خواجہ آصف کے انٹرویو کے بعد میرے خلاف ایک منظم اور دھمکی آمیز کیمپین شروع کی گئی ہے جس کی ایک مثال یہ وائس نوٹ برطانیہ سے آیا ہے۔ زُبان چیک کریں اس پاکستان مُُخالف مُہم کے لیڈر کی۔ کیا اس پر برطانیہ کا قانون لاگو ہوتا ہے؟
میم جب آپ اگلی دفعہ اسمبلی جائیں تو اسپیکر سے پوچھیے گا کہ رجب بٹ کو کس لیے ایوارڈ دیا ہے
اور مزید اپنی کسی سہیلی وزیر سے بھی پوچھیے گا کہ ان پر محکمہ جنگلی حیات کی طرف سے ایک کیس بنا تھا تو کس نے ان کو چھڑوایا ۔
قوم تو ہوئی ویلی نکمی
مگر سرکار میں بیٹھے لوگوں کی کیا مجبوری ہے ؟
اس فوٹو کو لگا کر ہر بندہ حکومت کو لعن طعن کر رہا ہے۔حکومت کو بھی کریں کیونکہ اسکو لعن طعن کرنے سے منع کیا تو آپ سب نے میرےویر پڑ جانا کہ میں راتب خور ہوں مگر بات سنیں اپنے گریبانوں میں بھی جھانک لیں۔
ہم ایک ایسے مردہ معاشرے میں رہتے ہیں جہاں آس پاس کے4بندے بھی کفن نا لیکر دے سکے
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا شفاف آڈٹ ہونا چاہئے۔
سرکاری نوکریاں بھی انھیں مل رہی ہیں
اور بے نظیر انکم کے پیسے بھی
لاڈلوں کے لاڈ اٹھانے والوں نے کمال کیا ہوا ہے۔
پنجاب نے وفاق نےسر پلس بجٹ دیا اور وفاق کی مدد کیلئے تقریباً 700 ارب دیئے جبکہ پیپلزپارٹی نے 838 ارب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے وفاق سے لئے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔
یہ پروگرام پیپلزپارٹی کیلئے روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ عیاشیوں کیلئے بھی ہے۔ایک شناختی کارڈ پر 7/7 خواتین کو 24 کروڑ کی ادائیگی ہوئی، ایک خاتون کے 5 ہزار سے زائد شوہر بھی سامنے آئے۔
جہانیاں ستھرا پنجاب میں لوٹ مار کیسے ہورہی ہے لاکھوں روپے کی تنخواہوں سے ناجائز کٹوتیاں کس کس کی جیب میں جاتی ہے سینٹری ورکر عبد الجبار نے دئیے گئے انٹرویو میں سب راز کھول دئیے۔
کسی کو ہنر مند کرنے کا موقع فراہم کرنا میرے نزدیک صدقہ جاریہ ہے کیونکہ اس ہنر سے وہ روزہ کما کر اپنے گھر والوں کو حق حلال کا کھلا کر جب جب آپکو دعا دیگا آپکے میزان میں نیکی ہی بڑھے گی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف سے امید ہے کہ اس بار آئل کمپنیوں کے احتجاج کو اور تکلیف کو پس پشت ڈال کر عوام کو مزید ریلیف فراہم کرنے کی گنجائش نکالی جائے گی۔