ایسے جاہلوں کو جواب دینا میرے لئیے تکلیف دہ ہے مگر اس جاہل نے قران کو غلط طریقے سے استمال کیا ہے اسرائیل کی محبت میں اس لئیے اس یہودی نما انسان کو تفصیل سے جواب دینا میرا فرض ہے کہ دوسرے گُمراہ نہ ہو جائیں۔
تفصیل حاضر ہے۔
۱۔ لفظ “اسرائیل” قرآن میں کسی ملک یا وطن کے لیے نہیں آیا، بلکہ نبی یعقوب علیہ السلام کے لقب کے طور پر آیا ہے۔
۲ “بنی اسرائیل” سے مراد ان کی اولاد (Children of Israel) ہے۔ یہ ایک قوم/نسل کی نشاندہی کرتا ہے، نہ کہ کسی جغرافیائی ملک کا۔
قرآن میں “اسرائیل” کا مطلب۔
۳۔ اسرائیل نبی یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے۔
۴۔ قرآن میں “بنی اسرائیل” کا ذکر تقریباً 40-43 بار آیا ہے۔ یہ ان کی تاریخ، نعمتوں، عہد اور بعض اوقات نافرمانی کا ذکر ہے تاکہ سبق ملے۔
مثال کے طور پر۔
۵۔ سورۃ البقرہ: “یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ اَذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ…”
(اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمتیں یاد کرو جو میں نے تم پر کیں…)
قرآن میں “فلسطین” یا “اسرائیل” جیسا کوئی ملک کا نام بالکل نہیں آیا۔ یہ تمام بنی اسرائیل کی تاریخی قوم کے بارے میں ہے۔
یہ دعوہ سراسر غلط ہے اور قران کی آیت کی توہین ہے۔
۶۔ 43 بار ذکر = ان کا وجود/حق ملکیت؟
غلط۔
یہ ذکر تاریخی قوم کا ہے، نہ کہ 1948 کی جدید ریاست اسرائیل کا۔ قرآن ان پر نعمتیں بیان کرتا ہے مگر ان کی نافرمانی اور فساد فی الارض (دو بار) اور سزا کا بھی ذکر ہے (سورۃ الاسراء 4-8)۔ یہ آج کی سیاست کی توثیق نہیں کرتا۔
۷۔ فلسطین کا نام رومیوں نے رکھا؟
جزوی طور پر درست مگر نامکمل۔ رومیوں نے 135 عیسوی میں یہودی بغاوت کے بعد Judea کا نام Syria Palaestina رکھا۔ مگر یہ نام اس سے پہلے بھی Greek اور Assyrian تحریروں میں موجود تھا۔
۸۔ اسرائیل یہودیوں کا اسلام سے قبل کا وطن ہے؟
تاریخی طور پر “سرزمین اسرائیل” (Eretz Israel) کا بائبل میں ذکر ہے جہاں بنی اسرائیل کی سلطنتیں تھیں۔ مگر۔۔۔۔۔
۹۔ یہ علاقہ مختلف سلطنتوں (کنعانی، مصری، بابلی، رومی وغیرہ) کا حصہ رہا۔
۱۰۔ مسلم تاریخ میں یہ فلسطین کہلاتا رہا (خلافت راشدہ، اموی، عباسی، عثمانی دور)۔
۱۱۔ قرآن اس سرزمین کو “مقدس زمین” کہتا ہے (سورۃ المائدہ 21) مگر بنی اسرائیل کو دی گئی نعمت مشروط تھی (عہد نبھانا)۔ یہ آج کی ریاست کی ملکیت ثابت نہیں کرتا۔
خلاصہ:
یہ شخص قرآن کی آیات کو سیاسی طور پر twist کر کے پیش کر رہا ہے۔ قرآن بنی اسرائیل سے سبق دیتا ہے نعمتوں کا شکر، عہد نبھانا اور فساد سے بچنا۔
لفظ اسرائیل صرف پیغمبر یعقوب علیہ السلام کے لیے ہے، کسی ملک کے لیے نہیں۔
اللہ ہمیں حق سمجھنے کی توفیق عطا کرے بشمول میرے۔ آمین۔
