جمہوریت کے چیمپئنز بلاول اور آصف زرداری کے زیرِ انتظام سندھ میں ایک پُرامن احتجاج کرنے والی ایک اور بلوچ بچی کو کراچی پولیس نے پریس کلب کراچی کے سامنے گرفتار کر لیا۔ کیا یہ جمہوریت ہے آپ کا؟؟
بلوچستان میں آدھی رات کوگھروں میں گھس کر چادروچار دیواری کو پامال کرکےلوگوں کو جانوروں کی طرح اٹھا کر غائب کرنامعمول تھا،اب تعلیمی اداروں میں تمام قوانین کو روندکرطلبہ کو گھسیٹتے غائب کرنے کا عمل شروع ہے۔انتہائی افسوسناک عمل ہے جس کی فوراً روک تھام کی جائے
ما نزانت کہ تئو بی یک روچ بیگواہ بے۔ یک روچ تئی عکس بی جنگ بیت ءٗ گٗشگ بیت کہ منی برات بہ گناہ ایں بازیاب ایں کن ایت۔ ایں تئی قسمت ءِ، ایں زمین ءَ نشت آ گیں ہر مردم ءِ قسمت ءِ کی ما بلوچ ءِ۔
#EndEnforcedDisappearances#ReleaseSaifullahBaloch
بساک کی جانب سے بلوچستان کتاب کاروان دراصل کتاب میلوں کے ایک تسلسل کی صورت ہے، مگر انسانی تاریخ میں زندہ قوموں کی پہچان نئے خیالات، ایجادات، تکنیکی صلاحیتوں کے فروغ، ناخواندگی میں کمی اور علم کے عظیم سفر کو جاری رکھنے کی کوششوں سے ہوتی ہے۔
ممکن ہے کہ آج عملی سرگرمیوں میں ان روشن اثرات کو براہِ راست محسوس کرنا مشکل ہو، تاہم بلوچ سماج میں تخلیقی ماحول کو پروان چڑھانے کے لیے یہ ایک (Literary Reformation Movement) ہے۔ اس کے اثرات ہمیں مستقبل میں نئی نسل کی ذہنی نشوونما کی صورت میں نمایاں طور پر نظر آئیں گے، کیونکہ یہ محض کتابی اسٹالز یا کسی سرگرمی کی نمائش نہیں بلکہ ایک علمی درسگاہ کا منظر پیش کر رہی ہے، جہاں علم کو طاقت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
داؤد جان بلوچ اور رمیز بلوچ کی جبری گمشدگی اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور داؤد جان بلوچ اور رمیز بلوچ کی جلد از جلد بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، پنجاب
اینو بساک تینا کوپہ غا اسہ عظیم ءُ راجی کاریم ئسے نا زمہ واری ءِ ہرفینے ہرا نا رد ئٹ او بلوچ ڈیہہ ئنا ہر اسہ ھند خلق شار و گدان اسکان دا کاروان ءِ سر کننگے۔ دانا کاروان نا گواچن آ مسخت ہم اندادے کہ ہر اسہ بلوچ تینا دہیاڑ و کسرشون تا بابت سرپند مرے۔
دا کاروان ساندہ سلامت مرے🌹
The BKK is one of largest program of the organisation (@BSAC_org ). The BKK seek to promote the reading-culture amongst the Baloch society with a diverse range of topics. It aims to foster the intellectual growth.
Everyone is encouraged to participate in the campaign of BKK.
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بی وائی سی کے پرامن بلوچ قیادت کے خلاف ریاست قانون کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے ۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، اور انکے ساتھیوں کے غیر قانونی حراست کو 10 مہینے مکمل ہو چکے ہے ، اس دوران بلوچستان سے لے کر اسلام آباد تک انکے رہائی کیلئے پر امن دھرنے اور تحریک چلائیں گئے اور اب عدالتوں میں انصاف کی جنگ لڑ رہے ہے۔ بی وائی سی لیڈران پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹ اور بغض پر مبنی ہے اور ریاست بی وائی سی کے سیاست اور عوامی پزیرائی سے خوفزدہ ہونے کے وجہ سے اب تک انہیں پابند سلاسل رکھے ہوئے ہے ۔
تفصیل بابت درخواست ضمانت
کوئٹہ میں مزید چھ ایف آئی آرز میں ضمانت مل چکی جن میں چار سیٹی سیشن کورٹ اور دو سریاب ڈیوژن نے دی ہیں۔
اور مستونگ میں بھی دو ایف آئی آرز میں جوڈیشل مجسٹریٹ کورٹ کی طرف سے ضمانت مل چکی ہیں۔
مزید یه کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے قلات میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو گلزادی شاہجی اور بیبرگ بلوچ کے خلاف چار ایف آئی آرز درج کیں۔جن میں انہیں ریاست کی جانب سے مجرم ثابت کرنے کی کوششوں کے باوجود، اینٹی ٹیررزم کورٹ قلات نے تمام درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کر دیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مقدمات بے بنیاد ہیں۔
مجموعی طور پہ اس ہفتے میں ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کے ساتھیوں کو بارہ مختلف مقدمات میں ضمانت مل چکی ہیں۔
