@soulat_pasha یعنی غلطی میثاق جمہورین کو ختم کرنے کی کوشش کرنا ، بینظیر کا قتل اور نواز شریف کو ثاقب نثار کے زریعے ہٹوانا تھا
پھر اس غلطی سے توجہ یٹانے کیلئے کاں صاحب کو رنگ میں اتارا گیا لیکن جوکر مستی مٰں آکے خود کو وزیر اعظم سمجھ بیٹھا اور چوریوں کے ریکارڈ توڑنے میں لگ گیا سالا ۔ ہیں
@RShahzaddk سر جی دوبارہ پڑھیں انہوں نے دو سال نہیں بلکہ "وہ سال سے زیادہ" لکھا ہے
برائے مہربانی دوبارہ پڑھیں اور امید ہے کہ آپ پڑھ کر اپنے ٹویٹ میں تصحیح کر لیں گے
نوجوانوں سے ایک اہم اپیل!
آج کل ہمارے علاقے میں 40,000 سے 70,000 روپے تنخواہ، مفت ہاسٹل، مفت کھانا اور فوری نوکری کے نام پر جگہ جگہ پوسٹر لگائے جا رہے ہیں۔
میں نے خود اس معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے اسلام آباد جا کر معلومات حاصل کیں۔ میری معلومات کے مطابق پہلے یہ Tiens Company کے نام سے لوگوں کو بیوقوف بنا رہے تھے، بعد میں انہوں نے نام تبدیل کرکے Health & Education رکھا، شاھد اب تیسرا نام بھی رکھا ھو لیکن طریقۂ واردات وہی پرانا ھے۔
یہ لوگ پہلے 6,000 روپے رجسٹریشن کے نام پر لیتے ہیں، پھر دو دن کی ٹریننگ کروائی جاتی ہے اس کے بعد مختلف بہانوں سے 30 سے 40 ہزار روپے یا اس سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کا کہا جاتا ہے۔ بعض متاثرہ افراد کے مطابق جب وہ اپنی رقم واپس مانگتے ہیں تو انہیں مزید سرمایہ لگانے کا کہا جاتا ہے، اور آخرکار وہ اپنی محنت کی کمائی سے محروم ہو جاتے ہیں.
اس نظام میں شامل افراد کو یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ مزید لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کریں اور نئے گروپ بنائیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ جتنے زیادہ افراد وہ لائیں گے، ان کے "اسٹار" یا درجہ اتنا ہی بڑھے گا، زیادہ آمدنی ہوگی، اور مستقبل میں بیرونِ ملک مواقع بھی مل سکتے ہیں۔ انکو سہانے خواب دیکھائے جاتے ہیں جو کہ محض دھوکہ دہی ہے ، اسی امید میں بعض نوجوان اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور جاننے والوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس وقت بھی متعدد نوجوان اس نظام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے قریبی افراد کے مطابق انہیں اس قدر قائل کیا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتے اور ہر تنقید کو غلط سمجھتے ہیں۔
یہ لوگ بہت پروفیشنل ھوتے ھیں وہ آپ کو ایسے مجبور کرتے ہیں کہ آپ کو اندازہ بھی نہیں ھوجاتا کہ وہ آپ کو لٹ رھے ھیں اور یہ اکثر نوجوان طبقے کو نشانا بنا رھے ھیں جن کی عمریں 18 - 30 سال تک ھیں بعض اوقات تو 35 سال تک بھی پھنسا چکے ہیں.
⚠️ اس پوسٹر پر درج نمبر پر رابطہ کرنے سے بالکل گریز کریں، پہلے ضرور تحقیق کریں۔ کوئی بھی ادارہ نوکری کے نام پر رقم یا سرمایہ کاری کا مطالبہ کریں تو انتہائی محتاط رہیں اور فوراً وھاں سے کوئی بہانا کرکے نکل جائیں۔۔
آپ کی ایک شیئر کسی کی زندگی بھر کی جمع پونجی بچا سکتی ہے۔
@MaidahMuhammad امام بخاری رحمہ اللّٰه اور صحیح بخاری کے حوالے سے آپ کے سوالات کے جواب کو ایک عام فہم انداز میں، تاریخی حوالوں کے ساتھ ترتیب وار سمجھتے ہیں۔
1ـ اسفار اور راستوں کا تعین کیسے ہوتا تھا؟
نویں صدی عیسوی میں جدید نقشے نہیں تھے، لیکن راستے بالکل غیر معروف نہیں تھے۔
واہ جناب!
کیا خوب منطق ہے۔ یعنی اگر کوئی سوال پوچھ لے تو وہ "شکوک پیدا کر رہا ہے"، اور اگر آنکھیں بند کر کے ہر بات مان لے تو وہ "ایمان کی حفاظت" کر رہا ہے؟
آپ کی بات سے تو لگتا ہے کہ تحقیق صرف علما کے لیے حلال ہے اور سوال پوچھنا عوام کے لیے حرام!
