A day is not enough to laud the role of women. Baloch history is filled with instances of women who fought bravely & displayed sheer courage in the face of adversity.
Read my thoughts @TBalochCircle_#InternationalWomensDay#Balochistan
https://t.co/UvwiiDgw4a
نیدرلینڈز چیپٹر کا جمہوری انتخاب پارٹی میں جمہوری عمل کے تسلسل کا مظہر ہے۔ دل مراد بلوچ
بلوچ نیشنل موومنٹ کے نیدرلینڈز چیپٹر کا کامیاب کونسل اجلاس اور نئی کابینہ کا جمہوری انتخاب پارٹی میں جمہوری عمل کے تسلسل کا مظہر ہے۔ یہی پارٹی جمہوریت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ پارٹی ہم سب کی ہے، عام بلوچ کی ہے اور اس میں ہر ساتھی اپنی لگن، صلاحیت اور کمٹمنٹ سے کیڈر، سیکنڈ لیڈرشپ اور پھر مرکز تک پہنچنے کے مراحل طے کرسکتا ہے۔
میں نومنتخب صدر مہیم بلوچ، نائب صدر مھرہ بلوچ، جنرل سیکرٹری زھرہ بلوچ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حلیم بلوچ اور فنانس سیکرٹری بہار بلوچ کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ نئی کابینہ تنظیمی نظم و ضبط، باہمی تعاون اور بلوچ قومی کاز کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائے گی اور پارٹی کے سیاسی و تنظیمی پروگرام کو مزید وسعت دے گی۔
نیدرلینڈز چیپٹر کی سابقہ کابینہ اور تمام کارکنان نے قابلِ قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ سابقہ کابینہ نے مسلسل محنت، ذمہ داری اور وابستگی کے ساتھ نیدرلینڈز میں پارٹی سرگرمیوں کو فعال رکھا، بلوچ قومی آواز کو اجاگر کیا اور پارٹی کے مؤقف کو مختلف حلقوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سابقہ کابینہ کی یہ محنت اور تنظیمی خدمات نئی کابینہ کے لیے ایک مضبوط بنیاد اور قابلِ قدر اثاثہ ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ مہیم بلوچ اور ان کی پوری ٹیمپارٹی پروگرام کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھاتے ہوئے نیدرلینڈز میں پارٹی کو مزید فعال بنائیں گے اور بلوچ قومی آزادی کے مؤقف کو مؤثر انداز میں عالمی سطح پر پیش کرنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ نومنتخب کابینہ، سابقہ عہدیداروں اور نیدرلینڈز چیپٹر کے تمام ساتھیوں کے لیے نیک تمنائیں۔ امید ہے کہ نئی کابینہ باہمی تعاون و احترام سے پارٹی کو مضبوط اور بلوچ قومی تحریک کو مزید توانا کرے گی۔
@BNMNederland@Muheem_ARahim@MahraJaleel@Zohra__Baloch@Haleemshohaz3
سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کے طلباء نے برگیڈئیر کی یونیورسٹی کے اندر سرعام سٹوڈنٹس کے ساتھ ہاتھا پائی اور بعدازاں فائرنگ کے خلاف دھرنا دے دیا ۔
#Islamabad
بلوچ وائس فار جسٹس بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں، بالخصوص جبری گمشدگیوں، ماورائے قانون حراستی قتل، مسخ شدہ لاشیں پھینکنے، شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال اور دیگر سنگین واقعات کو انسانی حقوق کے عالمی اصولوں اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر مسلسل دستاویزی شکل دے رہی ہے۔ ہماری یہ رپورٹ بلوچستان میں پاکستانی فوج کی کارروائیوں کے دوران شہری آبادیوں پر ہونے والی فضائی اور ڈرون بمباری کے ان واقعات کو سامنے لاتی ہے جن میں عام شہریوں، خواتین، بچوں اور مزدوروں کی جانیں ضائع ہوئیں۔
بلوچ وائس فار جسٹس کے مطابق پاکستانی آرمی جعلی فوجی آپریشنز کی آڑ میں بے گناہ سویلینز کو نشانہ بناتی ہے۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر سرگرم ریاستی پروپیگنڈا اکاؤنٹس ان بے گناہ لوگوں کے خلاف کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے حقائق کو مسخ کرنے، متاثرین کی تعداد کم ظاہر کرنے اور بلوچستان کے اصل زمینی حقائق کے بارے میں گمراہ کن تاثر پیدا کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ بلوچ وائس فار جسٹس ان دعوؤں کا مقابلہ تاریخ، مقام، متاثرین کے نام، عینی معلومات اور دستیاب شواہد کو سامنے رکھ کر کرتی ہے۔
2025 سے اگست 2026 تک سامنے آنے والے یہ واقعات زہری، خضدار، ساسول، مولہ منجالو، سوراب اور مستونگ میں شہریوں کے خلاف پاکستانی فوج کی فضائی اور ڈرون کارروائیوں کی ایک تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان کارروائیوں میں خواتین، بچے اور مزدور بھی اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔
ہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ریاستی پروپیگنڈا اکاؤنٹس فوجی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے متاثرین کو عسکریت پسند قرار دینے، ہلاکتوں کی اصل تعداد چھپانے اور واقعات کے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلوچ وائس فار جسٹس ان جھوٹے اور گمراہ کن بیانیوں کا مقابلہ زمینی حقائق، متاثرین کے خاندانوں کی معلومات اور دستیاب شواہد کے ذریعے کرتی رہے گی۔
بلوچ وائس فار جسٹس بلوچستان کے اندر انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں، وکلا، طلبہ اور جبری طور پر لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا کے سامنے لایا جائے اور متاثرین کی آواز کو عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد میڈیا تک پہنچایا جائے۔
ہم اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد بین الاقوامی میڈیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں شہریوں کے خلاف فوجی کارروائیوں، فضائی بمباری، ڈرون حملوں، جبری گمشدگیوں، حراستی ہلاکتوں اور مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کریں۔
@amnestysasia@OHCHRAsia@EUPakistan@UNinPak@WGEID@HRCP87@HRF
موزمبیق میں پرتگالی نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد صرف مسلح مزاحمت تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ ایک سماجی اور سیاسی تحریک بھی تھی۔ FRELIMO (The Mozambique Liberation Front) نے اس تصور کو چیلنج کیا کہ خواتین کا کردار صرف گھریلو دائرے تک محدود ہے۔ تحریک کے ابتدائی برسوں میں خواتین خوراک، علاج، پیغام رسانی اور پناہ گاہوں کے انتظام میں شامل تھیں، لیکن جلد ہی انہوں نے سیاسی تنظیم سازی، انٹیلیجنس، سفارتی سرگرمیوں اور بعض علاقوں میں مسلح یونٹوں میں بھی کردار ادا کیا۔ 1966ء میں FRELIMO نے Women’s Detachment قائم کیا، جس نے خواتین کو باقاعدہ تربیت دے کر تحریک کا فعال حصہ بنایا۔ یہ اس دور کے لیے ایک انتہائی اہم انقلابی قدم تھا، کیونکہ اس نے خواتین کو پہلی مرتبہ قومی مزاحمت کی فیصلہ سازی میں جگہ دی۔ جوزینا مچل (Josina Machel) اس تبدیلی کی سب سے نمایاں شخصیت بن کر سامنے آئیں۔ نوجوانی میں انہیں گرفتار کیا گیا، نقل و حرکت محدود کردی گئی اور انہیں کئی بار ریاستی نگرانی کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے اپنی جدوجہد ترک نہیں کی۔ وہ صرف قومی وقار کی بات نہیں کرتی تھیں بلکہ اس بات پر زور دیتی تھی کہ اگر خواتین سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر بااختیار نہ ہوں تو کسی بھی معاشرے کی تبدیلی ادھوری رہے گی۔ انہوں نے جنگ سے متاثرہ خواتین اور بچوں کی فلاح، تعلیم اور تنظیم سازی کو تحریک کا لازمی حصہ بنایا۔ شدید بیماری اور مسلسل جدوجہد کے باعث ان کا انتقال صرف 25 برس کی عمر میں ہو گیا، مگر آج بھی موزمبیق میں 7 اپریل “یومِ خواتین” انہی کی یاد میں منایا جاتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ایک خاتون کس طرح پوری قوم کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر شلی بلوچ
بلوچ وائس فار جسٹس کے خلاف ریاستی پروپیگنڈے اور من گھڑت الزامات کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی ایک نمائندہ پلیٹ فارم کو بدنام کرنے کی یہ ناپاک کوشش دراصل بلوچستان میں ہونے والی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کا ایک ناکام حربہ ہے۔ بلوچ وائس فار جسٹس ایک مکمل طور پر پرامن اور انسانی حقوق کی پاسدار تنظیم ہے، جس میں ممتاز صحافی، سیاسی اور سماجی کارکنان، قانون دان اور سول سوسائٹی کے معتبر افراد شامل ہیں۔ اس پلیٹ فارم کا واحد مقصد جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اور خطے میں آئین و قانون کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ انکی جدوجہد مکمل طور پر پرامن، آئینی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق ہے۔
ریاستی میڈیا اور مخصوص حلقوں کی جانب سے انسانی حقوق کے مدافعین کو غدار یا شرپسند قرار دینے کا سستا حربہ نیا نہیں۔ جب بھی کوئی پلیٹ فارم مظلوموں کی آواز بنتا ہے، اس کی آوا ز دبانے کے لیے اسی قسم کا جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے سچ بولنے والوں پر جھوٹے الزامات لگانا ریاستی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔ اس قسم کے منفی پروپیگنڈے اور دھمکیوں سے بلوچستان کے مظلوم عوام، بالخصوص لاپتہ افراد کے خاندانوں کی آواز کو دبايا نہیں جا سکتا۔
ہم اقوام متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اور عالمی صحافتی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ان کے خلاف جاری ریاستی مہم کا فوری نوٹس لیں۔
