ائی جی پنجاب صاحب اپ سے گزارش ہے کہ اس معاملے پر ایک جے ائی ٹی بنائی جائے ۔۔اس معاملے کی مکمل انکوائری کروائی جائے ۔۔۔انسپیکٹر صاحب کا کیا رول ہے وہ دیکھا جائے ۔۔۔تاکہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ہو ۔۔قصور انتظامیہ سے بھی درخواست ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کروائیں @OfficialDPRPP
میرے پاکستانیو! لیڈر ہمارا ناحق قید میں، اس کا پورا خاندان مقید، سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ مینڈیٹ ہمارا چرایا، جعلی لوگ مسلط کرکے جعلی لوگوں سے، جعلی قانون سازی کروا کر عدالتیں کنٹرول کیں، جبر اتنا کہ ہلاکو خان بھی شرما جائے۔ گھر توڑے خواتین کو ہراساں کیا، کارکنان، اراکین اسمبلی، ان کے بچوں تک کو اغوا اور لاپتہ کیا۔ اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آئینی و قانونی ہر راستہ اپنایا اور بار بار اپنایا۔ اب جب سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت نہ ملی، نو مہینے کی بے رحمانہ قید تنہائ، اپیلوں کی سنوائی کے لیے اور نا حق اسیری کے خلاف پر امن لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جعلی مسلط شدہ ٹولہ اور ان کی ڈوریاں ہلانے والوں نے اس کے نام پر شروع؛ آئین و قانون کے مطابق اور پر امن مارچ کے سامنے پختونخواہ کی عوام کا سودا کرنے کی شرط رکھ دی۔ وہ جس نے ملک و قوم کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمی قربان کی، تین سال سے ناحق اسیری کاٹ رہا ہے۔
شرط ہے کہ اپنی عوام کو میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن بناؤ یعنی لشکر کشی میں ساتھ دو۔ عوام کو بے گھر کرکے فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے، قطاروں میں ذلیل کرنے کی تاریخ دہراؤ۔ اُن پر بے دریغ بمباری کی اجازت دو، تو ہی آپ کے لیے آسانی ہوگی ورنہ آسانی تو دور پختونخواہ حکومت ختم کرکے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔عمران خان کی حکومت میں اس بات کا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ تو کوئ جواب مل نہیں سکتا تھا۔ جواب یہی ملا کہ لعنت تمہاری ایسی آسانی پر جو اپنے لوگوں کے خون کا سودا کرنے سے مشروط ہو۔
لعنت ایسی ہوسِ اقتدار پر جو اپنے لوگوں کو آگ کا ایندھن بنادے۔ملک کو تو تباہ کر دیا آپ کی اس ہوس نے۔ بلوچستان میں لشکر کشی کے بعد آپ کا وزیر اعلی اور کور کمانڈر کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا لیکن پختونخواہ پر لشکر کشی کرنی ہے۔ امن مقصد ہوتا تو صوبائی اسمبلی میں پختونخواہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ ہوا جس میں صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز شامل تھے، دیرپا امن کے لیے ان کی بتائ پالیسی پر عمل ہوتا لیکن فوج و وفاقی حکومت نے اس جرگے پر بغاوت غداری اور وفاق کو تقسیم کرنے کا فتوی لگایا۔جن کی زندگیاں وابستہ ہیں، جن پر ان حالات کا براہ راست اثر ہونا ہے۔ ان کی پالیسی قبول نہیں کیونکہ مقصد امن نہیں۔