میں نے ٹُوئیٹ لکھا دل کی گہرائیوں سے۔ عمران خان کی محبت میں کہ وہ جیل میں مشکلات اُٹھا رہا ہے ہم سب باہر عیاشیاں کرتے ہوۓ کہہ رہے ہیں کہ وہ جیل ہی میں رہے کیونکہ وہ بہادر ہے۔
یقیناً وہ بہادر ہے مگر اس کے شیدائ بُزدل ہیں۔ اتنے بُزدل کہ اپنی تصویر تک نہیں لگا سکتے ڈی پی پر۔ نام تک صحیح نہیں لکھ سکتے اور کہتے ہیں کہ ہم ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ اُٹھا لئیے جائینگے۔ یعنی وہ عمران بیچارہ اٗٹھا بھی لیا گیا اور جیل میں پِس نھی رہا ہے مگر اُسے پِسنے دیں کیونکہ ہم بُزدل ہیں اور جھوٹی ڈی پیز کے پیچھے رہ کر آواز اُٹھاتے رہیں گے اور وہ آواز جس سے عمران خان اور زیادہ جیل میں رہیگا مگر سڑک پرآکر احتجاج نہیں کرینگے۔
دوسری بات جو کہ میں اپنی اصل تصویر کے ساتھ پاکستان میں رہ کر عمران کے لیے آواز اُٹھا رہاہوں اُس کو کہتے ہیں کہ میں اسٹیبلشمنٹ سے بِک گیا ہوں۔ تُف آپ کی سوچ پر
تیسری بات کہ جن کو پاکستان میں رہ کر بہادری دکھا کر لڑنا چاہئیے تھا وہ چپل چھوڑ کر بھاگ گئے اور باہر سے بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ وہ عمران خان کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اپنے آپ کو بہادر سمجھتے ہیں۔ واہ رہ آپ کی ایسی بہادری۔
چوتھی بات کہ وہ تمام وُزرا اور مُشیران کہاں ہیں جو عمران کے زمانے میں عیاشیاں کرتے رہے اور اب اپنے اپنے بِلوں میں چَھپ کے بیٹھے ہیں۔
پانچویں بات کہ 26 نومبر کو علی امین گنڈا پُور کوکیوں گولیاں نہیں لگیں۔ بچپن سے سُنتے آۓ ہیں کہ لیڈر سامنے سے لڑتا ہے جیسے ہمیشہ عمران خان نے کیا اور گولیاں بھی کھائیں۔ اور علی امین گنڈا پٗور چپل چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اب اُس واقعے کے بعد کوئ ماں یا کوئ بہن یاکوئ باپ اپنے پیارے کو کسی احتجاج میں جانے دےگا۔
اسی لیئے میں نے عمران خان کی بے بسی اور اپنی ہی پارٹی کی بُزدلی دیکھ کر لکھا کہ اللہ جلد رہا کرے اور وہ باقی زندگی اپنے بچوں کے ساتھ گُزارے۔ اور پھر یہی کہونگا۔ اس انسان کو اپنی زندگی گزارنے کا حق ہے۔ بزدلوں کے لیئے بہادری دکھا کر زندگی بھر جیل میں رہنے کا حق نہیں۔
ہر عید پر دُعا کرتا ہوں اور آج بھی کرونگا۔
اللہ کرے کے عمران خان رہا ہوجاۓ۔ آمین۔ اور یہ میری ذاتی خواہش ہے کہ وہ اپنی باقی لمبی زندگی (آمین) اپنے بچوں کے ساتھ گُزارے۔
@MirMAKOfficial Assalamualaikum Mir uncle aap ka channel Mary liy 2nd channel hoga jisay m Dekho gi..or wo life m positive motivation rakhnay k liy.. Allah aap ko yaha bhi kamiyab kary..ameen
میں نے عید کے فوراً بعد اپنا یوٹیوب چینل لانچ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان شاء اللہ۔
یہ چینل آپ کی مدد کے لیے ہو گا۔
کوئی سنسنی خیز مواد نہیں، کوئی سستی سیاست نہیں۔
ٹاپکس ہوں گے:
خود کو بہتر بنانا (Self Improvement)، عالمی امور (Global Affairs)، فنانس (Finance)۔
1. میں اپنے تمام کیپیٹل مارکیٹس کے ویڈیو کورسز سب کے لیے مفت اپ لوڈ کروں گا، بشمول میرا انویسٹمنٹ بینکنگ کورس بھی مکمل طور پر FREE ہونگے۔
2. میں عالمی مسائل، عالمی معیشت اور سیاسی معیشت پر ویڈیوز بناؤں گا۔
3. میں نوجوانوں اور تمام عمر کے لوگوں کے لیے سیلف امپروومنٹ ویڈیوز بناؤں گا تاکہ وہ زندگی کی رکاوٹوں کا سامنا کر سکیں، مثبت سوچ پیدا کریں اور کامیاب ہو سکیں۔ تمام ویڈیوز اردو میں ہوں گی اور کبھی کبھی انگریزی میں بھی۔
ج
4. ہفتے میں ایک بار میں ناظرین کے سوالات لوں گا اور انہیں رہنمائی دیتے ہوئے جواب دوں گا۔
براہ مہربانی ری ٹویٹ کریں۔
بھارت نے 28 فروری کو ایران پر حملے کے بعد پیٹرول کی قیمت میں ایک پیسہ بھی اضافہ نہیں کیا جنگے سے پہلے بھارت میں پیٹرول 95 روپے لیٹر تھا آج بھی 95 روپے ہے افغانستان میں جنگ سے پہلے پیٹرول 65 افغانی تھا آج 72 روپے افغانی ہے بنگلہ دیش میں جنگ سے قبل 116 ٹکہ تھا آج 135 ٹکہ ہے۔۔اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہمارے فیصلہ ساز کتنے بے رحم ہیں۔
#oilprices
پھر پیٹرول پندرہ روپے مہنگا۔ یہ حکومت ایک سنگ دل ترین حکومت ہے۔ پتھر کا دل ہے ان کا۔ ان کو انرجی مینیجمنٹ کا الف نہیں پتہ۔ نہ کبھی پیٹرول کے زخائر بڑھانے کی کوشش کی نہ ریزروز مینجمنٹ کا کوئ لائحہ عمل بنایا۔
بینالاقوامی تیل کی قیمت پچھلے مہینے کے لحاظ سے بائیس فیصد کم ہوئی ہے تو ہمارے یہاں کیوں بڑھ رہی ہے۔ اور ہمارا تو تیل کا کوئ جہاز ایران نے روکا تک نہیں ہے۔
اور اس بُرے وقت میں تیل پر جو ٹیکس ہے وہ عارضی طور پر چند مہینوں کے لئیے کم کیوں نہیں کردیتے ؟
گیارہ ارب کے جہاز کے تیل کے لئیے پیسے ہیں مگر عوام کے لئیے کچھ نہیں۔
افسوس صد افسوس۔
فارم 47 کی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 15، 15 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا، ان کو عوام کی فکر کیوں ہو گی؟ یہ کوئی عوام کے ووٹوں سے آئے ہیں؟ یا یہ اب عوام میں جا سکیں گے؟ بنگلادیش کیلئے جنگ کے اثرات نہیں ہیں یہ سارا نزلہ ہم پر کیوں گر رہا ہے؟ وزیراعظم، وزراء، ججز، جرنیل، اعلی بیوروکریسی کسی پر بھی اثر نہیں پڑ رہا صرف غریب اور مڈل کلاس رگڑے گئے، کیا غضب ڈھا رہے ہیں عوام پر، کوئی پرسان حال نہیں
@IG_Zahra اگر واقعی ایسا ہے تو خان کو قبول کر لینی چاہیے۔
اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو کیوں، کیا اس کو امید ہے کہ یہ قوم اور پارٹی کے غدار اس ملک میں انقلاب برپا کر دیں گے تو وہ محض خام خیالی ہے۔
یہ نہیں ہونے والا!!
@IG_Zahra خان کو مزید اس منافق قوم کے لیے اپنے اپ کو اذیت دینے کی ضرورت نہیں خان کو ڈیل کر لینی چاہیے اور اس منافق قوم کو اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔
kindly if u can share this one too
i saw on fb today
58 دن قبل یہ ننھی شرارتی بچی داتا دربار سے روتی ہوئی ملی جسے اغواء ہونے سے پہلے ہی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت داتا دربار پولیس کی تحویل میں دے دیا ۔
اس کے بعد اس بچی کی کئی بار کمپین چلائی گئی اب سمجھ نہیں آرہی کہ والدین کیوں رابطہ نہیں کر رہے یا ان تک خبر نہیں پہچ رہی ۔
خیر بچی اپنا گھر فیصل آباد بتاتی ہے والد کا نام محمد علی اور اپنا نام عائشہ بتاتی ہے ۔
ابھی چھوٹی ہے اس لیئے محسوس نہیں ہورہا شرارتیں کرتی رہتی ہے
اس کو اپنے گھر کا پتہ یاد نہیں ہے روزانہ کی بنیاد پہ بچے ملتے اور غائب ہوتے ہیں
ابھی دن بھی زیادہ نہیں ہوئے ہیں پلیز ساتھ دیں میرا پیارا ٹیم کئی بار کمپین چلا چکی ہے اس وقت شلٹر ہوم میں باحفاظت موجود ہے ۔
کیا اس ننھی گڑیا کو آپ جانتے ہیں اگر جانتے ہیں تو پہلے کومنٹ میں ویڈیو موجود ہے دیکھ لیں
اور اس کے والدین تک پہنچانے میں ساتھ دیں
حارث
سینما کھلے ہیں, پارکس کھلے ہیں, شاپنگ پلازہ کھلے ہیں, ریسٹورنٹس کھلے ہیں, تفریحی مقامات کھلے ہیں, میچز ہو رہے ہیں, کنسرٹس سج رہے ہیں, سڑکوں پہ رش ویسا ہی ہے, پٹرول بھی جل رہا ہے, شور بھی وہی ہے لیکن سکول بند ہیں کیوں کہ پیٹرول بچانا ہے
کتاب خاموش ہے, کلاس خالی ہے, بچوں کا وقت رکا ہوا ہے
روشنی ہر جگہ ہے, سوائے درسگاہ کے
فیصلے سب ہو رہے ہیں, لیکن مستقبل کا نہیں
وقت ملے تو سوچیے گا ضرور
حکومت پاکستان نے یہ اعلان کیوں نہیں کیا کہ تمام سرکاری افسران کے لیئے مُفت پیٹرول کی مراعات ختم سواۓ پولیس ایمبولیس اور حفاظتی اداروں کے۔۔۔۔۔
ہمیشہ بم عوام پر ہی کیوں گرتا ہے۔
عمران خان کو سازش کے ذریعے رجیم چینج کر کے اقتدار سے ہٹایا گیا، اس کی جماعت کے احتجاج پر قدغنیں لگیں، اسے زندان میں ڈالا گیا۔ الیکشن چوری کرلیا۔ یہ سب کوئی نئی بات نہیں، سیاستدانوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے، اور وہ اپنی جماعت اور حامیوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں۔
لیکن گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ بدسلوکی، اور قید میں لے جانے کے بعد ان کی آواز، اس کا چہرہ، اس کی آئینی شخصی آزادی چھین لینا، یہ پوری قوم کا معاملہ بن گیا اور ایک شخص تک محدود نہ رہا، اس سے قوم کو ایک گہرا اور منفی پیغام گیا۔
خدا کی قسم، اکثریت کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان تو ہے، مگر اس کی روح نہیں رہی۔ ملک ایک زندہ لاش کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ نہ کوئی امید، نہ کوئی دلچسپی، نہ وہ قومی جذبہ۔ عجیب احساس ہے جو شاید موضوع الفاظ میں بیان بھی نہی کیا جاسکتا۔
قید یا اغوا کہیں تو بہتر ہے، اغوا کیا جانے والا عمران خان صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھا، وہ اس قوم کا پاکستان اور دنیا بھر میں فخر تھا، دہائیوں سے ایک ہیرو تھا۔ وہ تین نسلوں کی پسند تھا۔
وہ ورلڈ کپ نہ بھی جیتتا تو بھی لوگ اسے عظیم مانتے، وہ شوکت خانم اسپتال نہ بھی بناتا تو بھی اس کے لیے دلوں میں محبت ہوتی۔ وہ نمل یونیورسٹی کا قیام نہ بھی کرتا تو لوگ اسے عشق کرتے۔ اس کا تعلق صرف کارناموں سے نہیں تھا، ایک احساس سے تھا۔ کیونکہ اس نے ہمیشہ ملک کا نام روشن کیا تھا اور دنیا میں پاکستان کی پہچان تھا۔
جن لوگوں نے یہ فیصلے کیے، انہوں نے شاید ایک حکومت بدلی اور ایک سیاسی رہنما کو نظروں اور سماعتوں سے دور کردیا، مگر ہمارے اندر سے پاکستانیت کا ایک حصہ بھی کاٹ دیا۔
ایسا نہیں کہ ہم غدار ہو گئے یا وطن سے نفرت کرنے لگے۔ نہیں! کبھی نہی! مگر اپنے ہی ملک میں ایسے رہنے لگے ہیں جیسے کوئی پردیس میں رہتا ہے۔
جہاں اس بات سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ کس کی حکومت ہے۔ بس کمانا ہے، وسائل استعمال کرنے ہیں، بچوں کی تعلیم دیکھنی ہے، کھانا پینا ہے، کہیں گھوم پھر لینا ہے۔
پردیس میں رہنے والے عموماً اس زمین سے محبت یا نفرت کے رشتے میں بندھے نہیں ہوتے، وہ صرف اپنی سہولت اور آرام دیکھتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی احساس پاکستان میں رہتے ہوئے ہونے لگا ہے۔
آگے کیا ہوگا، کیا قومی جذبہ دوبارہ جاگے گا، کیا پہلے جیسی پاکستانیت لوٹ آئے گی، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جین زی تو ویسے ہی اس سب میں کوئی خاص دل چسپی نہیں رکھتی، ان کی ترجیحات مختلف ہیں۔
شاید ہم ہی آخری نسل تھے جو قومی نغمے سنتے تھے، جہاں بھی دنیا میں ہوں، دل میں پاکستانیت لیے پھرتے تھے۔ نئی نسل کو اس میں کشش نظر نہیں آتی۔
جو فیصلے کرنے والے تھے، انہوں نے ہمارے اندر سے پاکستانیت کو جیسے مٹا دیا، ہمیں بھی اسی بے حسی کا حصہ بنا دیا۔
آپ نے صرف عمران خان کو قید نہیں کیا، اس کے حقوق سلب نہیں کیے، آپ نے کروڑوں دلوں میں بسے ایک جذبے کو زخمی کیا ہے، اور ایک پوری قوم کو یہ احساس دیا ہے کہ اس کی آواز کی کوئی حرمت باقی نہیں رہی۔
شاید یہ موضوع حساس ہو، مگر اسے بیان کرنا ضروری ہے، تاکہ یہ احساس، یہ درد، اس دور کی ڈیجیٹل تاریخ میں محفوظ ہو جائے۔ کبھی نہ کبھی، کوئی اسے پڑھے اور سمجھے کہ اس زمانے میں ناانصافی اور لوگوں کے احساسات کا اندازہ کرسکیں۔ ۔
عمران خان کو چاہیے کہ اِس مُردہ قوم پر لعنت بھیجے اور اپنے بچوں کے پاس چلا جائے۔ جاتے وقت پارٹی کو ختم کرنے کا اعلان کر دے تا کہ بِلوں میں چھپے بیٹھے نمک حرام کھمبے جو عمران خان کے مرنے کا انتظار کر رہے، ان کا مزار کے مجاور بن کر سیاست جاری رکھنے کا خواب مٹی میں مل جائے۔