درآمد نہیں کیاجاتا۔ کراچی پاکستان کاسب سے بڑاشہرہے جووفاق اورصوبہ سندھ کوسب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ سوتیلی ماں سے بھی برااورمتعصبانہ سلوک کیاجاتاہے۔
پیپلزپارٹی 50سال سے زائدعرصہ سے سندھ پر حکومت کررہی ہے لیکن اس نے کراچی کی ترقی اور شہریوں کی فلاح وبہبود کے لئے کچھ نہیں کیا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے کراچی کے لئے کسی قدرتی آفت،حادثے یاگل پلازہ جیسے سانحے سے نمٹنے کے لئے ڈیزاسٹرمینجمنٹ کاکوئی ادارہ نہیں بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ تین دن تک گل پلازہ کی آگ جلتی رہی لیکن وہ بجھائی نہیں جاسکی اورپوری مارکیٹ جل کرراکھ ہوگئی۔ اب تک وہاں سے لاشیں تک نہیں نکالی جاسکی ہیں اورلوگ اب تک اپنے پیاروں کے لئے مارے مارے پھررہے ہیں۔ایسے ایسے دردناک مناظر ہیں کہ جنہیں دیکھ کردل خون کے آنسو رو رہا ہے۔
گل پلازہ میں آگ لگنے اوراتنے بڑے سانحہ کی مکمل ذمہ دار پیپلزپارٹی کی حکومت ہے، وہی اس پورے سانحے کی ذمہ دار ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ اس سانحےکی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
میں سانحہ گل پلازہ کےشہیدوں کے لواحقین سےدلی تعزیت کااظہارکرتاہوں اورتمام متاثرہ تاجروں اور شہریوں کے غم میں برابرکاشریک ہوں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 380 ویں فکری نشست سے خطاب
19جنوری 2026ء
https://t.co/X7pQoWJjZV
🚨گل پلازہ کو کیسے آگ لگائی گئی،
پورا گل پلازہ آگ کےشعلوں کی لپیٹ میں کیونکر آیا،
لوگ کیسے جل کر خاک ہوئے،
اس میں کونسے عناصر ملوث ہیں،
ان کے پیچھے کونسی طاقتیں ہیں،
آخر یہ کیا چاہتے ہیں،
ملاحظہ کیجیے اہم انکشافات پر مبنی میرے اس وڈیولاگ میں
#GulPlazaFire#GulPlazaTragedy
سانحہ گل پلازہ کے بارے میں تحقیقات کی باتیں سراسر دھوکہ ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
17، جنوری 2026ء کو کراچی کے گل پلازہ میں جو قیامت صغریٰ بپاہوئی اس میں درجنوں افراد جاں بحق ہوگئے، اس غم کی شدت کا اندازہ ان کے گھروالوں کے سوا کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ 1947ء سے 17، جنوری2026ء تک ہردھماکے، حملے، قتل،دہشت گردی اورآتشزدگی کے بڑے واقعے کے بعد یہ سنتے چلے آرہے ہیں کہ ایک تحقیقاتی کمیٹی بنادی گئی ہے اور تحقیقات جلد سامنے آئیں گی لیکن کیا پاکستان کی78 سالہ تاریخ میں کسی ایک سانحے کی بھی تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لائی گئی؟ علالت کے دوران بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کو پاکستان کے شہر وں میں بڑے بڑے اسپتالوں کی موجودگی کے باوجودبلوچستان کے دوردراز علاقے زیارت کیوں بھیجا گیا، کیا اس کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی؟
زیارت سے قائد اعظم کو جان کنی کے عالم میں اسپتال منتقل کرنے کیلئے ایسی ایمبولنس کیوں بھیجی گئی جس میں پیٹرول کم تھااور وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی،کیا اس کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی؟
راولپنڈی میں خان لیاقت علی خان کو ایک بھرے جلسے کے دوران گولی مارکر شہید کردیاگیا، کیااس کی تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے آئی؟
پاکستان میں مساجد، امام بارگاہوں،بزرگان دین کے مزارات، غیرمسلموں کی عبادت گاہوں پر بم دھماکوں اورخود کش حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک وزخمی ہوئے، کیا کسی ایک بھی واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی؟
کیاجی ایچ کیو، ایم آئی اورآئی ایس آئی کے دفاترسمیت فوجی تنصیبات اورائیربیس پرحملوں اور بم دھماکوں کی تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے آئی؟
