49 برس پہلے آج ہی کے دن قائد اعظم کا پاکستان دو لخت ہو گیا۔ اس لیے کہ ایک ڈکٹیٹر نے عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ ووٹ کی عزت پامال کی۔ حمود الرحمن کمیشن کی سفارشات کو ٹھکراتے ہوئے آج بھی ووٹ کی عزت پامال کی جا رہی ہے۔ اب یہ نہیں ہو گا۔قوم جاگ چکی۔
وہ بڑا نام جس کو اب ایکسپوز کرنے کا وقت اگیا🚨
ایم این اے فضل محمد خان جس کا تعلق چارسدہ سے ہے اس انسان پر عمران خان کے اتنے احسانات ہے کہ میں ادھر اگر گننے پر شروع ہوا تو ٹویٹ لمٹ پوری ہو جائے گی !!
یہ موصوف کل ہائیکورٹ کے سامنے آیا تاکہ کیمروں کی نظر اس پر پڑے اس کے بعد لاجز چلاگیا اچھا پھر لاجز میں بیٹھ کر سکرین سے تصویر لیکر شئیر کررہا کہ خان کی بہن کہہ رہی کہ خان کی صحت ٹھیک ہے۔۔ لیکن اس کا ضمیر اسکو پھر بھی اجازت نہیں دے رہا تھا کہ ان کارکنان کے درمیان بیٹھ جائے جنہوں نے اس کو ووٹ دیکر ایم این اے بنایا تھا خان کی آزادی اور رہائی کیلئے لیکن پھر بھی دیکھو کتنی ڈٹائی کیساتھ بیٹھا ہوا لاجز میں !!
یہ دو دفع ایم این اے بنا عمران خان کے نام پر آج یہ کدھر ہے لیکن کچھ دوست اس کو بہت فیسیلیٹیٹ کرتے ہیں کہ اسکے اتنے غلط فیصلے ہے چارسدہ میں اپنے بھتیجے کو 2024 میں ٹکٹ دیکر ورکر کو سائڈ لائن کرنے کی کوشش کی گئی جس میں پوری لیڈرشپ شامل تھی وہ ورکر آزاد کھڑا ہوا آج وہ ایم پی اے افتخار اللہ جان نام ہے اسکا الیکشن جیت کر پارٹی میں آیا اس کو کہتے وفاد��ری !!
مجھے لیڈرشپ یہ بتائے کہ یہ بندہ اڈیالہ نہیں جاتا تحریکوں میں نہیں ہوتا تو کس کوالیفیکیشن پر یہ پارٹی کے فیصلے کرتا ہے یا اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ جان بوجھ کر خان کو نقصان پہنچانے کیلئے ایسے لوگوں کو سپورٹ کررہے ہو !!
ٹویٹ پڑھنے کا شکریہ 🙏
“ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے۔ عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی- اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا- عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے-
اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے- جسکی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے- اس دور میں جس طرح عام عو��م کا قتل عام کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے سانحات، طاقت کے اس اندھے استعمال کی بدترین مثال ہیں۔ جس طرح نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں یہ کسی مہذب معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا-
خواتین پر جتنا ظلم عاصم منیر کے دور میں ہوا ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ اور کینسر سروائیوور ہیں، ان کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف چھوڑنے سے انکار کیا۔ بشریٰ بیگم کو بھی صرف اس لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ کہاں کا قانون ہے کہ جنھوں نے تحریک انصاف چھوڑ دی ان کے لیے عام معافی اور جو میرے نظریات کا ساتھ دیتے رہے ان پر ہر طرح کا ظلم و جبر۔
ہم غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
عاصم منیر مجھ پر اور میری اہلیہ پر ہر طرح کا ظلم کر رہا ہے۔ ایسا ظلم کسی سیاسی رہنما کے اہل خانہ کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ میں ایک بار پھر واضح کرنا ��اہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں نہ ہی میں جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں "یا موت یا آزادی" جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انھیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی س�� کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف نہ فارم 47 حکومت سے مذاکرات کرے گی نہ اسٹیبلشمنٹ سے۔ ایسی کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات کا تو ویسے ہی کوئی فائدہ نہیں جس کا وزیراعظم ہی "پوچھ کر بتاؤں گا" کے تحت چل رہا ہو۔ مذاکرات اس لئے بھی بے سود ہیں کہ جب بھی ہم نے مذاکرات کئے، ہم پر سختیاں اور ظلم مزید بڑھا دیا گیا۔ اس وقت ساری طاقت ویسے بھی ایک فرد واحد یعنی عاصم منیر کے پاس ہے جو اپنی کرسی کی خاطرکسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ہمارے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اتحادی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔
تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں، پارلیمنٹیرنز، آئی ایل ایف اور سینئیر وکلاء کو ہائی کورٹس جانا چاہیے اور وہاں سے تاریخ لئے بغیر نہ اُٹھیں، کیونکہ میرے اور بشری بیگم کے مقدمات کی تاریخیں ہی نہیں دی جا رہیں اور جان بوجھ کر مقدمات کو طوالت دی جا رہی ہے تاکہ ہم جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں رکھا اور آخر کار انہوں نے زمین بوس ہی ہونا ہے لہٰذا ان کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا جا رہا۔
سلمان اکرم راجہ پر مکمل اعتماد ہے۔ پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور ملاقات کی لسٹ سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی بھیجی جائیں گی، سلمان اکرم راجہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ہدایات پر عملدرآمد کروائیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ سے ملاقات میں پیغام۔۔۔ نومبر 4، 2025
بٹگرام کے گاؤں قدیرہ کلے میں لرزہ خیز واقعہ صرف 11 سالہ بچی کو چچا کے جرم کے بدلے میں بیاہنے کا فیصلہ کر دیا گیا۔والد سعودی عرب میں فریاد کر رہے ہیں، مگر دادا کے ایک فیصلے نے سب کچھ اجاڑ دیا۔خدارا! وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، بابر س��یم سواتی، نیاز ترند، اور ضلعی حکام فوراً نوٹس لیں۔یہ ایک بچی نہیں، پورے معاشرے کے ضمیر کا امتحان ہے۔
#بٹگرام #ChildMarriage #JusticeForGirl
@SohailAfridiISF
@HRCP87 @Dcbattagram
@CMShehbaz
جنرل عاصم منیر 29 نومبر 2022 کو چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) تعینات ہوئے۔
اُس وقت Pakistan Army Act, 1952 کے مطابق مدتِ ملازمت تین سال تھی۔
2024 میں ترمیمی بل (Pakistan Army (Amendment) Act, 2024) منظور ہوا، جس نے مدت کو 3 سے بڑھا کر 5 سال کر دیا۔
کسی بھی قانون کی ریٹروایکٹیویٹی (retroactivity) یعنی “پچھلی تاریخ سے اثر” صرف تب ہوتی ہے جب قانون میں واضح الفاظ میں لکھا ہو کہ:
“یہ ترمیم سابقہ تعیناتیوں پر بھی لاگو ہو گی”
یا
“یہ قانون نفاذ سے پہلے تعینات افسران پر بھی اثر انداز ہو گا��
مگر Pakistan Army (Amendment) Act, 2024 میں ایسا کوئی جملہ شامل نہیں۔
اس میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ “the term of appointment shall be five (05) years” — اور نفاذ کی تاریخ گزیٹ میں اشاعت کے دن سے ہے۔
لہٰذا:
جنرل عاصم منیر چونکہ 2022 میں تین سالہ مدت کے لیے تعینات ہوئے تھے، اور اپنی خدمات کو طول ��ینے کے لئے حکومت پاکستان سے ایکٹینشن لینا ہوگا۔
بہرحال ماضی کے چیف صاحبان کی سروس کا دورانیہ دیکھ کر واضح معلوم ہوتا کہ 3 سال وہ ملک کی خدمت کرکے انہیں دل کی تسکین نہیں ملتی اور پھر ایکسٹینشن کے جواز بنانا پڑتے تھے۔
اور اب چونکہ آئندہ آنے والے تمام چیف صاحبان 5 سال کے لیے تعینات ہوں گے تو امید ہے پاکستان میں جنگیں ہونے کے امکانات کم ہوا کریں گے اور حالات پر امن رہا کریں گے۔ 😊