قائد کی جان کی حفاظت کسی بھی سیاسی اختلاف سے بالاتر ہے۔
عمران خان کے ساتھ انسانی اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا جائے۔
ان کی سلامتی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔
#StopRiskingImranKhansLife
عمران خان پاکستان کے سابق وزیراعظم ہیں، لیکن سب سے بڑھ کر ایک انسان ہیں۔ ان کے علاج، صحت اور زندگی کے تحفظ میں کسی قسم کی تاخیر یا غفلت نہیں ہونی چاہیے۔ #StopRiskingImranKhansLife
صحت کا معاملہ وقت اور تاخیر کا متحمل نہیں ہوتا۔ عمران خان کو اگر اسپتال کی ضرورت ہے تو انہیں مزید انتظار کروائے بغیر فوری طور پر منتقل کیا جائے۔ #StopRiskingImranKhansLife
#StopRiskingImranKhansLife#InsafiansPower
پمز ہسپتال کی خوفناک آگ میں پندرہ معصوم بچے جل کر راکھ ہو گئے، مگر کسی ذمہ دار کو گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ کسی نے جوابدہی طلب کی۔ خان صاحب کو اسی خونی اور لعنتی ہسپتال میں علاج کے لیے بھیجا جا رہا ہے، حالانکہ سپریم کورٹ کا واضح حکم شفاء انٹرنیشنل کا تھا۔ کیا یہ قتل کی خاموش کوشش نہیں؟ جس نے شوکت خانم جیسے تین عظیم ہسپتال بنائے اور کینسر کے مریضوں کو مفت زندگی بخشی، وہ آج خود علاج سے محروم ہے، یہ کیسی ستم ظریفی ہے۔
ہسپتالوں کی آگ میں جلتی ہوئی انسانیت، اور خان کی ایک آنکھ میں سچائی کا چراغ روشن ہے۔
آخر وہ کون ہے جو پاکستان کو ترقی کی راہ پر نہیں دیکھنا چاہتا؟
کب تک فیصلے آئین و قانون کے بجائے طاقت کے زور پر ہوتے رہیں گے؟
عمران خان کے خلاف مقدمات کا شفاف اور منصفانہ فیصلہ کیا جائے، اور اگر جرم ثابت نہیں تو رہائی دی جائے۔
#StopRiskingImranKhansLife
#StopRiskingImranKhansLife#InsafiansPower
عمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی ہے اور دوسری آنکھ پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے، مگر ان کا عزم کمزور نہیں ہوا، وہ کہتے ہیں کہ "میں عدالتوں سے انصاف لے کر باہر آؤں گا، چاہے میری جان ہی کیوں نہ جائے"۔ یہ ہے لیڈر کا عزم جو سینکڑوں قیدیوں اور مظلوموں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
اندھیرے میں خان کا نور ہے، جو ہمیں راستہ دکھائے گا۔
#StopRiskingImranKhansLife#InsafiansPower
قیدی نمبر ۸۰۴ کی بیوی جمائمہ نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ خان کی حالت تشویشناک ہے، مگر میڈیا نے ایک کرنل کے معمولی واقعہ کو اتنی اہمیت دی کہ سپریم کورٹ کا حکم بھی دفن ہو گیا اور اکیس کپتانوں کا تاریخی خط بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ کیا یہ توجہ ہٹانے کی خاموش سازش ہے؟ جب وردی گندی ہوتی ہے تو میڈیا جاگتا ہے، مگر جب معصوم بچے جلتے ہیں یا کوئی لیڈر موت کے کنارے ہوتا ہے تو خاموشی چھا جاتی ہے۔
میڈیا کے پردے ہٹاؤ، کیونکہ خان کا درد ہی اس قوم کا اصل چہرہ ہے۔
#StopRiskingImranKhansLife#InsafiansPower
عمران خان کی بہنوں علیمہ اور عظمی نے عدالتوں اور سڑکوں پر تین طویل سال بے خوف اور بے لوث کاٹے، ہر موسم کی سختی برداشت کی، مگر پارٹی قیادت کی موجودگی صفر رہی۔ علیمہ اور عظمی خان نے خان کا نام اور بیانیہ زندہ رکھا، اور آج وہی بہنیں نشانہ بن رہی ہیں جبکہ گیدڑ چپ ہیں۔ کیا یہ غیرت ہے؟ کیا یہ وفا ہے؟ بہنیں خان کا چہرہ ہیں اور ان کی آواز ہی خان کی آواز ہے۔
بہنوں کا عزم ہی خان کی پہچان ہے، اور یہ پہچان ہم سب کی ہے۔
جس شخص نے پاکستان کے لیے کرکٹ میں کامیابی حاصل کی، فلاحی ادارے قائم کیے اور عوامی خدمت کو اپنی جدوجہد بنایا، آج اس کی صحت کے لیے پوری قوم کی آواز ہے: خطرہ مول نہ لیں، فوری اور بہترین علاج یقینی بنائیں۔ #StopRiskingImranKhansLife
“We last saw our father, Imran Khan, in November 2022, when he survived an assassination attempt & was shot in the leg. 🚨
Now, more than six months have passed & we have not even been allowed to speak to him.”
— Sulaiman Khan
#StopRiskingImranKhansLife@ZacGoldsmith
ہمارے لیے تو یہ باعث مسرت ہوگا کہ وہ ہمارے پاس ہوں لیکن پاکستان کے لوگوں کے ساتھ زیادتی ہو گی کیونکہ ہمارے والد ایک جدوجہد کررہے ہیں۔
#StopRiskingImranKhansLife