یہ تمام ایف آئی آرز جنوری اور فروری کے دوران درج کی گئیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم اور مربوط ریاستی حکمتِ عملی ہے۔ اس طرزِ عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست نے مذاکرات کے بجائے جبر اور انصاف کے بجائے خوف و ہراس کو اختیار کیا ہے۔ مگر ان کیسز میں ثبوت اور دلیل کے بجائے پروپیگنڈہ کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا جو کسی بھی عدالت میں شواہد کے دائرے میں نہیں آتے ، جس نے ریاستی اداروں کے مکروہ نیت کو بے نقاب کیا ہے ۔
یہ ایف آئی آرز محض اسٹریٹجک لِٹیگیشن ہیں—یعنی ایسے مقدمات جو ایک ہی نوعیت کے ہیں—جن کا مقصد صرف اور صرف بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی قیادت کو ہراساں کرنا اور قید میں ڈالنا ہے۔ جب ریاست کو شواہد نہیں ملتے تو وہ مقدمات گھڑتی ہے۔
ایک واقعے کے اوپر متعدد ایف آئی آرز درج کرنا غیر قانونی اور واضح بد بیتی ہے جیسے کہ جنوری 2025 میں دالبندین جلسے کے خلاف مختلف اضلاع میں ایف آئی آرز درج کی گئیں، جو سیاسی کارکنوں کو طویل اور نہ ختم نہونے والی قانونی جنگ میں الجھانے کا ایک آزمودہ ہتھکنڈا ہے۔اس کی وجہ بالکل واضح ہے: BYC قیادت کے خلاف کوئی براہِ راست یا ناقابلِ تردید ثبوت موجود نہیں۔ اسی لیے ریاست ایک ہی واقعے پر بار بار ایف آئی آرز درج کر کے یہ سمجھتی ہے کہ تعداد، ثبوت کی کمی پوری کر دے گی۔
یہ عمل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 13 کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو ڈبل جیوپرڈی یعنی ایک ہی الزام پر بار بار مقدمہ چلانے سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ریاست محض اس لیے کسی شہری کو بار بار کٹہرے میں کھڑا نہیں کر سکتی کہ وہ عدالتی نتائج سے مطمئن نہیں۔
ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف قلات میں سی ٹی ڈی نے ماہ گنج بلوچ کے خودکش حملے کے حوالے سے ایف آئی آر درج کیا ، ایک ایسا الزام جو جتنا مضحکہ خیز ہے اتنا ہی بدنیتی پر مبنی ہے۔اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جب چار پنجابی مزدور ایک مسلح تنظیم کے ہاتھوں قتل ہوئے تو ریاست کی یہی مشینری خاموش رہی۔ اور اصل ملزمان کے خلاف سنجیدہ کارروائی کی لیکن اس واقعے کے ایف آئی آر بھی بی وائی سی کے پر امن سیاسی لیڈران کے خلاف درج کی گئی۔ان تمام کیسز سے بی وائی سی لیڈران کو سیشن کورٹ نے ضمانت دے دی ہے۔
بلوچستان میں سیاسی جدوجہد کو جرم بنا دیا گیا ہے، پُرامن سیاسی قیادت کو نشانہ بنا کر ریاست سیکیورٹی قائم نہیں کر رہی بلکہ اپنی آئینی ساکھ کو خود تباہ کر رہی ہے۔ جسے دہشتگردی کے خلاف کاروائی کا نام دیا جاہ رہا ہے۔یہ اختلافِ رائے اور سیاسی اجتماع کو جرم بنانے کی ریاستی پالیسی ہے ،یہ قانونی ہراسانی کے ذریعے اجتماعی سزا ہے۔
یہ ایف آئی آرز اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست پرامن مزاحمت سے خوفزدہ ہے۔جب آوازوں کو طاقت کے ذریعے خاموش نہیں کیا تو قانون کو ہتھیار بنا لیا جاتا ہے ۔
لیکن تاریخ گواہ ہے: جو قوانین ظلم کے لیے استعمال ہوتے ہیں، وہ آخرکار ظالم کو ہی بے نقاب کرتے ہیں۔
#ReleaseBYCLeaders
The forcible disappearance of Lecturer Balach Baali, is an illegal at. It is the sign of not being safe irrespective of the profession one belongs. The violation of human rights & dignity is the most serious concern regarding the safety of a person.
#ReleaseBalachBali
Academics in Balochistan now face the same danger that has targeted Political activists, Workers and students . Security agencies continue to pick up teachers and researchers without warrants or disclosure. Each new disappearance shows that the state is not only ignoring the law, it is expanding its reach into every space where independent thought exists.
The growing impunity of the state has removed any barrier to further abuses. Security institutions act without oversight and silence every voice that demands accountability. If society fails to resist, enforced disappearance will become an accepted tool of control.