@BalochV4Justice@UNHumanRights@Refugees
مزید جبر سہنا ناگزیر ہوچکا ہے.آپ سب سے اپیل کرتے ھیں مظلوم ماؤں بہنوں کے لئے آواز اٹھا کر اپنا انسانی فرض پورا کریں
#ReleaseAllMissingPersons#Balochistan
Safia Baloch condemned the August 12 airstrikes on Surab, which killed innocent civilians, including women and children. She stressed that every life matters and urged the international community to address ongoing violence, enforced disappearances and demand justice.
BNM Netherlands Holds Council Meeting and Elections; Muhim Baloch Elected President and Zahra Baloch General Secretary
Sunday, 23 August 2026 | #BNMElections#BNMinNetherlands
https://t.co/2OvIR7WJm5
A council meeting of the Netherlands Chapter of the Baloch National Movement (BNM) was held in the Netherlands in the presence of the party’s Chairman, Dr. Naseem Baloch. The council was dedicated to the memory of Shaheed Akbar Khan Bugti and the Baloch victims of enforced disappearance. On the occasion, elections were also held to elect the new cabinet of BNM Netherlands.
BNM Foreign Secretary Faheem Baloch attended the meeting as the chief guest. Participants held detailed discussions on organizational matters, the chapter’s performance over the past two years, and the future course of action.
Before the formal proceedings began, participants observed a two-minute silence in memory of the Baloch martyrs and paid tribute to their sacrifices.
A documentary highlighting the activities and performance of BNM Netherlands over the past two years was then presented. It showcased the previous cabinet’s organizational activities, political programmes, and the various initiatives undertaken by BNM in the Netherlands.
Deedag Baloch, the former General Secretary of BNM Netherlands, presented a detailed report on the chapter’s performance during the past two years and briefed members on the cabinet’s organizational activities and various programmes. Finance Secretary Bahar Baloch also presented a report on the organization’s financial affairs and financial performance during the previous term.
Following the presentation of the reports, a question-and-answer and review session was held on the performance of the outgoing cabinet. Members shared their views, suggestions, and critical observations on different aspects of the chapter’s work over the past two years.
The previous cabinet was subsequently formally dissolved, and the election process for the new cabinet began. As a result of the elections, Muhim Baloch was elected President, Mahra Baloch Vice President, Bahaar Baloch Finance Secretary, and Haleem Baloch Deputy General Secretary, all unopposed. Zahra Baloch was elected General Secretary following a vote for the position.
Following the formation of the new cabinet, BNM Chairman Dr. Naseem Baloch administered the oath of office to the newly elected members, who pledged loyalty to their respective responsibilities, the organization, and the Baloch movement.
Dr. Naseem Baloch and BNM Foreign Secretary Faheem Baloch congratulated the newly elected cabinet members. They expressed hope that the new leadership would build upon the work and achievements of the previous cabinet and further strengthen and organize the chapter’s activities.
They also expressed confidence that the new cabinet would play an active role in strengthening the Baloch national voice in the Netherlands, raising issues concerning Baloch political activists and human rights at the international level, and making the organization’s activities more effective, organized, and dynamic.
Waheed Baloch and Aalia Baloch served as the hosts of the programme.
Paank strongly condemns the midnight raid and enforced disappearance of three Baloch individuals, including a woman, in Awaran district, #Balochistan.
