11 اکتوبر 2026 کو نیا پاکستان کے اینکر پرسن حسنین رفیق اور ان کے ساتھ فیلڈ پر موجود دیگر ٹیم ممبرز کو غیر قانونی طور پر اغوا کر لیا گیا۔ 11 اکتوبر سے لے کر آج تک انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، یہاں تک کہ کسی کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ حسنین رفیق، شہزاد خان اور صبور کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔
آج دس دن گزر چکے ہیں۔ ان دس دنوں میں ہمارے گھر والوں پر کیا گزری ہے، یہ شاید الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری پریشانی اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ہم صرف اتنا جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے پیارے کہاں ہیں، کس حال میں ہیں اور کیا وہ خیریت سے ہیں؟ کیا ایک خاندان کو اتنا جاننے کا بھی حق نہیں؟
حسنین رفیق ایک صحافی ہے، اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ حسنین رفیق نے ہمیشہ اپنا فرض انجام دیا ہے اور صحافت کی ہے۔ ایک صحافی کا کام صحافت کرنا ہوتا ہے اور حسنین رفیق اپنا وہی فرض سرانجام دے رہا تھا۔ گورنر راج لگنے کے بعد حسنین رفیق سے جب ہمارا آخری رابطہ ہوا تو وہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں موجود تھا۔ کال کے دوران اس کے کمرے میں کچھ لوگوں کے داخل ہونے اور شور شرابے کی آوازیں سنائی دیں۔ کسی نے پوچھا کہ کس سے بات کر رہے ہو، اور اس کے بعد فون بند ہو گیا۔ تب سے آج تک ہمارا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔
حسنین رفیق کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنا صحافتی فرض نبھایا، اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے کوریج کی اور سچ دکھایا۔ سیاست کے ساتھ ساتھ ملک میں کوئی دل خراش واقعہ ہو، جیسا کہ حال ہی میں پمز میں نومولود بچوں کا واقعہ، یا پھر سیلاب جیسی ناگہانی آفات ہوں، اس نے ہر چیز کی کوریج کی۔ یہ ایک آزاد ملک ہے اور ایک آزاد ملک میں رہنے والے ہر شہری کو اظہارِ رائے اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کا حق ہونا چاہیے۔
حسنین نہ تو کوئی صوبائی وزیر ہے اور نہ ہی کسی پارٹی کا ٹکٹ ہولڈر۔ اس نے ہمیشہ صرف اور صرف کوریج کی ہے اور سچ دکھایا ہے۔ لیکن کوئی صحافی ہو، سیاسی کارکن ہو یا عام شہری، کسی کو بھی اس طرح اٹھا کر لاپتہ کر دینا اور اس کے گھر والوں کو بے خبر رکھنا انتہائی افسوسناک امر ہے۔
اگر حسنین رفیق یا اس کے ساتھیوں پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔ ان کے گھر والوں اور وکیل کو ان سے ملنے دیا جائے۔ اور اگر کوئی الزام نہیں تو پھر انہیں کس بنیاد پر اتنے دنوں سے ان کے خاندانوں سے دور رکھا گیا ہے؟ آخر وہ کون سا قانون ہے جو کسی شہری کو اس طرح لاپتہ رکھنے کی اجازت دیتا ہے؟
ہم صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں اور تمام ذمہ دار حکام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے پر آواز اٹھائیں۔ آج سوال صرف حسنین رفیق اور اس کے ساتھیوں کا نہیں بلکہ ہر اس صحافی کے تحفظ کا ہے جو اپنے فرائض انجام دینے کے لیے فیلڈ میں جاتا ہے۔
ہماری التجا ہے کہ حسنین رفیق، شہزاد خان اور صبور کے بارے میں فوری طور پر بتایا جائے کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں، انہیں ان کے اہلِ خانہ سے رابطے کی اجازت دی جائے اور انہیں فوری رہا کیا جائے۔
ہم کوئی رعایت نہیں مانگ رہے، صرف اپنے پیاروں کی خیریت، ان کی سلامتی اور ان کے قانونی حقوق مانگ رہے ہیں۔
#ReleaseHusnainRafique
مشعال یوسفزئی،بیرسٹر سیف،علی امین گنڈاپور،علی محمد خان یہ سب اگر اچانک سے ایکٹو ہو گئے ہیں اور ایک بیانیہ بنارہے ہیں تو سمجھ جائیں کہ یہ جس کے خلاف بات کررہے ہیں وہ حق اور سچ پر ہے ! سیدھی بات نو بکواس
@Pti780@SHABAZGIL Phly thory cruises SA guzar rehy hn Jo Thora bht bolta hai ousy b mushkil main Dal do...Jo yahya Hain wo hijry hn Jo kush nea kr sakty