جلا کے طاق پہ رکھنے ہیں صف بہ صف یہ چراغ
ہوا کی آنکھ میں چُبھنے دو لَو بکف یہ چراغ
ہزار بھید وہ سینے میں لے کے بُجھتے ہیں
شبِ سیاہ کے بنتے ہیں جب ہدف یہ چراغ
کہانی کار کا چہرا نہ تیرگی میں کھُلے
سو داستان سے کرنا ہیں اب حذف یہ چراغ
ہماری آنکھ ہی منصف تھی تیرگی کا ثبوت
سو کاغذات میں رکھ دیں گے کر کے لف یہ چراغ
بجھے یوں شام کے ہاتھوں کہ رائیگاں نہ ہوئے
ہماری راکھ سے جلتے ہیں ہر طرف یہ چراغ
یزیدِ شب تری بیعت نہیں قبول سو آج
نشستِ جان سے ہوتے ہیں برطرف یہ چراغ
#عاطف_جاوید_عاطف
#urdupoetry #urdughazal
#azadimarch
#ImranKhan
#arshadshareef
***گرد****
دیارِ دنیا میں اپنی اپنی
انا کے پتھر اُٹھاۓ گلیوں میں بھاگتے یہ
فنا کے پیکر
ہوا کے رتھ پر سوار
نفرت سمیٹے بوٹوں سے گرد جتنی اُڑا رہے ہیں
یہ گرد بیٹھی تو ان کو اک دن دکھاٸی دے گا
کہ راستے سے کٹے ہوۓ تھے
ہوا کو ٹھوکر لگانے والوں کو کب پتا تھا
خود اُن کے چہرے اٹے ہوۓ تھے
عاطف جاوید عاطف
#nazm_e_atif #عاطف_جاوید_عاطف #urdupoetry #nazm
دل میں کسی کے پیار کی سرسوں کِھلی رہی
اپنا سفر تو ایک ہی پہلو میں طے ہوا
ملتے رہیں گے آپ جو ہم سے تو ��وز پھول
مہکا رہے گا آپ کے گیسو میں طے ہوا
عاطف جاوید عاطف
#عاطف_جاوید_عاطف
کچھ یاد نہ آنے کی دعا مانگ رہا ہوں
سب نقش مٹانے کی دعا مانگ رہا ہوں
اے رسمی تسلی سے، دلاسوں سے بھرے شخص
میں ضبط بڑھا��ے کی دعا مانگ رہا ہوں
یوسف نہ سہی پھر بھی کسی دستِ طلب سے
کُرتے کو بچانے کی دعا مانگ رہا ہوں
ممکن ہے سرک جاۓ ترے دل کی گُپھا سے
پتھر کو ہٹانے کی دُعا مانگ رہا ہوں
پُر اشکِ مناجاتِ مسلسل ہے مری آنکھ
اک شخص کے شانے کی دعا مانگ رہا ہوں
پھر طاقِ تعلق کے چراغوں کو خبر دو
اک شام منانے کی دعا مانگ رہا ہوں
اِس آنکھ رکابی کا نمک بڑھنے لگا ہے
کچھ خواب جلانے کی دعا مانگ رہا ہوں
شاعر: عاطف جاوید عاطف
#عاطف_جاوید_عاطف #ghazal_atifjavedatif
سبھی پہاڑوں پہ برف پڑنے کے منتظر تھے
اور ایک ہم تھے کہ دل پگھلنے کے منتظر تھے
خُنَک ہوا پھر لہو کی گردش بڑھا رہی تھی
چراغ پَوروں میں پھر سے جلنے کے منتظر تھے
وہ گرم ہاتھوں سے برف پُتلے بنا رہی تھی
جو بن چکے تھے وہ پھر بکھرنے کے منتظر تھے
بُریدہ شاخوں پہ سرد ہوتے ہوۓ وہ لمحے
کسی کے لہجے سے پھول جھڑنے کے منتظر تھے
وہ بون فاٸر کے پاس بیٹھی تھی اور شعلے
نمیدہ آنکھوں سے بات کرنے کے منتظر تھے
کسی کی چاہت کشید کرکے سفید ��الے
کسی کے مفلر پہ آن گرنے کے منتظر تھے
شاعر #عاطف_جاوید_عاطف