آج 30 جون کو دنیا بھر میں عالمی یوم پارلیمان اس خالت میں منایا جارہا ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک جعلی فارم 47 والی پارلیمان موجود ہے جو عوام کا نہیں مافیا،اشرافیہ، بدمعاشیہ ،اسٹیبلشمنٹ کا پارلیمان ہے اور عوام اور دستور کی محافظ نہیں آئی ایم ایف کے مفادات کی محافظ ہے۔پارلیمنٹ کے پیشانی پر کلمہ طیبہ ہے اور قانون سازی آئی ایم ایف اور امریکہ کی غلامی کی ہے۔
جعلی پارلیمان نامنظور۔
عوام کا حق حکمرانی بحال کرو۔
جس دن منی لانڈرنگ پر فرد جرم عائد ہونا تھی، اسی دن اسے حلف دلا کر پاکستان کا وزیراعظم بنا دیا گیا۔
پاکستانی عوام یہ مظالم کبھی نہیں بھولے گی۔
#ہے_وقت_وفا_کپتان_سے
آئینی بنچ نے اس رجیم کی بے بسی vulnerability کو مزید گہرا کر دیا ہے کل تک جو لوگ اس عدلیہ اور حکومت کے خلاف بولتے نہیں تھے اب انکی ایک بہت بڑی تعداد مخصوص نشستوں کے بھیانک فیصلہ کے بعد شدید غصہ میں ہیں۔ رجیم کی تنہائ بڑھتی جا رہی ہے۔
دوستو!!
آج یہ تحریر دوبارہ لکھنے پر مجبور ہو گئی ہوں 🥲
جب آئندہ کئی سال بعد دنیا کی تاریخ لکھی جائیگی پاکستان کے بارے میں بھی ایک نئی تاریخ لکھی جائیگی۔
"قوم المجروحین"
مؤرخ لکھے گا کہ قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط کے سارے مجموعی گناہ اس قوم میں پائے جاتے تھے۔
یہ ایک ایسی قوم تھی جو نام تو اللّٰہ پاک کا لیتی تھی مگر مانتی اپنے اپنے آلہ کاروں کو تھی۔
قرآن مجید کو اللّٰہ پاک کی کتاب مانتی تھی پر عمل کے لئے انسانی ہاتھ کی لکھی ہوئی کتابوں پر عمل پیرا تھی۔
ایک ایسی قوم تھی جسکو تعلیم صرف جاہل بنانے کے لئے دی جاتی تھی۔
ایک ایسی قوم تھی جسکے مذہبی پیشواء خود تو دنیا کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ مگر ان غافلین کو غربت افلاس کے فائدے بتا کر جنت کے ٹکٹ دیتے تھے۔
انکے حکمران بادشاہوں کیطرح زندگی گزارتے تھے۔ مگر اس قوم کے نچلے طبقے کو کھانے کو روٹی تک میسر نہیں تھی۔
مؤرخ لکھے گا کہ اس قوم میں انصاف بکتا تھا۔ طاقتور کے لئے الگ قانون اور غرباء کے لئے الگ قانون تھا۔
اس قوم کے قاضی انہی حکمرانوں کیطرح کرپٹ اور انصاف سے عاری تھے۔
اس قوم کے سیاستدان خود غرض، نااہل اور بےحس تھے۔ مگر یہ قوم ایسے سیاستدانوں کو اپنا مسیحا سمجھتی تھی۔ ان کے لئے ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کو بھی تیار رہتی تھی۔
مؤرخ لکھے گا کہ اس قوم کے اکثر لوگ دیگر ملکوں میں بسنے کو ترجیح دیتے تھے۔ مگر اپنی قومی ذہنیت اپنے ساتھ لیکر جاتے تھے۔ تہذیب یافتہ ممالک بھی انھیں تہذیب سکھانے سے قاصر رہے۔
یہ اندازہ اس سے لگایا جائیگا کہ تہذیب یافتہ کھوپڑیوں میں سے جاہل کھوپڑیاں بھی ملینگی۔
ایک ایسی قوم تھی جو لمبی لمبی دعائیں اور بدعائیں کرتی تھی۔ مگر اسکا عملی کردار انتہائی ناگفتہ بہ اور بیہودہ تھا۔
ایک ایسی قوم تھی کہ جس میں حرامخور عزت دار کہلاتے تھے اور محنت کر کے کھانے والے کمی کمین۔ یہ حق بات کو سمجھنے سے عاری تھے۔ بھیڑ بکریوں کیطرح جو چاہتا اپنے پیچھے لگا لیتا۔ سب کچھ لٹ جانے کے بعد بھی یہ انہی لٹیروں کے پجاری بنے رہتے۔ وہ ایک نئی کہانی گھڑ کے ان پر اپنی حکمرانی قائم رکھتے۔ یہ ان لٹیروں کے گیت گاتے اور انکی ہر نئی کہانی پر واہ واہ کرتے۔ اپنی آنے والی نسلوں کو پھر انکی غلامی میں جھونک دیتے۔
اسی لئے آنے والے وقت میں یہ قوم المجرمین پاکستان کے موضوع سے عبرت کے طور پر پڑھائی جائیگی۔
💔💔💔💔
#منقول
ہمیں نا پہلے عدالتوں سے کوئی امید تھی اور نا اب کوئی امید ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد اس ملک میں عدالتی نظام منہدم ہو چکا ہے۔
( بیرسٹر سلمان اکرم راجہ)
یہ سیاست نہیں یہ گٹر ہے۔ عوام اس پر گزارا نہیں کرے گی۔ پی ٹی آئ میں دم خم نہیں تو عمران خان کی ایک تصویر ریلیز کر کے دیکھ لو۔ وہ تمہارا سیاسی باپ ہی ہے جو مزاحمت کر رہا ہے۔
After the reserved seats decision PTI should seriously consider to withdraw from all its petitions and court cases as ALL state institutions have established beyond any doubt their partisanship. Moreover resign from all assemblies except KP. This would Deprive the regime of legitimacy. Think seriously about launching a non violent peaceful movement against this illegitimate regime.
عاصم منیر کے لیڈر کی دختر اول جسے عاصم منیر نے زور زبردستی اور اپنی شفقت سے بغیر ووٹوں کے وزیراعلی پنجاب بنایا، اس ملکہ کے خلاف اسمبلی میں احتجاج کرنے پر آپ کی رکنیت معطل ہو سکتی ہے۔
اللہ کبھی کسی ملک کو اس حد تک لاوارث اور بے سہارا نہ کرے۔ آمین