ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہیں کہ ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ، اور دیگر کے خلاف عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا سُنانا ایک شرمناک فیصلہ ہیں، اس فیصلے سے پیغام دیا گیا ہیں کہ جو ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گا وس کو سزا دی جائے گی
دفتر جاتے ہوئے روز یہ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ خستہ حال موٹر سائیکلوں پہ سوار پرانے کپڑے پہنے الجھے بالوں والے ابو لوگ اپنی بیٹیوں کو تعلیمی اداروں یا نوکری کی جگہوں پہ چھوڑ رہے ہوتے ہیں انکے پیروں میں معمولی سی چپلیں ہوتی ہیں لیکن آنکھوں میں خواب ہوتے ہیں کہ بیٹی کو طاقتور
یار دیکھو بات یہ ہے کہ پاکستان پچھلے سات آٹھ سال سے ایک معاشی جمود کا شکار ہے۔۔چلیں اگر مان بھی لیں کہ خان صاحب کو کچھ سمجھ ہی نہیں تھی تو جناب آپ نے کیا فرق ڈالا ہے ۔۔اپ تو بہت انترئیامی تھے ۔ باہر سے سرمایہ کاری کی بات بہت چلی ۔۔۔حافظ صاحب خود عربوں سے معاملات طے کر تے رہے لیکن نتیجہ صفر ۔۔باہر کی سرمایہ کاری تو ایک طرف ملک کے اندر بھی معاشی ترقی کے لئے ضروری سرمایہ کاری بھی نہ ہو سکی ۔ بس لے دے کے پلاٹ اور گھر میں انویسٹ ہو گیا ۔۔۔چین سے بھی کوئی صنعت یہاں منتقل نہ ہو جسکا دعویٰ سیپیک معاہدے کے دوران کیا گیا ۔۔
عوام اب سمجھ چکی ہے کہ پاکستان میں کچھ نہیں ہوگا شاہد اس وقت تک نہیں جب تک معیشت سر والوں کے کنٹرول میں رہےگی ۔۔اٹھ برس سے تمام وزیر خزانہ انہی کی چوالیس ہوتے ہیں نتیجہ آپ کے سامنے ہے اور کیوں کہ یہ سیاسی یا عوامی نہیں ہوتے ہیں تو جواب دہ بھی سر والوں کو ہی ہوتے ہیں آور انہی کے مفاد کو ترجیح دیتے ہیں ۔۔تھوڑا کہے کو زیادہ سمجھیں اور سوچیں کہ مشرق اور مغرب میں دشمنی پال کے تجارتی تعلقات ختم کر کے کب تک خطہ میں الگ تھلگ کب تک رہا جا سکے گا
یہ تو مرشد عمران خان کا بھی باپ نکلا
بھٹو صاحب کے عدالتی قتل کا اعتراف کرنے والے جسٹس نسیم حسن شاہ نے حکومت کو درخواست دی کہ انکے پاس اپنا کوئی گھر نہیں ہے۔گھر بنانے کے لئے پلاٹ الاٹ کیا جائے۔حکومت نے ایک مہنگا پلاٹ کراچی شہر میں الاٹ کیا۔جسٹس نسیم حسن شاہ صبح کی فلائیٹ سے کراچی گئے۔الاٹ شدہ پلاٹ اسی دن فروخت کیا اور شام کی فلائیٹ سے گرم جیب سمیت واپس آ گئے۔۔۔
عبدالقیوم صدیقی
عید خوشیوں کا تہوار یا جبری گمشدگیوں کی اذیت
عید کا چاند جب آسمان پر نمودار ہوتا ہے تو پوری دنیا میں خوشیوں کی لہریں دوڑ جاتی ہیں۔ گھروں میں چراغ جلتے ہیں، بچوں کے چہرے مسکراتے ہیں، نئے کپڑوں کی خوشبو فضا میں پھیل جاتی ہے۔ کوئی قربانی کی تیاری کر رہا ہوتا ہے، کوئی مہندی لگا رہا ہوتا ہے، کوئی عید کی نماز کی خوشی میں مگن ہوتا ہے۔ عید، خوشی کا تہوار ہے، محبت کا پیغام ہے۔
مگر کیا یہ خوشی سب کے لیے یکساں ہے؟
