ایک ماں کے غصے میں بولے گئے الفاظ.. جو تاریخ کی سب سے بڑی دعاؤں میں سے ایک بن گئے۔
یہ ایک چھوٹے سے گھر کی کہانی ہے جو مدینہ سے زیادہ دور نہیں تھا۔ وہاں ایک چھوٹا بچہ باہر مٹی میں کھیل رہا تھا۔ اندر مہمانوں کی آمد متوقع تھی اور اس کی ماں نے ان کے لیے بڑی محنت سے کھانا تیار کیا تھا۔ جب وہ باورچی خانے میں برتن دھو رہی تھی، اس شرارتی بچے نے معصومیت سے مٹی اٹھا کر اس کھانے میں ڈال دی جو مہمانوں کے لیے احتیاط سے تیار کیا گیا تھا۔
جب ماں واپس آئی اور یہ منظر دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ تھکن، مایوسی اور جذبات سے مغلوب ہو کر وہ غصے میں اپنے بچے کی طرف مڑی۔ اس کے ہاتھ فضا میں اٹھے اور ایسے الفاظ زبان پر آنے والے تھے جو شاید سخت ہوتے۔
لیکن وہ ایک نیک اور مومنہ خاتون تھی۔
آنسوؤں اور لرزتی آواز کے ساتھ اس نے اپنے بیٹے سے کہا:
“جاؤ… اللہ تمہاری حفاظت کرے۔ اللہ تمہیں کعبہ کا امام بنا دے۔”
سبحان اللہ! غصے کے لمحے میں بولے گئے الفاظ، جو خلوص سے بھرے تھے، اللہ کے ہاں قبول ہو گئے۔
وہ شرارتی بچہ بڑا ہو کر مسلم دنیا کے سب سے محبوب آوازوں میں سے ایک بن گیا — شیخ عبدالرحمٰن السدیس، امام مسجد الحرام۔ آج ان کی تلاوت حج کے دوران اور اس کے علاوہ بھی لاکھوں دلوں کو متاثر کرتی ہے۔
انہوں نے خود یہ بات بیان کی ہے کہ زندگی میں جو کچھ وہ بنے، وہ سب اپنی ماں کے دل سے نکلے ان الفاظ اور اس لمحہ دعا کی بدولت تھا۔
تمام ماؤں کے لیے ایک طاقتور سبق:
غصے کے لمحات میں بھی اپنے الفاظ کو بھلائی سے بھرپور رکھیں۔ آپ کو کبھی معلوم نہیں کہ کون سی دعا قبول ہو جائے گی اور ایک زندگی بدل دے گی۔
منقول
پندرہ سو سے زائد پنجابیوں کی لاشیں بلوچستان سے آئی جن کی گاڑیوں کو روک کر شناختی کارڈ چیک کیا “ ان میں پشتونوں کو کہا جاتا تم سائیڈ پر ہو جاو “ تب عوام ماہرنگ کے دہشتگردوں کے حمایتیوں کی شکلیں دیکھتی مذمت کے مطالبے کرتی تو یہ دلے جشن منایا کرتے تھے
اس گنجے کی پنجابیوں سے دشمنی کی لاتعداد ویڈیوز ہیں
آج اپنی پھٹنی پر آئی تو ماتم ؟ تم لوگ منافق ترین لوگ ہو
دنیا میں کہیں بھی کوئی حرکت ہوتی تو جناب عمران خان ایک بینک اکاونٹ کھولتے اور پھر تقریر فرما کر بھیک مانگنے نکل پڑتے اور جو کچھ ملتا وہ اشرافیہ میں بانٹ دیتے۔
اب بھی دنیا میں کچھ بھی ہو جائے جناب شہباز شریف تقریر کرتے ہیں اور پٹرول کی قیمت اور ٹیکس بڑھا دیتے ہیں۔ اور ملنے والی خیرات اشرافیہ میں بانٹ دیتے ہیں۔
طریقہ واردات بدلا ہے قوم کی قسمت نہیں بدلی
وہ جو کہتے تھے ٹرمپ کو جواب نہیں دیا پاکستان نے انکے عرض ہے۔
یہ ہے اصلی ابسیلوٹی ناٹ۔۔
اسحاق ڈار کا امریکہ اسرار کو ابراہم اکارڈ پر کورا جواب
Ishaq dar
کبھی ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ "جو کروا رہا ہے امریکہ کروا رہا ہے"
آج امریکی کہہ رہے ہیں کہ "جو کروا رہا ہے پاکستان کرا رہا ہے"۔
"On the request of Pakistan".
