پوش علاقوں میں بھی اس علاقے کے بارش کے ریکارڈ کے مطابق نکاسی کا انتظام نہی ہوا اسطرح پانی گھروں میں داخل ہو کر بہت شدید نقصان کرتا ہے اس کے بعد گھر کی بنیادیں بھی کمزور ہو جاتی ہیں اکثر گھروں میں بیسمنٹ ہوتے وہ تو مکمل ڈوب جاتے ہیں https://t.co/LWwh4NB2vE
نورین خان نیازی کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کو نوٹس نہیں بھیج سکتے تو بھارتی وزیر خارجہ کو نوٹس بھیج دیں جو بتا رہے ہیں کہ "ہم نے حملے سے پہلے پاکستان کو آگاہ کیا تھا اور پاکستان نے بہاولپور کا مدرسہ خالی کروا لیا تھا"
پاکستان نے پتہ ہونے کے باوجود اس حملے کو روکا نہ اس دعوے کی تردید کی۔
کیا یہ انڈرسٹینڈنگ نہیں تھی ؟
راولا کوٹ اسپتال کی صورتحال
تتہ پانی سے تعلق رکھنے والے سب انسپکٹر سردار عنایت جنہال کے برطانیہ میں عزیز ، چند لواحقین اور عینی شاہدین کے مطابق سب انسپکٹر نے مظاہرین پر گولی چلانے سے انکار کیا اور انکی شہادت مظاہرین کی فائرنگ سے نہیں ہوئی۔ صورتحال بگڑ چکی ہے جسے چھپایا جارہا ہے۔
ایک بائیکر کی کہانی ٹویٹ کی ہے پلیز وزیراعلی صاحب اس پر ایکشن لے ٹورزم کو خراب کررہے🤬
لواری ٹنل میں بائیکر کے ساتھ زیادتی بند کرو اور یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں کہ کوئی برگیڈر جنرل کرنل موٹرسائیکل سے اتا جاتا ہوگا حالانکہ اتنے بڑے رینک کا ارمی افسر موٹرسائیکل تھوڑی استعمال کرے گا اور میرے پاس ویڈیو موجود ہے ثبوت کے ساتھ کہ مقامی لوگ موٹر سائیکلوں کے ساتھ اتے جاتے ہیں اگلے پوسٹ میں وہ لگاؤں گا ہم لوگ سیاحت کو فروخت دیتے ہیں اور دور دراز علاقوں میں جا کر امن کا پیغام پھیلاتے ہیں لیکن اج کل لواری ٹنر پر ایک انتہائی تذلیل امیز اور تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں لواری ٹرن میں باکرز کو اپنی موٹرسائیکل خود چلا کر لے جانی کی بالکل اجازت نہیں دی جا رہی قانون اور سیفٹی کے نام پر بائیکرز کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی قیمتی اور شوق سے تیار کی گئی 22 کو وہاں موجود کٹارا لوڈر گاڑیوں پر لاد کر ٹرنل پارک کریں یہ بائکر کے ساتھ سراسر زیادتی اور ناانصافی ہیں ان کٹارا لوڈر گاڑیوں والے بائکر سے من مانی اور باری کرائے وصول کرتے ہیں جو کہ سراسر لوٹ مار ہے موٹر سائیکل کا نقصان لوڈنگ اور ان لوڈنگ کے دوران بائک پر سکریچ اتے ہیں اور قیمتی پارٹس کو نقصان پہنچتا ہے یہ کوئی 70 موٹر سائیکل نہیں کہ جس کے پرزے 50 روپے میں مل جاتے ہیں اور یہاں پر گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہ کسی کلب کا نہیں بلکہ ہم سب کا مسئلہ ہے نہ کسی مخصوص شہر کا بلکہ یہ پاکستان بھر کے ہر اس بائیکر کا مسئلہ ہے جو سڑک پر نکلتا ہے۔ میری اپیل ہے حکومت پاکستان لوکل انتظامیہ اور نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ بائیکرز کو مخصوص حفاظتی اقدامات جیسے ہیلمٹ لائٹس ریفلیکٹرز کے ساتھ لواری ٹنل سے خود بائک چلا کر گزرنے کے اجازت دی جائے اگر کوئی سیکیورٹی یا تکنیکی مسئلہ ہے تو بائیکر کے لیے سرکاری سطح پر باعزت اور مفت رعایتی ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے نہ کہ انہیں پرائیویٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑا جائے تمام بائیکرز بھائیوں سے گزارش ہیں کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور اپنی اواز اٹھائیں اس زیادتی کے خلاف یکجا ہو جائیں جب تک ہم ایک نہیں ہوں گے ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے
گلگت بلتستان میں 1971 کی یادیں تازہ ہوگئی!
الیکشن کے دوران پاکستان کی مقبول ترین پارٹی کے خلاف پوری فورس کو ایکٹیو!!
یہی کام 1971 میں بھی کہا گیا تھا!!