BNM Germany Protest Against Nuclear Tests
28 MAY 1998 — (YOUM-E-AASROKH) A BLACK DAY FOR BALOCHISTAN
On 30 May 2026, BNM Germany Chapter is organizing a demonstration in Cologne to protest the Pakistani nuclear tests conducted in Balochistan on 28 May 1998.
These nuclear tests continue to have devastating humanitarian, health, and environmental consequences for the people of Balochistan. Through this demonstration, we remember this black day and raise our voices against oppression, environmental destruction, and state violence.
We warmly invite all political and social activists, and human rights defenders to join us in solidarity with Balochistan.
📍 Location: Forecourt of Cologne Central Station
🕑 Time: 2:00 PM – 5:00 PM
📅 Date: 30 May 2026
Together for justice, human rights, and the future of Balochistan.
My congratulations to the newly elected cabinet of the BNM Germany Chapter.
Dil Murad Baloch, Secretary General of BNM
Baloch National Movement (BNM) Secretary General Dil Murad Baloch said in his congratulatory message that he wholeheartedly congratulates all comrades, members, and the newly elected cabinet on the successful convening of the 6th Chapter Council session in Hanover by the Germany Chapter. The seriousness, ideological commitment, and consistency with which friends in the diaspora are fulfilling their responsibilities for the national movement, party activities, and the Baloch national struggle, are truly commendable and a shining example of national consciousness.
He said that dedicating this session to Shaheed Fida Ahmed Baloch and the great martyrs of Balochistan reflects the fact that BNM continues to move forward on the path toward the great objective of national freedom through the sacrifices of martyrs, the national consciousness of its members, and their tireless efforts. The sacrifices of Baloch national martyrs are a chapter in our national history from which we draw courage, steadfastness, and intellectual guidance.
I expect that the newly elected cabinet under the leadership of Asghar Baloch will carry forward the mission of the party of Baloch martyrs with greater wisdom, foresight, organizational vision, and the spirit of national unity. The current circumstances demand that we strengthen the national movement through collective thinking, ideological maturity, and mutual trust so that the Baloch national struggle can be highlighted more effectively at the international level.
I am confident that under its new leadership, the BNM Germany Chapter will not only strengthen the party organizationally but will also continue to play an effective role on the diplomatic, political, and intellectual fronts of the national movement.
@ImAsgharBaloch@Saeed_Baloch25
بی این ایم جرمنی کا چھٹا چیپٹر کونسل (چیپٹر جنرل باڈی اجلاس) ہینوفر میں شہید فدا احمد بلوچ کے نام سے منعقد
بلوچ نیشنل موومنٹ جرمنی چیپٹر کا چھٹا چیپٹر کونسل (چیپٹر جنرل باڈی اجلاس) 16 مئی 2026 کو جرمنی کے شہر ہنوفر میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا، جسے شہید فدا احمد بلوچ اور بلوچستان کی قومی جدوجہد کے تمام شہداء کے نام سے منسوب کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت چیپٹر صدر شیر حسن بلوچ نے کی، جبکہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری حسن دوست بلوچ مہمانِ خصوصی تھے۔ بی این ایم سینٹرل کمیٹی کے رکن اور بی این ایم کے انسانی حقوق کے شعبہ پانک کے کوآرڈینیٹر حاتم بلوچ، سینٹرل کمیٹی کے اراکین حاجی نصیر بلوچ اور حمل بلوچ اعزازی مہمانوں کے طور پر شریک ہوئے۔ اجلاس کی نظامت چیپٹر جنرل سیکریٹری جبار بلوچ نے کی۔
پروگرام کا آغاز بلوچ شہداء کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی سے کیا گیا۔ خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بعد اجلاس باقاعدہ ایجنڈے کے مطابق جاری رہا، جس میں 2024 تا 2026 کی مدت کے دوران کابینہ کی مالیاتی رپورٹ، تنظیمی سرگرمیوں اور کارکردگی کی تفصیلات پیش کی گئیں۔
تنقیدی جائزہ اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے سیشن میں اراکین، کابینہ نمائندگان اور مرکزی تنظیمی نمائندوں نے تنظیمی کارکردگی، آئندہ حکمتِ عملی اور ڈائسپورا میں تحریک کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے تفصیلی اور تعمیری گفتگو کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہمانوں نے اراکین کی ذمہ داریوں، بلوچ قومی تحریک کی اہمیت، اور بلوچ جدوجہد کی حمایت کے لیے بلوچ نیشنل موومنٹ کے پلیٹ فارم پر اجتماعی اتحاد اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
