ملک تمہاری پالیسیوں کی وجہ سے ٹوٹا ہے،یہی ہماری فوج کی حکومت تھی، اور چار صوبوں کو ایک صوبہ کیاگیا، ون یونٹ لگا دیا گیا۔ مغربی پاکستان چار صوبوں والا، اب وہ صرف ایک صوبہ کہلائے گا، صوبہ مغربی پاکستان،،،،یہ بھی اسی فوج کی سوچ تھی۔
اور آج ان چار صوبوں کو توڑا جا رہا ہے، ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، یہ بھی ہماری فوج کی سوچ ہے۔ ویسے خامخواہ کاکے کو آگے کیا گیا، وہ بھی ان کی سوچ تھی، یہ بھی ان کی سوچ ہے۔
تم پاکستان کے مالک ہو، جب چاہو پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دو، اور جب چاہو چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔ تو ہر فیصلے کے پیچھے تمہارے اپنے عزائم ہوتے ہیں، وہاں قوم کو مفاد نہیں ہوا کرتا۔
ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو اپنے ضمیر کی بات کریں گے۔ ہم خیرخواہی کی بنیاد پر بات کرتے ہیں، ہم آپ کی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں، ہم آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں۔
لیکن تمہارا مزاج بن گیا ہے کہ تمہیں خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے، لیکن تمہارے سامنے کوئی سیدھی بات کرے تو وہ تمہیں بری لگتی ہے۔
لیکن ہم ملک کو آپ کی ملکیت نہیں مانتے۔ یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے شہری ہیں، اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔
ہم اصولاً کسی یونٹ کے بنانے کے خلاف نہیں ہیں۔ یونٹیں بنتی رہتی ہیں، ہندوستان میں بھی بنی ہیں، افغانستان میں بھی بنی ہیں، دوسرے ملکوں میں بھی بنی ہیں، لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہیے۔
ہم نے یہ نہیں کہا تھا کہ فاٹا کو صوبے میں انضمام نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے کہا، دو تین آپشنز ہیں، یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی۔ یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے، ان کی منشا سے فیصلہ کیا جائے۔
لیکن آپ نے ان پر تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟
اس وقت باجوا صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے۔ اور جب میں نے ان کو جوابات دیے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔
آج ہمارا جنرل مجھے کہتا ہے، کسی اور کو نہیں، مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔
تمہاری مرضی ہے، تم جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو کچھ کرو، اور پھر تم جب چاہو کچھ اور طریقہ بناؤ۔ روز آپ کا فیصلہ آج ناگزیر ہے، اور کل وہ فیصلہ آپ کا غلط ہے۔
ایک فیصلہ تو بتا دو اللہ کے بندوں، جو تم نے کیا ہو اور اس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ کیوں ایسا کرتے ہو؟ آخر لوگوں سے پوچھو۔
یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ہم کہتے ہیں، ڈیبیٹ کرنی چاہیے۔ یک طرفہ آپ کوئی فیصلہ مسلط نہ کریں۔ یہ ملک عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے، عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔
صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟
نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔
دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتی۔
یہ ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ ازسرِنو پھر ہم معدنیات کے فیصلے بھی پھر سے کریں اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے بھی پھر سے کریں۔
تو ہم تو صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور آپ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں
اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔ اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسئلہ مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ۔۔۔۔ اب بتاؤ، جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے، کابینہ کا ممبر ہے۔
اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی۔ ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ۔اس میں تضادات ہیں،
تو ذاتی نوکر، پاکستان ہم ان کے حوالے کر دیں؟ یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا لاہور میں خطاب
میرے آقا علیہ السلام کی ختم نبوت ھمارا ایمان اور اسلام کی روح ھے، پاکستان جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا اس مملکت کا وجود اور اسلام کی روح ختم نبوت لازم وملزوم ھیں جو اس کے خلاف سازش کا مرتکب ھوگا وہ اسلام اور پاکستان کے خلاف سازش کا مرتکب ھوگا
#ستمبر7_یوم_ختم_نبوت
#تاجدار_ختم_نبوت
#سالارتحریک_مفتی_محمود
#قادیانی_اسلام_دشمن
#قادیانی_احمدی_کافر
یومِ دفاعِ ختمِ نبوت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آئینی حقوق اور مذہبی معاملات کا تحفظ جذبات کے ساتھ ساتھ قانون، پارلیمان اور پُرامن سیاسی جدوجہد سے بھی وابستہ ہے۔ یہی راستہ جمہوری معاشرے میں مؤثر اور پائیدار نتائج کا ذریعہ بنتا ہے۔
#ستمبر7_یوم_ختم_نبوت#تاجدار_ختم_نبوت
#سالارتحریک_مفتی_محمود
#تحفظ_ختم_نبوت
#قانون_تحفظ_ختم_نبوت
جھنگ میں اسوقت قیامت کا منظر تھا جب دن دیہاڑے پانچ علماء کو شھ ید کردیا گیا 7 ستمبر 1991 مولانا فضل الرحمٰن جھنگ میں پانچ علماء کی نماز جنازہ پڑھا رھے ھیں پیچھے مولانا محمد ضیاء القاسمی مولانا ضیاء الرحمن فاروقی مولانا محمد اعظم طارق شھ ید بھی موجود ہیں
شھداء جھنگ کے اسماء گرامی
جمعیت علماء اسلام کےشھداء
جو یہ پانچ اکٹھے جمعیت کی ممبر سازی کے لئے جارہے تھے راستہ میں گھات لگا کر انکو شھیدکردیا گیا
اللہ سب کے درجات بلند کرے
مولانا سید صادق حسین شاہ صاحب رحمہ اللہ تلمیذ حضرت مدنی رحمہ اللہ
قاری حذیفہ انصاری صاحب رح ،
مولانا رشید مدنی صاحب رح،
.مولانا حاجی عزیز الرحمن شہید ،
حافظ حبیب اللہ شہید رح
#ستمبر7_یوم_ختم_نبوت
#تاجدار_ختم_نبوت
#سالارتحریک_مفتی_محمود
#قادیانی_اسلام_دشمن
#قادیانی_احمدی_کافر