آج 70 دن مکمل ہو چکے ہیں کے ہیرنیسا مجاہد اور فرید لاپتہ ہیں۔ابھی تک ہمیں ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی بلوچستان میں ہر روز گھروں سے لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں مگر ریاست کو اس درد کا احساس نہیں ہوتا۔لیکن ایک وقت ضرور آئے گا جب اسے بھی اس تکلیف کا احساس ہوگا کہ یہ درد کیسا ہوتا ہے
𝗗𝗲𝘀𝗽𝗶𝘁𝗲 𝗣𝗼𝗹𝗶𝗰𝗲 𝗖𝗿𝗮𝗰𝗸𝗱𝗼𝘄𝗻, 𝗙𝗮𝗺𝗶𝗹𝗶𝗲𝘀 𝗗𝗲𝗳𝗶𝗮𝗻𝘁𝗹𝘆 𝗦𝗽𝗲𝗮𝗸 𝗢𝘂𝘁 𝗔𝗴𝗮𝗶𝗻𝘀𝘁 𝗜𝗻𝗷𝘂𝘀𝘁𝗶𝗰𝗲
Today, a press conference was scheduled to be held at the Quetta Press Club by the families of the detained BYC leaders to protest their illegal detention and the High Court’s judgment of February 23 regarding the bail application, which had been reserved for three months. In its decision, the judge refused bail and ordered that the trial proceed before the same judge, in whom we have no trust.
The Press Club authorities did not grant permission to hold the press conference inside the hall. After many attempts to secure permission failed, the families held their press conference outside the building. Even there, the police attempted to disrupt the event by pushing reporters and journalists away to prevent media coverage.
Despite these obstacles and police interference, the families remained steadfast and continued their press conference outside the Press Club.
This reflects a situation similar to undeclared martial law in Pakistan, where even families are not allowed to hold a peaceful press conference. International human rights organizations must take notice of these actions and hold Pakistan accountable for these serious violations of fundamental civil and human rights.
This is a message to the state authorities: such suppression cannot stop the Baloch nation from standing against injustice.
حب چوکی سے پاکستانی فورسز کی جانب سے ایک اور بلوچ خاتون فاطمہ زوجہ نوروز اسلام سکنہ پنجگور کو ان کے گھر اکرم کالونی سے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا جانا ریاستی جبر کی ایک اور سنگین مثال ہے۔
بلوچ وائس فار جسٹس اس غیر قانونی اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے بلوچ خواتین کو منظم انداز میں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو نہ صرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک امر انسانی حقوق کی مقامی و عالمی تنظیموں کی مسلسل خاموشی ہے۔ یہ خاموشی مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے اور اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ انسانی حقوق کی یہ تنظیمیں صرف بیانات اور رپورٹوں تک محدود ہو چکی ہیں۔ اگر بلوچ خواتین کے ساتھ ہونے والے اس ظلم پر آواز بلند نہیں کی جاتی تو ان اداروں کی غیر جانبداری اور ساکھ پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فاطمہ کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور جبری گمشدگیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
#SaveBalochWomen
#EndEnforcedDisappearances
7مہینے21دن سے #ماجبین بلوچ لاپتہ ہے
54,دن سے 15سالہ #نسرین بلوچ لاپتہ ہے،
44دن سے #فرزانہ بلوچ لاپتہ ہے،
34دن سے #رحیمہ بلوچ لاپتہ ہے،
25دن سے #ہانی اور #ہیرنساء لاپتہ ہے،ہم اپیل کرتے ہیں انسانی حقوق کی تنظیموں سےاس ظلم کے خلاف اپنا کردار اداکریں
#SaveBalochWomens