مقصد؛ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے کی گئی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے پختونخواہ کو ایندھن بنایا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر دور کے جنرل و ڈکٹیٹر کا طاقت کے طول کا آزمودہ فارمولہ؛ پاکستان کو نئی پیکنگ میں سیکورٹی سٹیٹ بنا کر پیش کرنا ہے۔ رہی بات ایمرجنسی کی تو کون نہیں جانتا جن دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی یہ عقلِ کُل لے کر آئے تھے اُن کے مطالبات کا تیسرا نکتہ فاٹا کو وفاق کے زیر انتظام دینا یعنی فاٹا مرجر کو واپس کرناتھا۔ وہی مرجر جس کے حوالے سے انہی کا بیانیہ تھا کہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار فاٹا انضمام کے خلاف ہیں۔ تو کیا اب یہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں؟
مارچ عمران خان کی رہائی کا تھا ہے اور یہی مطالبہ ہے۔ رہی بات دہشت گردی کے حالیہ بیانیے کی تو حقیقت یہی ہے کہ موجودہ لہر آئی نہیں لائی گئی، دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے، صرف لائے نہیں گئے باقاعدہ رُوٹ لگا کر اپنی نگرانی میں پھیلائے گئے۔ اور جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔ ایک بار پھر ہر میدان میں ناکامی کے بعد بالآخر جمال، کمال کا نام استعمال کرکے پاکستان کو دلدل میں دھکیلا جارہا ہے مگر یہ قوم نہ تو مزید کسی کی جنگ میں ایندھن بنے گی نا ہی بے گھر ہوگی نا ہی مارٹر گولوں، ڈرون اور لڑاکا طیاروں کا نشانہ بن کر کولیٹر ل ڈیمج بنے گی، نا ہی اپنے گھر میں قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ کے ہاتھوں ذلیل ہوگی۔ جب نکلنا ہی ہے تو اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھری کیوں جھیلیں، تمہارے ان گھناؤنے منصوبوں کے خلاف نکل کر اپنے مسیحا عمران خان کو واپس لانے کے لیے نکلیں گے۔
”جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔“ @MuradSaeedPTI
توہینِ عدالت کا اصل مرتکب کون؟
وزیراعلیٰ آفریدی کو توہینِ عدالت کی دھمکی دینے والو، ذرا اپنے گریبان میں جھانکو۔ تمہارا پورا اقتدار عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی کوکھ سے پیدا ہوا ہے۔ جس جمہوریت کا لبادہ اوڑھے بیٹھے ہو، وہ 14 مئی 2023 کو سپریم کورٹ کے واضح حکم کو پاؤں تلے روند کر حاصل کی گئی تھی۔۔۔!!
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
تحریک انصاف کےریاستی جبر کا شکار مفرور اور اشتہاری رہنما دوستوں کو مشورہ ہوگا کہ اگر کوئی ایسا ساتھی گرفتارہوتاہےجسکوآپکےمسکن کی معلومات ہوں توفوری طورپروہاں سےنکل جائیں۔
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر
وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنی ہی عوام کے خلاف یکطرفہ طور پر فوجی آپریشنز شروع کرنے کے تباہ کن نتائج پر بات کرتے ہوئے بلوچستان کی صورتحال کی مثال دی۔
ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا:
"میرے پاکستانیو! پہلا ملٹی آپریشن بلوچستان میں 1970 کی دہائی میں ہوا، اس وقت ذولفقار علی بھٹو کی حکومت تھی تب کہا گیا ہم ملٹری آپریشن سے بلوچستان میں امن لائیں گے پچاس سال ہوگئے امن نہیں آیا یہ ذولفقار علی بھٹو اپنی کتاب میں لکھتا ہے آپریشن کے وقت وہاں سے سویلین کو سائیڈ پر کیا گیا وہاں کے وسائل سمیت سب کچھ ملٹری کے ہاتھ میں آگیا یہ سہیل آفریدی نہیں کہہ رہا یہ عمران خان نہیں کہہ رہا یہ جو گورنر راج لگانے پر تُلا ہوا ہے اس کا لیڈر کہہ رہا ہے"۔
