@JoeBiden عالمی دہشتگرد امریکہ دہشتگرد اسلام نہیں
ظلم و ستم میں اس سے ذیادہ اور کوئی بدنام نہیں
ایٹم بم سے جس نے ہلاکت پھیلائی تھی دنیا میں
سب سے بڑی یہ دہشتگردی دکھلائی تھی دنیا میں
ہر کوئی اس سچ سے واقف یہ کوئی الزام نہیں
عالمی دہشتگرد امریکہ دہشتگرد اسلام نہیں
راولاکوٹ: فیکٹ فائنڈنگ: " ساانول آکاش ایڈووکیٹ"
مقبوضہ کشمیر سرنکوٹ سے مہاجر اور مذہبی اسکالر اور شعبہ دعوت و اصلاح سے وابستہ مفتی موسئی کشمیر کے بھائی دینی مبلغ ساتھ تحریک کشمیر سے وابستہ اہم کردار ریاض عرف ابو قاسم کو راولاکوٹ کی ایک جامع مسجد میں صبح نماز کی ادائیگی کے بعد گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔ یہاں ایک تحریکی اور جماعتی نقصان ساتھ ایک لمحہ فکریہ بھی ہے۔ شہید ہونے والے بھائی بااخلاق اور انتہائی شریف و نفیس آدمی تھے۔
مسجد کی انتظامیہ کمیٹی سے وابستہ مظفرآباد کے رہائشی ایک شہری کے ایک مقامی صحافی کو دیئے انٹرویو بقول صبح فجر کے وقت ہم چھے سات لوگ نماز ادا کرنے آتے ہوتے تھے۔ مقتول پندرہ روز قبل ایک دینی کانفرنس میں شرکت کیلئے راولاکوٹ آئے اور یہیں مقیم تھے۔ وقوعہ وقت مسجد جاتے وقت میں، قاتل اور مقتول صرف تین لوگ تھے۔قاتل کمزور جسم کا مالک اور خاکی شرٹ پہنے تھا۔ 22 سال کی عمر کا لگتا تھا۔ اس نے آپنے رویہ سے یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ وہ ایک انتہائی بڑا جرم کرنے جا رہا ہے۔ اس نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی۔ ہم کل تین تھے۔ نماز کی ادائیگی بعد وہ سیدھا باہر کی طرف کونے میں گیا۔ بیگ کھولا اور اس کی زپ بند کی۔ سیدھا پاس آیا اور ابو قاسم کو دوران وردوظائف چار فائر مار دیئے۔ میں نے اسے آواز دے کر منع کیا تو اس نے مجھے خبردار کرتے روکا کہ اگر آپ آگے بڑھے تو میں آپ کو بھی گولی مار دوں گا میرا سپٹل لوڈڈ ہے۔ یہ کہہ کر وہ پسٹل تھامے ایک طرف گیا، ہیلمٹ اُٹھایا، پہنا اور پسٹل ہاتھ میں لیئے گیٹ سے نکل گیا۔ قوی آمکان ہے کہ ایک بندہ گیٹ پر بھی اُس کا منتظر تھا۔ قاتل وضع قطع سے پنجابی لگ رہا تھا جس کو پہلے کبھی بھی نہیں دیکھا لیکن اب ملے تو میں اُسے بخوبی پہچان سکتا ہوں۔ مسجد اور دینی مرکز زیر تعمیر ہے جس کی وجہ سے پہلے سے نصب سی سی ٹی وی کیمرے مکمل فعال یعنی ایکٹو نہ تھے۔
ایک دوسری رائے مطابق قاتل تین آفراد تھے۔ ایک مرکزی گیٹ پر تھا۔ دوسرا مسجد کے باہر تھا اور تیسرے نے اندر آ کر سجدے کی حالت میں آ کر اُن پر فائر کر دیئے۔ تینوں قاتل نے بڑی بڑی پاکٹ والے ٹراؤزر پہن رکھے تھے۔ اور ایک قیاس یہ جتایا جا رہا ہے کہ تحریک کشمیر سے جڑی لگاتار وہ تین کانفرنس جو بڑے عوامی رعب ساتھ انعقاد پذیر ہوئیں اس کے آفٹر شاکس کے طور پر ان کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ یوں یہ خدشات بھی سامنے آتے ہیں کہ ہمارے علاقوں میں تحریک کشمیر سے جڑے لوگوں خلاف ملک دشمنوں کا اثر ونفوز بھی خارج از آمکان نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ چند ٹکوں کی خاطر بکتے آپنوں کا قتل لمحہ فکریہ بھی ہے۔ان کے خاندان کے لگ بھگ دو درجن آفراد بھارتی قابض افواج کی بربریت کی بھینٹ چڑھتے شہید ہو چکے ہیں اور ٹارگٹ کلنگ، زاتی عناد یا تحریک دشمن ایجنٹوں کی سہولت کاری سے ایک تحریکی کردار ہٹا دیا گیا ہے۔
میں چونکہ خود بھی گاہے بگاہے کسی دینی نشست میں اس مرکز میں آتا جاتا رہا ہوں صرف شہید ہونے والے بھائی کی شخصیت اور وقوعہ دیکھ کر اندازہ ہے کہ اس بھائی کو بڑے منظم طریقے سے ٹارگٹ کلنگ سے شکار کیا گیا ہے۔ اگر رفقاء اور دیگر بھائی جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کی قیادت ساتھ مل کر تمام پہلووؤں کو مدنظر رکھتے چھان بین اور چہروں پر نظر دوڑائیں تو عینی شاہد سے کہیں بھی کسی جگہ مقیم قاتل بآسانی پکڑا جا سکتا ہے۔ چونکہ ایک بڑا نقصان ہوا ہے اس وجہ سے سارے دوست بھائی منظم حکمت سے جلد اس ظالم کا پتہ لگائیں جس نے بربریت سے مسجد اور انسانیت کا تقدس پامال کرتے ایک معصوم مگر تحریکی شخصیت کو قتل کیا۔ بازار میں نصب کیمروں کی چھان بین اور ناکہ بندی سے قاتل ٹریس کیئے جا سکتے ہیں۔ انتظار ہے
480 ارب روپے کی کرپشن کرنے والے ڈاکٹر عاصم حسین
کی اہلیہ ، پیپلز پارٹی کی طرف سے لگائی گئی وائس چانسلر جامعہ داؤد ڈاکٹر ثمرین حسین کا اسلامی جمعیت طلبہ کے رہنمائے داخلہ کیمپ پر طلبہ کو ہراساں کرنا قابل مزمت ہے ۔
حکومت وقت فی الفور سیاسی وائس چانسلر کو بر طرف کرے ۔
#Duet #DUET_Under_Facism #DawoodUniversity
باجوہ ، فیض اور ثاقب نثار کا بنایا ھوا کٹھ پتلی “ صادق و امین “ آج اپنے انجام کو پہنچا۔ اس سے غرض نہیں ، اس کی تو بہت پہلے پکڑ ھو جانی چاھیے تھی لیکن اس کردار کے تینوں اصل تخلیق کاروں کی پکڑ نہ جانے کب ھو گی ؟ ملک کو تباھی اور بربادی کی طرف لے جانے میں اور نواز شریف بے گناہ کو جان بھوج کا نشانہ بنانے والے یہ کردار پاکستانی عوام کے دلوں پر نقش ھو چکے ھیں ۔ کبھی تو مصلحت اندیشی اور نظریہ ضرورت کا سر نگوں ھو گا ۔ کبھی تو جمہور آزاد ھو گا ۔ کبھی تو مشرق کا سورج امید سحر بنے گا ۔ کبھی تو سویرا اصل آزادی طلوع ھو گا ۔
لیکن تب تک ھم ھوں یا نہ ھوں
یہ ضرور ھو گا
خدائی فیصلہ ضرور ھو گا۔
پاکستان حقیقی پاک ھو گا
صاف ھو گا۔ جب خدائی انصاف ھو گا ۔
انشااللہ ضرور ھو گا۔
ضرور ھو گا ۔
#سرٹیفائڈ_چور_عمران_خان
مفت لیپ ٹاپ سکیم کی شفافیت کا منہ بولتا ثبوت۔ یاد رہے یہ لیپ ٹاپ مطلوبہ کرائٹیریا پر پورا اترنے والے طالبعلموں کو بغیر سیاسی وابستگی جانے دیے جاتے ہیں۔
#بدحالی_سے_خوشحالی_کا_سفر