بریکنگ نیوز 🚨بی بی سی کا بڑا انکشاف 🔥
پاکستان تحریک انصاف نے گلگت بلتستان میں 24 میں سے 21 سیٹیں اپنے نام کرلی ہیں لیکن وہاں پنجاب پولیس کے اور ایجنسیوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر دھندلی کر کے پیپلزپارٹی کو حکومت دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ اٹھائیسویں آئینی ترمیم منظور کروانے کیلئے اسٹبلیشمنٹ نے سودہ کیا ہے۔
میرے والد اور ان کی ساری نسل نے ساری زندگی پاکستان کا دم بھرا۔وہ پاکستان کا نام کلمے میں پڑھتے تھے۔شکر ہے میرا باپ اور اس کی نسل کے لوگ آج زندہ نہیں۔یہ حالات دیکھ کر ان کے کلیجے پھٹ جاتے۔جو میں سن رہا ہوں یہ اس پونچھ کی دھرتی پر ہوا جہاں لوگوں نے پاکستان کے لیے زندہ کھالیں کھچوائیں۔مجھے یہ کہنے دیجے کہ جو کچھ مجھے راولاکوٹ سے بتایا جا رہا ہے وہ سب سن کر نریندر مودی مجھے ایک بہتر آدمی لگا۔
حامد میر کا اہم ترین تجزیہ 🔥🔥🔥
آج سارا دن گلگت بلتستان میں پی آئی آئی ووٹر کا راج رہا، شاندار مناظر دیکھنے کو ملے ہیں۔ بہت بڑا ٹرن آؤٹ دیکھنے کو ملا ہے آج سے پہلے میں نے کبھی گلگت بلتستان میں نوجوانوں کو اتنی بڑی تعداد میں الیکشن کے دن نکلتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اسکی بنیادی وجہ اسٹبلیشمنٹ کی پی ٹی آئی پر کی گئی زیادتیاں ہیں، ظلم ہے جسکی بنا کر لوگ پی پی اور ن لیگ کو مسترد کر چکے ہیں۔ یہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کا مقابلہ ہے جسے پی ٹی آئی بھاری مارجن سے جیت رہی ہے۔
*صرف عمران خان ہی کیوں۔۔.سینیئر تجزیہ کار ہارون رشید
(اشک بہا دینے والی تحریر)
"کچھ لوگ ابھی بھی پوچھتے ہیں کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے اتنی خوفزدہ کیوں ھے؟
یہ سوال سن کر مجھے اپنے پاکستانی لوگوں کی معلومات پر حیرت ہوتی ہے
کہ اس لاعلم قوم کو اتنا بھی علم نہیں کہ عمران خان کے دور میں پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار چھٹی جماعت سے لے کر 12ویں جماعت تک ہر بچے کے لیے ترجمہ قران کی تعلیم شروع کی گئی۔۔۔
ملک کے کروڑوں بچے اب سکول میں قران ترجمے کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔۔۔
جماعت 12th 11th 10th 9th میں بچوں کے بورڈ کے امتحانات میں لازمی مضمون کے طور پر یہ سبجیکٹ شامل ہے۔۔۔۔
یہ کتنا بڑا قدم ہے یہ بات پاکستان کی سادہ عوام نہیں جانتی مگر امریکہ اچھی طرح جانتا تھا کہ عمران خان اس قوم کے نوجوان نسل کو قران سے جوڑ رہا ہے کیونکہ امریکیوں کو پتا ہے کہ کالج اور سکول کے سلیبس کس طرح نئی نسلوں کی ذہن سازی کرتے ہیں تو آپکا کیا خیال ہے کہ
قران کو عام کرنے والے اس عمران خان سے امریکہ خوش ہو گا؟؟؟
یقینا نہیں
یہاں ایک اور وجہ بھی یاد کرانا ضروری ہے
عمران خان نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر 193 ملکوں کی تنظیم کے سامنے یہ جملے بولے۔۔۔
"”حضور نبی کریم ﷺ ہمارے دلوں میں بستے ہیں اور جب مغرب میں(انگریزوں میں) کوئی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہمارے دل دکھتے ہیں اور دلوں کا درد سب سے زیادہ شدید درد ہوتا ہے"”
کیا اب بھی نہیں سمجھے کہ عمران خان امریکہ کی نظروں میں کیوں چبھتا ہے؟؟
یاد کرو جب اس کی ماں کینسر سے فوت ہوئی تو اس نے کینسر ہسپتال بنا دیا کہ کسی اور کی ماں کینسر سے نہ مرے
پھر جب وہ وزیر اعظم بنا اور سردی کا موسم آیا تو اس نے پناہ گاہیں بنائیں کہ مزدور اور غریب سڑکوں فٹ پاتھ وغیرہ پر نہ سوئیں۔۔۔۔
صحت کارڈ دے کر ہر غریب کو 10 ، 10 لاکھ علاج کے لیے دیے۔۔۔۔
جب وہ لنگر خانے میں گیا تو مزدورں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگا۔۔
جب بات شروع کی تو ایاک نعبد و ایاک نستعین کہہ کر آغاز کیا۔۔
جب مدینہ منورہ پہنچا تو جوتے نہیں پہنے بلکہ ننگے پیر چلا۔۔۔
مشرف نے امریکہ کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی اجازت دی۔۔۔
زرداری کے دور میں ڈرون اٹیک ہوتے رہے
نواز شریف کے دور میں بھی سلسلہ جاری رہا
مگر عمران خان نے Absolutely Not کہہ کر کر بتا دیا کہ وہ غلامی قبول نہیں کرے گا۔۔۔
عمران خان کے 3.5 سالہ دور میں امریکہ ایک ڈرون حملہ نہیں کر سکا۔
اب بتائیں
کیا ایسا شخص امریکہ کو برداشت ہو سکتا تھا؟؟