ہزاروں گھر ایسے ہیں جہاں عید کا چاند آنسوؤں سے دیکھا جاتا ہے۔ جہاں عید کی رات ماتم کی رات بن جاتی ہے۔ جہاں خوشی کا ہر رنگ سیاہ ہو چکا ہے۔ یہ وہ گھرانے ہیں جن کے جوان بیٹے، شوہر، بھائی یا باپ جبری گمشدگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ پشتون، بلوچ، اور دیگر علاقوں کے وہ بے گناہ لوگ جنہیں رات کے اندھیرے میں اٹھا لیا گیا اور آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں۔
عید کی رات جب پوری دنیس نئی امیدوں کے چراغ جلاتی ہے، تب ان گھروں میں مائیں اپنے سینوں کو پیٹتی ہیں۔ بیٹیاں تکیہ بھگو کر روتی ہیں۔ بہنیں آنگن میں کھڑی آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر فریاد کرتی ہیں
"اے خدا! میرا بیٹا کہاں ہے؟ میرا شوہر کہاں ہے؟ اسے واپس کر دے
ان کے گھروں میں نہ عید کے کپڑے خریدے
عید کی صبح، جب دوسرے لوگ عیدگاہ کی طرف جا رہے ہوتے ہیں، تب یہ غم زدہ مائیں اور بہنیں اپنے گھروں سے نکلتی ہیں۔ ہاتھوں میں گمشدہ پیاروں کی تصاویر، گلے میں ان کے پرانے کپڑے، اور آنکھوں میں امید کی آخری کرن۔ وہ پریس کلب کی طرف جاتی ہیں۔ سڑکوں پر بیٹھ جاتی ہیں۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کرتی ہیں۔
ایک ماں اپنے بیٹے کی تصویر کو سینے سے لگائے رو رہی ہوتی ہے۔ دوسری ماں اس کے شانے پر سر رکھ کر کہتی ہے:
"رو مت بہن، اللہ سب دیکھ رہا ہے۔"
مگر یہ دلاسہ بھی کتنا کھوکھلا ہے؟ کتنے سال بیت گئے، کتنے عیدیں گزر گئیں، مگر ان کے بچے واپس نہیں آئے۔ کچھ کی لاشیں مل گئیں، کچھ کے نام بھی نہیں ملے۔ کچھ تو آج بھی جیلوں کی تاریک کوٹھریوں میں سڑ رہے ہوں گے، کچھ کی قبریں بھی نامعلوم ہیں۔
یہ مائیں عید نہیں مناتیں، یہ درد مناتی ہیں۔
یہ بہنیں نئے کپڑے نہیں پہنتیں، وہ اپنے بھائیوں کے پرانے کپڑوں کو چومتی ہیں۔
یہ بیٹیاں مہندی نہیں لگاتیں، وہ اپنے باپ کی یاد میں آنسو بہاتی ہیں۔
عید کا تہوار ان کے لیے اذیت بن چکا ہے۔
پی ٹی ایم ساتھی چار بچوں کے والد فرید افرین کو پشاور میں ارباب روڈ پر سرعام سیکنڑوں لوگوں کی موجود گی میں تین گاڑیوں دس مسلح افراد نے وردی اور سادہ۔لباس میں ملبوس آغوا کیا ، مگر اج تک کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ، ان کے بیٹے ایف آئی آر کروانے عدالت گئے ، سی سی ٹی وی رنگارنگ پیش کی مگر پی ٹی آئی خیبر پستونخواہ کی ماتحت محکمہ پولیس ایف ائی ار تک درج نہیں کررہی ہیں اور نا عدالتوں کے احکامات تسلم کررہے ہیں ۔
چھ ماہ پہلے پی ٹی ایم کے رہنما نور اللہ ترین اور حنیف پشتین کو پی ٹی آئی کے جرگہ سے واپسی پر دن کی روشنی میں، سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں سرعام اغوا کر لیا گیا۔ آج تک ان کا کوئی پتا نہیں۔ اج ان کی جبری گمشدگی کو 196 دن مکمل ہوگئے ہیں ۔عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے۔ پشاور ہائیکورٹ نے ثبوت ، گواہان ہونے کے باجود نور اللہ ترین اور حینف پستین کو باصیاب کروانے اور مجرموں کو گرفتار کروانے کے بجائے جے آئی ٹی بنا دی، مگر ماہوں گزرنے کے باوجود نہ انہیں بازیاب کرایا گیا، نہ ہی اغوا کاروں کو گرفتار کیا گیا۔ اور نور اللہ ترین حنیف پشتین اج تک جبری گمشدگی کا شکار ہیں ۔ جے آئی ٹی صرف وقت گزار رہی ہے، جبکہ دو مائیں ہر لمحہ موت کی اذیت بھگت رہے ہیں۔