According to reports received by Paank, at approximately 12:30 a.m., Pakistani state forces conducted a raid on the village of Zeek in the Geshkor area of Kolwa, Awaran district. During the operation, forces allegedly forcibly abducted Rafiq Baloch, son of Badain; Shakir Baloch, son of Abdullah; and Gull Banok, daughter of Hammal and wife of Shakir Baloch. The three were reportedly taken to an undisclosed location and have since been denied contact with their families and access to legal counsel.
Paank is deeply concerned that this incident forms part of a broader and continuing pattern of enforced disappearances across Balochistan. The reported targeting and disappearance of a woman alongside two men is particularly alarming and reflects the escalating risks faced by Baloch civilians, including women, amid ongoing security operations.
Enforced disappearance is a grave human rights violation that places individuals outside the protection of the law and exposes them to a heightened risk of torture, ill-treatment and other abuses. Paank calls on the Pakistani authorities to immediately disclose the fate and whereabouts of Rafiq Baloch, Shakir Baloch and Gull Banok, ensure their immediate release unless they are lawfully charged before an independent and impartial court, and guarantee their physical and psychological safety while in custody.
Paank further urges the Pakistani authorities to conduct prompt, independent, impartial and transparent investigations into the reported raid and disappearances, hold all those responsible accountable, and ensure that victims and their families receive effective remedies and justice.
Paank calls upon the United Nations, international human rights organisations, governments and global human rights defenders to urgently raise this case with Pakistan and demand an end to the continuing practice of enforced disappearances in Balochistan.
Baloch identity faces suspicion, with systematic repression in Dera Ghazi Khan, Karachi, and Balochistan. Civilians suffer drone attacks, airstrikes, harassment, raids and enforced disappearances.
#BalochUnderSiegeInKarachi#EndEnforcedDisappearances
مستونگ میں عام عوام پر ڈرون حملہ ریاستی دہشتگردی اور سفاکیت ہے
بلوچ یکجہتی کمیٹی
مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ، گیت میں باغ میں کام کرتے ہوئے مزدوروں پر ڈرون حملہ بغیر کسی اگر مگر کے ریاستی دہشتگردی اور سفاکیت ہے۔ چند روز قبل سوراب میں شہری آبادی پر فضائی حملے میں بچوں، خواتین اور عام شہریوں کی شہادت نے پورے بلوچستان کو صدمے سے دوچار کیا، آج پھر محنت مزدوری کرنے والے شہریوں کو ڈرون حملے کے ذریعے نشانہ بنانا بلوچ عوام کے خلاف ریاستی سفاکیت اور جبر میں بدترین اضافہ ہے۔
اس حملے میں گل خان مغیری، عمران بلوچ، عبیداللہ بلوچ اور جہانزیب ابڑو قتل کر دیے گئے، جبکہ علی رضا مینگل، نصیب اللہ ابڑو اور خالد حسین زخمی ہوئے۔ یہ محض ناموں کی ایک فہرست نہیں، یہ وہ محنت کش انسان تھے جو باغات میں مزدوری کرکے اپنے خاندانوں کے معاشی سہارے بنے ہوئے تھے۔ ان کے قتل سے صرف چار زندگیاں نہیں چھینی گئیں بلکہ چار خاندانوں کے سہارے، امیدیں اور مستقبل بھی ریاستی دہشتگردی کی نظر ہوگئے۔
بلوچستان میں جنگی طیاروں، ڈرونز اور دیگر عسکری ذرائع کے ذریعے عام شہریوں کو نشانہ بنانا اس ریاستی پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے کہ ریاست بلوچستان میں بلاتفریق محض بلوچ ہونے کی بنیاد پر بلوچ عوام کا قتل عام کررہی ہے۔ ریاست کی اس پالیسی میں باغ میں اپنے روزگار کے لیے کام کرنے والا مزدور سے لیکر جھولوں میں سونے والے بچے بھی محفوظ نہیں ہیں۔
ہم بلوچ عوام پر واضح کرتے ہیں کہ ریاست نے بلوچ عوام کی بلاتفریق قتل عام کی پالیسی میں بدترین شدت لائی ہے۔ اس نسل کشی کو روکنا کا واحد ذرائع صرف اور صرف قومی مزاحمت ہے۔ بلوچ عوام کو اجتماعی طور پر لاکھوں کی صورت میں سڑکوں پر نکلنا ہوگا اور ریاستی طاقت کو شکست دینا ہوگا۔
Kashmiri Journalist @danishirshad89's name is placed under 4th Schedule.
Journalism is not crime. In solidarity with the brave journalist Danish Irshad.