وزیر اعلی سہیل آفریدی
یہ جو عمران خان پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، یہ جو ان کی فیملی تک کو اٹھا اٹھا کر جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے، سوچیں کہ یہ آخر کس جرم کی سزا ہے؟
جرم صرف ایک ہے وہ عوام کے لئے آزادی کیوں مانگ رہا ہے؟ یہ جرم کیا اتنا بڑا ہے کہ اس کی فیملی کو بھی اذیتیں دی جائیں؟ مظالم ڈھائے جائیں؟
#جاگ_اٹھا_وطن_خان_کیلیے
#عوامی_مزاحمت_کی_للکار
اہم ، بیرسٹر گوہر صاحب نے یکم اگست کو ایک پوسٹ کے ذریعے عمران خان کی صحت متعلق جس کی سختی سے تردید کی تھی ۔۔۔۔ اس پوسٹ کے برعکس دو ماہ سات دن بعد7 اکتوبر کو بیرسٹر گوہر نے تصدیق کر دی کہ انہی دنوں عمران خان صحت متعلق معاملہ ان کو معلوم تھا لندن والے ڈاکٹر متعلق بھی ان کو معلوم تھا
اب تاریخیں ملاحظہ کریں
سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں حکومتی مزاکراتی ٹیم نے ہمیں بتایا کہ جولائی میں تین چار ہفتے عمران خان کا بلڈ پریشر کنٹرول نہیں ہو رہا تھا
اڈیالہ جیل کی رپورٹ کے مطابق 10 اگست کو (لندن والے) ڈاکٹر فرقد عالمگیر نے عمران خان کا جیل میں چیک اپ کیا تھا اور دوا تبدیل کرکے تجویز کی تھی
اب سوال یہ ہے کہ یکم اگست کو جب ہر طرف عمران خان کی صحت متعلق شور مچا ہوا تھا تو بیرسٹر گوہر علی خان نے یہ پوسٹ کرکے تردید کیوں کی تھی ؟؟؟؟؟ جب ان کو سب کچھ معلوم بھی تھا ۔۔۔ اور جس کی تصدیق وہ خود اڑھائی ماہ بعد کر چکے ہیں ۔۔۔۔ !!
"ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ پاکستان مقروض ہے، ہمارے والد بھی یہی سنتے آئے ہیں کہ پاکستان مقروض ہے۔ ہزاروں، لاکھوں ڈالرز کا نہیں، ملینز، اربوں ڈالر کا مقروض ہے۔ ہمیں تو کوئی ریڑھی والا 30 روپے والا ادھار سموسہ نہیں دیتا۔ میرا اتنا زیادہ بجلی کا بل آیا ہے، میں گھر بیچوں، در بیچوں یا اپنی جان بیچوں؟ گردہ بیچوں، کیا بیچوں؟ میں کیا کروں؟ میں کہاں جاؤں؟ کسے سناؤں؟ کوئی سننے والا نہیں ہے۔ میرا ایک لاکھ 14 سو بجلی کا بل آیا ہے، نہ میں فیکٹری چلا رہا ہوں، کچھ بھی نہیں ہے، صرف بلب، پنکھے، ایک کولر اور موٹر۔ ہم رل گئے ہیں اور بڑے کرسیوں پر بیٹھ کر مزے کر رہے ہیں۔ خدا کے لیے ہماری جان چھوڑ دو"۔ لاہور کا شہری جذباتی ہو گیا
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
ہری پور : ایس پی ثمینہ ظفر نے کہا تمہارے امی ابو کو لاکر بے لباس کریں گے اور تمہارے سامنے ان کیساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کریں گے ۔
ڈی پی او نے خود چھری دی ۔ جو میرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر رکھی گئی ۔
ایس پی ثمینہ ظفر نے کہا تمہارا ------- کاٹ کر تمہاری مما میں------ گی ۔
ڈی پی او مبینہ طور پر ساتھ والے کمرے میں موجود تھے ۔
جس دن ضمانت ہوئی ہم گھر نہیں گئے ۔ ڈی پی او آفس گئے اور درخواست دی ۔
یوسف لڑکے کے کہنے پر ہمیں اٹھایا گیا ۔ اس کو کچھ نہیں کہا گیا ۔