آئینی مدت مکمل ہونے پر چیپٹر صدر نے باضابطہ طور پر سابقہ کابینہ تحلیل کرنے اور نئی چیپٹر کابینہ کے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ بعد ازاں امیدواروں اور اراکین کی منظوری سے انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے تین رکنی الیکشن کمیٹی تشکیل دی گئی۔
انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد آئندہ مدت کے لیے نئی حسبِ ذیل منتخب کابینہ کا اعلان کیا گیا:
* صدر: اصغر علی
* نائب صدر: صادق سعید بلوچ
* جنرل سیکریٹری: لقمان بلوچ
* جوائنٹ سیکریٹری: جلال دازنی
* فنانس سیکریٹری: عبداللہ زاہد بلوچ
اپنے اختتامی کلمات میں نومنتخب صدر نے معزز مہمانوں، اراکین اور شرکاء کا اجلاس میں شرکت اور نئی کابینہ پر اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ اجلاس کا اختتام تنظیمی اتحاد اور بلوچ قومی مقصد کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزمِ نو کے ساتھ ہوا۔
پروفیسر غمخوار حیات کا قتل بلوچ دانش پر حملہ ہے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ
@DrNaseemBaluch
بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے محقق، شاعر، ادیب اور استاد پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اندوہناک سانحہ بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی اور اجتماعی سزا کا حصہ اور تسلسل ہے۔ ایسے ہی حملے میں پندرہ سال قبل ممتاز شاعر، محقق اور دانشور پروفیسر صبا دشتیاری کو ریاست نے ہدف بنا کر قتل کر دیا۔ ہم غمخوار حیات کو ان کی شہادت، قربانی اور ان کے ادبی عرق ریزی اور کاوشوں پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ آپ قریبا ڈیڑھ درجن کتابوں کے مصنف ہیں۔ یقینا یہ بلوچ قوم، بلوچی اور براہوئی زبان کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ ہمیں بحیثیت قوم یہ بات نہیں بھولنا چاہئے کہ اسی پاکستان نے بنگلہ دیش کے ایک ہزار سے زائد شاعر، ادیب، دانشور اور استاتذہ قتل کیے۔ صرف 14 دسمبر 1971 کو پاکستانی درندہ فوج نے 200 سے زیادہ نمایاں دانشوروں کو قتل کیا۔ آج وہی کربناک عمل بلوچستان میں دہرایا جارہا ہے، یہ قومی دانش کی قتل ہے۔
بی این ایم چئیر مین نے کہا کہ کئی برسوں سے بلوچ دانشوروں، اسٹوڈنٹس، اساتذہ، شاعروں اور ادیبوں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ بلوچ قومی آواز کو خاموش کیا جا سکے اور معاشرے کو ذہنی طور پر بانجھ اور پسماندہ رکھا جائے۔ پروفیسر غمخوار حیات کا قتل بلوچستان میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال اور ریاستی تشدد کا ایک اور المناک ثبوت ہے، جہاں قاتل مکمل استثنیٰ کے ساتھ اپنے جنگی جرائم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کے علمی، ادبی اور فکری سرمایہ کو ختم کرنے کے لیے قابض ریاست مختلف ہتھکنڈے آزما رہی ہے۔ اساتذہ، دانشور اور ادبی شخصیات کسی بھی قوم کی فکری بنیاد ہوتے ہیں اور ان پر حملے دراصل بلوچ قومی دانش، شناخت، تاریخ، زبان اور شعور پر حملے ہیں لیکن جبر، قتل اور خوف کے ذریعے سچائی کو دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی آزادی، انصاف اور قومی وقار کے لیے جدوجہد کرنے والی قوم کو خاموش کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ پروفیسر غمخوار حیات نے اپنی علمی و ادبی خدمات کے ذریعے بلوچ معاشرے میں شعور، مزاحمت اور قومی احساس کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا قتل نہ صرف براہوئی ادب بلکہ پوری بلوچ قوم کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
بی این ایم کے چیئرمین نے عالمی انسانی حقوق کے اداروں، اقوام متحدہ، ادبی تنظیموں، اور صحافتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں بلوچ دانشوروں اور عام شہریوں کے ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کا نوٹس لیں اور پاکستان کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائیں۔
پارٹی کے سینئر رہنما واجہ یوسف بلوچ کے خیالات۔۔۔
شھید غلام محمد ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ’’ جب میں بلوچستان کے عظیم شہداؤں کو اسٹیچ پر آکر سرخ سلام پیش کرنے پر فخرمحسوس کرتا ہوں تو اس شہادت کو اپنے لیے کیوں ناپسند کروں۔ ‘‘
جب ہمارا ادارجاتی نظام مضبوط ہو گا تب ہی ہر ادارہ اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر قومی مفادات کا تحفظ کر پائے گا۔ آج کے حالات اور مستقبل میں آمرانہ سوچ کے راستے روک پائے گا۔ جب ہم اپنے آپ کو بلوچ شہداء کا وارث کہتے ہیں تو ہماری زمہ داری بنتی ہے کہ ہم شہیدوں کے نقش قدم پر چل کر اپنی وراثت کا حق ادا کریں۔ چاہے اس سفر میں ہمارے راستے میں کتنے ہی کانٹے ہوں ہمیں ہر حال میں ثابت قدم رہنا اور تحریک کی کامیابی کے لیے مخلص ہونا ہوگا۔ بلوچستان کی آزادی ہمارا قومی نصب العین اور ایمان ہے۔
https://t.co/KkvI1Xpi3b
Fozia Baloch @FoziaBaloch10 was denied the right to hold a press conference at the Karachi Press Club and was arrested along with her elderly mother. After more than 24 hours of illegal detention, they were released.
Their only demand was to raise their voice regarding the abduction and enforced disappearance of her brother, Dad Shashani Baloch. Today, Fozia was compelled to record her press conference from inside her home instead of being allowed to speak freely in public.
These actions once again reflect how fundamental rights, including freedom of expression, peaceful assembly, and the right to seek justice for forcibly disappeared loved ones continue to be denied.
@WGEID@profbensaul@UN_SPExperts@UNTreatyBodies
Mass Killing of Civilians in Barkhan
Twelve members of one family killed and Three injured.
PAANK strongly condemns the brutal killing of civilians in Lohma Zareen, Barkhan, where multiple members of a single family, including women and children, were killed and others seriously injured by Pakistan Army.
According to reports received by PAANK, the incident occurred when a nomadic family belonging to the Marri tribe was passing through the area along the Naher Kot Road during seasonal migration in a Mazda vehicle. As per local sources, the vehicle came under fire from Pakistani security forces, leading to heavy civilian losses.
The individuals killed in the incident have been identified as:
Ali s/o Sultan Umair (40)
Bebal w/o Ali (30)
Mir Jaan s/o Ali (2)
Balach s/o Sabzo (70)
Soomri d/o Bhangan and w/o Balach (35) Sado d/o Balach (13)
Allah Bux s/o Balach (6)
Hapo d/o Balach (8)
Mahrang d/o Balach (2)
Rahman s/o Balach (18)
Naikho d/o Jamalan and w/o Rahman (17), Shari (22).
The following individuals sustained injuries:
•Zar Bibi, wife of Balach, aged 55
•Hazar Khan s/o Balach, aged 9
•Israr, daughter of Balach, aged 15
Reports indicate that several of the injured are in critical condition, and there are also concerns that some may currently be in the custody of security forces.
#StopBalochGenocide
گرنے والا گہرائی نہیں دیکھتا
تحریر: دل مراد بلوچ
گرنے والا گہرائی نہیں دیکھتا۔ یہ مقولہ ظہور بلیدی اور اس قماش کے کرداروں پر خوب خواب صادق آتا ہے۔ جو شخص خود کو ذلت اور رسوائی کی کھائی میں دھکیلنے کا فیصلہ کر چکا ہو، وہ یہ سوچنے کی کیوں زحمت کرے کہ وہ کتنی گہرائی میں گرچکا ہے یا اس گہرائی میں گرنے کا انجام کیا ہوگا۔ ایسے لوگ پیٹ کے مقابلے میں ناک کا سودا کرچکے ہیں اور یہ ان کے لیے خسارے کا سودا نہیں
دشمن کی موت پر خوشی محسوس کرنا شاید اس انسانی فطرت کا خاصہ ہے لیکن بلوچ عموما دشمن کی موت پر جشن نہیں مناتے، دوبدو لڑائی میں بھی بلوچ کے ہاتھ دشمن مارا جائے تو بلوچ دشمن کی لاش کی حرمت کا پاس رکھتا ہے، بھٹو جیسے دشمن کے موت پر بلوچوں کی خوش ہونا فطری بات ہے لیکن بلوچ کی ظرف کا اندازہ لگائیں کہ بھٹو نے سردار عطا اللہ مینگل کے نوجوان بیٹے کو زندہ درگور کیا، لاش تک نہ دی، ان کی آئینی حکومت ختم کی، پوری لیڈرشپ کو جیل میں ڈالا، بلوچستان میں قہر برپا کی لیکن ڈھیٹ قسم کے نسل پرست پنجابی صحافی سہیل وڑائچ کے اںٹرویو میں سردار مینگل کہتے ہیں۔
"ہمارا اختلافات بھٹو سے ضرور تھے لیکن میں فوج کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ بھٹو کو پھانسی پر لٹکاتے"
ظہور صاحب کے بقول "بھٹو بلوچوں کے مسیحا تھے" تو پھر اپنی موت سے قبل بھٹو نے بلوچوں سے معافی کیوں مانگی؟ کیوں یہ اعتراف کیا کہ وہ مجبور تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ ظہور جیسے لوگ نہ تاریخ کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور نہ ہی تاریخ کے انتقام کی گہرائی کا ادراک۔۔۔یہ وہ معاملات ہیں جو ان کی فہم، ظرف اور اخلاقی جرات، تینوں سے باہر ہیں۔
اب ظہور بلیدی کو پیپلز پارٹی نے گود لے لیا ہے اور وہ بھٹو کے ایسے کارناموں کے قصیدے پڑھ رہے ہیں جن سے خود بھٹو بھی ناواقف تھے، یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بلوچستان میں ہمیشہ سے اصل حکومت فوج کے ہاتھ میں رہا ہے اور آج تو پوری شدت کے ساتھ ہر سیاسی اور انتظامی معاملہ فوج کے اشاروں پر چل رہا ہے۔ قومی تحریک کو کچلنے کے لیے ریاست نے بلوچستان کی سیاست اور سماج کو تہہ و بالا کر دیا، یہاں تک کہ اب پاکستانی آئین پر یقین رکھنے والے معقول لوگ بھی اب اس ریاست کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ اس خالی جگہ کو موجودہ کٹھ پتلیاں اور کرایے پر دستیاب لوگ پُر کر رہے ہیں۔
فوج کو بلیدی جیسے محض مہرے اور بے رحم قاتل درکار ہوتے ہیں، ایسے لوگ جنہیں وزارت کے نام پر صرف اپنے کرسی پر بیٹھنے اور میز پر فائل رکھنے کا حق حاصل ہوتا ہے، کرسی پر کیوں بٹھایا گیا ہے اور میز پر پڑی فائل میں کیا لکھا ہے، یہ پوچھنے کی انہیں قطعی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی یہ لوگ کبھی اس جرات کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ ایک فوجی افسر فائل سامنے رکھتا ہے اور یہ چپ چاپ اور بلا چون و چرا اس پر دستخط کرتے ہیں، بس یہی ان کی پوری اوقات ہے اور اس کرسی نشینی کے بدلے فوج ان سے جو کام لیتی ہے، وہ داستان اتنی بھیانک ہے کہ بیان کرتے ہوئے کسی بھی باضمیر انسان کی روح تک کانپ جائے۔
اس کرسی پر بٹھانے کے بدلے فوج ان سے وہ سب کچھ کرواتی ہے جس کا تصور بھی ایک باشعور اور غیرت مند انسان کے لیے لرزہ خیز ہے۔ اپنے ہی لوگوں کا قتل عام، جبری گمشدگیاں، نہتے اور معصوم نوجوانوں کی مسخ لاشیں، بے نام و اجتماعی قبریں، دیہاتوں پر بمباری اور اب اجتماعی سزا جیسے قوانین کو سیاسی چہرہ و زبان فراہم کرنا، یہ سب انہی کرائے کے کرداروں کی ذمہ داری ہے۔
ان کی بے حسی اور بے ضمیری کا عالم یہ ہے کہ بلوچ خواتین جہدکاروں کے بارے میں وہ ایسے بیہودہ اور شرمناک الفاظ استعمال کر رہے ہیں جنہیں آج تک پنجاپی بھی اپنی زبان لانے سے قبل شاید سو بار سوچتا ہے۔
اب ذرا اندازہ لگائیں ان سے تنخواہ ایک جانب فوج کے لیے قصدیے پڑوا رہا ہے، دوسری جانب اسی فوج کے ہاتھوں مرنے والے بھٹو کے شان میں یہ رطب السان ہیں، ضروری نہیں کہ کل یہی صورت حال ہو، ہوسکتا ہے کہ کل بھٹو کے خلاف اور کسی اور کے حق میں بول رہے ہوں، تنخواہ دار ہیں اور ان کے منہ میں زبان تھوڑی اپنی ہوتی ہے، زبان بھی اسی کا ہے جو کرایہ دیتا ہے۔
ان کا انجام
آج کے کٹھ پتلیوں یا ظہور بلیدی جیسے کرداروں کے انجام کے لیے کسی نئے تجزیے یا گہری بصیرت کی ضرورت نہیں۔ آخر کون معقول انسان ٹشو پیپر کے مستقبل پر غور کرتا ہے؟
ظہور بلیدی اور اس قماش کے دوسرے لوگ آج جس بھٹو کے لیے زمین آسمان ایک کر رہے ہیں، اسی بھٹو کی پوری سیاسی زندگی بلوچ دشمنی سے عبارت تھی۔ ایک طرف پنجابی مفادات کی پاسداری اور دوسری طرف بلوچ قیادت کے سامنے اس کا احساسِ کمتری، بھٹو کی پوری سیاسی زندگی انہی کے گرد گھومتی ہے۔ بھٹو سندھی تھا مگر سندھی نہ رہا، اس نے پنجابی کا انتخاب کیا، پنجاپی ریاست کومضبوط کیا، اقوامِ متحدہ سمیت عالمی فورمز پر پنجاپی کی وکالت کی اور بلوچستان میں اسی پنجاپی کے لیے آگ اور خون کا کھیل کھیلا۔
اور پنجابی نے بھٹو کے ساتھ کیا کیا؟
کیس، عدالت، میرٹ اور پھانسی کی سزا، یہ سب ایک طرف رکھتے ہیں، صرف اس کے آخری چند لمحوں پر نظر ڈالتے ہیں۔
پھانسیاں عموماً صبح سویرے دی جاتی ہیں مگر بھٹو کے لیے رات بارے بجے کا انتخاب ہوا۔ انہیں پھانسی پر عمل درآمد کا خبر کسی دستوری، قانونی طریقے سے ایک دن قبل نہیں بلکہ اسی لمحے سنائی گئی، وہ شخص جس پنجاب کی خوشنودی کے لیے ہر حد پار کر گیا تھا، اس نے پھانسی سے پہلے صرف ایک کپ کافی مانگی، یقین کریں صرف ایک کپ کافی۔۔۔۔ مگر پنجاپی افسر نے یہ کہہ کر بھٹو کا "ناقابل قبول مطالبہ" خارج کردیا کہ "سامان باندھے جاچکے ہیں، دوبارہ کون انہیں کھول کر تیرے لیے کافی بنائے گا، چل اٹھ” اور انہیں اسٹیچر پر ڈال کر پھانسی گاٹ لے چلے۔
مجھے یہ لکھتے ہوئے کوئی فخر نہیں ہو رہا کہ بہت اعلیٰ پائے کی تاریخی داستان لکھ رہا ہوں لیکن آپ اسے پنجاپی کی رعونت کا نمونہ کہہ سکتے ہیں۔ یہ بھٹو پر بھی تاریخ کا آخری طنز تھا کہ جس پنجاپی کے لیے آپ نے بلوچستان میں آگ اور خون کا کھیل کھیلا، ہزاروں بلوچ قتل کیے، بے گھر کیے، تیری دور حکومت میں فوج کے ہاتھوں بلوچ خواتین بازاروں میں بکے، پنجاپی کے سامنے تیری یہی أوقات تھا لیکن تو زندگی میں جسے سمجھ نہیں پائے۔
آگے سنئے
پھانسی کے بعد بھٹو کے کپڑے اتار دیے گئے۔ مخصوص فوجی افسران نے اس کے ننگے جسم کی تصویریں بنائیں۔
سنو صاحبو
پنجاپی کو یہ اطمینان کرنا تھا کہ بھٹو مسلمان تھا یا نہیں اور اس کی تصدیق وہ بھٹو کے ختنے سے کرنا چاہتے تھے۔ گوکہ میری ان باتوں پر یقین مشکل ہے لیکن کسی کو شک ہے تو کرنل رفیع کی کتاب پڑھ سکتا ہے اور سابق پولیس افسر مجید قریشی کے انٹرویوز دیکھ سن سکتا ہے۔ میرے پاس مجید قریشی کی ویڈیو بھی موجود ہے مگر انہیں یہاں شیئر کرنا میرے لیے شرم کا باعث ہے، شرم اس لیے نہیں کہ بھٹو کو برہنہ کیا گیا بلکہ اس لیے کہ پنجاپی کا کردار ننگا تھا اور آج بھی ہے۔
ظہور بلیدی ہوں یا اس قماش کے دوسرے لوگ، انہیں بھٹو کے انجام سے سبق لینا چاہیے کیونکہ پنجاپی آج بھی وہی ہے، اس کی فطرت میں کوئی تبدیلی نہ آئی اور نہ ہی اس کی کوئی امکان ہے، پنجاپی کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے برصغیر کے نامور عالم سید عطااللہ شاہ بخاری کے مشہور نظم سے دو اشعار شاید ان کے لیے آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہوں۔
نہ دیدَم کشورے مردود و مُرتاب
بَشُومی ہائے کُفر آبادِ پنجاب
ترجمہ: میں نے ایسی مردود اور نحوست زدہ زمین کہیں نہیں دیکھی جیسی کہ کفر اور ظلم سے بھری ہوئی پنجاب کی سرزمین ہے۔
Chairman of the Baloch National Movement (BNM) @DrNaseemBaluch , delivers an address at BNM’s 11th International Conference, highlighting 78 years of Balochistan’s occupation, ongoing human rights violations, and the failure of international accountability.