اسی طرح نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما، ایک باشعور سکالر، انسانی حقوق کا سرگرم کارکن اور وطن سے محبت کرنے والا نوجوان غنی بلوچ کو خضدار سے کراچی جاتے ہوئے بس میں سوار مسافروں کے سامنے اغوا کیا گیا۔ آج ان کی جبری گمشدگی کو 365 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ ایک سال بیت گیا، مگر نہ عدالت میں پیش کیا گیا، نہ ان کے اہل خانہ کو کوئی خبر دی گئی۔
بی وائی سی کی سرگرم رکن فوزیہ بلوچ کے بھائی داد شاہ بلوچ کو کراچی میں گھر سے اٹھا کر غائب کر دیا گیا۔ جب فوزیہ اور ان کی عمر رسیدہ والدہ احتجاج کرنے نکلیں تو انہیں بھی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ آج داد شاہ کی گمشدگی کو 32 دن ہو چکے ہیں۔
یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں پشتون اور بلوچ نوجوان آج بھی لاپتہ ہیں۔ ان کے خاندانوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔
سوال کرنے ، حقوق طلب کرنے کو حکمرانوں نے غیر اعلانیہ طور پر جرم قرار دیاہیں
جس کی سزا جبری گمشدگی ہیں
سہیل آپریدی نے لائن مارنے کے لیے محسن نقوی سے ملاقات کی۔ راز پاش ہونے پر انکار کیا پھر امن و امان کا بہانہ بنایا۔ سب اسٹبلشمنٹ کی آشیرباد چاہتے ہیں۔ عمرانڈوز کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا لیتے ہیں۔
اکہتر میں مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہو رہا تھا اسکو ہمارے میڈیا میں ہندوستان کی سازش اور بنگالیوں کی غلطی ہی بتایا گیا کہیں بی بی سی یاکسی اور ذریعے سے ہماری فوج کی زیادتی کی خبر چلتی تو اسے جھوٹ اور بکواس سمجھا جاتا تھا ۔ پھر وہ ہو گیا جو ہونا ہی تھا ۔۔۔اسکے کچھ عرصہ بعد جرنیلوں اور دوسرے افسران کی یاداشتیں چھپیں تو معلوم ہوا کہ ہم کو شروع سے ہی جھوٹ بتایا گیا ۔۔وسیع تر قومی مفاد میں ریاست کی زیادتی کے خلاف جہدوجہد کرنے والوں کو باغی قرار دیا جاتا تھا ۔۔۔لیکن اب دنیا بہت بدل چکی ہے ۔۔۔جرنیلوں کی یاداشتوں کا انتطار مت کریں ۔۔بلوچستان میں حالات بہت خراب ہیں ، بہت ہی زیادہ ۔۔۔انکو آرمی نہیں سنبھال سکتی۔۔انکا سیاسی حل سیاستدانوں سے ہی ممکن ہو سکتا ہے اور کوئی طریقہ نہیں
خڑقمر قتلِ عام کی 7ویں برسی پر ہم وزیرستان کے اُن بے گناہ شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہیں 2019 میں ریاستی بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ اُس وقت پی ٹی آئی کی حکومت تھی اور نہتے شہریوں پر ہونے والے ظلم کا جس بے شرمی سے دفاع کیا گیا، وہ تاریخ کا سیاہ باب ہے
#KharQamarMassacre
میچ شروع ہونے سے پہلے دونوں ٹیمیں ایک ہی گراؤنڈ میں اکٹھی کھڑی ہیں۔
ٹاس صرف دکھاوا ہے، فیصلے پہلے ہی بند کمروں میں ہو چکے ہیں۔
امپائر بھی وہی ہیں، رولز بھی انہی کے، اور کھیل بھی انہی کے اشاروں پر چل رہا ہے۔ عوام صرف تماشائی بنے خون اور لاشیں گنتے رہتے ہیں۔
نثار باز: پی ٹی ایم پر وفاقی حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندی غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ پی ٹی ایم ایک پرامن تنظیم ہے اور اس نے کبھی کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی کام نہیں کیا۔
