تین چیزیں ایک جگہ پرورش پاتی ہیں۔
(پھول، کانٹے، خوشبو)
تین چیزیں پردہ چاہتی ہیں۔ (کھانا، عورت، دولت )
تین چیزیں چھوٹی نہ سمجھیں۔ (قرض، مرض، فرض)
تین چیزوں کو بڑھاؤ۔ (عقل، ہمت، محبت)
تین چیزیں ہر ایک کی جدا ہوتی ہیں۔
(صورت، سیرت، قسمت)
تین چیزیں انسان کو تباہ کر دیتی ہیں
(حرص، حسد، غم)
تین چیزیں بھائی کو بھائی کا دشمن بنادیتی ہیں۔
(زن، زر، زمین)
تین چیزیں حافظہ کو قوت دیتی ہیں۔
(روزه، مسواک، تلاوت قرآن)
تین چیزیں زندگی میں ایک بار ملتی ہیں۔
(والد ین ، حسن، جوانی)
دلیپ کمار کہتے ہیں "اپنے کیرئیر کے عروج پر ایک بار میں جہاز سے سفر کر رہا تھا. میرے ساتھ والی سیٹ پر ایک بڑی عمر کا بندہ بیٹھا تھا جس نے سادہ سی شرٹ اور پینٹ پہن رکھی تھی اور حلیے سے ہی مڈل کلاس پر اچھا پڑھا لکھا شخص لگ رہا تھا. دوسرے مسافر تو شاید مجھے پہچان رہے تھے پر اس بندے کو تو جیسے میری موجودگی سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا. وہ اخبار پڑھ رہا تھا کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا اور جب چائے پیش کی گئی تو خاموشی سے اسکی چسکیاں لینے لگا. اس سے گفتگو کی کوشش میں میں نے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا اس شخص نے بھی ازروئے مہربانی واپسی مسکراہٹ دکھائی اور مجھے ہیلو کہا. ہماری گفتگو شروع ہو گئی اور میں نے موضوع سینما اور فلم کی طرف موڑ دیا اور اس سے پوچھا 'آپ فلمیں دیکھتے ہیں؟ '
اس شخص نے جواب دیا 'اوہ بہت کم. کئی سال پہلے ایک فلم دیکھی تھی. '
میں نے بتایا کہ میں فلم انڈسٹری میں کام کرتا ہوں.
وہ شخص جواباً بولا 'اوہ بہت خوب. آپ کیا کرتے ہو؟ '
'میں اداکار ہوں ' میں نے جواب دیا.
اس شخص نے سر ہلایا 'واہ یہ تو زبردست ہے' اور بس گفتگو ختم ہو گئی.
جب ہم لینڈ کر گئے تو میں نے ہاتھ بڑھا کر اس سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا 'آپ کے ساتھ سفر کرنا اچھا لگا. ویسے میرا نام دلیپ کمار ہے '
اس شخص نے مجھ سے مصافحہ کیا اور مسکرایا' آپکا شکریہ. آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی. میں جے آر ڈی ٹاٹا ہوں..... ٹاٹا گروپ آف کمپنیز کا چیرمین..... "
دلیپ کمار کہتے ہیں اس دن میں نے جانا
"No matter how big you think you are, there is always someone bigger."
"Be humble, it costs nothing."
( یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی کہ آپ خود کو کتنا بڑا سمجھتے ہیں، کوئی نہ کوئی ہمیشہ آپ سے بڑا ہی ہوگا۔لہٰذا ��اجز رہیں جس میں کوئی لاگت نہیں آتی)
دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد
پنجوں کے بل کھڑا ہے کہ اونچا دکھائی دے
#BazmeNaz
صرف جگہیں ہی سیف زون نہیں ہوا کرتیں،
کچھ لوگ بھی آپ کا سیف زون ہوتے ہیں
ان کے آس پاس آپ کو عجیب محسوس نہیں ہوتا،
گھٹن محسوس نہیں ہوتی،
کوئی بھی ڈر نہیں ہوتا،
ان کے سامنے آپکو کچھ اور بننا نہیں پڑتا،
آپ جو ہوتے ہیں جیسے ہوتے ہیں بس وہی رہتے ہیں۔
اور وہ شخص میرا سیف زون ہے۔
محسن نقوی کی خوبصورت نظم ❤️
”میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں“
میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں
جیسے ماہتاب کو بے انت سمندر چاہے
جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے
جیسے خوشبو کو ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے
جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے
جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں
جیسے خوابوں میں خیالوں کی کماں ٹوٹتی ہے
جیسے بارش کی دعا آبلہ پا مانگتے ہیں
میرا ہر خواب مرے سچ کی گواہی دے گا
وسعتِ دید نے تجھ سے تری خواہش کی ہے
میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا
میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے
خواہشِ دید کا موسم کبھی ہلکا جو ہوا
نوچ ڈالی ہیں زمانوں کی نقابیں میں نے
تیری پلکوں پہ اترتی ہوئی صبحوں کے لئے
توڑ ڈالی ہیں ستاروں کی طنابیں میں نے
میں نے چاہا کہ ترے حسن کی گلنار فضا
میری غزلوں کی قطاروں سے دہکتی جائے
میں نے چاہا کہ مرے فن کے گلستاں کی بہار
تیری آنکھوں کے گلابوں سے مہکتی جائے
طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول
میرے خاموش خیالوں مین تکلم تیرا
رقص کرتا رہے ، بھرتا رہے خوشبو کا خمار
میری خواہش کے جزیروں میں تبسم تیرا
تو مگر اجنبی ماحول کی پروردہ کرن
میری بجھتی ہوئی راتوں کو سحر کر نہ سکی
تیری سانسوں میں مسیحائی تھی لیکن تو بھی
چارۂ زخمِ غمِ دیدۂ تر کر نہ سکی
تجھ کو احساس ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ
آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو کہ سیماب طبیعت ہے تجھے کیا معلوم
موسمِ ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں
دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں
اب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کھلیں گی اپنی
یاد آئے گا تری دید کا منظر جاناں
مجھ سے مانگے گا ترے عہدِ محبت کا حساب
تیرے ہجراں کا دہکتا ہوا محشر جاناں
یوں مرے دل کے برابر ترا غم آیا ہے
جیسے شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں !
محسن نقوی
داغ دہلوی کی غزل
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہ��ں دم رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی
نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں
کیا کہا پھر تو کہو ہم نہیں سنتے تیری
نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہے
تجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں
دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہوا
کون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں
ہو چکا قطع تعلق تو جفا��یں کیوں ہوں
جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں
زیست سے تنگ ہو اے داغؔ تو جیتے کیوں ہو
جان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں
داغ دہلوی
نا جانے کتنے ہی لوگ ہمارے دلوں میں زندہ ہیں حالانکہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے مر گئے
ور نا جانے کتنے لوگ ہمارے دلوں میں مر گئے ہیں اور آنکھوں کے سامنے زندہ ھی
،،،،،🖤
مکمل ہونا چاہیے تھا جسے میرا
میرے حصے میں وہی شخص ادھورا آیا
اے رقیب ! تیری قسمت پہ رشک آتا ہے
کسی کا ادھورا عشق ، تیرے حصے میں پورا آیا
#CuteSiPreshaniyan
یہ دن اُس رہنما کے نام ہے جس نے اپنی ہر سانس وطن پر نثار کی۔
ظلم کی زنجیریں بھی اُس کے خواب قید نہ کر سکیں کیونکہ وہ خواب پاکستان کی آزادی کے تھے۔
اللہ عمران خان کو سلامت رکھے ،
وہی امید ہے، وہی حوصلہ ہے، وہی پہچان ہے۔
#HappyBirthdayImranKhan#سالگرہ_مبارک_قیدی_نمبر_804
ہر مرد کے پاس دن کے چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں میسج کرنے کے لیے۔ مرد کو جس عورت کی چاہ ہوتی ہے وہ اس کو انتظار نہیں کرواتا۔ وہ جتنا مصروف ہو عورت کے لیے اس کے پاس ہمیشہ وقت ہوتا ہے۔ اور جس عورت کے لیے نہیں ہوتا وہ اس میں انٹرسٹڈ نہیں ہوتا ۔🖤🥀
بانو قدسیہ لکھتی ہے۔۔!
“محبت کرنے والوں کی کوئی عزتِ نفس نہیں ہوتی،انہیں جُکھنا بھی پڑتا ہے،گِرنا بھی پڑتا ہےاورترسنا بھی پڑتا ہے۔”
.
.
.
.
#poetry#urdushayari#urdupoetry#urduadab