@ZrumbeshEnglish
https://t.co/QeCk2bJXbh
جمیل اکبر بگٹی۔۔۔قیامت خیز دنوں کا زندہ گواہ
"میرا یہ نوجوان فرزند نیپ کا طرفدار ہے۔ وہ نیپ کی وجہ سے مجھ سے اختلاف رکھتا ہے۔ جو مجھ سے متفق نہیں، وہ بھلا تیرے کیمپ میں کیسے جائے گا؟"
ڈاکٹر سلیم کرد کے یہ الفاظ اُس ملاقات کا حوالہ ہیں جو ذوالفقار علی بھٹو اور شہید نواب اکبر خان بگٹی کے درمیان ہوئی تھی۔ بھٹو نے نواب صاحب سے درخواست کی کہ وہ اپنے بیٹے یعنی جمیل اکبر خان بگٹی کو پیپلز پارٹی میں شامل کرائیں تو نواب صاحب نے یہی جواب دیا تھا۔ اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جمیل اکبر بگٹی سیاست میں اپنی الگ اور مضبوط رائے رکھتے تھے۔ نواب اکبر خان بگٹی جیسے قدآور رہنما کے بیٹے ہوتے ہوئے اختلاف رائے رکھنا معمولی بات نہیں۔
یہی منفرد موقف رکھنے والے جمیل اکبر بگٹی آج ہمارے درمیان نہیں رہے۔ وہ مشرف کے دور، ڈیرہ بگٹی کی بدلتی ہوئی صورتحال، جنگ اور بالآخر نواب صاحب کی شہادت جیسے بڑے اور غیر معمولی واقعات کے زندہ گواہ تھے۔ اپنے انٹرویوز میں وہ بے باکی اور بے خوفی سے بتاتے کہ مشرف کے آنے کے بعد ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں کیا تبدیلیاں آئیں، نواب صاحب کے کوٹ پر کس طرح بمباری کی گئی، شازیہ خالد کا واقعہ کیسے پیش آیا، نواب صاحب پہاڑوں میں کیسے اور کیوں چلے گئے اور نواب صاحب کی میت کے نام پر
دفن کیے گئے صندوق میں دراصل کیا تھا۔
اب وہ گواہ باقی نہیں رہا۔
جمیل اکبر خان بگٹی جب تک زندہ رہے، بغیر کسی لگی لپٹی کے، وقار اور سچائی کے ساتھ اپنی بات کہتے رہے۔ اگرچہ ہم نے انہیں عملی سیاست کرتے نہیں دیکھا مگر جب وہ بولتے تو ان کے لہجے میں ایک راست گو، بہادر اور فکر مند بلوچ کی جھلک نمایاں ہوتی۔ وہ پارلیمانی سیاست پر سخت تنقید کرتے، انہیں تنخواہ دار سیاست قرار دیتے اور بلوچ پارلیمانی جماعتوں کے پاکستان کو فیڈریشن کہنے کے شدید ناقد تھے۔ وہ کھل کر کہتے کہ پاکستان کوئی فیڈریشن نہیں بلکہ ایک کالونائزر ہے اور ہم بلوچ اس کے کالونی ہیں۔
جمیل اکبر بگٹی نے سیاست نہیں کی مگر سیاست کی لاج ضرور رکھی۔ کیا سیاست نہ کرنا بذاتِ خود ایک سیاسی اعلان نہیں؟ ان کا سیاست سے دور رہنا اس بات کی علامت تھا کہ وہ اکبر خان کی میراث کے وارث ضرور تھے مگر "سیاسی میراث" کے نام پر موقع پرستانہ، سطحی اور نمائشی مفاد پر مبنی سیاست سے نفرت کرتے تھے۔
ویڈیو: روزنامہ آزادی کوئٹہ
Pakistan is committing heinous crimes including collective punishment, in Balochistan. The collective punishment is a violation of international law, and it is being practiced by Pakistani security forces in Balochistan.
What is “collective punishment”?
Under international humanitarian law, especially the Geneva Conventions, collective punishment refers to penalizing a group of people for acts they did not individually commit.
For example:
•Punishing entire families or tribes for the alleged actions of one individual
•Demolishing homes or detaining relatives without due process
•Imposing blockades or restrictions on communities as retaliation
This is explicitly prohibited under Article 33 of the Fourth Geneva Convention.
Multiple human rights organizations have documented patterns that resemble collective punishment, particularly in Balochistan.
@UN_HRC@UNHumanRights@NilsMelzer@amnesty@hrw@MaryLawlorhrds@fidh_en@omctorg@mehdirhasan@declanwalsh@eu_eeas@FCDOGovUK@StateDept@johnmcdonnellMP
Our national goal is freedom; we will not step back even an inch.” Dr. Naseem Baloch, Chairman of BNM at 11th International Conference of BNM
#BNMGlobalCampaign#BNMatHRC61#HRC61
https://t.co/3sqhqBgxPN
#WATCH | On the mysterious death of political activist Karima Baloch, Chairman of the Baloch National Movement Dr Naseem Baloch says, "...Karima Baloch had revealed about the threats she was receiving. She was bravely engaged in her struggle despite her maternal uncle being abducted and killed by the Pakistani agencies. And one day we got the news about Karima’s death. Whatever she revealed before her death clearly indicates the kind of threats the Baloch diaspora has been facing. Pakistan Army has been doing barbarism in Balochistan for over seven decades and the world is aware of this..."
“بلوچ کتنے مذہبی ہیں یا نہیں، یہ الگ بحث ہے لیکن یہ طے ہے کہ بلوچ کو کبھی شناخت کو بحران درپیش نہیں رہا، پارلیمانی سیاسی جماعت کا سیاستدان ہو، انقلابی لیڈر، جہدکار ہو، سرمچار ہو، مسیت کا پیش امام ہو یا سرکاری آلہ کار، کارندہ، یہ سب اپنے بلوچ ہونے پر فخر کرتے ہیں، یہ امتیاز پورے خطے میں صرف بلوچ کو حاصل ہے۔”
@DMBaloch_@BBCUrdu@AliyaNazki@WusatUllahKhan@kkaramat
Dr. Naseem Baloch, Chairman #BNM, delivers an address at BNM’s 11th International Conference, highlighting 78 years of #Balochistan’s occupation, ongoing human rights violations, and the failure of international accountability.