پہلی بات یہ کہ اگر اس موضوع پر "بہت زیادہ تحقیق موجود ہے" تو پھر پریشانی کس بات کی ہے؟ سوالات کے جواب دے دیجیے۔ سچائی کو سوالوں سے کبھی خطرہ نہیں ہوتا، صرف کمزور مؤقف سوالوں سے گھبراتا ہے۔
دوسری بات، اگر عام لوگوں کے ذہن میں صرف سوال پڑھ کر شکوک پیدا ہو جاتے ہیں تو پھر مسئلہ سوالات میں نہیں، ہماری علمی تربیت میں ہے۔ قرآن بار بار انسان کو غور و فکر، تدبر اور عقل استعمال کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کیا قرآن نے کہیں لکھا ہے کہ "تحقیق صرف وہ کرو جس سے آپ کے پہلے سے قائم عقائد کو کوئی خطرہ نہ ہو"؟
اور یہ بھی بڑا دلچسپ اصول ہے کہ جب کوئی شخص کسی کتاب کے حق میں بیس دلائل لکھے تو اسے "علمی خدمت" کہا جاتا ہے، لیکن جب وہی شخص بیس سوالات پوچھ لے تو اسے "گھٹیا طریقہ" قرار دے دیا جاتا ہے۔
ویسے ایک مشورہ عرض ہے۔ اگر کسی کے پاس سوالات کے جواب موجود ہوں تو وہ جواب دیتا ہے، سوال کرنے والے کے کردار پر حملہ نہیں کرتا۔ "یہ سوال کیوں پوچھا؟"، "لوگ کیا سوچیں گے؟" اور "شکوک پیدا ہو جائیں گے" جیسے جملے عموماً وہاں استعمال ہوتے ہیں جہاں دلائل کم پڑ جائیں۔
سوال پوچھنا جرم نہیں، سوال سے ڈرنا ضرور قابلِ غور بات ہے۔
لہٰذا، اگر تحقیق واقعی موجود ہے تو نعرے نہیں، حوالہ جات کے ساتھ جواب دیجیے۔ ورنہ "عوام کے ذہن خراب ہو جائیں گے" والا ڈائیلاگ علمی دنیا میں دلیل نہیں، صرف خوف کا اظہار ہے۔
آپ کا مؤقف یہ ہے کہ عوام کو اتنا ہی دین بتایا جائے جتنا وہ بغیر سوال کیے ہضم کر لیں۔ معذرت کے ساتھ، یہ دین کی خدمت نہیں، ذہنی سرپرستی (intellectual guardianship) ہے۔ 😄
شہزاد بھائی
ڈینمارک میں پیٹرول 17.90 کرون فی لیٹر ہے
جو ڈالر میں 2.73 اور روپے میں 760 روپے فی لیٹر بنتا ہے
ڈینمارک پیٹرول سویڈن، ناروے اور ہالینڈ سے خریدتا یے
یعنی کیریج بھی پاکستان کی نسبت 1/3 سے بھی کم۔
اب بتائیں
ڈینش حکومت پیٹرول پر کتنی لیوی لے رہی ہے؟
لاگت کا3 گنا؟
ایک شہری اپنی گاڑی میں سامان لیکر جا رہا تھا سامان بھی سارا اس کی کار کے اندر تھا اس کے باوجود ٹریفک وارڈن نے چالان کر دیاکہ گاڑی میں سامان نہیں لے جا سکتے
عجیب عذاب کی صورتحال ہے
صادق آباد میں ایک سیریس مریض کو ڈاکٹر نے کہا٫
"اینوں لاہور لے جاؤ ۔"
ورثا نے ایمبونیس کروائی. ایمبونیس والے نے پوچھا کہاں جانا ہے ؟
ورثا نے کہا , رحیم یار خان
رحیم یار خان پہنچ کر ڈرائیور نے کہا، لیں جی رحیم یار خان آگیا ہے۔
انہوں نے کہا، اسے لودھراں لے چلو۔ ڈرائیور لودھراں پہنچ گیا۔
ورثا نے کہا ، اسے ملتان لے چلو ۔ ڈرائیور ملتان پہنچ گیا
تو ورثا نے کہا خانیوال لے چلو ۔ خانیوال آیا تو ورثا نے کہا
ساہیوال لے چلو۔ ساہیوال پہنچ کر ورثا بولے ، اوکاڑہ لے چلو
اوکاڑہ پہنچ کر بولے، اسے لاہور لے چلو ۔
لاہور پہنچ کر جب وہ اترے تو ڈرائیور نے پوچھا،
"اگر آپ نے لاہور ہی آنا تھا تو مجھے بتا دیتے میں سیدھا لاہور لے آتا."
تو ورثا نے کہا,
"ہم نے تو یہ سوچ کے توڑ توڑ کر سفر کیا کہ اگر مریض رستے میں دم توڑ گیا، تو کرایہ تو بچ جائے گا۔"
اب مریض بھی سخت جان تھا, پاکستانی لوگوں کی طرح ..
جن کے پیٹرول کی قیمت آپ مہینے بعد بڑھائیں
پندرہ دن بعد بڑھائیں
ہفتے بعد بڑھائیں
یا روزانہ
یہ ڈھیٹ مرنے والے نہیں..
ائی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پچھلے دو سال میں 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی یعنی کہ دو ارب ڈالر کی ۔
شکریہ ان ملک دشمنوں کا جنھوں نے ان حکمرانوں کو پاکستان پر مسلط کیا
#لگان_کا_پاکستان
ایک سکول ٹیچر بس میں سوار ہوئیں تو دیکھا کہ بس میں کوئی سیٹ خالی نہیں تھی
ایک غریب عورت جو سیٹ پر بیٹھی تھی ۔اِس نے بڑی عزت کے ساتھ آواز دی ،آپ یہاں بیٹھ جائیں ،
یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی سیٹ پر استانی کو بیٹھا دیا اور خود بس میں کھڑی ہو گئی *میڈم نے بہت بہت شکریہ ادا کیا اور "میری تو بری حالت تھی سچ میں "، کہتے ہوئے دعائیں دی،**اس غریب عورت کے چہرے پر ایک خوشکن مسکان پھیل گئی**کچھ دیر بعد استانی کی پاس والی سیٹ خالی ہو گئی ، لیکن اس عورت نے ایک اور عورت کو (جو ایک چھوٹے بچے کے ساتھ سفر کر رہی تھی اور مشکل سے بچے کو اٹھا پا رہی تھی) سیٹ پر بیٹھا دیا اگلے پڑاؤ پر بچے والی عورت بھی اتر گئی ، سیٹ پھر خالی ہوگئی* ،
*لیکن اس نیک دل عورت نے پھر بھی بیٹھنے کی بالکل کوشش نہیں کی بلکہ اس پر ایک کمزور اور بزرگ آدمی کو بیٹھا دیا ، جو ابھی ابھی بس میں سوار ہوئے تھے۔*
*مزید کچھ دیر کے بعد وہ بزرگ بھی اتر گئے ، سیٹ پھر سے خالی ہو گئی ،*
*بس میں اب چند مسافر ہی رہ گئے تھے ،*
اب اس استانی نے غریب خاتون کو اپنے پاس بٹھایا اور پوچھا کہ
*"کتنی بار سیٹ خالی ہوئی لیکن آپ لوگوں کو بٹھاتی رہیں ، خود نہیں بیٹھیں ، کیا بات ہے ؟*
اس خاتون نے جواب دیا
*میڈم میں مزدور ہوں ،* *میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں کچھ صدقہ و خیرات کر سکوں ،*
*تو میں کیا کرتی ہوں کہ ، سڑک پر پڑے پتھروں کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دیتی ہوں ،*
*کبھی کسی ضرورت مند کو پانی پلا دیتی ہوں ،*
*کبھی بس میں کسی کے لیے سیٹ چھوڑ دیتی ہوں ،*
*پھر جب سامنے والا مجھے دعائیں دیتا ہے تو میں اپنی غربت بھول جاتی ہوں ، میری دن بھر کی تھکن دور ہو جاتی ہے ،*
*اور تو اور ، جب میں روٹی کھانے کے لیے باہر بینچ پر بیٹھی ہوتی ہوں، کچھ پرندے میرے قریب آکر بیٹھ جاتے ہیں ، میں روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے انکے سامنے ڈال دیتی ہوں ،*
*جب وہ خوشی سے چلاتی ہیں تو خدا کی اس مخلوق کو خوش دیکھ کر میرا پیٹ بھر جاتا ہے ،*
*روپے پیسے نہ سہی ، سوچتی ہوں دعائیں تو مل ہی جاتی ہوں گی ، مفت میں ، فائدہ ہی ہے نا ،*
*اور ہمیں لے کر جانا ہی کیا ہے اس دنیا سے ۔ "*
*استانی ہکا بکا رہ گئیں ،*
*ایک ان پڑھ سی نظر آنے والی غریب عورت اتنا بڑا سبق جو انہیں پڑھا گئی*
*اگر دنیا کے آدھے لوگ بھی ایسی خوبصورت اور مثبت سوچ اپنا لیں تو یہ زمین جنت بن جائے گی سب کے لئے ۔
اس جگہ اور ٹرین کی آرام دہ نشستوں کے درمیان صرف ایک چیز حائل ہے: غربت، اور ٹرین کا ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نہ ہونا۔ جب کبھی زندگی کی چند چھوٹی چیزیں کھو جانے سے آپ کا دن خراب ہو جائے، تو اس منظر پر ضرور غور کیجیے۔