انڈیا میں سُنی ھو ،وہابی ھو دیوبندی ھو یا اہلِ تشیع وہ سب کہتے ہم انڈیا کے ساتھ کھڑے ہیں پاکستان میں دیوبندی افغانستان ساتھ، وہابی سعودی عرب ساتھ ،اہلِ تشیع ایران ساتھ کھڑا ھے جبکہ بابا قائداعظم اور سُنی پاکستان ساتھ کھڑے ہیں
جی نہیں آسٹریلیا ہمیشہ کمزور ٹیموں کے خلاف اپنے ینگ پلیئر ز بھیجتا ہے اُنکو انٹرا نیشنل کرکٹ کا تجربہ دیکر تیار کرنے کیلئے، آپ کل آسٹریلیا کا کسی بڑی ٹیم سے میچ کروا دیں سارے سینیر پلیئرز واپس آ جائیں گے
اس ملک کے نمبر ون دشمنوں میں تم بھی شامل ھو جس نے کئی سال بلوچستان میں مسنگ پرسن کا چُورن بیچا وہ سارے مسنگ پرسن پہاڑوں سے برآمد ھوئے تم ایک لفظ نہیں بول سکے مسنگ پرسن بی ایل اے کے دہشت گرد نکلے تمھاری دکانداری بند ھو گئی اب تم نے بلیک میل ایکشن کمیٹی کا چُورن بیچنا شروع کر دیا ھے
پڑھ لیں متحدہ عرب امارات نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کرنے والے ساڑھے تین ہزار پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کر دیا ھے اس میں ایک بھی حکومتِ پاکستان کی طرف سے کی گئی شکایت شامل نہیں ھو گی اگر ریاست چاہے تو باہر بیٹھے یوتھیوں کو بھی پٹا ڈال سکتی ھے
امریکہ ایران جنگ دوران یو اے ای میں بیٹھے یوتھیوں نے خوب زہر اگلا اور اب تک ساڑھے تین ہزار یوتھیوں کو ٹھڈے مار کر بے دخل کردیا گیا ہے کیونکہ آپ ریاست کی پالیسی کے خلاف نہیں چل سکتے جبکہ پاکستان میں موجود صدیق جان ملیحہ ہاشمی ہر وقت ریاست کو گالیاں دیتے ہیں لیکن پرسکون ماحول میں زندگی بسر کررہے ہیں
یہ دگڑدلہ آج بلوچ سرمچار سے کشمیری علیحدگی پسند بن گیا ہے۔
جس پنجاب کے خلاف یہ اپنی اندر کی غلاظت نکال رہا اگر کوئی پنجابی بھی پاکستان کو گالی دے گا یہ اسے اپنا باپ بنائے گا۔۔ہم نے اس کتے کے پتر کو پرائم ٹائم سلاٹ دیا ہوا قوم کے اذہان خراب کرنے کےلئے
آپ لوگ انکی سوچ کا اندازہ کریں بڑی تعداد میں آزاد کشمیر چھوڑ کر اسلام آباد راولپنڈی لاہور میں جائیدادیں بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی سوشل میڈیا پر کہہ رہے بلیک میل ایکشن کمیٹی کو کُوک دو جبکہ یہ خود آزاد کشمیر جا کر اس کُوک دو احتجاج میں شامل نہیں ھونا چاہتے
آجکل کھوچل میڈیا پر کسی سجاد ترکئی صاحب کا الیکٹرک گاڑی پر اسلام آباد سے لاہور جانے کی تکلیف کا تذکرہ ہے۔ بڑے بڑے ڈیڑھ سیانے اس پوسٹ کو دھڑا دھڑ شئیر کر رہے ہیں اور وہی کامنٹس چل رہے ہیں جو کھوچل میڈیا کا پسندیدہ ترین کام ہے: Self-loathing
کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ پوسڑی دیو، 1030 اسلام آباد سے چل کر وہ 1140 پنڈی بھٹیاں کیسے پہنچ گیا جب کہ وہ بھیرہ بھی رُکا؟ کیا یہ الیکٹرک گاڑی حامد میر کے آغا وقار کے پانی پر بھی چل رہی تھی؟
اخے: یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ سوشل میڈیا نے بہت شعور دیا ہوا ہے۔
مخے: ایہہ فوٹو ویخ، پوتنی دیا۔