#Watch
Full Speech: https://t.co/HDzerzK17Q
In the conference, the speakers shed light on enforced disappearances, extrajudicial killings, and systematic repression faced by the #Baloch people.
They calls on the international community to break its silence and uphold justice and human rights in Balochistan. This conference brings together activists, scholars, and political voices to discuss the historical and ongoing crisis in the region and to amplify the call for global awareness and action.
Key Topics Covered:
78 years of Balochistan’s occupation
Human rights abuses and enforced disappearances
Role of international institutions and accountability failure
Future of the Baloch political struggle
کیا بی بی سی پاکستانی بیانیے کے ساتھ کھڑا ہے ؟
تحریر: دل مراد بلوچ
بلوچ اگر کسی بھی نشریاتی ادارے پر بھروسہ کرتے ہیں، سنتے ہیں تو وہ بلاشبہ بی بی سی ہے، جب تک ریڈیو کی سانسیں باقی تھیں، بی بی سی کا پروگرام سیربین بلوچ سیاسی حلقوں میں فرض کی طرح سنا جاتا، سوشل میڈیا کی عفریت میں جب سیربین نگل لیا تو بھی بی بی سی سنا، دیکھا اور پسند کیا جاتا ہے۔
بی بی سی نہ ماضی میں غیرجانبدار تھا نہ آج ہے، بی بی سی کا بیانیہ اور ترجیحات زیادہ تر ریاستی موقف سے قریب ہوتے ہیں اور تجزیہ کار بھی وہ لیے جاتے ہیں جنہیں ریاست ناپسند نہ کرتا ہو، بی بی سی کم ہی غیر جانبدار یا فریق ثانی سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کاروں کو موقع دیتا ہے۔
دو تین دن پہلے بی بی سی نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی ہیومین رائٹس کونسل کے ایک سیشن میں عمران خان کے ساتھ بیٹھے قاسم خان کی موجودگی کو نہ صرف نمایاں طور پر رپورٹ کیا بلکہ اس پر پاکستانی تجزیہ کاروں سے تفصیلی گفتگو بھی کی حالانکہ اسی سیشن کے مرکزی مقرر بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ تھے، جنہوں نے ایک طویل اور مدلل تقریر میں نہ صرف بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس کی شرائط اور ریاستی جبر پر کھل کر بات کی بلکہ قاسم خان کی موجودگی میں یہ بھی کہا کہ آج عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اسی عمران خان کے دورِ حکومت میں بلوچوں کے خلاف ریاستی زیادتیاں کسی طور کم نہیں تھیں۔
علاوہ ازیں بی این ایم کے نمائندوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مختلف اجلاسوں میں باقاعدہ شرکت کی، وہاں پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے تقاریر کیں اور اپنی میزبانی میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس بھی منعقد کی لیکن مجال ہے کہ بی بی سی نے ان سرگرمیوں پر ایک سطر بھی رپورٹ کی ہو۔ کیوں؟ کیونکہ ہیومین رائٹس کونسل کے اجلاس میں قاسم خان کی موجودگی پاکستان کے لیے ناپسندیدہ اور گھریلو مارکیٹ میں بکنے والا موضوع ہے جبکہ بی این ایم کی سرگرمیوں کا اعتراف کرنا پاکستان کے اس خدشے کو بڑھا دیتا ہے کہ بلوچ آزادی پسند تحریک مقامی اور عالمی میڈیا میں شاید جگہ حاصل کرلیں گے اور بی بی سی ۔۔۔۔بی بی سی بھی بالکل اسی پاکستانی بیانیے کے ساتھ خاموش کھڑا نظر آتا ہے۔
ایک اور موضوع
حال ہی میں بی بی سی نے بلوچ آزادی پسند جہدکاروں کی عید کے اجتماعات میں عوام سے خطاب کی چند ویڈیوز کو بنیاد کر بلوچ سماجی بُنت یا سوشل فیبرک کا تجزیہ پیش کیا ہے، ویڈیو اصلی، لوگ اصلی اور اگر بی بی سی ذرا زحمت کرتا تو میں گارنٹی دیتا ہوں کہ انہیں آزادانہ ذرائع سے تصدیق بھی بہت آسان تھا لیکن رپورٹ میں جا بہ جا "مبینہ" یا "آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہ ہوسکی" جیسے الفاظ و جملے ملتے ہے، اس سے یہ ظاہر کرنا مقصد ہے عبد کے اجتماعات سے جہدکاروں کی ملنا یا خطاب کرنا ایسی انہونی کام ہے کہ ایسے واقعات کئی سالوں بعد شاز و نادر ہوتے ہیں۔
