Artificial intelligence must ultimately serve people and advance sustainable development. It can help improve education and healthcare, strengthen climate resilience, create productive employment, enhance public services, and accelerate progress towards the Sustainable Development Goals.
But technological progress will not automatically translate into human progress. If developing countries lack access to infrastructure, computing capacity, skills, finance and knowledge, AI risks widening rather than narrowing existing inequalities. Our task, therefore, is to ensure that the AI revolution is both innovative and inclusive.
Pakistan's statement delivered by H.E. Sheikh Jaffar Khan Mandokhail, Governor of Balochistan Province of Pakistan at the Youth and AI Summit 2026
Please watch the complete national statement below
خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کا اہم ترین فیصلہ۔۔۔
سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز ایک سرکاری اسکول کی ہیڈ مسٹریس پر عائد وہ سخت سزا بحال کر دی جو انہیں اپنی نگرانی میں کام کرنے والی خواتین اساتذہ کو جنسی ہراسانی سے بچانے میں ناکامی اور سنگین غفلت برتنے پر دی گئی تھی۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے تمام تعلیمی اداروں کے لیے وسیع تر ہدایات بھی جاری کیں، جن میں کام کی جگہ پر ہراسانی سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔
جسٹس مظہر کے تحریر کردہ 12 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں مرد ساتھیوں کی جانب سے خواتین اساتذہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنا "ایک سنگین خلاف ورزی، غیر قانونی رویہ اور قانون، اخلاقیات، کام کی جگہ پر وقار اور خود داری کے منافی عمل" ہے۔
فیصلے میں وضاحت کی گئی کہ جنسی نوعیت کے غیر مطلوبہ تبصرے، جملے بازی، لطیفے یا پیغامات، آوازیں کسنا اور دیگر نامناسب رویے، ملازمت کے فوائد کے بدلے ناجائز مطالبات یا دباؤ، بلا اجازت جسمانی رابطے کی کوششیں، اور کام کی جگہ پر دشمنی یا عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرنا نہ صرف فرد کے وقار اور تحفظ کی خلاف ورزی ہے بلکہ پورے ادارے کے ماحول کو بھی متاثر کرتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کا رویہ خواتین اساتذہ کے لیے کام کی جگہ پر عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے اور پوری توجہ اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے ساتھ مؤثر انداز میں تدریس کے فرائض سرانجام دینے کی ان کی صلاحیت میں رکاوٹ بنتا ہے۔
عدالت نے پنجاب سروس ٹربیونل، لاہور کے 8 دسمبر 2023 کے اس حکم کو بھی کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت ہیڈ مسٹریس شازیہ اقبال کو دی جانے والی سزا میں کمی کی گئی تھی۔ ٹربیونل نے سزا کو پانچ سالہ سابقہ سروس کے ضبط ہونے سے کم کر کے ایک سال کی سروس ضبط کرنے میں تبدیل کر دیا تھا۔
فیصل آباد کے علاقے لائل پور ٹاؤن میں واقع گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر میں بطور پرنسپل/ہیڈ مسٹریس (بی ایس-17) تعیناتی کے دوران، شازیہ اقبال کو 'پنجاب ایمپلائز ایفیشینسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹبلٹی ایکٹ 2006' کے تحت وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
الزامات کے مطابق، ہیڈ مسٹریس نے اس حقیقت کو نظر انداز کر کے سنگین غفلت کا مظاہرہ کیا کہ اسپیشل تھراپسٹ (بی ایس-17) کامران خان غیر قانونی طور پر گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر کی حدود میں رہائش پذیر تھے۔ مبینہ طور پر وہ خواتین اساتذہ کو بلیک میل کر کے، انہیں غیر اخلاقی تعلقات پر مجبور کر کے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر ہراساں کرنے کے عادی تھے، جس سے ادارے کا ماحول شدید متاثر ہوا اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے ناموافق ہو گیا۔
جسٹس مظہر نے ریمارکس دیے کہ تعلیمی اداروں کو 'الما میٹر' (علم و تربیت دینے والی ماں) کا درجہ حاصل ہے — یعنی یہ علم و آگاہی کے وہ قابلِ احترام مراکز ہیں جو انسان کے کیریئر، ذہنی نشوونما، پیشہ ورانہ شناخت اور شخصیت کو تشکیل دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ادارے ہر طالب علم اور سابقہ طالب علم کی جانب سے تاحیات احترام کے مستحق ہیں کیونکہ وہ ان کی ذاتی اور تعلیمی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اپنی ہدایات میں اس بات پر زور دیا کہ ایسے تمام تعلیمی اداروں میں، جہاں مرد اور خواتین اساتذہ کام کرتے ہیں، کام کی جگہ پر ایک محفوظ اور صحت مند ماحول کو یقینی بنایا جائے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ہر ادارہ ہراسانی کے حوالے سے ایک واضح داخلی پالیسی اپنائے اور سینئر انتظامیہ (بشمول سربراہِ ادارہ) پر مشتمل رپورٹنگ کا ایک مؤثر نظام قائم کرے تاکہ شکایات کی منصفانہ تحقیقات کی جا سکیں۔ جہاں باقاعدہ قانونی عمل کے ذریعے الزامات ثابت ہو جائیں، وہاں ایسے غیر اخلاقی اور غیر قانونی رویے میں ملوث افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کی جانی چاہیے۔
