مجھے ایسے واقعات سن کر بیحد خوشی ہوتی، بھوسہ دماغ جاہل گنوار زمینی حقائق سے لاعلموں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے اور مذید ہوتا رہے
اللہ نے عقل دی ہے ایک بدکردار جو خود چوری کے کیس میں عمر قید کاٹ رہا ہے اس کے چکر میں عقل گنوا دی
26 نومبر احتجاج کے تناظر میں گرفتار پی ٹی آئی کے فیصل باسط تنویر نامی ورکر ہے جس کا تعلق خیبرپختونخواہ کی تحصیل ٹپی ضلع صوابی سے ہے اس کے گھر والوں نے میرا نمبر کہیں سے لیکر رابطہ کیا کہتے ہیں اسد قیصر اس کے حلقے کے ہیں یا ایم پی اے ہیں کبھی کسی نے آکر نہیں پوچھا ہم پریشان ہیں ابھی تک ضمانت بھی نہیں ہو رہی ۔۔۔ ویسے اگر ایسا ہی ہے تو یہ بھی بڑا عجیب ہے اس پورے احتجاج میں پنڈی اسلام آباد درجنوں مقدموں میں پی ٹی آئی ورکرز گرفتار ہوئے سب لیڈرز محفوظ رہے اب یہ سیاسی ورکر گرفتار بھی ہیں تو ان کا کم سے کم پتہ تو رکھنا چاہیے
تازہ تازہ ن لیگی نائی صحافی
آپ بھی بہت سالوں تک ن لیگ مریم نوازشریف فیملی کی ماں بہن ایک کرتے تھے، آج لاکھوں کی نوکری ن لیگ کیا دی ہے آپ تو ان کے جوتے چاٹ رہے ہو، دنیا جانتی آپ صحافت کے شیخ رشید ہیں،
شرعی احکامات کے سامنے کسی کی کوئی اہمیت نہیں، غیر شرعی کام اگر کرنے تھے تو روس امریکہ ناٹو سے پنگا لینے کا کیا فائدہ؟ اتنی جانیں قربان کرنے کا کیا فائدہ؟
حکومت آنے جانے والی شہ ہے اللہ کے احکامات مقدس و مقدم رہنا ضروری ہے
افغان طالبان حکومت کے نائب وزیراعظم ملا برادر ملک چھوڑ گئے ، افغان طالبان نے وضاحت کی ہے کہ ملا برادر علاج کی غرض سے ایک ماہ کے لئے ملک سے باہر گئے ہیں۔ خواتین کی تعلیم پہ پابندی کو لیکر اس سے قبل عباس ستانکزئی اور سراج الدین حقانی بھی ملک چھوڑ چکے ہیں ۔
آسان کاروبار: فیصل آباد کے محمد آصف کو فارما سوٹیکل کاروبار کیلئے تین کروڑ قرض کا چیک ملا، راولپنڈی کے وجاہت فرید کو سافٹ ویئر ہاؤس کیلئے تین کروڑ قرض کا چیک ملا۔ لاہور کے محمد ارشد کو سپورٹس ایکسپورٹ کیلئے تین کروڑ قرض کا چیک دیا گیا،ساہیوال کے علی آصف کو فرنیچر کیلئے 50لاکھ روپے قرض کا چیک ملا۔ محمد افضل کو ٹرانسپورٹ بزنس کیلئے 31 لاکھ 75 ہزار قرض ملا،لاہور کے محمد شبیر کو ہیر سیلون اور کاسمیٹک بزنس کیلئے 50 لاکھ قرض کا چیک ملا۔ فیضان ممتاز کو گارمنٹس بزنس کیلئے 575000 کا آسان بزنس کارڈ ملا،ابو بکر صالح کو پیپر مینو فیکچرنگ کیلئے 10 لاکھ کا آسان بزنس کارڈ دیا گیا۔ چوہدری ذوالفقار علی کو بیکری بزنس کیلئے 10 لاکھ کا آسان بزنس کارڈ دیا گیا
اوئے یوتھن
مولانا صاحب تو سالوں سے یہ گفتگو جلسوں ریلیوں ملین مارچز اسمبلی ہر ہر فورم پر کرتے آرہے ہیں
باقی 26 وی ترمیم میں تمام یوتھیا بریگیڈ مولانا کے گھر صبح شام لنگر کھاتے اور وہیں پڑے رہتے تھے باہم مشاورت سے ترمیمات ہوئی ہیں، آپ شاید اس وقت کچن میں پوچہ مار رہی تھیں
رنجیت سنگھ کی بدبودار ذریت ن لیگی نائی ان کے بارے میں انکشاف کررہا ہے جنہوں نے نفاذ اسلام کے لیے 40 سالوں میں لاکھوں لوگوں کی قربانیاں دیں،
نائی مراثی ڈوم لوگ کیا جانے اسلامی ازم اور اس کے نفاذ کے لیے کتنا خون دینا پڑتا ہے، نائی مراثیوں کی سمجھ میں یہ بات قیامت تک نہیں آنی
پہلی بار اس یوتھیا کے منہ سے مولانا صاحب کا نام سنا، یقیناً مولانا نے تقریر میں اسٹیبلشمنٹ کو رگڑا دیا ہوگا جو وہ ہمیشہ دیتے آرہے ہیں ممکن ہے یوتھیوں کے لیے اس میں کوئی فائدہ مند بات ہوگی ورنہ تو اڈیالہ کا بدبودار مجرم مولانا کی سیاست ختم کرچکا تھا 😊
مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کر رہے ہیں پہلے تو تقریر کے دوران چھ دفعہ ان کی آواز ٹی وی پر بند ہوئی پھر دیکھانا ہی بند کر دیا
سپریم کورٹ کی تبدیل کردہ کمیٹیز میں سے ایک کمیٹی میں جسٹس عامر فاروق کو اسلام آباد انسداد دہشت گردی عدالتوں کا انتظامی جج مقرر کر دیا گیا ۔۔۔ حالانکہ ان کے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ہوتے ہوئے انہی عدالتوں کے اوپر ہوتے سب نے دیکھا کہ کیسے درجنوں دہشت گردی کے مقدمے درج ہوتے رہے آج تک کہیں نہیں طے کیا گیا ۔۔۔ کیا دہشت گردی ہے اور کیا نہیں ہے ۔۔۔ !!