#PTM#NisarBaz#HumanRights
پی ٹی ایم کے حوالے سے اے این پی کی اندرونی اختلافات اور ایمل ولی خان کی دھمکی
کل ایمل ولی خان نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے" تمام ANP خاندان کے لیے
تم ANP کے ساتھ ہو یا نہیں ہو۔میری بات بالکل واضع ہے، اور جو لوگ واضح نہیں ہیں وہ یا تو خود واضح ہو جائیں ورنہ میں انہیں واضح کر دوں گا۔"
یعنی اے این پی کے جس کارکن اور رہنما نے پی ٹی ایم کے حوالے سے ایمل کا ذاتی موقف سپورٹ نہیں کیا وہ انقریب ایمل ولی خان پارٹی سے نکال دیگا۔
پہلے پہل میں سردار حسین بابک ، حیدر ہوتی ۔ خان زمان ، خادم حسین ، مفکورہ کے کچھ پرانے ممبران اصغر خان اچکزئی بلکہ بلوچستان کی پوری صوبائی پارٹی یہ سب کہتے تھے کہ یہ ایمل ولی کا ذاتی بیانیہ ہے اے این پی کا بیانیہ نہیں ہے جبکہ آج تو ایمل ولی نے دھمکی دیا ہے کہ یا تو اس بیانیے کے ساتھ کھل کر کھڑا ہوجاو یا میں پارٹی سے نکال دونگا
اس سلسلے میں دو دن پہلے اے این پی بلوچستان کے ساتھ رابطہ ہوا ہے کہ آپ لوگ پارٹی میں ہو یا نہیں جواب دیا گیا ہے کہ ہم پارٹی میں ہے تو کہا پھر کیوں سوشل میڈیا پر جاری جنگ میں پارٹی کا دفاع نہیں کرتے تو جواب ملا کہ ہمارے نام سے مرکزی پیج پر بیان لگاؤ جو بھی لکھنا ہے لیکھو۔
پھر مرکزی پیج پر صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی صوبائی جنرل سیکٹری مابت کاکا کے نام سے مرکز نے من پسند بیانات لگا دئیے ہے۔
گزشتہ انٹرا پارٹی الیکشن میں حیدر ہوتی مرکزی صدارت کے لئے تیاری کر رہا تھا مگر ایمل نے واضح لیکر کھینچ لی کہ مرکزی صدر ہر صورت میں مجھے بننا ہے تو حیدر ہوتی نے احتجاجاً عہدہ لینے سے انکار کیا۔گزشتہ ٹینور میں مرکزی نائب صدر حیدر ہوتی اس بار صرف اور صرف پارٹی کا ایک عام ممبر ہے
اسیطرح بلور خاندان نے بھی کہا کہ ہم ایمل کی قیادت میں جانے کو تیار نہیں ثمر ہارون بلور ریکشنری ہوکر ن لیگ میں چلی گئ بلور صاحب پیشاور چھوڑ کر اسلام آباد شیفٹ ہوا۔
گزشتہ انٹرا پارٹی الیکشن میں سردار حسین بابک بھی ناراض ہوا۔پھر کچھ عرصہ بعد منانے ایمل ان کے گھر گئے۔مگر منا نہیں سکا۔
آپ لوگوں کو یاد ہوگا کہ ایک دفعہ میاں صاحب بھی ناراض ہوگئے تھے اور باہر ملک چلا گیا پھر اسفندیار ولی خان کے ریکویسٹ پر واپس آیا تھا۔
میں آج یہ پیشگوئی کر رہا ہوں یاد رکھنا۔خدا نہ کرے جس دن اسفندیار ولی خان دنیا سے گزر گئے حیدر ہوتی %70 پارٹی کو الگ کرکہ نئیا اے این پی بنا لیگا۔اسکی مکمل پلائینگ ہوچکی ہے صرف انتظار اسفندیار ولی کی آنکھوں تک ہے۔
یہ بھی سنا ہے کہ اصغر خان اچکزئی اور ایمل ولی کا آپس میں رابطہ ختم ہوچکا ہے مختلف اختلافات کی وجہ سے۔