رواں ہفتہ تریک انصاف کو شدید جھٹکے لگ رہے ہیں کیونکہ پہلی خبر عمران دار ججوں کے جھنڈ کا تتر بتر ہونا کسی کو پشور کسی کو لاھور اور کسی کی کرانچی کی نیازی کوچ پر چڑھانا اور پھر ایک سال تک پروبیشن ٹائم اور ٹیسٹ ڈرائیور کے بعد سابق مما اور مادر ذلت کا کیمرون کے ساتھ ویاہ کھڑکانا اور پھر مرداول بلبل سوات کا سہیل آفریدی سمیت پوری جماعت کی منجی ٹھوکنا اور پھر شیخ وقاص اکرم کا علیمہ خانم کی مدر سسٹر ایک کرنا اور آج ترجمان پاک فوج کا ایک سال مکمل ہونے پر مودی کو پھر اندر واڑ کر کنڈی لگانا اور پھر ہندوتوا کا انجن کھول کر دوبارہ جوڑنا شامل ہے اور یہ خبریں کسی جھٹکے سے کم نہیں ہئں
عمران خان آپکی “ مت “ وج چکی ہے بس مسوس کریں
پٹرول کی قیمت اتار چڑھاؤ تو عالمی منڈی سے طے ہوتا ہے حکومت کا کوئی کردار نیی
کیا سالانہ 120 ارب کا مفت پٹرول بھی عالمی منڈی کے کہنے پہ دیا جاتا ہے۔۔؟؟
بے شرم کی حد دیکھیں کہ جسکی تنخواہ لاکھوں میں اسے پٹرول مفت۔۔۔جسکی تنخواہ پچس سے تیس ہزار وہ پٹرول خریدے۔
ظالموں ڈرو اللہ سے
کویت کے اس بچے کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ اس نے اپنی ماں کا بنک کارڈ چرایا۔ مارکیٹ سے فوڈ ڈبوں کا آڈر کیا اور ڈرائیور کے ساتھ جا کر مارکیٹ میں مزدورں /ورکرز میں بانٹنے لگ گیا۔
جب ماں کو بل کا میسج آیا اور پتہ چلا تو اس نے لڑکے کے باپ کو بتایا تو وہ اپنے دوسرے بیٹے کو لے کر وہیں پہنچ گیا۔ بڑے بیٹے نے اسے غصے سے بھائی کو کھینچ کر نیچے اتار کر لایا اور باپ کے سامنے پیش کیا۔
باپ نے ڈانٹا تو بولا آپ لوگوں کے لیے ہی ثواب کما رہا ہوں اور آپ ہیں مجھے روک رہے ہیں۔ باپ نے یہ سن کر کہا اچھا جاؤ اور بقیہ ڈبے بانٹ آو۔
یہ دن بھی بھولا کوی نہ2.👇
2018 میں پورے 8 بجےھمیں آف ایئر کر دیا گیا اور جب ٹرانسمشن دوبارہ چلی تو ھمیں ہدایت دی گئی تھی ک عمران خان کے جیتنے کی پٹی چلاو
اس سے زیادہ اور ظلم کیا ہو. سکتا ہے اس نظام میں۔
تین گھنٹے کی پریس میں 50 سیکنڈ کا یہ کلپ 10 بار دیکھ چکا ہوں اور ہر بار میرا ہاسا نکل جاتا ھے۔ صحافی بھی اپنی ہنسی کنٹرول نہیں کر پائے۔
غضب بیعزتی ھے بھائیا 🤦😂
"اگر DGISPR نے ذہنی مریض کو کتا بولیں گے تو ہم بھی انکو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم عشق ذہنی مریض والے کتوں کو بھی چومنا چاٹنا شروع کردیں گے"
سہیل آفریدی..
پہلی بات تو DGISPR نے ذہنی مریض کو کتا نہیں کہا، ہاں یہ تم لوگوں کی خواہش ہے تم خود اس ذہنی مریض کو کتا کہنے چاہتے ہو تو کہتے رہو 😂😂😂
میلبورن ائیرپورٹ پہ جب انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں سے ہو۔ بتایا پاکستان سے تو امیگریشن آفیسر اٹھ کے باہر آکے گلا ملا ۔ اور پھر بڑے احترام سے بولا کہ آپ عظیم لیڈر عمران خان کے ملک سے ہو۔
اور پھر دو کتے منگا کہ بولا اسکی اچھے سے تلاشی لو۔ خان صاحب بھی منشیات استعمال کرتے تھے۔ یہ بھی کرتا ہو گا۔
😭💔🇦🇺🇵🇰
#ImranKhanForPakistan