عدالتیں جیسے جیسے یوتھیا جراثیم سے ہوتے جائیں گی، آئندہ عام ملزموں کی طرح اڈیالہ کے مجرم کی تاریخیں بھی مہینوں سال بعد لگا کریں گی
ابھی تو ابتداء عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت جمعہ 15 فروری کو 26 فروری تک ملتوی ہوئی تھی تو اب توشہ خانہ ٹو کیس کی جو سماعت آج 17 فروری ہونا تھی وہ بھی بغیر سماعت 27 فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے ۔۔۔ !! یوں آئندہ 10 دن اڈیالہ جیل میں کوئی سماعت نہیں ہو گی ۔۔ معمول سے ہٹ کر طویل تاریخ پڑی ہے
چاپلوس موقع پرست نائی صحافت کے دوست بھی سیاسی شعور سے خالی چاپلوس نائی ہی ہوں گے، کیکر یے درخت پر گلاب نہیں لگتے جیسا درخت ویسا پھل،
پیسہ شہرت مراعات کے لیے ایمان ضمیر بیچنے والوں میں تم صف اول کے نائی صحافی ہو
A PTI propagandist sitting in Germany is running a malicious fake propaganda campaign against Pakistani female politicians—a clear violation of Germany’s anti-discrimination laws (AGG) & Network Enforcement Act (NetzDG). Hate speech, misogyny, and defamation are punishable offenses under German law.
Why is PMLN’s official social media silent while their women leaders are being targeted?
Silence enables harassment!It’s time to expose and report this coordinated hate campaign!
@BMFSFJ@AuswaertigesAmt@EUCouncil@EU_Commission@UN_Women@amnesty@hrw
A Pakistan National TV anchor, hired on an exorbitant salary by the Information Minister @TararAttaullah , is engaging in body shaming, bigotry, and personal attacks using my picture.
This same individual has previously blamed a female actress for being a victim of domestic violence, reinforcing misogyny and victim-blaming in society.
His filth is nothing but a desperate attempt to justify his unjustified induction into state media.
Such hate speech and unethical journalism must be exposed!
@CNN@BBCWorld@AlJazeera@guardian@nytimes@UNHumanRights@hrw@RSF_inter@amnesty #MediaEthics #StopHateSpeech #PakistanMedia
اوئے ٹکے کے ن لیگی کارکن صحافی یہ کیا خبر ہے؟ خبر یہ ہیکہ امریکہ بھارت تعلقات عروج، خطے میں امریکی سرپرستی میں بھارت کو بالادستی دلانا، یہ خبر ہے
ٹکے کے صحافی رنز سے پاکستان کی سیاسی معیشت استحکام خطے میں بھاری بھرکم حیثیت بڑھ جائے گی؟
گلی محلے لونڈے صحافی بن گئے
پھر تو عثمان بزدار فرشتہ ہوا، جس نے 4سال حکومت کی ایک پائی کی کرپشن ثابت ہوئی؟ حالانکہ اربوں اربوں کی ہیر پھیر ہوئی ہے،
ن لیگی نائی کارکن صحافی
یہ دلیل کمزور ہے، ہمنوا ہاتھ مارتے ہیں جیسے تجھے نجم ولی جیسوں کو بڑی تنخواہوں پر نوکریاں دیں کیا یہ کرپشن نہیں؟
مریم نوازشریف نے اپنی حکومت کے ایک سال میں تقریبا ایک ہزار ارب روپیہ خرچ کیا ہے، تاہم ابھی تک ان کا غلیظ سے غلیظ مخالف بھی ابھی تک ان پر ایک دھیلے کی کرپشن کا الزام نہیں لگا سکا۔
🥰
اس بندے کا مسئلہ
تیرے جیسے چمچے ن لیگ کے نائی کارکن صحافی کو چوک پر کھڑا کر دیتا ہے
اور تیرے جیسوں کو اوقات میں رکھنے کے لیے اس @RShahzaddk
کو اللہ نے مسلط کیا یے
باقی تیری جو کلاس اب یہ لے گا تیرے پاس بلاک کرنے کے سوا کوئی آپشن نہ ہوگا
اہم خبر ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کے اہم ریمارکس " پاکستان میں رہنا مستقل لڑائی ہے 24 ، 25 کروڑ لوگ ہیں لڑائی کرنے والے زیادہ بچنے والے کم ہیں ، جسٹس محسن اختر کیانی
جوڈیشری پلر آف اسٹیٹ ہے ، وکیل درخواست گزار
"پلر آف اسٹیٹ تو سب ہوا میں ہی ہے ، پھر بھی مایوس نہیں ہیں 45 سال کے اوپر کے آدمی میرے سمیت ناکارہ ہے نوجوانوں نے ہی اس ملک کے لئے کچھ کرنا ہے عدلیہ ، پارلیمنٹ ، ایگزیکٹو سب کچھ collapse کر چکے ہیں " جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس