I fucking knew these 3 men had done nothing wrong.
Turns out they were taking part in a local run.
We cannot allow bigotry,racism and Islamophobia to win.
That bastard needs exposing and arresting immediately. Pure fucking scum!!
صحافی ہونا مشکل کام ہے۔ مجال ہے کوئی خوش ہو جائے۔ روز کوئی نہ کوئی دشمن بنا ہوا ہوتا ہے جسے آپ جانتے تک نہیں۔
اکثر مجھے گھر سے کہا جاتا ہے کیسے پروفیشن میں ہو کہ روز پانچ دس نئے دشمن بنا کر گھر لوٹتے ہو۔ کوئی سوشل میڈیا پر آپ سے خوش تو کوئی ناراض۔ انسانوں کو راضی تو خیر خدا بھی نہیں کرسکا اور قران میں لکھ دیا کہ انسان بڑا بے انصاف اور ناشکرا ہے۔
آج کی یہ خبر دیکھ لیں جس سے دل دہل جاتا ہے کہ بعض دفعہ غربت کتنی بھیانک شکل میں سامنے آن کھڑی ہوتی ہے۔
ملتان میں باپ اپنے جوان بیٹے کی میت گھر میں پڑی چادر میں ڈال کر قبرستان دفن کرنے لے آیا کیونکہ کفن دفن تک کے پیسے تک نہیں تھے۔ ہمارے ملتان کی زری اشرف صاحبہ نے ویڈیو دیکھی تو پیغام آیا کہ مجھے کوئی نمبر دیں میں سب اپنی جیب سے انتظام کرتی ہوں۔
خیر فیس بک پیج پر یہ ویڈیو لگائی تو اکثر نے ہم میڈیا والوں کو برا بھلا کہا کہ ہم نے ان کی مدد کیوں نہ کی۔ بعض نے مجھے برا بھلا کہا کہ ویڈیو لگانے کی بجائے ان کی فورا مدد کیوں نہ کی۔ اس طرح اکثر ہمیں سنننا پڑتا ہے۔
اب کیا پتہ جس نے وہ ویڈیو بنائی اس نے بعد میں اس خاندان کی مدد کی ہو۔ اس ویڈیو کے میڈیا پر چلنے کے بعد فوری پولیس پہنچ گئی اور کفن دفن کا انتظام کیا۔
صحافی اگر خبر ہی نہ دے تو وہ گالی گلوچ سے بچا رہے گا۔ ورنہ وہ اگر ایسی چیزیں سامنے لائے اور معاشرے کو یہ چہرہ سب کو دکھائے تو سب سے پہلے اسے صلواتیں ہی سنائی جاتی ہیں کہ تم بے حس ہو۔ تمہیں ویوز کی فکر ہے غریب کی فکر نہیں ہے حالانکہ وہ کچھ غریب کی ہمدردی میں کیا جارہا ہوتا ہے۔
اگر آپ کیمرے پر کسی کی مدد کریں تو بھی گالیاں کھائیں کہ دکھاوا کررہے ہیں اور اگر کیمرے آف کر کے کریں اور لوگ نہ دیکھ سکیں تو بے حسی کے الزامات سنیں۔
میڈیا کا کام ایسے غریبوں مظلوموں کی کہانیاں سامنے لانا ہے۔ جب یہ کہانیاں سامنے آتی ہیں تو ہی لوگ ان ایشوز کے بارے حساس بھی ہوتے ہیں، آنسو بھی بہاتے ہیں اور مدد بھی کرتے ہیں۔ یہی صحافت یا کلپ کا مقصد ہوتا ہے۔ اگر کلپ بنانے والا اپنی جیب سے مدد نہ بھی کر سکے تو بھی تسلی رکھیں اس نے ہزاروں لوگوں کو احساس دلایا ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس جوان بیٹے کے کفن دفن کے پیسے تک نہیں ہیں۔ زری اشرف صاحبہ بہت سارے حساس اور خوبصورت دل کے مالک ان کلپس کو ہی دیکھ کر بے چین ہو جاتے ہیں کہ ہمیں بتائیں ہم سب کچھ کریں گے۔
یہی میڈیا کا کردار ہے۔ اسے برا بھلا کہہ کر ایسی لرزہ خیر حقیقتوں کا راستہ نہ روکیں کہ اگلی دفعہ وہ بندہ دس دفعہ جھجک جائے کہ یہ تلخ اور تکلیف دہ حقائق سامنے لانے پر حوصلہ افزائی ایک طرف الٹا گالیاں کھائیں۔
تحریر/رئوف کلاسرا
@Zaishe57 A young boy was crushed by a bus, & the women, knowing it was a brutal accident, asked his 10 YO sister: Kya aap ne bhai ko dekha tha death k baad? The poor girl said: nhi, doctor ne bola k face bilkul nhi bacha, kya dekho ge?
What the hell aunty!
@chittakukkarr An aunty to my physiotherapist friend in rickshaw, while herself going for physiotherapy: koi Deen ki taleem haasil kerti tum. Ye kya dunya mei waqt barbad kr rhi ho
🤦🏻♀️🤦🏻♀️🤦🏻♀️
To paraphrase Mohammed Al-Kurd:
In one part of the world, we have mothers complaining about being threatened by some words on a tshirt.
In another part of the world, we have mothers searching through the rubble for their dead children.
Guess who receives more attention?
A Typical DMG Career: The Quiet Ladder
Young Ahmed clears the CSS exam and enters the Civil Services Academy in Lahore. For two years he lives inside a pressure cooker of lectures, drills, and endless networking. His batch quickly forms tight “tribes” — lifelong alliances that will decide postings, favours and promotions for decades. This tribe or family will stay in power for the next 30+ years
After the academy he spends three hard years in the field as Assistant Commissioner: revenue courts, law-and-order crises, angry crowds and politicians. The district teaches him how Pakistan actually runs.
By his mid-thirties the system rewards the sharp ones. Eighty percent of ambitious officers secure scholarships to Harvard, Oxford, LSE or similar. Ahmed returns with a foreign degree, polished English and a valuable international contact book. He is now fully westernized and indirectly wired to take debt and follow western consultants
Back home he hunts “project” postings. Many move to donor-funded programmes — World Bank, ADB, FCDO, USAID — either on deputation or full secondment. The salary is better, the work cleaner, the reports international. No matter if more debt is required. Not his problem. Besides the consultants give him clean advice that he learnt at Harvard etc
By now he has also secured a spacious GOR house in Lahore that, with the right connections, he will not vacate for the next thirty or forty years.
A few years later he angles for an overseas slot: Commercial or Economic Counsellor in an embassy, or a position at the WTO or some other such agency.
After three to five rewarding years abroad he returns as Joint or Additional Secretary. With luck he reaches full Secretary rank, controlling large budgets and key policies.
In these golden years he quietly but aggressively cultivates donor representatives. Conferences, study tours and quiet dinners build the bridge.
When retirement arrives — or even early retirement — consulting contracts, advisory roles and well-paid door-opener positions appear. Donors need exactly these men: insiders who know every file, every approval route and every decision-maker.
What should we expect? A highly internationalised bureaucracy whose career incentives are shaped as much by foreign aid ecosystems as by national interest.
Who do they ultimately serve? The Government of Pakistan on paper; the revolving door of donors and multilateral organisations in practice.
Conflict of interest? Significant and largely unaddressed.
This is why experts like Stefan Dercon remain in high demand. For a few hundred million pounds over the years, Britain and other donors have built deep influence inside Pakistan’s elite bureaucracy. The system is not “owned,” but it is skilfully rented.
Environmental Protection Agency is down in the drain since Ex CDA Chairman M A Randhawa openly massacred 40,000 trees, forests and bulldozed parks.
Oh yes just one good news to share. Its woman secretary is appointed member FPSC for three years just before her retirement for staying indifferent and mute over massacre of environment😎
@jiostudios Khan Abdul Ghaffar Khan, a Pashtun Pathaan, mobilized an army of thousands Pathaans through the Khudai Khidmatgar movement after Mahatma Gandhi said that the independence struggle needed the courage of the Pathaans. At that time, the Chauhaans aligned themselves with the British
بچوں کا باغ
کل مسٹر بکس سپر مارکیٹ جانا ہوا جہاں اکثر ہفتے میں دو تین دن چکر لگتا رہتا ہے۔
وہ کبھی کبھار تھک ہار آکر چند اچھی کتابیں بھی بھول کر پچاس فیصد رعایت پر اپنے تئیں لنڈا سمجھ کر باہر سیل پر رکھ دیتے ہیں۔
اگرچہ میں اکثر انہیں گلہ کرتا ہوں کہ کچھ اچھی بکس بھی وہاں رکھ دیا کریں تاکہ فائدہ ہمارے جیسوں کو بھی تو ہو۔ اگر آپ نے کچرا ہی وہاں رکھنا ہے تو اس سکیم کا فائدہ؟
خیر کبھی کبھار بھولے سے وہ اچھی بکس بھی وہاں رکھ دیتے ہیں لہذا میں بھی چکر لگاتا رہتا ہوں کہ کبھی تو الطاف بھائی اور ایاز سے غلطی ہو ہی جائے گی ( مذاقا کہہ رہا ہوں)۔
خیر کل گیا تو وہاں رکھے میگزین/ اردو انگریزی شماروں پر نظر پڑی تو لگا یہ سب کچھ تو کہیں دیکھا بھالا ہوا ہے۔ ایک فلیش سی ہوئی اور اپنا سب بچپن اور لڑکپن نظروں کے سامنے آن کھڑا ہوا۔
سلیم بھائی کے ساتھ اکثر لیہ شہر ان کے سکوٹر پر جانا ہوتا تھا۔وہ خود بھی کتابوں اور رسائل کے بہت شوقین تھے ( آج بھی ہیں) تو میں بھی وہاں لیہ ریلوے پھاٹک کے قریب نثار عادل نیوز ایجنسی سے بچوں کے رسالے لیتا تھا۔ ان میں بچوں کا باغ، نونہال اور بچوں کی دنیا میرے پسندیدہ تھے۔ ہر دفعہ ضرور لیتا۔
مجھے یاد پڑتا ہے گائوں کے گھر میں میری اپنی اس وقت بھی ان رسائل اور بچوں کی کہانیوں کی لائبیری ٹائپ تھی ( اگرچہ اس وقت لائبیری کے تصور کا علم نہ تھا۔
عمرو عیار، سامری جادوگر، ٹارزن ۔۔ سند باز جہازی کے کارنامے۔۔ سب کہانیاں۔۔
میں کافی دیرتک کھڑا بچوں کے اس باغ کے پچاس برس پر محیط خصوصی شمارے کو دیکھتا رہا۔ اسے اٹھایا اور اندر جا کر اس کی ساڑھے چار سو روپے کی ادائیگی کی۔
آج کل بچوں کی یہ کہانیاں پھر سے پڑھ رہا ہوں جنہیں کبھی پڑھ کر عجیب سی خوشی ہوتی تھی۔ وہی خوشی وہی سنسنی اور تجسس لوٹ آیا ہے۔
گروپ ایڈیٹر محمد فہیم عالم، مدیر اعلی ڈاکٹر عمران مشتاق ، مدیر ڈاکٹر سلمان غزالی سمیت پوری ٹیم کا دل سے شکریہ کہ انہوں نے ہم بچوں کے لیے کیا کیا خوبصورت کہانیاں لکھیں، لکھوائیں اور چھاپیں اور ہمیں مطالعے کا شوق ڈالا۔
بچوں کے باغ کو چھپتے ہوئے پچاس سال مکمل ہوگئے۔
مسٹر بکس کے کاونٹر پر کھڑے سیلز مین ایاز نے میرے ہاتھ میں یہ خصوصی نمبر دیکھا تو مسکرا کر بولا سر کیا بات ہے بہت سارے بڑی عمر کے لوگوں نے یہ شمارہ خریدا ہے۔
میں نے کہا ایاز تم نہیں سمجھو گے۔اس میں ہم سب کا بچپن، اپنا گائوں، اپنا گھر اور لیہ ریلوے پھاٹک کے نزدیک نثار عادل کی نیوز ایجنسی کے پرانے دن رکھے ہیں۔
اس میں ہم سب کا بچپن ، پریوں جنوں اور دیگر کہانیاں قید ہیں۔
آج کل خود کو وہی بچہ سمجھ کر یہ کہانیاں پڑھ رہا ہوں اور وہی سنسنی، حیرت اور تجسس محسوس کررہا ہوں جو کب کا برسوں سے بھلا بیٹھا تھا۔
تحریر/رئوف کلاسرا
#RaufKlasra
In August 2020, KU student Hayat Baloch was shot eight times by FC personnel in front of his parents in Turbat. The next day, his family was told ‘sorry, woh FC wala pagal tha.’ His mother never recovered her senses. Bugti sahb, can you tell us what happened to that FC officer?
گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے وائس چانسلر ظفر اقبال جو خیبرپختونواہ صوبے جعلی ڈگری سکینڈل کی تحقیقات کررہے تھے انہیں ہی جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا۔۔
نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری 😎
@MazharAbbasGEO کیا وجہ ہے کہ سندھ کے دیگر شہروں میں کاروبار کے مواقع پیدا نہیں کیئے جاتے؟
اگر شکار پور، سکھر، لاڑکانہ اور دوسرے بڑے شہروں میں
عالمی معیار کی یونیورسٹیاں اور کالج بناے جائیں، جس میں ہاسٹل، کیفے، سپر مارکیٹ وغیرہ ہوں، تو مقامی آبادی کو بہترین تعلیم اور روزگار مل سکے گا۔