30 لاکھ آبادی کے شہر حیدرآباد میں پچاس افراد کی عظیم الشان ریلی۔۔
واضح رہے کہ حیدرآباد کے مقبول عوامی لیڈرز کو سائڈ لائن کرکے پارٹی سرمایہ دار پیرا شوٹرز کے حوالے کردی گئی ہے۔
انتخابی مہم الیکشن 2024
عوامی نمائندہ عوام کے بیچ میں۔
اُمیدوار حلقہ این اے 219 پی ایس 63 جمشید علی شیخ ، اُمید وار حلقہ پی ایس 62 نواب خان نے شاہ لطیف ٹاؤن یوسی 116 میں عوامی رابطہ مہم شروع کی اور اہلِ علاقہ سے ملاقات کی اُن کے مسائل سنے۔
#NA219#PS63#Election2024#ImranKhan
@JamshedAS جو لوگ بلدیہ میں اپنی یوسی نہیں جیت سکھے وہ کمیٹی کے ممبر بن کر صوبائی اور قومی اسمبلی کے ٹکٹ کا فیصلہ کر رہے تھے۔
سارا اندرونِ سندھ باپ کا مال سمجھ شهری علاقو سے بلے کے نشان پر ایلکشن لڑ رہا تھا۔
بلا کا نشان واپس لینے سے اب یہ فائدہ ہوگا جو تحریک انصاف کا اصل چہرہ ہوگا جو عوام میں موجود رہا ہوگا اسے ووٹ ملے گا۔ ٹکٹ کے نام پر جو خرید و فروخت چل رہی تھی اور سندھ میں مخصوص گروپ اپنے چمچو کو آگے لانے کی کوشش کر رہا تھا اُسے ٹھیس پہنچے گی۔
اپ مقابلہ میریٹ پر ہوگا۔
اپنے آبائی حلقے سے این اے 219 اور پی ایس 63 پر کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے۔
تحریک انصاف کے ٹکٹ پر اسی حلقے سے 2018 کے جنرل الیکشن پر(سابقہ) این اے 226 سے تقریبآ 40 ہزار ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہ چکا ہو۔
#na219#PS63#PS62#Elections2024
جمشید علی شیخ کے والد محترم شیخ شوکت علی رح 2013 کے جنرل الیکشن میں جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑچکے ہیں۔
چیئرمین یوسی 122 نواب علی خان نے بھی پی ایس 62 سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے۔
اس موقع پر کارکنان چیئرمین وائس چیئرمین ہمدردوں کی کافی بڑی تعداد ان کے ہمراہ تھی۔
کچھ لوگ اہم اور بڑے منصب پر پوچھ کر بھی نہیں بدلتے @ArifAlvi اپ ان میں سے ایک ہیں۔ علامہ اقبال کا یہ شعر اپ کے لئے۔
کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں. ڈُھونڈنے والوں کو دُنیا بھی نئی دیتے ہیں.
جمشید علی شیخ نے اپنے آبائی حلقے سے این اے 219 اور پی ایس 63 پر کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے۔
جمشید علی شیخ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر اسی حلقے سے 2018 کے جنرل الیکشن پر(سابقہ) این اے 226 سے تقریبآ 40 ہزار ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہ چکے ہیں
قومی اسمبلی کے اسی حلقے سے
عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ہر طرح سے راستہ روکا گیا پر اللہ نے چیف جسٹس کی کرسی پر بٹھا دیا۔
ابتدا تو بہت اچھی ہے۔
اللہ کرے چیف جسٹس اپنے نام کی طرح قاضی بنے اور اشرافیہ بیوروکریٹ، ججز کے لیے وہی قانون ہو جو عام آدمی کے لیے ہے۔
#QaziFaezIsa
بادشاہی مسجد 1673 میں اورنگزیب عالمگیر نے لاہور میں بنوائی۔ یہ عظیم الشان مسجد مغلوں کے دور کی ایک شاندار مثال ہے اور لاہور شہر کی شناخت بن چکی ہے۔ یہ فیصل مسجد اسلام آباد کے بعد پورے پاکستان کی دوسری بڑی مسجد ہے، جس میں بیک وقت 60 ہزار لوگ نماز ادا کرسکتے ہیں۔
#badshahimasjid
اسکے علاوہ HMC بلدیاتی منتخب نمائندوں نے مئیر حیدرآباد کاشف شورو کی جانب سے HMC کمیٹیز بنائی گئی اس میں منتخب نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ان کمیٹیوں کو فوری تحلیل کیا جائے۔