عدالت نے حکم دیا کہ محکمانہ تحقیقات آزادانہ طور پر کی جانی چاہئیں اور ان کے لیے ضروری نہیں کہ کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کیے جانے سے تحفظ کے وفاقی یا صوبائی محتسب (Ombudsman) کے فیصلوں کا انتظار کیا جائے۔
جسٹس مظہر نے ریمارکس دیے کہ ہر تعلیمی ادارے کے سربراہ پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کام کی جگہ پر ایسا ماحول پیدا کرے جس میں جنسی ہراسانی کے خلاف 'زیرو ٹالرنس' (ہرگز برداشت نہ کرنے) کا واضح پیغام موجود ہو، اور ساتھ ہی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کو ادارہ جاتی معیار کے طور پر فروغ دیا جائے۔
معاملے کی سنگینی اور حساسیت کے پیشِ نظر، عدالت نے اپنے دفتر کو ہدایت کی کہ وہ اس فیصلے کی نقول وفاقی سیکرٹری تعلیم، چیف سیکرٹریز، تمام صوبوں کے اسکول اور ہائر ایجوکیشن کے سیکرٹریز، وفاقی محتسب اور صوبائی محتسبین کو ارسال کرے۔
حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ 'کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کیے جانے سے تحفظ ایکٹ 2010' کی دفعات 2(c) اور 11 کے تحت وضع کردہ 'ضابطہ اخلاق' پر سختی سے عمل درآمد اور بامقصد اقدامات کے ذریعے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں نچلی سطح پر جنسی ہراسانی کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔
عدالت نے وفاقی اور صوبائی وزارتِ تعلیم کو ہدایت کی کہ وہ ایسے دفتری احکامات یا سرکلر جاری کریں جن کے تحت تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان کے لیے لازم ہو کہ وہ 'کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کیے جانے سے تحفظ کے ضابطہ اخلاق' کو انگریزی کے ساتھ ساتھ مقامی زبانوں میں بھی نمایاں طور پر آویزاں کریں۔
عدالت نے ہر سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے کو یہ حکم بھی دیا کہ وہ قانون کے تقاضوں کے مطابق ہراسانی کی شکایات نمٹانے کے لیے ایک داخلی انکوائری کمیٹی تشکیل دیں، تاکہ متاثرہ خاتون استاد کارروائی کے لیے صرف ادارے کے سربراہ پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی شکایت براہِ راست کمیٹی کو جمع کروا سکے۔
#LegalAwarness #Harassment #Female #Eudcation #SupremeCourt #Woman #WomenRights #MianDawood
پنجاب میں CCD جو کھلے عام چھوٹ دی گئی ہے ماورائے عدالت انکاؤنٹرز کی جو بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہی ہے جبکہ کوئی روکنے والا نہیں۔
آسٹریلیا سے آئی ہوئی ایک فیملی کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جس میں ایک بچی شہید اور باقی شدید زخمی ہیں، گولیوں کے نشانات سے ہی اندازہ لگائیں کیسی اندھی دھن فائرنگ کی گئی۔
لاہور ہائیکورٹ کااہم فیصلہ؛خاتون کوحقِ مہرکی زمین کےبدلے2015کےریٹ پرقیمت دینےکافیصلہ کالعدم۔ماتحت عدالتوں کونکاح نامے کےحوالےسے اہم ہدایات۔خواتین کو نکاح نامے میں درج حق سے کسی بھی صورت محروم نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس سلطان تنویر
”وکالت ایک ایسا پیشہ ہے جسے "جیلس مسٹریس" کہا جاتا ہے یعنی اگر آپ نے اس سے ذرا بھی توجہ ہٹائی تو یہ آپ کو چھوڑ دیتی ہے۔ اس پیشے میں کامیابی کے تین اصول ہیں" کام، کام اور کام"۔ ایک وکیل کے پاس جب کوئی کلائنٹ آتا ہے تو سب سے پہلے اسے کیس کو مکمل طور پر سمجھنا پڑتا ہے۔ اگر کیس جائز ہو تو پھر اس کے ہر فیکٹ پر گہری تحقیق اور محنت کی جاتی ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات وکیل کو خود اپنے کلائنٹ سے بھی زیادہ معلومات حاصل ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد انہی حقائق کو قانون کی روشنی میں ہر زاویے سے پرکھا جاتا ہے تاکہ کیس کو مضبوط بنایا جا سکے۔ پھر عدالت میں جا کر جج کو دلائل کے ذریعے قائل کرنا ہوتا ہے، جس کے لیے پہلے سے یہ تیاری بھی ضروری ہوتی ہے کہ جج کیا سوال پوچھ سکتے ہیں اور مخالف وکیل کیا دلائل دے سکتا ہے۔ اسی لیے ہر کیس کے لیے ایک وکیل کو اتنی محنت اور تیاری کرنا پڑتی ہے جیسے وہ کسی بڑے امتحان کی تیاری کر رہا ہو“
سینیٹر علی ظفر
#TeamAliZafar
🔴 Pédocriminalité : "Les violences sexuelles faites aux enfants sont devenues d’une banalité inquiétante : 160 000 mineurs en sont victimes chaque année en France", alerte Arnaud Gallais, président de l'association "Mouv' Enfants". #ToutEstPolitique#canal16
بھارت نے مسلمان شہریوں کو اپنی حقیقی عددی قوت کے انتخابی عمل میں استعمال سے روکنے کے لئے جو ہتھکنڈے استعمال کئے وہ کسی زمانے میں جنوبی افریقہ کے نسل پرست اور آج کے اسرائیل میں صیہونی بالادستی مسلط کرنے والوں نے متعارف کروائے تھے
@javeednusrat https://t.co/MueEbhPyqt