بی بی سی اچھی طرح جانتا ہے کہ ایسے ملن اب تو روز کا معمول ہیں، لیکن رپورٹ کا انداز ایسا ہے کہ بلوچ جہدکار اور عوام کے درمیان ملنے جلنے اور رشتے کو کم سے کم دکھایا جائے، رپورٹ سے ایسا لگتا ہے کہ جہدکار صرف اسی عید کو لوگوں کی اجتماعات میں ملے ہیں اور بس، بی بی سی کو بخوبی اندازہ ہے کہ جہدکار اور عوام کبھی ایک دوسرے سے دور یا جدا نہیں ہوتے ہیں، اگر دور ہوتے یا دوری ہوتی تو یہی عوام سے ان کی رازیں فاش کرتا اور ریاست کے کچلنا آسان ہوجاتا۔
وائسرائے سرفراز بگٹی جب بار بار دہائی دیتے ہیں کہ "ہم گرے میں آپشن کر رہے ہیں" اس کا مطلب ہی یہی ہے کہ عوام نے جہدکاروں کو سینے سے لگا رکھا۔
بی بی سی ایک اور احسان کرکے 'بلوچ سماجی بُنت' یا فیبرک کے بارے میں لاہور کے کسی پنجابی کے زبان سے یہ کہلواتا ہے کہ "بلوچ مذہبی ہیں" آیا بلوچ سماجی بنت کے تجزیے کے لیے بی بی سی کو ایک بھی بلوچ تجزیہ کار نہیں ملا، بھائی صاحب، بلوچستان بالکل قحط الرجال نہیں، یہاں ڈاکٹر شاہ محمد مری، أنور ساجدی ایسے جیئد دانشور، صحافی، محقق اور تجزیہ کار اچھے خاصے تعداد میں موجود ہیں، لیکن سماجی تجزیے کا استحقاق صرف بھی یہاں پنجاپی ہے، اس کا سہرا بی بی سی کو جانا چاہئے
سالوں پہلے بی بی سی نے غلطی سے بلوچ اور فرقہ واریت (ہزارہ اہل تشیع کے قتل) کے بارے میں شاید مرحوم صدیق بلوچ یا انور ساجدی سے سوال کیا تھا،وہ جواب مجھے آج بھی یاد ہے کہ انہوں نے کہا" بلوچ مذہبی بالکل نہیں ہیں، عام بلوچ دیگر فرقہ واریت تو کجا شیعہ اور سنی میں فرق نہیں کرتا"، آج اگر أنور ساجدی سے پوچھا جاتا تو کیا ان کا جواب کچھ مختلف ہوتا یا بی بی سی جمع ریاستی بیانیے کی تصدیق کرتا، میرے خیال میں قطعی نہیں، لہٰذا بلوچ کو نظر انداز کرو۔۔۔کیا فرق پڑتا ہے، لیکن فرق پڑتا ہے، بی بی سی کی قارئین و سامعین کی آج بھی اچھی خاصی اکثریت بلوچوں پر مشتمل ہے۔
بلوچ کتنے مذہبی ہیں یا نہیں، یہ الگ بحث ہے لیکن یہ طے ہے کہ بلوچ کو کبھی شناخت کو بحران درپیش نہیں رہا، پارلیمانی سیاسی جماعت کا سیاستدان ہو، انقلابی لیڈر، جہدکار ہو، سرمچار ہو، مسیت کا پیش امام ہو یا سرکاری آلہ کار، کارندہ، یہ سب اپنے بلوچ ہونے پر فخر کرتے ہیں، یہ امتیاز پورے خطے میں صرف بلوچ کو حاصل ہے۔
بلوچ کی مزاج سیکولر ہے، سیکولر کا معنی قطعاََ لادینی نہیں ہے بلکہ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی کسی سیکولر تحریک کا نظریہ مذہبی عقائد کے بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے تاریخ میں پیوست ہوتا ہے جیسا کہ بلوچ قوم پرست تحریک بنیادی طور پر سیکولر ہے کیونکہ اس کی بنیاد قومی شناخت پر ہے، مذہبی عقائد پر نہیں۔ دنیا میں ایسے سینکڑوں مثالیں موجود ہیں کہ کسی بنیاد پرست مذہبی ریاست کے مقابلے میں سیکولر ریاست یا قوم میں مذہبی آزادیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں لیکن مذہبی فرقہ واریت کے نام گردنیں کاٹنے کا حق کسی کو نہیں دیا جاتا۔
پاکستان بلوچ کی اس تشخص کو ختم کرنے کے لیے ہزاروں حربے آزما چکا ہے لیکن قومی مزاج رچی بسی اس نظریے کو ختم کرنا پہلے ہی آسان نہ تھا، اب یہ نظریہ خون سے سیراب ہو رہا ہے، بلاشبہ پاکستان اور پاکستانی بیانیے کی تشہیر پر مامور بی بی سی جیسے ادارے اپنا زور آزمائیں لیکن خون سے کھنچی گئی لکیریں غیر کے الفاظ سے مٹائی نہیں جاسکتی ہیں۔
بی بی سی جیسے بادشاہ ادارے سے التجا ہے کہ اگر وہ بلوچ قوم میں اپنی احترام برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اپنے اس رویے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
@BBCUrdu@RiazSangi@mmatalpur