اسی طرح بلوچستان میں 20 دن پہلے مجلس عاملہ کے اجلاس میں وہ ایک ارب روپئے والا معملے کے ساتھ ساتھ اس پر بھی بہت زیادہ لڑائی ہوئی MPA زمرک نے اس پر زور دیا مہارنگ بلوچ کا سپورٹ بند کرنا چاہئیے۔جواب میں خان زمان نے کہا جب آپ طالبان اور TTP کو پیسے اور 125 موٹرسائیکلے دے سکتے ہو تو کیوں ہم مہارنگ بلوچ کر سپورٹ نہ کرے۔زمرک نے دلیل دیا یہ پاکستان مخالف لوگ ہے خان زمان نے کہا TTP اور طالبان بھی پاکستان مخالف لوگ ہے۔زمرک نے کہا ایمل ولی سپورٹ نہیں کرتا اصغر خان بولا میں سپورٹ کرتا ہوں ایمل کرے نہ کرے۔مجلس عاملہ میں فورتھ شیڈول پر بحث ہوئی مگر ولی داد میانی کی اور بلوچوں کی۔مگر PTM کے ہزاروں فورتھ شڈولرز کی بات نہیں ہوئی۔
عجیب بات یہ ہے کہ اے این پی کے MPA زمرک طالبان اور TTP کو پیسے اور موٹر سائیکلز دے رہا ہے مگر ایمل ولی پی ٹی ایم کو ٹی ٹی پی کے ساتھ جوڑ رہا ہے۔
بوشرا گوہر نے مجھے خود بتایا کہ " جب میں پی ٹی ایم اسلام آباد دھرنے میں تھی تو اسفندیار ولی خان نے مجھے میسج کیا کہ آپ کیوں پاکستان مخالف دھرنے میں گئ ہو میں نے بتایا یہ تو ہمارے وزیرستان کے اپنے جوان ہے جس نے اپنے اعلاقے کا دکھ درد لایا ہے تو اسفندیار نے کہا نہیں یہ پاکستان مخالف دھرنہ ہے مگر بعد میں عوامی مجبوری اور سوشل میڈیا پریشر نے اسفندیار کو خود دھرنے میں شرکت پر مجبور کیا۔
بوشرا گوہر آج بھی زندہ ہر کوئی پوچھ سکتا ہے۔
اور ہمیں روز اول سے پتہ ہے کہ پی ٹی ایم اور ریاست کے درمیان جنگ میں سے این پی ریاست کے صف میں کھڑی ہے۔
آخر میں ایمل ولی کو خبردار کرتے ہے کہ اگر آئندہ پی ٹی ایم کے پیچھےجھوٹی پروپیگنڈے کئے تو ہم اور بھی حقیقت بیان کرینگے۔پھر چھپنے کا جگہ نہیں ملیگا پھر گودام آپکا ٹھکانہ ہوگا۔
تحریر : فتح خان کاکڑ
بھارت کا دیوبندی مولوی سیکولرازم کے تحفظ کی قسم اٹھاتا ہے جب کہ پاکستان کا دیوبندی مولوی سیکولرازم کو کفر گردانتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کا دیوبندی مولوی بھلے مجبوری یا جزوی طور پر ہی سہی افغانستان کے مولوی کو دہشت گردوں کا ساتھی اور مربی سمجھتا اور کہتا ہے جب کہ افغانستان کا دیوبندی مولوی پاکستان کے دیوبندی مولوی کو عسکری اشرافیہ کا ساتھی اور محافظ کہتا ہے۔
یہ تینوں دیوبندی مولویوں ایک ہی فقہی مسلک کے تابع اور پیروکار ہونے کے دعوی دار ہیں۔
مذاہب کی تفسیر و تعبیر یونیورسل نہیں ہوتی بلکہ کسی مخصوص علاقے، خطے اورجغرافیائی سرحدوں کی مخصوص سیاسی سماجی اور معاشی ضرورتوں اورتقاضوں کے تابع ہوتی ہے
لیاقت علی
ضیاء الحق نے 5 جولائی 1977ء کو مارشل لاء لگایا تو وہ پریشان تھا کہ عدلیہ کا کیا ردعمل ہوگا اس وقت لاء سیکرٹری عبدالحئی قریشی تھے ان کو رات تین بجے اٹھایا گیا اور ان سے رائے لی گئی ۔ جنرل ضیاء الحق نے انہیں بتایا کہ آئین کو معطل کرنا پڑے گا اور اس پر عدلیہ کیا کرے گی، جنرل ضیاء الحق نے کہا کہ وہ تو چیف جسٹس صاحبان کو گورنر بنانا چاہتے ہیں اگر یہ لوگ گورنر بن جائیں گے تو حکومت کی قانونی اور آئینی ساکھ بحال ہوجائے گی۔ عبدالحئی قریشی نے رات ساڑھے پانج بجے صدر کو اطلاع دی کہ سارے چیف جسٹس گورنر بننے پر رضا مند ہوگئے ہیں پھر ضیاء الحق نے ان قائم مقام گورنروں کو مکمل گورنر کے اختیارات دے دیے اس طرح عدلیہ نے ہتھیار ڈال دئیے ۔۔۔۔
اور سالی کیا کرتی۔۔۔ہیں۔۔؟