#ReleaseBalachBali
اُستاد مراد پاکوہی اسہ لیجنڈری گلورکار ئس ئسک، ہرا تینا وخت آن ہلیس اینو نا زنک ئکن اسہ پنی ءُ شعر پاروکو لیجنڈ ئس چائنگک۔ اینو ہم اونا پاروک آ شعرآک بننگرہ، نہ بیرہ بننگرہ بلکہ اودے شرف بشخیسہ اونا پاروک۔ شعر آتے دوبر جوڈ کننگک(ریمیک کننگک)۔
#UstaadMuraadParkohi🌹
For Public Information:
We have formally withdrawn our consent for Mr. Kurtulus Bastamir to continue representing Dr. Mahrang Baloch’s case before the UN Working Group on Arbitrary Detention.
Given the importance and sensitivity of this case, and following detailed consultations with Dr. Mahrang Baloch, her organisation, her legal advisors, and several international human rights groups, it was mutually agreed that Dr. Mahrang Baloch should now be represented by an institution/organisation with broader capacity, stronger follow-up mechanisms, and the ability to provide consistent updates.
We remain grateful to Mr. Bastamir for his efforts and the time he dedicated to internationalising Dr. Baloch’s case. Discussions are currently underway with an international organisation, and a new representative will be announced soon.
#ReleaseMahrangBaloch
#ReleaseBYCLeaders
Between September and October, more than a hundred people were added to the Fourth Schedule and placed on the Exit Control List (ECL) from across Balochistan. Since the @PPP_Org assumed power in Balochistan, anti-terrorism laws have been abused more than ever.
The Fourth Schedule, ECL, and Cyber Crimes laws are increasingly used to target political dissent and peaceful human rights activists.
This month, I, along with @SammiBaluch, other BYC members, @ShaleeBaloch from the Baloch Women Forum, 32 residents of Dera Bugti, 26 from Dalbandin, and several others from Kech, Kalat, Kharan, and Mangochar, were among hundreds placed on the Fourth Schedule.
I have also been placed on the ECL and received a government summons. There is a growing trend of enforced disappearances affecting both men and women, while hundreds of others are being added to various terror watch lists.
If we raise concerns today about the misuse of anti-terror laws, some may not take them seriously. However, this pattern will have broader consequences for the rest of Pakistan in the future.
@HRCP87@amnestysasia@amnesty@MaryLawlorhrds@UN_HRC@EUPakistan
چھ مہینے صرف بی وائی سی کے رہنماؤں کی قید تک محدود نہیں رہے، بلکہ ان چھ مہینوں نے ہر جبر کا پردہ فاش کر دیا ہے — جھوٹی پریس کانفرنسیں، بے بنیاد الزامات، پُرامن آوازوں پر کریک ڈاؤن، نہتے شہریوں کا قتلِ عام، ججوں کی بے بسی اور قانون کی تذلیل۔ عدالتیں اگرچہ بے بس ہیں، مگر لاقانونیت نے خود ثابت کر دیا ہے کہ کون مجرم ہے اور کون حق گو۔ اور حقیقت کا عیاں ہو جانا دراصل جیت کا اعلان ہے۔
#EndUnfairTrailOfBYCLeaders
#ReleaseBYCLeaders
𝗦𝗢𝗖𝗜𝗔𝗟 𝗠𝗘𝗗𝗜𝗔 𝗖𝗔𝗠𝗣𝗔𝗜𝗚𝗡
It has been over six months since the illegal detention of Baloch Yakjehti Committee (BYC) leadership - including Organizer Dr. Mahrang Baloch, along with Bebagar Baloch, Sighatullah Shah Ji, and activists Beebow Baloch and Gulzadi Baloch.
Despite the absence of any proven charges, their judicial proceedings are being conducted inside jail premises, a blatant violation of fair trial principles and judicial transparency.
In protest of this continued unlawful detention and the denial of a fair and open hearing, BYC announces a three-day online campaign on X (formerly Twitter) from 15th to 17th October 2025. The campaign will call for the immediate and safe release of all detained leaders and demand that justice be served transparently and publicly.
We urge human rights defenders, journalists, and concerned citizens worldwide to join this campaign and raise their voices for justice, accountability, and protection of human rights in Balochistan.
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders
#ReleaseBYCLeaders
Date: 15th to 17th October 2025
The central leader of Baloch Yakjehti Committee (BYC), Beebarg Baloch, a young paraplegic man, was taken for surgery today while still in illegal detention.
He has been suffering from severe muscle atrophy as a result of receiving subpar medical care. This has led to the development of deep vein thrombosis, a hazardous and potentially lethal condition. Due to a urethral stricture that blocked his ureteral system, he has been fighting a painful infection since September. He was at a high risk of developing septicaemia and kidney failure due to this condition.
Our legal and medical teams had to repeatedly petition the Anti-Terrorism Court (ATC) for approval, even though the surgery was desperately needed.
After several months of waiting, the surgery was eventually carried out. However, the authorities plan to sent him back to jail right away rather than being placed under medical observation or taken to a medical facility for rehabilitation.
This careless choice demonstrates total indifference to his vulnerable circumstances. His health is deteriorating quickly as a result of inadequate care. He has already endured months of suffering without getting the immediate medical attention he needs. His condition requires thoughtful, timely action.
#ReleaseBYCLeaders
#StopBalochGenocide