آیت نور کیس میں ضمانت پر رہا پر عثمان کے پولیس پر سنگین الزامات
ناگمان چوک چارسدہ روڈ: لاکھوں کا عوامی سمندر فسطائیت کے کرداروں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ تمہاری گولیوں لاٹھیوں جیلوں کے خوف ہوا ہوچکے ۔ وطن کے یہ بیٹے وطن کی حقیقی آزادی کی اس جنگ میں عمران خان کے نظریے پر ڈٹ چکے ہیں۔
#عوامی_مزاحمت_کی_للکار
Glimpses from the Networking Event in JAKARTA, INDONESIA, in support of #ShaukatKhanumKarachi
Guest star: Ahsan Khan
Donate now and help us take Shaukat Khanum Hospital, Karachi, to the finish line 👉 https://t.co/CXwxpzYLgg
#SKMCHJakartaEvent#SKMCH#Indonesia
بیرسٹر گوہر کہہ رہے تھے خیبرپختونخوا میں ہمارا اختیار چلا گیا آج سلمان اکرم راجہ نے کہا پولیس اور بیوروکریسی ہماری بات نہیں مان رہی ہماری خیبرپختونخوا حکومت عملاً ختم ہوگئی ہے ۔
صورتحال یہ ہے کہ پہلے ایک صوبائی وزیر فضل شکور اور گزشتہ رات ڈاکٹر امجدکو مبینہ طور پر لاپتہ یا اغواء کرلیا گیا ہے ۔ ظاہری طور پر تحریک انصاف کو سبق سکھایا جا رہا شاید یہ وقتی طور پر terror پیدا کرنے کے لیے کسی کو فائدہ دے رہا ہو لیکن حقیقت میں پاکستان کیخلاف ہی own گول کیا جارہا ہے ۔ پہلے عدلیہ کو فکس کیا گیا اب وزیر تک اٹھا لیے جائیں گے کون اس ملک کو محفوظ سمجھے گا ؟ کون سا سرمایہ کار یہاں آئے گا ؟
ڈنڈے سے تحریک انصاف والا مسئلہ حل ہونا ہوتا تو پچھلے ساڑھے چار سال میں کونسا ایسا حربہ ہے جو استعمال نہیں ہوا اور اب ہونا تو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ ورلڈبینک رپورٹ بتا رہی تباہی کا ایک طوفان تیاری پکڑ رہا پھر خدانخواستہ شاید کسی کے کنٹرول میں بھی کچھ نہ رہے
سچ یہ ہے سب بند گلی میں ہیں اور سب کو ہی فیس سیونگ چاہیے
جتنی تاخیر کریں گے اتنی زیادہ تباہی ہوگی
پاکستان کی خاطر آگے بڑھیں اور ملک کو آگے بڑھنے دیں تاکہ غریب پاکستانیوں کی زندگی میں کچھ آسانی پیدا ہو
"میری 45 سال عمر ہے، 2 بیٹیاں جوان ہیں، ان کی شادی کرنی ہے۔ بچوں کی کیا خواہشیں پوری کریں؟ میری طبعیت خراب رہتی ہے، مجھے گردوں کا مسئلہ ہے، میں کسی دن چھٹی کرلوں تو میرے بچے بھوکے سوتے ہیں۔ بچوں کو کہتاہوں کہ میری مجبوری سمجھو، 20 روپے کی مرچیں اور پودینہ لاکر اسکی چٹنی کًوٹ لو اور روٹی کھالو۔ یہ ملک اب رہنے کے قابل نہیں ہے، یہ موت ہے، قبر مل جائے تو یہ رہنے کیلئے سب سے بیسٹ جگہ ہے۔یہ کوئی زندگی ہے؟ اس سے مرجانا ہی بہتر ہے"- لاہور کا شہری
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
آٹے کی قیمت پچھلے سال سے 21% بڑھ گئ۔ شہباز شریف دور میں آٹے کی قیمت میں 81% اضافہ۔ حالات اتنے خراب کہ غریبوں نے اپنی خوراک 16% کم کر دی۔ آٹا غریب پاکستانی کا سب سے بڑا خرچہ ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پورے خطے کے نصف غریب ترین لوگ پاکستانی ہیں۔ کیا آٹے کی قیمت جس سے کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی مشکل ہو رہی ہے،اور جو مزید بڑھنے جا رہی ہے، اس پر بھی کوئی پریس کانفرنس ہو گی؟ کل جماعتی کانفرنس ہو گی؟ نیشنل ایکش پلان بنے گا؟