پھر وہی ہوا جو ہونا تھا امریکہ نے پاکستان میں موجود اپنے فوجی جرنیلوں کو بول دیا کہ بس اب اور نہیں اور بالآخر امریکہ اور پاکستانی فوج جیت گئی اور عمران خان اور پاکستان ہار گیا۔
میں 45 سال سے زیادہ عرصے سے صحافت کر رہا ہوں تاریخ کے مطالعے اور اپنے 45 سالہ مشاہدے کی بنیاد پر میں کہتا ہوں کہ 75 سال میں اتنا ظلم کسی پارٹی پر نہیں ہوا جتنا آج فوج عمران خان پر کر رہی ہے
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ 75 سالوں میں فوج کو ایسے کوئی نہیں ٹکرا جس طرح خان ٹکرا ہے
کیونکہ جو جیسا ٹکرتا ہے اس کو جواب بھی اتنا ہی ملتا ہے اور یہاں جواب کی شدت بتا رہی ہے کہ اس بار اسٹیبلشمنٹ کو بندہ شدید ٹکر کا ملا ہے۔
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ کسی امیدوار کو الیکشن کے کاغذات ھی جمع کرانے سے روک دیا گیا ہو
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ گھروں میں گھس کر عورتوں اور بچوں پر تشدد کیا گیا ہو
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ ایک جماعت پر الیکشن کمپین کرنے پر گرفتاری ہو جب کہ دوسری جماعت کے جلسے ہر وقت TV پر دکھائے جا رہے ہو۔
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ فوج ایک پارٹی سے اتنی ڈر گئی کہ سرے سے اس پوری پارٹی کو ہی الیکشن سے نکال دیا
آج تک یہ سب نہیں ہوا اور یہ بھی نہیں ہوا کہ اتنا ظلم کرنے کے بعد بھی ایک بندہ ملک میں سے 200 سے زیادہ سیٹیں جیت گیا
اور پھر وہ ہوا جو آج تک نہیں ہوا تھا کہ ایک ایک لاکھ کی لیڈ بھی بدل دی گئی
واقعی
آج تک عمران خان جیسا کوئی آیا ہی نہیں
جو امریکہ کے سامنے ڈٹ گیا ہو
یہاں تو سب لیٹ جاتے تھے
ڈٹ جانے والا پہلی بار دیکھا ہے
اگر عمران خان کو تاریخ کے آئینے میں پرکھا جائے اور موجودہ حالات میں عمران خان کی ثابت قدمی دیکھی جائے تو بلامبالغہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو عمران خان کے قدموں کی دھول بن چکا ہے
عمران خان کے سامنے بھٹو بھی ایسے ہے جیسے سورج کے سامنے چراغ ہو
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں عمران خان سب سے بڑا لیڈر ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم عمراں خان کے زمانے میں جی رہے ہیں
آنے والی نسلیں ہم پر رشک کریں گی کہ
وہ بھی کیا خوش قسمت لوگ تھے جو عمران خان کے دور میں زندہ تھے مگر کتنے بںےغیرت اور بںے قدرے تھے کہ عمران خان کو سمجھ نہیں سکے۔۔۔۔۔۔۔
ایران جنگ کے آفٹر شاکس جاری ہیں
یوکرین کے صدر زیلنسکی کو چار سال جنگ کے بعد، یوکرین کا انفراسٹرکچر اور معیشت تباہ کرنے کے بعد، خیال آیا کہ اُسے روس کے صدر سے براہ راست بات کرنی چاہیے، کیونکہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ میں مصروف بھی ہے اور بے حد دباؤ میں بھی ہے
ایران جنگ کیوجہ سے امریکہ کی دُنیا بھر پر گرفت ڈھیلی پڑ گئی، کوئ اُسے آنکھیں دکھا رہا ہے، کوئ امریکی درخواست کو رد کر رہا ہے، کوئ تڑیاں لگا رہا ہے، سوشل میڈیا مزاق اُڑا رہا ہے، میڈیا سوال اُٹھا رہا ہے، امریکہ کے اندر بھی کانگریس اور سینٹ کمیٹیوں میں بھی روزانہ بے عزتی ہورہی ہے،
یوکرین کی اگلی کہانی میں بتا دیتا ہوں، زیلنسکی اور پیوٹن کی امریکہ اور یورپ سے بالا بالا ملاقات ہوگی، جنگ بندی ہوگی، زیادہ تر پیوٹن کی شرائط پر ہوگی، یعنی روس جنگ جیت گیا، امریکہ اور یورپ کا ایک اور کھلاڑی ہاتھ سے گیا،
چین، روس اور ایران نے ملکر جو گیم ڈالی ہے، اس نے امریکہ اور یورپ کو لٹا دیا ہے
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned on International Affairs
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
پہلے کہتا ہے میں جنگ جیت گیا
پھر کہتا ہے راتوں رات صفحہ ہستی سے مٹا دوں گا
پھر کہتا ہے امن معاہدہ چوبیس گھنٹوں میں کرو ورنہ ایران کا کچھ نہیں بچے گا
پھر کہتا ہے میرے ایران سے بہترین تعلقات ہو گئے ہیں
پھر کہتاہے میں نے آبناۓ ہرموز پر مکمل قبضہ کرلیا ہے
پھر کہتا ہے آبناۓ ہرموز فوراً کھولو
اور کل کہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں آیت اللہ مُجتبی خامنائ سے ملنے ایران جاؤں گا اور میرے لئیے یہ ایک اعزاز کی بات ہوگی۔
اگر ایسے شخص کو پاگل نہیں کہتے تو پھر تمام پاگلوں کو پاگل خانوں سے آزاد کردیں۔