رمیز جوہر ولد نواب کا تعلق آواران کمبرو سے ہے وہ ملتان یونیورسٹی سے گزشتہ سال گریجویٹ ہوا تھا وہ ایک قابل طالب ہے جسے گزشتہ رات کوٹئہ بروری بولان پلازہ سے رات تقریباً 4 بجے ریاستی اداروں کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا
#ReleaseRameezJohar#SaveBalochStudent
اس سیاہ ریاست نے ہر بچے کو خالی ہاتھ اپنی ماں کی انتظار میں بھائی سڑکوں میں دیکھتے ہیں اپنی بہنوں کی انتظار میں۔ بہنیں بیٹھی اپنے بھائیوں کو یاد کرتی ہے۔ہمارے گھروں میں خاموشی ہے۔ یہی زندگی ہے جو ریاستِ نے ہمیں دی ہے انتظار کی زندگی تلاش کی زندگی جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔
You can email us your materials regarding Waja Nisar Ahmed, his books, his life and his critics at [email protected]
Epaper version
Click on the link below to access the website version
https://t.co/ZIEe0LmVgT
36 دن گزرنے کے باوجود 15 سالہ نسرین بلوچ ریاست کے نامعلوم زندانوں میں قید ہے ایک 15 سالہ معصوم بچی کس حال میں ہوگا ،بلوچ قوم سے اپیل ہے کے نسرین کے لیے اواز اٹھائے
#ReleaseNasreenaBaloch#SaveBalochWomen
حانی دلواش، خیرنساء واحد، مجاہد دلواش اور فرید اعجاز کے لواحقین گزشتہ تین دنوں سے کرکی تجابان میں سی پیک روڈ بند کر کے دھرنے پر بیٹھے ہیں، مگر ریاستی بے حسی اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ ان مظلوم خاندانوں کے مطالبات سننے کی زحمت تک نہیں کی جا رہی۔ شدید سردی، کھلے آسمان تلے، بغیر کسی سہولت کے یہ لواحقین سڑکوں پر بیٹھے یہ خاندان اس انتظار میں ہیں کہ کب ان کی فریاد سنی جائے گی۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اب کوئی استثنائی واقعہ نہیں رہیں بلکہ ایک منظم ریاستی پالیسی کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کوئی بھی محفوظ نہیں، نہ طالب علم، نہ کارکن، نہ مرد، اور اب نہ ہی خواتین۔ حالیہ مہینوں میں دس سے زائد خواتین کی جبری گمشدگیوں کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں معذور، کمسن اور حاملہ خواتین تک شامل ہیں۔ یہ محض انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہیں بلکہ بلوچ قوم پر ریاستی جبر کا ایک بھیانک چہرہ ہے۔
نام نہاد انسدادِ دہشت گردی کی جنگ میں ریاست اس مقام تک گر چکی ہے کہ اب اسے نہتے اور معصوم لڑکیوں اور خواتین سے بھی خطرہ محسوس ہونے لگا ہے۔ خواتین کو اٹھا کر غائب کرنے کے بعد ریاست کے پاس اتنی اخلاقی جرأت بھی باقی نہیں رہی کہ وہ ان جرائم کا اعتراف کرے یا لواحقین کو کوئی جواب دے۔
اگر ریاست یہ سمجھتی ہے کہ بلوچ خواتین کو جبری طور پر لاپتہ کر کے وہ بلوچ معاشرے کے حوصلے، وقار اور اجتماعی مزاحمت کو توڑ دے گی، تو یہ ایک تاریخی غلطی ہے۔ بلوچ تاریخ گواہ ہے کہ جبر، خوف اور تشدد نے کبھی ہماری تحریک کو ختم نہیں کیا، نہ ہی ہمارے مؤقف کو کمزور کیا بلکہ ہر ظلم و جبر کے ساتھ ریاست کا چہرہ مزید بے نقاب ہوا ہے، اور اس کا اپنا بیانیہ خود اپنے بوجھ تلے بکھرتا رہا ہے۔
ریاست کو اب فیصلہ کرنا ہوگا: یا تو وہ ان انسانیت سوز، غیر آئینی اور مجرمانہ پالیسیوں کو فوری طور پر ترک کرے، یا پھر تاریخ کے کٹہرے میں ایک ایسے جابر کے طور پر کھڑی ہو جس نے ایک قوم کو مٹانے اور ختم کرنے کی کوشش میں اسکے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں اور بچوں کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی تھی۔
#SaveBalochWomen
Enforced disappearances of Baloch women are haunting developments. Instead of moving towards righteous solutions, the notorious law institutions are resorting to serious nature of misdeeds. Farzana Zehri was illegally detained by forces on Dec 1 from Khuzdar.
#SaveBalochWomen