میں عوام کو مستقل آگاہ کررہا ہوں کہ گل پلازہ کی آگ حادثاتی طورپرنہیں لگی بلکہ لگائی گئی ہے، بعض تجزیہ نگاروں کی جانب سے اشارتاً کہابھی گیا ہے کہ کوئی کیمیکل پھینکاگیا جس کی وجہ سے اچانک پوری عمارت میں چاروں طرف آگ پھیل گئی۔یہی کچھ ماضی میں بھی کیاگیا، 14، دسمبر1986ء کوکراچی کی قصبہ کالونی اورعلیگڑھ کالونی میں جو قتل وغارتگری اوربربریت کی گئی، وہاں دورہ کرنے پر ان علاقوں کے عوام نے بھی یہی بتایاتھاکہ حملہ آور قتل وغارتگری کے دوران گھروں پرکوئی پاؤڈر پھینکتے تھے جس سے ایک دم آگ لگ جاتی تھی۔بلدیہ فیکٹری میں بھی یہی ہوا۔
25، مارچ 2023ء کو کراچی کے علاقے راشد منہاس روڈ پر واقع آر جے مال میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد عوام نے احتجاج کیاتو پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کراچی کی تمام عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کرایا اور اعلان کیاکہ جس عمارت میں فائرس سیفٹی نظام نہیں ہوگا اس عمارت کو رہنے نہیں دیا جائے گا۔ مئیرکراچی کے حکم پر کراچی کی 266 کمرشل عمارتوں کافائرسیفٹی آڈٹ کیاگیا تو پتہ چلا کہ کراچی کی 235 کمرشل عمارتوں میں فائرسیفٹی نظام سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔مئیرکراچی نے 2024ء میں یہ رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجی مگر 17، جنوری2026ء کو سانحہ گل پلازہ تک وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے یہ رپورٹ دیکھی ہی نہیں۔ آخر کیوں؟آخراس فائرسیفٹی آڈٹ رپورٹ کودیکھنااوراس پر عمل درآمد کرناکس کی ذمہ داری تھی؟ پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ اورمیئرکراچی نے اس رپورٹ پر عمل کیوں نہیں کرایا؟یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ، ان کے وزراء اور رہنمااپنی ناکامی اورمجرمانہ غفلت کااعتراف کرنے کے بجائے دوسروں پرالزام تراشی کررہے ہیں اورسانحہ گل پلازہ کے معاملے کارخ موڑنے کے لئے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی بات کررہے ہیں۔ میں آج ایک بار پھر حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن قائم کیاجائے،فیکٹری کے مالکان، مینیجر، چوکیداراورتمام حکام کو عدالتی کمیشن کے روبرو لازمی بلایا جائے اوران سے پوچھا جائے کہ فیکٹری میں آگ کیسے لگی، کس نے لگائی۔اس کے ساتھ ساتھ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں مشینری فراہم کرنے والی جرمنی کی کمپنی کے ذمہ داروں کوبھی طلب کیاجائے۔سارے حقائق سامنے آجائیں گے۔ یہ کارروائی کھلی عدالت میں چلائی جائے اور نیشنل میڈیا پرعدالتی کارروائی براہ راست نشر کی جائے۔
میں واضح طورپر کہتاہوں کہ اگرمجھے 6 ماہ مکمل اختیار دیاجائے، تحقیقات کے لئے آئی ایس آئی، ایم آئی کے ایماندار افسران مجھے دیئے جائیں تو میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی ایسی ایماندارانہ اورغیرجانبدارانہ تحقیقات کروں گا کہ اگر اس کے نتیجے میں میرا سگا بھائی یا ایم کیوایم کاکوئی رہنما بھی اس واقعہ میں ملوث ہوا اورتحقیقات کی روشنی میں اس کاجرم ثابت ہوگیا تومیں اسے قانون کے مطابق پھانسی کی سزا دلواؤں گا۔
1/2
امریکہ کےصدرڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ” افغانستان میں صرف امریکی فوجوں نے ہی قربانی دی ہے،کسی نیٹوملک کی فوجوں نے کوئی قربانی نہیں دی“ نیٹو میں شامل برطانیہ اوردیگرممالک کے فوجوں کی قربانیوں کی کھلی توہین ہے۔ میں اس حوالے سےبرطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کے اس بیان کی مکمل حمایت کرتا ہوں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوبرطانیہ کے فوجوں کی قربانیوں کااحترام کرنا چاہیے اور ان کی توہین پر معذرت کرنا چاہیے۔
میں سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم کیئراسٹارمر نے ڈونلڈٹرمپ کے بیان پر جو اصولی اور جراتمندانہ بیان دیا ہے وہ برطانیہ کے تمام عوام کےجذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔
اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں برطانیہ کے فوجیوں نے بہت بڑی تعداد میں جانی قربانیاں دی ہیں اوربہت سے فوجی عمربھر کے لئے معذورہوگئے ہیں، ان قربانیوں کااحترام کیا جانا چاہیے۔
الطاف حسین
24 جنوری 2026ء
@Keir_Starmer@10DowningStreet